توانائی کا بحران; سابقہ حکومت کی بدانتظامی اہم وجہ قرار…………(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)………………………آج کل ملک میں گزشتہ حکومت کی بدانتظامی اور نااہلی کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک میں توانائی کے موجودہ بحران کا ذمہ دار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابقہ حکومت کی ’بدانتظامی‘ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جاری لوڈشیڈنگ کا بجلی کی پیداواری صلاحیت سے کوئی تعلق نہیں ۔ قومی اسمبلی میں بتایا کہ آج کل ملک میں گزشتہ حکومت کی بدانتظامی اور نااہلی کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ملک میں 35 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے لیکن گیس اور تیل پر چلنے والے مختلف پاور پلانٹس کی بندش کے باعث ملک کے مختلف حصوں کو گزشتہ چند روز سے لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ ملک کو تقریباً 6 ہزار میگاواٹ ہائیڈل پاور کی کمی کا سامنا ہے جس کا تعلق گلیشیئرز کے پگھلنے اور پانی کی دستیابی سے ہے، اس کے باوجود ملک کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی بجلی موجود ہے۔ کوئلے سے چلنے والے اور پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت لگائے گئے سولر پاور پلانٹس اور ساتھ ہی 5 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے حامل ایل این جی پلانٹس بند پڑے ہیں۔ ایک ہزار 250 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے پاور پلانٹس میں سے ایک پلانٹ جسے 2019 میں بجلی کی پیداوار شروع کرنا تھی، اس نے ابھی تک کام کرنا شروع نہیں کیا۔وزیراعظم نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے توانائی کے مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی اور تیل اور گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی پاور پلانٹس بند ہو چکے ہیں۔ پچھلی حکومت نے جب ایل این جی کی قیمت صرف 3 ڈالر فی یونٹ تھی تو اس وقت نہیں خریدی اور اب یہ قیمت کئی گنا بڑھ کر 30 سے 35 ڈالر فی یونٹ تک پہنچ گئی ہے۔ 16-2015 کے دوران اس وقت کی مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے قطر کے ساتھ ایل این جی کی درآمد کا معاہدہ کیا تھا لیکن پی ٹی آئی حکومت نے اس میں خامیاں تلاش کرنا شروع کردی تھیں، آج یورپی ممالک کی جانب سے روس پر عائد پابندیوں کی وجہ سے کئی ممالک کو گیس آسانی سے دستیاب نہیں ہے7 ہزار میگاواٹ سے زائد کی مشترکہ پیداواری صلاحیت کے حامل 27 پاور پلانٹس تکنیکی مسائل یا ایندھن کی قلت کے باعث ایسے وقت میں کام کرنے سے قاصر ہیں جب ملک بھر میں شہریوں کو بجلی کی بندش کا سامنا ہے۔ وزارت توانائی نے بریفنگ کے دوران ان پاور پلانٹس کی فہرست پیش کی اور ایندھن کے انتظامات کے حوالے سے درست سمت متعین نہ ہونے اور سیاسی حمایت کی کمی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔یہ وضاحت کی گئی کہ 3 ہزار 535 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت کے 9 بڑے پاور پلانٹس ایندھن کی قلت کی وجہ سے کام نہیں کر رہے، ان میں چار پلانٹس ایسے شامل ہیں جو ایل این جی کی کمی کی وجہ سے بند پڑے ہیں، دو فرنس آئل کی قلت کی وجہ سے، ایک کم کوئلے کی انوینٹری کے سبب اور ایک گیس سپلائی کے معاہدے کی میعاد ختم ہونے کی وجہ سے بند ہے۔اس کے علاوہ 18 دیگر پلانٹس تکنیکی خرابیوں اور مرمت اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے کافی عرصے سے دستیاب نہیں تھے۔ماضی میں وزارت پیٹرولیم کے قلمدان کو سنبھالنے والے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بریفنگ کے دوران نشاندہی کی کہ وزارت توانائی کے پیٹرولیم اور پاور ڈویژن کے درمیان ہم آہنگی کا مکمل فقدان ہے اور الزام تراشی میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر شروع میں ہی حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ پاور ڈویژن فوری طور پر اپنی طلب کی پیش گوئی کے ساتھ سامنے آئے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ پیٹرولیم ڈویژن کی مشاورت سے فوری طور پر کیا کیا جاسکتا ہے اور اس طرح کی منصوبہ بندی اور انتظامات کے لیے ایک طریقہ کار کے ساتھ اس پر عمل کرنا چاہیےوزیر اعظم شہباز شریف نے شاہد خاقان عباسی سے درخواست کی کہ وہ اپنا وقت اور مہارت رضاکارانہ طور پر دیں اور اس سلسلے میں دونوں ڈویژنز کو مشورہ دیں کیونکہ یہ ایک سنگین مسئلہ معلوم ہوتا ہے اور اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔وزارت توانائی کی بریفنگ ماضی کے سیاسی رہنماؤں کے خلاف چارج شیٹ لگتی ہے کیونکہ یہ وضاحت کی گئی تھی کہ بجلی کی کوئی قلت نہیں ہوگی، لیکن ایندھن اور تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے پلانٹس بند کردیے گئے ہیں۔پچھلی حکومت نے تکنیکی خرابیوں کو دور کرنے یا مرمت کے لیے اسپیئر پارٹس کا بندوبست کرنے کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے اور نہ ہی مناسب دیکھ بھال کے طریقہ کار پر عمل کیا گیا، زیادہ تر خرابیاں انتظامی نوعیت کی تھیں لیکن کچھ میں پالیسی کے مسائل بھی شامل تھے۔وزیراعظم نے مجموعی صورتحال پر برہمی کا اظہار کیا اور افسوس کا اظہار کیا کہ شہریوں کو ملک بھر میں گھنٹوں طویل لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پاور پلانٹس کسی نہ کسی وجہ سے بند کر دیے گئے حالانکہ ان مشکل وقتوں میں انہیں بجلی کی پیداوار کے لیے دستیاب ہونا چاہیے تھا۔وزیر اعظم نے پاور ڈویژن اور متعلقہ کمپنیوں کو ان چیلنجز سے فوری نمٹنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی غفلت ناقابل قبول ہے، انہوں نے پاور ڈویژن کو کہا کہ ہم رمضان کے مقدس مہینے میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے ایسی صورت حال کو برداشت نہیں کر سکتے۔ایک رپورٹ کے مطابق 210 میگاواٹ کا لبرٹی پاور پلانٹ 18 دسمبر سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کی جانب سے گردشی قرضوں میں پھنسے ہوئے فنڈز کی عدم ادائیگیوں کی وجہ سے گیس کی سپلائی منقطع ہونے کی وجہ سے بند ہے۔اس کے علاوہ 1200 میگاواٹ کی مشترکہ صلاحیت کے چار پلانٹس جن میں روش، نندی پور، فوجی کبیر والا اور گیس ٹربائن فیصل آباد شامل ہیں، ری گیسیفائیڈ ایل این جی کی عدم دستیابی کی وجہ سے 13 دسمبر سے سسٹم سے باہر ہیں۔اس کے علاوہ 120 میگاواٹ کا حبیب اللہ کوسٹل پاور پلانٹ بھی اکتوبر 2019 میں گیس معاہدے کی میعاد ختم ہونے کی وجہ سے کام نہیں کر رہا، اس کے علاوہ 550 میگاواٹ کے جامشورو اور 840 میگاواٹ کے مظفر گڑھ پلانٹس بھی فرنس آئل کی عدم دستیابی کے باعث 8 اپریل سے بند ہیں۔ساہیوال میں کوئلے سے چلنے والا 620 میگاواٹ کا پلانٹ 20 مارچ سے کوئلے کی کمی کی وجہ سے کام نہیں کر رہا لیکن توقع ہے کہ 20 اپریل تک دوبارہ کام کرنے لگ جائے گا۔






