Rawalpindi; 47 accused, including Omar Ayub, Zartaj Gul, Murad Saeed, Shibli Faraz, sentenced in GHQ attack case….
…… (Asghar Ali Mubarak) . …..راولپنڈی ;جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب، زرتاج گل، مراد سعید، سمیت 47 ملزمان کو سزا. …
…… (اصغر علی مبارک ) . …..
انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے 47 اشتہاری ملزمان کو 10، 10 سال قید اور 5، 5 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنا دی ہے۔نو مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی نیب کے ہاتھوں مبینہ کرپشن کیسز میں گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران آرمی تنصیبات پر حملوں کے ساتھ ساتھ دیگر قومی و نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کا فیصلہ کیا گیا تھااور پاکستانی فوج نے اپنا موقف واضح کر رکھا ہے کہ ذمہ داران کو آئین کے مطابق سزا دینا پڑے گی۔عدالت نے انسداد دہشتگردی ایکٹ کی سیکشن 21 ایل کے تحت 47 اشتہاری ملزمان کا علیحدہ ٹرائل چلایا۔ اسی حوالے سے 18 نومبر کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جی ایچ کیو پر حملہ کیس میں نامزد ملزمان عمران خان، عمر ایوب، شبلی فراز، شہباز گل، مراد سعید، حماد اظہر، زلفی بخاری اور صداقت عباسی کے ملک سے باہر سفر پر پابندی عائد کر دی تھی۔راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نو مئی 2023 کو جی ایچ کیو پر حملے کے کیس میں اشتہاری قرار دیے گئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں عمر ایوب، مراد سعید اور ذلفی بخاری سمیت 47 دیگر ملزمان کو 10، 10 برس قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔نو مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی قومی احتساب بیورو (نیب) کے ہاتھوں مبینہ کرپشن کیسز میں گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران آرمی تنصیبات پر حملوں کے ساتھ ساتھ دیگر قومی و نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) پر ہونے والے حملے کا مقدمہ تھانہ آر اے بازار میں درج کیا گیا تھا۔
5 اگست 2024کوپاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں نو مئی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا تھاکہ پاکستان فوج کا سات مئی کی پریس کانفرنس میں جو موقف تھا، وہی ہے اور اس میں تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا تھاکہ نو مئی سے متعلق فوج کا مؤقف بڑا واضح ہے جس میں کوئی تبدیلی آئی ہے نہ آئے گی۔ ڈیجیٹل دہشت گردی کے خلاف پہلی دفاعی لائن قانون ہے۔ یہ قانون اس طرح کام نہیں کر رہا جیسے اسے کرنا چاہیے۔ کوئی افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرے گا تو فوج پوری کارروائی کرے گی۔ 6 جولائی 2024کو خصوصی عدالت کے جج خالد ارشد نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے نو مئی کے تین مقدمات، جن میں جناح ہاؤس، عسکری ٹاور اور تھانہ شادمان پر حملوں سے متعلق کیسز شامل ہیں، ان میں عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی تھی۔دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’نو مئی کو ہم القادرٹرسٹ کیس میں ضمانت کے لیے اسلام آباد میں ہائی کورٹ میں موجود تھے۔ وہاں سے عمران خان کو غلط طریقے سے گرفتار کیا گیاتھا اس غیر قانونی اقدام کا رد عمل آیاتھا۔‘ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے حراست میں ہونے کی وجہ سے تین دن بعد علم ہوا کہ ریاست کے اداروں پر حملے ہوئے ہیں۔ اس کی بانی پی ٹی آئی نے مذمت کرتے ہوئے اظہار افسوس بھی کیا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔ دلائل میں کہا کہ 11 مئی کو سپریم کورٹ نے بانی ہی ٹی آئی کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا۔ بانی پی ٹی آئی نے نو مئی کے واقعات سے لاعلمی کا اظہار کیا کیونکہ وہ اس وقت گرفتار تھے۔ سوال اٹھایا کہ ’نو مئی سے پہلے جس نے امن و امان خراب کیا اور عمران خان کو غیر قانونی حراست میں لیا۔ یہ کہا گیا کہ ہم عبرت کا نشان بنا دیں گے کیا وہ واقعے کا اصل ذمہ دار نہیں؟‘ سیاسی انتقام شروع ہونے سے پہلے ان کے خلاف کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں لیکن کچھ عرصے میں بانی پی ٹی آئی پر جنسی جرائم سمیت ہزاروں جرائم کے الزامات لگائے دیے گئے۔ موجودہ ریکارڈ کو دیکھا جائے تو کوئی ایسا جرم نہیں جو بانی پی ٹی آئی نے نہیں کیا۔ سرکاری وکیل نے دلائل میں مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’سپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے اپنی گرفتاری کی صورت میں سول و عسکری تنصیبات پر حملہ کرنے کی ہدایت دی تھی اس حوالے سے نو مئی سے قبل زمان پارک میں زوم میٹنگ ہوئی جس میں پورے پاکستان میں فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کی جو ہدایت کی گئی تھیں، یہ اس کا نتیجہ نکلا۔ ثبوتوں اورشواہد کا جائزہ ٹرائل کے وقت لیا جائے گا، ضمانت کی سطح پر نہیں۔‘ہماری ایف آئی آرز میں ریکارڈ شدہ بیانات ہیں کہ جو شازش کی منصوبہ بندی ہوئی، اس پر عمل درآمد بھی ہوا۔‘ سرکاری وکیل نے کہا کہ ’ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں کہ منصوبہ بندی بانی پی ٹی آئی کی زوم میٹنگ میں نو مئی سے پہلے زمان پارک میں ہوئی۔ یاسمین راشد کی آڈیو میں بھی اس بارے تصدیق موجود ہے۔‘‘ سپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’کسی جرم میں اگر ہجوم ملوث ہے تو ہجوم کا ہر فرد شریک جرم ہوتا ہے۔ عمران خان نے گرفتاری سے پہلے جو تقاریر کیں وہ جرم کا حصہ ہیں کیونکہ جو اسلام آباد میں بیٹھا ہے وہ فون پر گائیڈ کر رہا ہے وہ جرم میں شریک ہے۔ یہ جدید آلات سے کمیونیکیشن کا دور ہے۔ سوشل میڈیا پر بیٹھے لوگ بھی نو مئی کوجلاؤ گھیراؤ کے ذمہ دار ہیں۔ اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ ’یہ تو حقیقت ہے کہ معاونت کرنے والا اکثر مواقع پر نہیں ہوتا۔‘ سپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’امریکہ میں کیپیٹل ہل کیس میں معاونت کرنے والوں کو سزا ہوئی۔ جناح ہاؤس کیس میں بھی کیپیٹل ہل کی طرح معاونت جرم اور سازش کا پلان موجود ہے۔‘ جج نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا کیپٹل ہل کیس میں ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا ہوئی؟انہوں نے جواب دیا: ’ہاں جی لیکن اس کیس میں پہلے پولیس چیف کو سزا ہوئی۔‘ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے ہفتے کو جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں اس مقدمے کے 47 اشتہاری ملزمان کو 10، 10 سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے ملزمان کی جائیداد بھی ضبط کرنے کا حکم دیا ہے، جن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمر ایوب، شہباز گل، زرتاج گل، مراد سعید، شبلی فراز، حماد اظہر، ذلفی بخاری اور کنول شوزب سمیت دیگر شامل ہیں۔ عدالت نے ملزمان کو اشتہاری قرار دے کر ان کی غیر موجودگی میں ٹرائل آگے بڑھایا۔ عدالت کا یہ فیصلہ غیر حاضر ملزمان کی حد تک سنایا گیا۔اسی کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ٹرائل ابھی انسداد دہشت گردی راولپنڈی میں زیر التوا ہے۔عدالتی فیصلے، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، میں کہا گیا کہ ’سزا پانے والے ملزمان نو مئی 2023 کے واقعات کی سازش میں ملوث پائے گئے ہیں اور جے آئی ٹی رپورٹ نے ملزمان کو پرتشدد احتجاج کی منصوبہ بندی میں ملوث قرار دیا ہے۔مزید کہا گیا کہ ’سزا پانے والے ملزمان جی ایچ کیو گیٹ، حمزہ کیمپ، آرمی میوزیم اور سکستھ روڈ میٹرو سٹیشن پر حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں، جے آئی ٹی نے سزا پانے والے ملزمان کو نو مئی کے واقعات کی منصوبہ بندی میں مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔فیصلے کے مطابق ملزمان پر نو مئی کے واقعات میں جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، پولیس پر حملوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔سپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے سرکار کی طرف سے اس کیس کی پیروی کی۔نو مئی 2023 کو جی ایچ کیو پر حملے کا مقدمہ تھانہ آر اے بازار میں درج کیا گیا تھا۔فیصلے کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 21 ایل کے تحت 47 اشتہاری ملزمان کا علیحدہ ٹرائل چلایا گیا۔ نو مئی 2023 کو جی ایچ کیو پر حملے کا مقدمہ تھانہ آر اے بازار میں درج کیا گیا تھا۔ رواں برس6 جنوری کو اشتہاری ملزمان کے خلاف کاروائی کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس کے بعد عدالت نے انکوائری تشکیل دی۔ اس عدالتی انکوائری میں 47 اشتہاری ملزمان کو ’دیدہ دانستہ مفرور قرار دیا گیا۔‘ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں عدالت نے اخبار میں اشتہار جاری کروایا اور رواں برس آٹھ جنوری کو 47 مفرور ملزمان کا اشتہار جاری کیا گیا۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ’عدالت نے اشتہاری قرار پانے والے ملزمان کو سات روز کے اندر عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا موقع دیا،واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے 9مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں 47 اشتہاری ملزمان کو 10، 10سال قید اور 5، 5 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے جبکہ عدالت نے ملزمان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق ملزمان کو 9مئی کے واقعات کی سازش، پرتشدد احتجاج کی منصوبہ بندی، جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، پولیس پر حملوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ جی ایچ کیو گیٹ، حمزہ کیمپ، آرمی میوزیم اور سکستھ روڈ میٹرو اسٹیشن پر حملوں کے تناظر میں درج کیا گیا تھا اور اس کیس میں متعدد ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی تھی جبکہ مقدمہ تھانہ آر اے بازار میں درج کیا گیا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ’مقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی سمیت 118 ملزمان پر دسمبر 2024 میں فرد جرم عائد کی گئی جبکہ اب تک استغاثہ کے کل 44 گواہان کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں۔مزید کہا گیا کہ ’ان 118 ملزمان میں سے 18 دوران ٹرائل عدالت سے مسلسل غیر حاضر پائے گئے اور 29 ملزمان مقدمے کے اندراج کے بعد کبھی عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے۔فیصلے کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 21 ایل کے تحت 47 اشتہاری ملزمان کا علیحدہ ٹرائل چلایا گیاتاہم ان عدالتی احکامات اور اشتہار جاری ہونے کے باوجود کوئی ملزم عدالت پیش نہیں ہوا۔ (جس کے بعد) اشتہاری ملزمان کا سٹیٹ کونسل مقرر کر کے چارج فریم کیے اور پراسیکیوشن نے 19 گواہان کے بیانات عدالت میں ریکارڈ کروائے۔‘ استغاثہ کے گواہان پر جرح کرنے اور 47 اشتہاری ملزمان کا ٹرائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ جاری کیا، جس میں ملزمان کو دس، دس سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔دوسری طرف9مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت نے سزا یافتہ ملزمان کو 60 دن کے اندر سرنڈر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت فیصلے میں ہدایت جاری کی گئی ہے کہ تمام سزا یافتہ ملزمان 7 مئی تک عدالت کے سامنے پیش ہو کر سرنڈر کریں۔ فیصلے کے مطابق جو سزا یافتہ ملزم مقررہ مدت میں سرنڈر کرے گا اس کی سزا خود بخود کالعدم ہو جائے گی اور اس کا مقدمہ میرٹ پر دوبارہ چلایا جائے گا۔ عدالت نے واضح کیا کہ سرنڈر کرنے والے ملزمان کے خلاف سزائیں ختم کر کے ان کا باقاعدہ ٹرائل کیا جائے گا۔ عدالت کی جانب سے جن ملزمان کو سرنڈر کی ہدایت جاری کی گئی ہے ان میں عمر ایوب، شبلی فراز، کنول شوزب، زرتاج گل، مراد سعید، حماد اظہر، ذلفی بخاری اور شیخ راشد شفیق سمیت دیگر سزا یافتہ ملزمان شامل ہیں۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے سزا اور سرنڈر سے متعلق وارنٹ بھی جاری کر دیے ہیں۔ 5 دسمبر 2024کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران جی ایچ کیو حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت متعدد رہنماؤں پر فرد جرم عائد کی ہے۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس کی سماعت کی تھی۔ پاکستان تحریک انصاف کے مطابق عمران خان کے علاوہ عمر ایوب اور راجہ بشارت سمیت متعدد رہنماؤں پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جس کے بعد قائد حزب اختلاف عمر ایوب سمیت دیگر رہنماؤں کو اڈیالہ جیل کے باہر سے حراست میں لے لیا گیا تھا
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’اب جب کہ فرد جرم عائد کر دی گئی ہے تو لیگل ٹیم اسے متعلقہ عدالتوں میں چیلنج کرے گی اور امید ہے کہ انصاف ملے گا دوسری جانب پانچ دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے خلاف وفاقی دارالحکومت میں درج مقدمات کی تعداد 76 ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کی بانی پی ٹی آئی پر ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات کی درخواست پر سماعت کی تھی، سماعت کے دوران وفاقی محتسب ادارے (نیب)، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور سیکرٹری داخلہ کی جانب سے عدالت میں رپورٹس جمع کروائی گئیں، جن میں ملک بھر میں عمران خان پر درج مقدمات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔2 جولائی 2024 کو وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اپنے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی ایک حالیہ رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری اور زیر التوا مقدمات کو پاکستان کا ’داخلی معاملہ‘ قرار دیا تھا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ورکنگ گروپ برائے آربٹریری ڈیٹینشن نے پیر کو ’عمران خان کی گرفتاری کو صوابدیدی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے انہیں ’فوری رہا کرنے‘ اور بین الاقوامی قانون کے مطابق انہیں اس ’حراست کے باعث معاوضے اور دیگر ازالے کا قابلِ عمل حق دینے‘ کا مطالبہ کیا تھا۔اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی رپورٹ پر حکومتی ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ ’خودمختار ریاست کے طور پر پاکستان میں عدالتوں کے ذریعے آئین اور مروجہ قوانین پر عمل ہوتا ہے ’بانی پی ٹی آئی کو ملکی آئین و قانون اور عالمی اصولوں کے مطابق تمام حقوق حاصل ہیں، وہ ایک سزا یافتہ قیدی کے طور پر جیل میں ہیں ساتھ ہی انہوں نے کہا تھاکہ ’کئی مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کو ریلیف ملنا شفاف اور منصفانہ ٹرائل اور عدالتی نظام کا مظہر ہے۔ ’آئین، قانون اور عالمی اصولوں سے ماورا کوئی بھی مطالبہ امتیازی، جانبدارانہ اور عدل کے منافی کہلائے گا۔‘اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے پیر کو کہا تھا کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری صوابدیدی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور انہیں فوری رہا کیا جانا چاہیے۔ جینیوا میں قائم اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے آربٹریری ڈیٹینشن نے کہا کہ ’مناسب مداوا یہ ہوگا کہ عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق انہیں اس حراست کے باعث معاوضے اور دیگر ازالے کا قابلِ عمل حق دیا جائے۔‘ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی قانونی مشکلات ان کے اور ان کی پارٹی کے خلاف ’جبر کی بہت بڑی مہم‘ کا حصہ ہیں۔ گروپ کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ 2024 کے انتخابات سے قبل عمران خان کی پارٹی کے ارکان کو گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھااور ان کی ریلیوں میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ یہ بھی الزام لگایا گیاتھا کہ ’انتخابات کے دن بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کی گئی اور درجنوں پارلیمانی نشستیں چوری کی گئیں۔واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیاتھا، تاہم پاکستان کا الیکشن کمیشن انتخابات میں دھاندلی کی تردید کرتا ہے۔عمران خان جیل میں ہیں اور فروری میں ہونے والے قومی انتخابات سے قبل انہیں کچھ مقدمات میں سزا سنائی گئی تھی۔ وہ درجنوں دیگر مقدمات بھی لڑ رہے ہیں جو کہ جاری ہیںان کی پارٹی کا کہنا تھا کہ یہ الزامات ان کی اقتدار میں واپسی کو روکنے کے لیے سیاسی محرکات پر مبنی ہیں۔ پاکستانی عدالتوں نے سرکاری تحائف کے غیر قانونی حصول اور فروخت (توشہ خانہ) سے متعلق مقدمے میں عمران خان کی قید کی سزا معطل کی ہے اور ریاستی راز افشا کرنے (سائفر) کے الزام میں ان کی سزا کو بھی منسوخ کر دیا تھا۔تاہم وہ ایک اور کیس میں سزا کی وجہ سے جیل میں ہیں جس میں ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ 2018 میں ان کی بشریٰ بی بی سے شادی غیر قانونی تھی۔ عمران خان کو گذشتہ سال نو مئی میں پر تشدد واقعات کے سلسلے میں انسداد دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمے کا بھی سامنا ہے۔عمران خان 2018 میں اقتدار میں آئے تھے اور 2022 میں انہیں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ وہ اور ان کی پارٹی یہ الزام عائد کرتی ہے کہ امریکہ اور پاکستانی فوج نے پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے انہیں اقتدار سے ہٹانے میں کردار ادا کیا، تاہم دونوں ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ عمران خان کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ان کے خلاف متعدد مقدمات دائر کیے گئے تھے جس کے باعث وہ فروری کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیے گئے۔
The Anti-Terrorism Court Rawalpindi, while delivering a major verdict in the May 9 GHQ attack case, has sentenced 47 declared accused to 10 years in prison and a fine of Rs 5.5 million. After the arrest of PTI founding chairman Imran Khan by NAB in alleged corruption cases on May 9, 2023, during the violent protests across the country, army installations were attacked, and other national and private properties were damaged. It was decided to try the cases against those involved in these incidents in military courts, and the Pakistani army has made its stand clear that those responsible will have to be punished according to the constitution. The court conducted a separate trial of 47 declared accused under Section 21L of the Anti-Terrorism Act. In this regard, on November 18, the Rawalpindi Anti-Terrorism Court imposed a travel ban on the accused named in the GHQ attack case, including Imran Khan, Omar Ayub, Shibli Faraz, Shahbaz Gul, Murad Saeed, Hammad Azhar, Zulfi Bukhari, and Sadaqat Abbasi, from traveling outside the country. On May 9, 2023, the Rawalpindi Anti-Terrorism Court sentenced 47 other accused, including Pakistan Tehreek-e-Insaf leaders Omar Ayub, Murad Saeed, and Zulfi Bukhari, who were declared absconders in the GHQ attack case, to 10 years in prison and fines. Following the arrest of PTI founding chairman Imran Khan by the National Accountability Bureau (NAB) in alleged corruption cases on May 9, 2023, violent protests across the country resulted in attacks on army installations as well as damage to other national and private properties. In this regard, a case of an attack on General Headquarters (GHQ) in Rawalpindi was registered at the RA Bazaar police station.
On August 5, 2024, the Director General of the Inter-Services Public Relations (ISPR) of the Pakistan Army, Lieutenant General Ahmed Sharif Chaudhry, in response to a question regarding May 9, said in a press conference that the position of the Pakistan Army in the press conference of May 7 is the same and there has been no change in it. He stated that the army’s position regarding May 9 is very clear, which has not changed and will not change. The first line of defense against digital terrorism is the law. This law is not working as it should. If someone propagates against the Pakistani army, the army will take full action. On July 6, 2024, Special Court Judge Khalid Arshad heard the interim bail application of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) founder Imran Khan in three May 9 cases, including the cases related to the attacks on Jinnah House, Askari Tower, and Shadman police station. During the hearing, Imran Khan’s lawyer began his arguments by saying, “On May 9, we were in the Islamabad High Court for bail in the Al-Qadir Trust case. From there, Imran Khan was wrongly arrested, and this illegal move was reacted to.” He said that due to Imran Khan’s detention, it was learned three days later that there were attacks on state institutions. The founder of PTI condemned it and expressed regret and demanded action against those responsible. In his arguments, he said that on May 11, the Supreme Court declared the arrest of the PTI founder as illegal. The founder of PTI expressed ignorance about the events of May 9 because he was under arrest at the time. The question was raised that whoever disturbed the peace and order before May 9 and illegally detained Imran Khan. It was said that we will make a lesson out of it, but is he not really responsible for the incident?’ Before the political vendetta started, there was no criminal record against him, but within a short period of time, thousands of charges were filed against the founder of PTI, including sexual crimes. If we look at the current record, there is no crime that the founder of PTI did not commit. The public prosecutor opposed the arguments and said that ‘according to the Special Branch report, the founder of PTI had given instructions to attack civil and military installations in case of his arrest. In this regard, a Zoom meeting was held in Zaman Park before May 9, in which the instructions to attack military installations throughout Pakistan were given, and this was the result. The evidence and witnesses will be reviewed at the time of trial, not at the bail level. ‘There are recorded statements in our FIRs that the conspiracy was planned and implemented.’ The public prosecutor said, ‘We have evidence that the planning took place in the Zoom meeting of the founder of PTI at Zaman Park before May 9. There is also confirmation in Yasmin Rashid’s audio.’ The special prosecutor said, ‘If a crowd is involved in a crime, then every member of the crowd is an accomplice. The speeches that Imran Khan made before his arrest are part of the crime because the one sitting in Islamabad and guiding on the phone is an accomplice in the crime. This is the era of communication with modern devices. People sitting on social media are also responsible for the arson on May 9. On this, the judge remarked, ‘It is a fact that the abettor is not there on most occasions.’ The special prosecutor said, ‘Those who aided in the Capitol Hill case in America were punished. In the Jinnah House case, there is a plan of aiding and abetting the crime and conspiracy, just like in the Capitol Hill case. The judge asked the lawyer of the founder of PTI whether Donald Trump was convicted in the Capitol Hill case. He replied: “Yes, but in this case, the police chief was convicted first.”Anti-Terrorism Court Judge Amjad Ali Shah, in a written verdict issued on Saturday, sentenced 47 declared accused in the case to 10 years in prison and a fine of Rs 500,000 each. The court also ordered the seizure of the properties of the accused, including Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) leaders Omar Ayub, Shahbaz Gul, Zartaj Gul, Murad Saeed, Shibli Faraz, Hammad Azhar, Zulfi Bukhari, and Kanwal Shozab, among others. The court declared the accused and proceeded with the trial in their absence. The court’s decision was pronounced in absentia. The trial against former Prime Minister Imran Khan and other accused in the same case is still pending in the Rawalpindi Anti-Terrorism Court. The court’s decision, a copy of which is available with Independent Urdu, said that ‘the convicted accused have been found involved in the conspiracy of the events of May 9, 2023, and the JIT report has named the accused as involved in planning violent protests.’ It was further said that ‘the convicted accused have been found involved in the attacks on GHQ Gate, Hamza Camp, Army Museum and Sixth Road Metro Station, the JIT has named the convicted accused as the main accused in planning the events of May 9.’ According to the decision, the accused are accused of arson, vandalism, attacks on police, and damage to government property in the events of May 9. Special Prosecutor Zaheer Shah prosecuted the case on behalf of the government. The case of the attack on GHQ on May 9, 2023, was registered at the RA Bazar police station. According to the verdict, a separate trial was conducted for 47 declared accused under Section 21L of the Anti-Terrorism Act. The case of the attack on GHQ was registered at the RA Bazar police station on May 9, 2023. A petition for action against the declared accused was filed on January 6 this year, after which the court constituted an inquiry. In this judicial inquiry, 47 declared accused were declared ‘wilfully absconding.’ In light of the inquiry report, the court issued an advertisement in the newspaper, and on January 8 this year, an advertisement was issued for 47 absconding accused. The decision states that the court has given the accused who were declared as proclaimed offenders an opportunity to surrender before the court within seven days. It should be noted that the Anti-Terrorism Court Rawalpindi has sentenced 47 proclaimed offenders to 10 years in prison and a fine of Rs 5.5 million in the May 9 GHQ attack case, while the court has also ordered the confiscation of the movable and immovable properties of the accused. According to the court’s decision, the accused were found involved in the charges of conspiracy in the May 9 incidents, planning violent protests, arson, vandalism, attacks on police, and damage to government property. This case was registered in the context of attacks on GHQ Gate, Hamza Camp, Army Museum, and Sixth Road Metro Station, and several accused were indicted in this case, while the case was registered at the RA Bazaar Police Station.The verdict said that ‘118 accused, including former Prime Minister Imran Khan and Shah Mehmood Qureshi, were indicted in the case in December 2024, while the statements of a total of 44 prosecution witnesses have been recorded so far.’ It was further said that ‘18 of these 118 accused were found to be continuously absent from the court during the trial and 29 accused never appeared in court after the registration of the case.’ According to the verdict, a separate trial was conducted for 47 accused under Section 21L of the Anti-Terrorism Act. However, despite these court orders and the issuance of advertisements, no accused appeared in court. (After which) The State Counsel of the declared accused was appointed, and the charge was framed, and the prosecution recorded the statements of 19 witnesses in the court. After examining the prosecution witnesses and completing the trial of 47 declared accused, the court issued a decision, in which the accused have been ordered to be imprisoned for ten years and fined five lakh rupees and their property confiscated. On the other hand, in the May 9 GHQ attack case, the Anti-Terrorism Court has ordered the convicted accused to surrender within 60 days. The court has issued a directive in the decision that all the convicted accused should appear before the court by May 7 and surrender. According to the decision, the conviction of the convicted accused who surrenders within the stipulated period will automatically be nullified, and his case will be retried on merit. The court clarified that the convictions against the surrendering accused will be terminated and a regular trial will be conducted. The accused who have been directed to surrender by the court include Omar Ayub, Shibli Faraz, Kanwal Shozab, Zartaj Gul, Murad Saeed, Hammad Azhar, Zulfi Bukhari, and Sheikh Rashid Shafiq, among others. The judge of the Anti-Terrorism Court has also issued warrants related to the sentence and surrender. On December 5, 2024, the Anti-Terrorism Court indicted several leaders, including Pakistan Tehreek-e-Insaf chief Imran Khan, in the GHQ attack case during a hearing at Adiala Jail. Anti-Terrorism Court Judge Amjad Ali Shah heard the GHQ Gate attack case at Adiala Jail, Rawalpindi. According to Pakistan Tehreek-e-Insaf, several leaders, including Imran Khan, Omar Ayub, and Raja Basharat, were indicted, after which opposition leader Omar Ayub and other leaders were taken into custody outside Adiala Jail.
The statement issued by PTI said that ‘now that the indictment has been filed, the legal team will challenge it in the relevant courts, and it is hoped that justice will be served.’ On the other hand, on December 5, the Islamabad High Court was informed that the number of cases registered against Pakistan Tehreek-e-Insaf’s founding chairman Imran Khan in the federal capital is 76. Justice Arbab Muhammad Tahir of the Islamabad High Court heard the request of Imran Khan’s sister Noreen Niazi for details of the cases registered against the founder of PTI across the country. During the hearing, reports were submitted to the court by the Federal Ombudsman (NAB), Federal Investigation Agency (FIA), and the Interior Secretary, in which details of the cases registered against Imran Khan across the country were presented.








