افغانستان کو بحران سے نکالنےکیلئے وزیراعظم عمران کی کاوشیں ۔۔۔۔..اصغرعلی مبارک….کالم(اندر کی بات)….۔افغانستان کے معاملے پر پاکستان کی درخواست پر سعودی عرب نے او آئی سی وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس اسلام آباد میں طلب کیا ۔پاکستان نے ہمیشہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کی بات کی ھے ایک ہمسایہ ملک کی مدد کے لئے پاکستان کا تاریخی کردار عالمی برادری کے سامنے ہے امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد طالبان حکومت برسراقتدار ہے تاہم عالمی اداروں کی طرف سے اقتصادی پابندیوں سے صورتحال روزبروز گمبھیر ہوتی جارہی ہےاگلے روز اوآئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کرکے احساس ہوا کہ تحریک پاکستان کی حکومت کتنا بڑا تاریخی کام کرگئی ہے۔وزیر اعظم کی تقریر ہر پاکستانی کے دل کی آوازہے ان کا کہناتھا کہایک مستحکم افغانستان ہی خطہ کے لئے بہتر ہے ، افغانستان کی موجودہ صورتحال انتہائی سنگین ہے ،افغان عوام کی مدد کرنے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ،افغانستان سے ہمسایہ ممالک میں مہاجرین کی آمد روکنے کے لئے افغانستان میں مستحکم حکومت ضروری ہے، پاکستان پہلے ہی 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی چار دہائیوں سے میزبانی کررہا ہے، ہر معاشرے میں انسانی اور خواتین کے حقوق کا تصور مختلف ہے،وزیراعظم عمران خان نے کہاکہہمیں ان حقوق کے حوالے سے حساسیت کا ادراک کرنا ہو گا، اگرکوئی حکومت اپنے ملازمین ، طبی عملہ کو تنخواہیں نہیں دےسکتی تو وہ مستحکم نہیں رہ سکتی، اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو فلسطین اور کشمیر کے تنازعہ کے حل کے لئے متعلقہ قراردادوں پر زور دینا چاہیے،اسلاموفوبیا ایک اہم مسئلہ ہے، نائن الیون کے بعد یہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، او آئی سی اس کے سد باب کے لئے اپنا کردار اد اکرے، افغانستان کے موجودہ بحران سے نکلنے کے لئے وزرائے خارجہ کونسل ٹھوس حکمت عملی وضع کرے،امید ہے کہ او آئی سی پر امن افغانستان کے لئے اپنا کردار اداکرے گی۔وزیراعظم عمران خان نے تمام شرکا کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کا یہ غیر معمولی اجلاس افغانستان کے موجودہ بحران پر غور کے لئے طلب کیا گیا ہے۔ جتنی مشکلات افغا نستان کے عوام نے اٹھائیں کسی اور نے نہیں اٹھائیں۔ افغانستان کے حالات کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا، افغانستان چار دہائیوں سے خانہ جنگی کا شکار ہے، یہاں کی ایک بڑی آبادی نے نقل مکانی کی۔ دنیا کے کسی ملک کا افغانستان سے زیادہ مسائل نہیں دیکھے ۔انہوں نے کہا کہ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ کانفرنس میں شریک تمام مہمان افغانستان کی صورتحال سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کا بینکنگ کا نظام جمود کا شکار ہے ، کسی بھی ملک کے بینکنگ کے نظام میں جمود سے اس ملک میں اس ملک میں استحکام نہیں آ سکتا۔ افغانستان کا مسئلہ 4 کروڑ انسانوں کا مسئلہ ہے۔افغانستان کے موجودہ بحران میں پہلے ہی تاخیر ہو چکی ہے۔ یہاں قائم ہونے والی جامع حکومت کے عبوری وزیرخارجہ نے عائد کی گئی تین شرائط کے حل کے عزم کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہر معاشرے میں انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کا تصور ہے ۔پاکستان میں خیبر پختونخوا کا کلچر افغانستان سے ملتا جلتا ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں کے کلچر میں واضح فرقہے۔











پشاور کا کلچر افغانستان کے ساتھ ملنے والے پاکستان کے شہروں سے مختلف ہے۔ ہمیں انسانی اورخواتین کے حقوق کے حوالے سے حساسیت کا ادراک کرناچاہیے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں حکومت کے پاس اپنے ملازمین یہاں تک کہ ڈاکٹروں اور طبی عملہ کو دینے کے لئے تنخواہیں نہیں۔ ایسے کوئی حکومت مستحکم نہیں رہ سکتی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہافغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کی روک تھام کے لئے وہاں ایک مستحکم حکومت کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے افغان جنگ کے بعد 80 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے۔ 100 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھایا۔ 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی مسلسل چار دہائیوں سے میزبانی کررہا ہے ۔ اگر افغانستان میں امن و استحکام نہ آیا تو مزید مہاجرین آ سکتے ہیں۔ پوری دنیا کو مہاجرین کے مسئلے کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایران بھی افغانستان میں عد م استحکام کی وجہ سے مزید مہاجرین کا سامنا کر سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ترقی یافتہ ممالک کے لئے مہاجرین مسئلہ ہے تو پاکستان جیسے غریب ممالک کیسے لاکھوں مہاجرین کی میزبانی برداشت کر سکتے ہیں۔ امید ہے کہ او آئی سی پر امن افغانستان کے لئے اپنا کردار اداکرے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ اسلامی ترقیاتی بینک کے چیئرمین کی جانب سے فوری اور طویل المدتی اقدامات اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ افغانستان کے موجودہ بحران کے حل کے لئے ایک واضح روڈ میپ کے ساتھ سامنے آئیں تاکہ افغانستان میں اس بحران کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین کے عوام ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔ ان کے انسانی اور جمہوری حقوق پامال کئے جا رہے ہیں۔ انہیں اقوام متحدہ کی طرف سے دیئے گئے حقوق پر بھی عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ ہمیں اسلامی تعاون تنظیم کے فورم سے اس حوالے سے بھی کردار اداکرنا ہو گا۔مغرب اسلام کے خلاف پراپیگنڈا کرتا ہے ،رحمت اللعالمین اتھارٹی دنیا بھر کے مسلم دانشوروں کے ساتھ مشاورت کر کے اس کا جواب دے گی۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہم نے رحمت اللعالمین اتھارٹی بنائی ہے ۔یہ اتھارٹی دنیا بھر کے مسلمان سکالرسے مشاورت کرکے اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرے گی انہوں نے کہا کہ اسلام ایک ہے اور وہ اسلام ہمارے نبی کریم ﷺ کا ہے، نبی کریم ﷺدنیا کے تمام انسانوں کے لئے رحمت اللعالمین ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کے رب العالمین ہیں اسی طرح حضور ﷺ رحمت اللعالمین ہیں ،انہوں نے کہا کہ ہم نے رحمت اللعالمین اتھارٹی سے دنیا بھر میں اسلام کا اصل تصور اجاگر کرنا ہے۔
انہوں نے او آئی سی کے رکن ممالک سے کہا کہ وہ افغانستان کو بحران سے نکالنے کے لئے ٹھوس حکمت عملی وضع کریں، افغانستان کی مدد کرنا ہمارا مذہبی فریضہ ہے ، افغانستان کی بڑی آبادی خط غربت سے نیچے ہے ، یہ افغان عوام کی بقا کا مسئلہ ہے ، افغان عوام کی مدد کرنے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ، افغانستان کی موجودہ صورتحال انتہائی سنگین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کی طرح ہماری معیشت بھی کورونا سےمتاثر ہوئی ہےوزیراعظم نے کہا کہ اسلامو فوبیا دنیا میں بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس کا آغاز نائن الیون کے بعد ہوا جو اب خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے،نیوزی لینڈ کی ایک مسجد میں 50 سے زائد مسلمانوں کو شہید کر دیاگیا مغرب میں اسلام کے پیغام سے آگاہی نہیں جسے اسلام کا فہم نہ ہونے کی وجہ سےخلیج بڑھ ر ہی ہےاو آئی سی کے لئے یہ بات اہم ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے




