..بہار کےاانتخابی نتائج لالو کی سیاسی قسمت کافیصلہ کریں گے ,…بہار – پٹنہ ،


… اصغر علی مبارک سے
…بہار کےانتخابا ت کے نتائج لالو اور .بہار کےانتخابا ت کے نتائج لالو اور نتیش کی سیاسی قسمت کافیصلہ کریں گے ,نتیش کی سیاسی قسمت کافیصلہ کریں گے ,بہار کےجاگیردارانہ نظام کو پہلی بار لالو پرساد یادو نے چیلنج کیا ہے۔ بہار اس وقت واضح طور پردو محاذوں میں منقسم ہے۔ پہلے دور کی پولنگکے بعد مقابلہ برابر کا نظرآتا ہے۔5 پانچ نومبر کو آخری مرحلے کی پولنگ ہوگی۔لالو پرساد یادو نے وزیر اعلیٰ کے طور پر سماجی تبدیلی کی ایک نئی سیاست کا آغاز کیا اور ریاست کے بے زبانوں کو زبان دی۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے بہار کا انتخاب جیتنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دی ہے۔ بی جے پی کی جیت کی صورت میں مودی کی طاقت کافی بڑھ جائے گی اور ان کے لیےاتر پردیش میں انتخاب جیتنے کا سب سے بڑا سیاسی امتحان آسان ہو جائےگا۔بھارت کی تاریخ میں شاید پہلا موقع ہے جب کسی صوبائی انتخاب میں کوئی وزیر اعظم 50 سے زیادہ انتخابی جلسے کر رہا ہو۔ار میں غالب اکثریت پسماندہ ذاتوں کی ہے ریاست کے وسائل، سیاست اور معیشت پر اعلیٰ ذاتوں کی اجارہ داری رہی ہے۔ بہار کے جاگیردارانہ نظام کو سیاسی سطح پر پہلی بار لالو پرساد یادو نے چیلنج کیا۔لالو پرساد یادو
کے 15 برس کے اقتدار میں پسماندہ ذاتوں کو سیاست میں شراکت حاصل ہوئی۔ بھارت کی ریاست بہار میں اسمبلی انتحابات کے پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالے گئے۔ ریاستی اسمبلی کے ان انتخابات میں ایک طرف لالویادو اور نتیش کمار کی جماعت اور کانگریس ہے تو دوسری جانب بی جے پی اور لالو اور نتیش کے پرانے ساتھی رام ولاس پاسوان اور جیتن رام مانجھی کی جماعتیں ہیں ..بہار بھارت کی سب سے پسماندہ ریاستوں میں سے ایک ہے۔ یہاں غربت اور پسماندگی کا ایک بڑا سبب ذات پات پات کی سیاست رہی ہے۔سیاست میں لالو غریب عوام کو اصل دھارے میں لانے کے جمہوری عمل کو ریاست کے اداروں سے نہ منسلک کر سکے۔
اسی تحریک سے نکلنے والے نتیش کمار نہ صرف انتہائی غریب لوگوں کو اوپر لائے بلکہ انھوں نے ریاست کے اداروں کو بحال کیا اورانھیں استحکام بخشا۔ لالو اور نتیش اس وقت سات ساتھ کھڑے ہیں۔مودی کی پوری کابینہ، پچاسوں ارکان پارلیمان اور آر ایس ایس کے ہزاروں کارکن بہار کے انتخابی میدان میں دن رات سرگرم ہیں۔ مودی نے بہار کے انتخاب کو مودی کا مقابلہ بنا دیا ہے۔
بہار کے جاگیردارانہ نظام کو سیاسی سطح پر پہلی بار لالو پرساد یادو نے چیلنج کیاہے, بہار کا الکشن مودی کےلیےاتنا اہم ہےکے بہار کےانتخابات مودی کے لیے لالو اور نتیش کے لیے بھی اہم بن گئے ہیں۔
اگر بہار کے انتخابات میں لالو اور نتیش کے اتحاد کو شکست ہوتی ہے تو سماجی تبدیلی کی ان کی تحریک کو زبردست دھچکا پہنچےگا ..
اگر بی جے پی بہار میں ہارتی ہے تو پارٹی کےاندر مودی کےخلاف بغاوت شروع ہو سکتی ہے۔ مودی کے شخصی طریقہ کار سے پارٹی کےبہت سےرہنما ناخوش ہیں۔ خود بہار کے سات رہنما مودی کے خلاف بیانات دے چکےہیں۔بہار کےانتخابا ت کے نتائج لالو اور نتیش کی سیاسی قسمت کافیصلہ کریں گے




