افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں تیزی………..(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)….. افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں تیزی آ گئی ہے ٹی ٹی پی نے پاکستان میں حملوں میں اضافہ کیا ہے تاہم یہ زیادہ تر حملے پاکستان افغانستان بارڈر کے قریب کیے گئے ہیں۔ ٹی ٹی پی زیادہ تر سرحدی علاقے میں متحرک ہے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں جہاں سے ان کا صفایا کیا جا چکا تھا وہ وہاں دوبارہ متحرک ہونے کی کوشش میں ہے۔شمالی وزیرستان میں افغانستان سے دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں تین پاکستانی فوجی شہید ہو گئے۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران جہلم کے 30سالہ حوالدار تیمور، اٹک کے 38سالہ نائیک شعیب اور سیالکوٹ کے 24سالہ سپاہی ثاقب نواز نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج دہشت گردی کی لعنت کے خلاف پاکستانی سرحدوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور ہمارے بہادر جوانوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بین الاقوامی سرحد کے اس پار افغانستان کے اندر سے دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان کے ضلع دیواگر کے علاقے میں پاکستانی فوجیوں پر فائرنگ کی جس کا پاکستانی فوجیوں نے مناسب انداز میں جواب دیا۔ مصدقہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق پاکستانی فوجیوں کی جوابی فائرنگ سے دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان پہنچا۔ تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کے افغان طالبان کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور یہ پاک افغان سرحد پر کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ افغانستان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس عسکری گروہ نے پاکستان پر حملوں کا سلسلہ تیز کر رکھا ہے گزشتہ چند روز میں پاک۔افغان سرحد پر واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کو سرحد پار سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ دہشت گرد افغان سرزمین کو پاکستان کے اندر کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں، افغانستان سے دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان پر مسلسل حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔رواں ماہ 14اپریل کو شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے دو حملوں میں 8 فوجی جوان شہید ہوگئے تھے۔شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں 7 فوجی شہید ہوئے تھے۔دوسرے واقعے میں ضلع کے علاقے عشام میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپ میں ایک سپاہی شہید ہوگیا تھا۔دفتر خارجہ نے افغان سرزمین سے پاکستان میں کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے افغان حکومت سے پاک-افغان سرحدی علاقے کو محفوظ بنانے کی درخواست کی ہے۔ ایک روز قبل افغان ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب کرکے دونوں واقعات پر احتجاج ریکارڈ کیا گیا تھا۔پاکستان کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو دہشت گردی میں استعمال ہونے سے روکے اور ایسے واقعات دونوں ملکوں کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا، ”پاکستان افغانستان کی خود مختار حکومت سے درخواست کرتا ہے کہ وہ پاک افغان سرحدی علاقے کو محفوظ بنائے اور پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے۔‘‘گزشتہ ماہ تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) نے اعلان کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائی شروع کرے گی۔ ٹی ٹی پی پاکستانی حکام پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کو اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت دے، جب کہ افغان طالبان کی جانب سے غیر ملکی جنگجوؤں کو افغانستان چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا۔تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) نے حالیہ کچھ مہینوں کے دوران پاکستانی فوج کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کر رکھا ہے۔ یہ عسکریت پسند پاک افغان سرحد کے قریبی علاقوں میں رہتے ہیں اور وہاں سے ہی منظم ہو کر پاکستانی فوج پر حملے کیے جاتے ہیں۔ پاکستانی طالبان کے نظریات بھی افغان طالبان کے نظریات سے بہت ملتے جلتے ہیں لیکن پاکستانی طالبان پاکستان کے اندر ویسا ہی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں، جیسا کہ افغان طالبان نے اپنے ملک میں نافذ کیا ہے۔پاکستانی فوج نے چھ سال جاری رہنے والے عسکری آپریشنز کے ذریعے اس تنظیم کا قلع قمع کیا۔ لہذا فل الحال اس تنظیم کے پاس ایک مرتبہ پھر طاقت ور حملے کرنے کی صلاحیت تو نہیں ہے لیکن یہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔” دہشتگروں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائی کو انسداد دہشت گردی کی کامیاب مہم تصور کیا جاتا ہے۔تحریک طالبان پاکستان کی صلاحیت اب پہلے جیسے نہیںتحریک طالبان پاکستانی ریاست کے خلاف ماضی میں انتہائی طاقتور حملے کر چکی ہے۔ قریب دس سال قبل ٹی ٹی پی اتنی مضبوط تھی کہ ایک وقت میں اس تنظیم نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی قریب ساری ایجنسیوں میں اپنے آپ کو پھیلا لیا تھاپاکستان میں سن 2020 کے مقابلے میں گزشتہ برس دہشت گردانہ حملوں میں 56 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ قریب تین سو حملوں میں 395 افراد ہلاک ہوئے۔پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق سن 2021 میں بلوچستان میں سب سے زیادہ حملے کیے گئے۔ یہاں عسکریت پسندوں کے 104 حملوں میں 177 افراد ہلاک ہوئے۔ دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ پاکستانی قبائلی ایجنسیوں کا تھا۔ یہاں 103 حملوں میں 117 افراد ہلاک ہوئے۔دو ہفتے پہلے بھی پاکستانی طالبان کے ایک حملے میں سات پاکستانی فوجی مارے گئے تھے، جس کے جواب میں پاکستانی فوج نے افغان صوبے کنٹر اور خوست میں حملے کیے تھے۔تب افغان طالبان نے تنبیہ کی تھی کہ پاکستانی فوج دوبارہ ایسی کارروائی نہ کرے۔پاکستان نے افغانستان کی خود مختار حکومت سے کہا ہے کہ وہ پاک افغان سرحدی علاقے کو محفوظ بنائے اور پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ سال رواں کے دوران خود کش حملوں، بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سال رواں کے پہلے تین ماہ کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں ایک سو نواسی افراد ہلاک جب کہ ڈھائی سو زخمی ہوئے ۔ دہشت گردی کے واقعات میں پشاور میں سب سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ دوسرے نمبر پر شمالی وزیرستان میں چالیس افراد مارے گئے تحقیقاتی ادارے سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے تین ماہ کے مقابلے میں سال رواں کے تین ماہ میں دہشت گردی کے واقعات میں ایک سو تہتر فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ضم قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے ساتھ ساتھ پختونخوا کے دیگر اضلاع میں بھی ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس دوران پولیس، فوج اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے اہلکاروں سمیت نیم فوجی دستوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اعداد و شمار کے مطابق ان تین مہینوں کے دوران تیرسٹھ مشتبہ دہشت گردوں کو مقابلے مارا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ان دھماکوں میں چند حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے پاکستانی طالبان کے ساتھ ایک امن معاہدہ بھی کیا تھا لیکن مقامی طالبان نے پاکستان پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے فائربندی ترک کر دی تھی,طالبان کے کابل پر قبضےکےبعددہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہےسال رواں کے دوران افغانستان کے سرحدی علاقوں میں اس میں مزید تیزی آئی۔ رواں ہفتے کے دوران شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز پر مسلسل حملے ہوئےدس سال سے سیکورٹی فورسز ملک بھر میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اگر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے تو یہ سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔‘‘اگست میں افغانستان میں طالبان نے اقتدار سنبھالا تو زیادہ تر لوگوں کا یہ خیال رہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئے گی اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی کے ساتھ دونوں ممالک کے مابین معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا لیکن ایسا نہ ہو سکا بلکہ الزام تراشی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد کی فضا بدستور جاری رہی۔معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم تجارتی گذرگاہیں طورخم ،غلام خان، انگور اڈہ، خرلاچی اور دیگر آئے روز اختلافات کی وجہ سے بند کر دی جاتی ہیں, انگور اڈہ اور اس سے قبل غلام خان سرحد کو ایک ہفتے کی بندش کے بعد پیدل آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا۔ اس سرحدوں کی بندش کی وجہ سے دونوں ممالک کے شہریوں کو شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔تجارت اپنی جگہ ہے لیکن ہمیں اپنی سرزمین کی حفاظت توکرنی ہے یہی ترجیحات ہیں,وزیر اعظم شہباز شریف کے دورے کے دوران انہوں قبائلی عمائدین سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔ اس دوران کور کمانڈر جنرل فیض حمید نے انہیں علاقائی سیکورٹی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وزیر اعظم نے قبائلی مشران کو یقین دلایا کہ یہاں کے تمام مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات اٹھائیں گے۔ دریں اثناء خضدار میں کچلاک قومی شاہراہ کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس صوبے نے جو قربانیاں دی ہیں، اس کی مثال نہیں ملتی ہے، اپنے پیاروں کی لاشوں کو اٹھایا اور یقیناً اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہماری بہادری افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قربانیاں دی اور اس دہشت گردی کو روکا اور شکست فاش دی، وہ دنیا کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں دہشت گردی نے پھر سر اٹھایا ہے، جس کی وجوہات ہم اچھی طرح جانتے ہیں، مجھے کوئی شک نہیں ہماری باہمی کاوشوں اور یک جہتی سے اس کو دوبارہ شکست فاش دیں گے، شرط یہ ہے قوم کے اندر اتحاد، اتفاق اور یک جہتی ہو، فیصلے کرنے کی قوت ارادری ہو۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے افغان ناظم الامور کو طلب کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ پاکستان کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو دہشت گردی میں استعمال ہونے سے روکے اور ایسے واقعات دونوں ملکوں کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا، ”پاکستان افغانستان کی خود مختار حکومت سے درخواست کرتا ہے کہ وہ پاک افغان سرحدی علاقے کو محفوظ بنائے اور پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے۔‘






