اسپائیڈر مین ;حقیقی زندگی کا اصل ہیرو اور معصوم ضرغام عباس کی محبت ,,
( اصغر علی مبارک) 12 ربیع الاول ہمیں اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کی یاد دلاتا ہے جس کے ذریعے انسانیت کو ایمان، ہدایت، عدل، رحمت اور اخلاقِ حسنہ کا کامل راستہ عطا ہوا۔رسول اکرم ﷺ نے اپنے اسوۂ حسنہ کے ذریعے قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے انفرادی اور اجتماعی فلاح و نجات کا بے مثال انقلاب برپا کیا۔نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت عالم انسانیت کے لیے ایسے روشن دور کا آغاز تھی جس میں جہالت کی تاریکی چھٹی، علم و ہدایت کا اجالا پھیلا، ظلم کا خاتمہ اور عدل و انصاف کا قیام عمل میں آیا
عید میلاد النبی ﷺ کی بابرکت اور پرمسرت تعطیل کا دن تھا، جب ہر طرف رحمت اللعالمین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی آمد کا جشن اور کائنات کے سب سے بڑے پیغامِ امن و محبت کا تذکرہ جاری تھا۔ میں اپنے گھر پر موجود تھا کہ اچانک میرے تین سال سے کم عمر کے بیٹے، ضرغام عباس نے اپنے ننھے ہاتھوں میں موبائل لا کر مجھے ایک تصویر دکھائی۔
تصویر میں اسپائیڈر مین کے لباس میں ملبوس ایک شخص کسی کے کندھے پر سوار تھا اور اس کے ساتھ ایک چونکا دینے والی بین الاقوامی خبر منسلک تھی۔
میرا بیٹا ضرغام عباس ابھی ٹھیک سے بول بھی نہیں پاتا، لیکن اس کی لکنت دار زبان سے جو چند الفاظ واضح نکلتے ہیں، ان میں ایک لفظ “پائیڈر مین” (اسپائیڈر مین) ہے۔
وہ اس خیالی کردار کا اس حد تک دیوانہ ہے کہ ہر وقت اسی کی طرح ایکشن کرنے اور دنیا کو بچانے کے خواب دیکھتا ہے۔
بیٹے کی اس معصومانہ خوشی اور ضد کو دیکھتے ہوئے میں نے اس سے اسپائیڈر مین کا نیا لباس دلانے کا وعدہ تو کر لیا، لیکن جب میں نے تجسس کے تحت اس خبر اور تصویر پر کلک کیا، تو میرے سامنے ایک ایسی حقیقت کھلی جس نے مجھے ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔
معلوم ہوا کہ اسپائیڈر مین کا یہ لباس پہننے والا کوئی مسلم نہیں، بلکہ 33 سالہ امریکی غیر مسلم شہری نکولس ولیم لو (Nicholas William Love II) ہے، جس کا تعلق انور گروو ہائٹس سے ہے۔ لیکن اس نے جو کارنامہ سرانجام دیا، اس نے اسے ہالی ووڈ کی فلموں کے فرضی اسپائیڈر مین سے کہیں بڑا اور حقیقی زندگی کا اصل ہیرو بنا دیا۔یہ واقعہ امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیاپولس میں پیش آیا، جہاں 6 جنوری کے کیپیٹل ہل حملے کے متنازع اور دائیں بازو کے انتہا پسند کردار جیک لینگ (Jake Lang) نے اسلام دشمنی میں اندھے ہو کر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے اور قرآنِ پاک کو نذرِ آتش کرنے کی ناپاک کوشش کے لیے ایک ریلی کا انعقاد کیا۔
جب یہ انتہا پسند اپنے مسلح سیکیورٹی عملے اور گاڑیوں کے ساتھ پیدل چلنے والوں کے راستے (فٹ پاتھ) پر ہجوم کو روندنے اور نفرت پھیلانے کے لیے آگے بڑھا، تو وہاں موجود نکولس ولیم (اسپائیڈر مین) نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر متحرک گاڑی پر چھلانگ لگا دی اور اس فتنہ انگیز قافلے کو روکنے کے لیے فرنٹ لائن پر آ گیا۔
عدالتی پیش رفت اور امریکی نظامِ انصاف کا تضاد;..
اس واقعے کے بعد امریکی عدالتوں اور منیاپولس انتظامیہ کی جانب سے جو پیش رفت سامنے آئی ہے، وہ انتہائی تعجب خیز اور مبہم ہے:
جیک لینگ کی تزویراتی بریت: ہینی پن کاؤنٹی (Hennepin County) کی اٹارنی میری موریارٹی (Mary Moriarty) نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ انتہا پسند رہنما جیک لینگ پر منیاپولس ہنگامہ آرائی کے حوالے سے کوئی بھی سنگین مجرمانہ یا دنگا فساد (Felony Riot) کا مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔
تفتیش سے معلوم ہوا کہ ریلی سے قبل جیک لینگ کی سیکیورٹی ٹیم اور منیاپولس پولیس انتظامیہ (MPD) کے مابین روٹس کے حوالے سے پہلے سے کوآرڈینیشن چل رہی تھی، جس کے مبہم پیغامات کا قانونی فائدہ اٹھا کر وہ عارضی طور پر رہا ہو گیا۔
نکولس ولیم پر چارجز:
دوسری طرف، انسانیت اور امن کے لیے کھڑے ہونے والے نکولس ولیم لو کو ضمانت پر رہا تو کر دیا گیا ہے، لیکن ان پر درجۂ چہارم کے حملے (Fourth-Degree Assault) کا باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ان کی پہلی عدالتی پیشی 4 ستمبر 2026کو طے پائی ہے۔سول سوسائٹی کا ردِعمل اور عوامی بیداری;..
نکولس ولیم کا یہ اقدام محض ایک جذباتی ردِعمل نہیں تھا، بلکہ یہ پوری انسانیت کے لیے امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا ایک مثالی اور لازوال سبق ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب کچھ شرپسند عناصر دنیا کو مذہبی منافرت کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں،
ایک غیر مسلم نوجوان کا قرآنِ پاک کی حرمت اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے کھڑے ہو جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ انسانیت کا رشتہ سب سے اعلیٰ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امریکی مسلم حقوق کی تنظیموں، سول رائٹس آرگنائزیشنز اور اینٹی فاشسٹ گروپس نے نکولس ولیم کے قانونی اخراجات کے لیے فنڈ جمع کر لیا ہے۔ مقامی تنظیموں نے 4 ستمبر کو عدالت کے باہر ایک بڑے پرامن احتجاج اور “Pack the Court” مہم کا اعلان کیا ہے تاکہ استغاثہ پر کیس واپس لینے کا اخلاقی دباؤ بڑھایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے بھی واضح کیا ہے کہ عوامی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والوں کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔
اصل ہیرو کون؟میرے بیٹے ضرغام عباس نے جس معصومیت سے مجھے وہ تصویر دکھائی، اس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہیرو وہی نہیں ہوتا جو فلمی پردے پر گرافکس اور اینیمیشن کی مدد سے اڑتا دکھائی دے، بلکہ اصل ہیرو وہ نکولس ولیم ہے جس نے حقیقی دنیا میں نفرت کے خلاف محبت، اور ظلم کے خلاف امن کا پرچم بلند کیا۔میں اپنے بیٹے سے کیا ہوا وعدہ ضرور پورا کروں گا اور اسے اسپائیڈر مین کا لباس لا کر دوں گا، لیکن ساتھ ہی اسے یہ کہانی بھی سناؤں گا کہ بیٹا! یہ لباس صرف رنگ برنگا کپڑا یا کوئی فینسی ٹوائے نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے چھپی اصل طاقت اور روح کا نام “ظلم کے خلاف اور مظلوم کے حق میں کھڑے ہونا” ہے۔ نکولس ولیم نے دنیا کو بتا دیا کہ کتابِ الٰہی کی حرمت اور انسانیت کا دفاع ہر باضمیر انسان کا فرض ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔امریکہ اور یورپ میں اسلامو فوبیا اس وقت تاریخ کے خطرناک ترین اور تشویشناک ترین مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ مسلم حقوق کی عالمی تنظیموں، بالخصوص کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز اور کلیکٹو اگینسٹ اسلامو فوبیا ان یورپ کی تازہ ترین سالانہ رپورٹس کے مطابق، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم، تعصب اور امتیازی سلوک کے واقعات نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
اس خطرناک صورتحال کے بنیادی اسباب اور حقائق درج ذیل ہیں:
1۔ امریکہ میں اسلامو فوبیا: ریکارڈ ساز اضافہ;..
شکایات میں ریکارڈ اضافہ: کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) کی سالانہ رپورٹ “The Right to be Different” کے مطابق، گذشتہ ایک سال کے دوران مسلم اور عرب کمیونٹی کے خلاف امتیازی سلوک کی ریکارڈ 8,683 شکایات موصول ہوئیں، جو کہ 1996 سے اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
حکومتی اور سیاسی بیانیے کا اثر:
رپورٹ کے مطابق فلوریڈا، ٹیکساس اور مینی سوٹا جیسی ریاستوں میں دائیں بازو کے سیاست دانوں نے اسلام مخالف بیانیے کو باقاعدہ فروغ دیا ہے۔
کانگریس میں قائم “شریعہ فری امریکہ کاکس” (Sharia-Free America Caucus) جیسے گروپ کھلم کھلا اسلام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ڈیجیٹل نفرت: سوشل میڈیا (بالخصوص ایکس – X) پر دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے ذریعے لاکھوں کی تعداد میں پُرتشدد اور اسلام مخالف تبصرے شیئر کیے جا رہے ہیں، جس کا واضح نتیجہ منیاپولس میں قرآنِ پاک نذرِ آتش کرنے کی کوشش جیسے واقعات کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
2۔ یورپ میں ساختیاتی اور ادارہ جاتی تعصب ‘
مظلوم خواتین کا ہدف بننا: یورپی مانیٹرنگ اداروں (CCIE) کی رپورٹ کے مطابق یورپ میں درج ہونے والے اسلامو فوبیا کے کیسز میں 80 فیصد متاثرین خواتین ہیں، خاص طور پر حجاب یا نقاب پہننے والی خواتین کو ملازمتوں، ہاؤسنگ مارکیٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ میں شدید امتیازی سلوک اور جسمانی حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ادارہ جاتی شکل تشویشناک بات یہ ہے کہ اب یہ تعصب صرف انفرادی سطح پر نہیں رہا، بلکہ یورپ کے کئی سرکاری اور نجی اداروں، اسکولوں اور تنظیموں کے قوانین میں مسلم شعائر کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سیاسی عروج اور انتہا پسندی: فرانس، جرمنی، برطانیہ اور سویڈن میں دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز (جیسے برطانیہ میں ٹامی رابنسن کے حامی) نے اسلام کو “یورپ کے لیے خطرہ” بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے نفرت روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔3۔ صرف 6 فیصد واقعات کی رپورٹنگخوف کا ماحول: یورپی یونین کی ایجنسی برائے بنیادی حقوق (FRA) کا کہنا ہے کہ عدالتوں اور اداروں پر عدم اعتماد کی وجہ سے صرف 6 فیصد مسلم متاثرین اپنے خلاف ہونے والے جرائم کی رپورٹ درج کرواتے ہیں۔ باقی 94 فیصد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زمینی حقائق کتنے ہولناک ہیں۔
عالمی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اقوامِ متحدہ اور مغربی ممالک کی عدالتوں نے “اظہارِ رائے کی آزادی” کے نام پر قرآنِ پاک کی بے حرمتی اور مسلمانوں کی نسل پرستانہ پروفائلنگ کو سختی سے نہ روکا، تو یہ نفرت عالمی امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ امریکہ اور یورپ میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کے خلاف اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی اداروں نے قانونی اور سفارتی سطح پر کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں، جو اس نفرت کے سدِباب کے لیے عالمی فریم ورک فراہم کرتے ہیں:
“اسلامو فوبیا کے خلاف جنگ کا عالمی دن” :
15 مارچ 2022 کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک تاریخی قرارداد منظور کی، جس کے تحت ہر سال 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کے خلاف جنگ کا عالمی دن قرار دیا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد عالمی سطح پر مروجہ رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب کا خاتمہ کرنا ہے۔خصوصی ایلچی کا تقرر: اس قرارداد کے تحت اقوامِ متحدہ نے ایک خصوصی ایلچی بھی مقرر کیا ہے جس کا کام دنیا بھر میں اسلامو فوبیا کے واقعات کی نگرانی کرنا اور رکن ممالک کو اس کے سدِباب کے لیے پالیسیاں تجویز کرنا ہے۔
یو این ہیومن رائٹس کونسل کی قرارداد;قرآنِ پاک کی بے حرمتی کے خلاف اقدام:
جولائی 2023 میں سویڈن اور ڈنمارک میں قرآنِ پاک کو نذرِ آتش کرنے کے پے در پے واقعات کے بعد، پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کی درخواست پر جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔
مذہبی منافرت کی مذمت: کونسل نے ایک سخت قرارداد منظور کی جس میں قرآنِ پاک کی بے حرمتی کو مذہبی منافرت پر مبنی اقدام قرار دیا گیا اور یورپی ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ “اظہارِ رائے کی آزادی” کی آڑ میں ایسی کارروائیوں کو روکنے کے لیے اپنے قوانین میں تبدیلیاں کریں۔
بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اعلامیےبین الاقوامی قوانین کے تحت کسی بھی مذہب یا برادری کے خلاف نفرت پھیلانا جرم ہے، جس کی بنیادی دفعات درج ذیل ہیں,اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کا آرٹیکل 18 ہر انسان کو اپنے عقیدے اور مذہب پر آزادی سے عمل کرنے اور اس کے شعائر کو برقرار رکھنے کا تحفظ دیتا ہے۔آرٹیکل 20 شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی عہد نامے کا آرٹیکل 20 واضح طور پر کہتا ہے کہ “ایسی کوئی بھی مہم یا وکالت جو قومی، نسلی یا مذہبی نفرت پر مبنی ہو اور جو امتیازی سلوک، دشمنی یا تشدد کو ہوا دے، قانوناً ممنوع ہوگی۔”
یورپی یونین کے اقدامات; یورپی یونین نے بھی یورپ میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کو روکنے کے لیے ایک مستقل کوآرڈینیٹر مقرر کر رکھا ہے جو یورپی ممالک میں مسلم کمیونٹی کے تحفظ اور ان کے خلاف امتیازی قوانین کی روک تھام کے لیے کام کرتا ہے۔موجودہ چیلنج ان تمام قوانین اور قراردادوں کے باوجود، سب سے بڑا چیلنج مغربی ممالک کی جانب سے ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد نہ کرنا ہے۔ اکثر مغربی ممالک “اظہارِ رائے کی آزادی” کے قانون کا سہارا لے کر انتہا پسندوں کے خلاف سخت کارروائی سے گریز کرتے ہیں، جس کی وجہ سے منیاپولس جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں,امریکہ اور یورپ میں اسلامو فوبیا کے خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی ارگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن نے عالمی سطح پر مسلمانوں کے حقوق اور شعائرِ اسلام کے تحفظ کے لیے اہم سفارتی محاذ سنبھالا ہوا ہے حالیہ برسوں میں او آئی سی نے پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے تعاون سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں طویل سفارتی مہم چلائی۔ اس مشترکہ کوشش کے نتیجے میں ہی 15 مارچ 2022 کو یو این نے متفقہ طور پر “اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن” منانے کی قرارداد منظور کی یورپ بالخصوص سویڈن، ڈنمارک اور حالیہ منیاپولس واقعے کے تناظر میں قرآنِ پاک کو نذرِ آتش کرنے کے اشتعال انگیز واقعات پر او آئی سی نے وزرائے خارجہ کا ہنگامی ورچوئل اجلاس طلب کیا۔ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے تمام رکن ممالک کو ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ اپنے اپنے دارالحکومتوں میں یورپی ممالک کے سفراء کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرائیں اور اقتصادی و سفارتی تعلقات پر نظرثانی کی تنبیہ کریں , او آئی سی کا وفد مستقل بنیادوں پر یورپی یونین اور یورپی پارلیمنٹ کے حکام سے ملاقاتیں کر رہا ہے۔ او آئی سی کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ “مذہبی علامات اور مقدس کتابوں کی بے حرمتی کو ‘اظہارِ رائے کی آزادی’ کا نام نہیں دیا جا سکتا”، بلکہ یہ صریحاً بین الاقوامی قوانین کے تحت نفرت انگیز تقریر (Hate Speech) کے زمرے میں آتا ہے۔ جدہ میں قائم او آئی سی کے ہیڈ کوارٹر میں ایک خصوصی شعبہ “اسلامو فوبیا آبزرویٹری” چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے۔ یہ ادارہ دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے حملوں، مساجد کی بے حرمتی، اور اسلام مخالف قوانین کی سالانہ دستاویزی رپورٹ تیار کرتا ہے تاکہ اسے عالمی عدالتوں اور اداروں میں بطور ثبوت پیش کیا جا سکے۔ او آئی سی کے لیے موجودہ چیلنجزعالمی ماہرین کے مطابق، او آئی سی کا کردار سفارتی بیانات اور قراردادوں تک تو بہت مضبوط ہے، لیکن اسے چیلنجز کا سامنا ہے مسلم ممالک کی جانب سے اسلامو فوبیا کے مرتکب ممالک پر مشترکہ معاشی بائیکاٹ یا سخت تجارتی پابندیاں نہ لگانے کی وجہ سے مغربی ممالک ان قراردادوں کو سنجیدگی سے نافذ نہیں کرتے۔
مغربی دنیا میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا اور منیاپولس جیسے واقعات کے مستقل سدِباب کے لیے صرف اقوامِ متحدہ یا او آئی سی کی قراردادیں کافی نہیں ہیں۔ جب تک ان قراردادوں کو عملی قوانین اور سزاؤں میں تبدیل نہیں کیا جائے گا، انتہا پسند عناصر “اظہارِ رائے کی آزادی” کا فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔اس عالمی مسئلے کے دیرپا حل کے لیے درج ذیل ٹھوس اور عملی تجاویز اختیار کی جانی چاہئیں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر میں ترمیم کر کے تمام الہامی کتب (قرآن مجید، تورات، انجیل) اور انبیاء کرام کی شان میں گستاخی یا انہیں نذرِ آتش کرنے کو عالمی سطح پر قابلِ سزا جرم قرار دیا جائے۔یورپی ممالک کو اپنے داخلی قوانین میں واضح کرنا ہوگا کہ کسی بھی مذہبی برادری کے جذبات کو مجروح کرنا آزادیِ اظہار نہیں بلکہ نفرت انگیز جرم (Hate Crime) ہے۔ مسلم ممالک کو ان مغربی ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی اور اقتصادی معاہدوں کو مسلمانوں کے تحفظ اور مذہبی رواداری سے مشروط کرنا ہوگا۔ اگر کوئی ملک قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والوں کو پولیس پروٹیکشن دیتا ہے، تو او آئی سی کے پلیٹ فارم سے اس کا معاشی بائیکاٹ کیا جائے۔ ایسے واقعات پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والے ممالک سے مسلم ممالک اپنے سفراء کو عارضی طور پر واپس بلانے جیسے سخت سفارتی اقدامات اٹھائیں۔ امریکہ اور یورپ میں مسلمانوں کو ایسی مضبوط قانونی فاؤنڈیشنز قائم کرنی چاہئیں جو نکولس ولیم (اسپائیڈر مین) جیسے محافظوں کا عدالتوں میں مفت اور مضبوط دفاع کریں اور اسلامو فوبیا کے مرتکب افراد پر مقدمات دائر کریں۔ مغربی ممالک میں مقیم مسلم کمیونٹی کو وہاں کے مقامی بلدیاتی اور قومی انتخابات میں ان امیدواروں کو ووٹ دینا چاہیے جو اسلامو فوبیا کے خلاف سخت قوانین بنانے کا وعدہ کریں , مغربی یونیورسٹیوں اور شہروں میں ایسے معلوماتی مراکز قائم کیے جائیں جہاں غیر مسلموں کو اسلام کے حقیقی پیغامِ امن، رواداری اور کائنات کے لیے رحمت اللعالمین ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے متعارف کروایا جائے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (X، فیس بک، یوٹیوب) پر اسلامو فوبک مواد کو فلٹر اور بلاک کروانے کے لیے او آئی سی کو گوگل اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر سینسر شپ پالیسی مرتب کرنی چاہیے۔









