Prime Minister of Pakistan committed to the promotion and development of tourism وزیر اعظم پاکستان سیاحت کی فروغ وترقی کے لیے پرعزم ……وزیر اعظم پاکستان سیاحت کی فروغ وترقی کے لیے پرعزم … (اصغر علی مبارک )…. .وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف ملک میں سیاحت کی فروغ وترقی کے لیے پرعزم ہیں,وزیر اعظم کا کہنا ہےکہ پاکستان کے شعبہ سیاحت میں زر مبادلہ کمانے کی لا محدود استعداد موجود ہے بین الاقوامی سیاحوں کی پاکستان کے سیاحتی مقام پر آمدورفت کو سہل بنانے کے لئے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر مل کر کام کریں” وزیر اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کو دنیا کے اولین سیاحتی مراکز کی فہرست میں شامل کریں گے۔ اس مقصد کیلئے وزیر اعظم کی زیر صدارت پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے سے متعلق اجلاس میں شعبہ سیاحت کی استعداد کو بروئے کار لانے کے لیے تجاویز پیش کی گئیں۔یاد رکھیں کہ پچھلے سال اہم اجلاس میں وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے واضح کیا تھا کہ پاکستان کے شعبہ سیاحت میں زر مبادلہ کمانے کی لا محدود استعداد موجود ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قدرتی وسائل اور لازوال خوبصورتی سے نوازا ہے، پاکستان میں برف پوش پہاڑ، جنگلات، دریا، حتیٰ کہ میدان اور ریگستانی علاقے ہیں۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قدرتی وسائل کی بدولت ہمارا ملک کسی بھی ملک سے سیاحت کے ضمن میں کم نہیں، پاکستان کو ایک ٹؤر ازم برانڈ کے طور پر بیرون ملک متعارف کروایا جائے، صوبوں کے تعاون سے پورے ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔وزیر اعظم نے پاکستان ٹؤر ازم ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو سیاحت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے خصوصی ٹؤرازم زون بنائے جائیں، بین الاقوامی سیاحوں کی آمدورفت سہل بنانے کے لیے پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر مل کر کام کریں۔اندرون ملک سیاحت اور ملکی سیاحوں کی تفریحی مقامات پر آمد کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں، ٹؤر ازم سیکٹر میں مستقل سرمایہ کاری سے متعلق منصوبہ بندی کی جائے۔ وزیر اعظم کی ہدایت کے تحت پاکستان ٹورازم سپورٹس اینڈ فیملی فیسٹول کا آغاز آ ج سے اسلام آباد میں شروع ہوگا , دو روزہ فیسٹیول کے مقابلے ایف نائن پارک اور اسلام آباد سپورٹس کمپلیکس میں ہوں گے۔فیسٹیول کے دوران کار شو، موٹر بائیک شو، پیرا گلائیڈنگ، نیزہ بازی اور فیملیز کے لیے متعدد دیگر ایونٹس منعقد کیے جائیں گے۔ پاکستان کے مشہور روایتی کھیل نیزہ بازی کے مقابلے 31 جنوری بروز ہفتہ کو اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں ہوں گے، جن میں ملک بھر سے پچاس سے زائد ٹیمیں شرکت کریں گی۔نیزہ بازی کے مقابلوں میں پہلی مرتبہ البراق ٹینٹ پیگنگ کلب کی ٹیم بھی حصہ لے رہی ہے۔ البراق کلب کی نمائندگی لیڈی رائڈرز زمل قیصرانی اور مناہل قیصرانی کے علاوہ نعمان خالد، چوہدری آفتاب پلاک، رانا احمد نواز کلو، ابراہیم اور دیگر کریں گے جبکہ الخیام کلب کی جانب سے ملک ابتسام، حسن رضا چیمہ، ہمایوں گوندل اور نعمان علی مقابلوں میں شریک ہوں گے۔ نیزہ بازی کے ان مقابلوں کا انعقاد سابق ڈپٹی میئر اسلام آباد سید ذیشان نقوی کی سرپرستی میں کیا جا رہا ہے۔ منتظمین کے مطابق یہ مقابلے شائقین کے لیے خصوصی کشش کا باعث ہوں گے اور پاکستان کے روایتی کھیلوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔منتظمین نے شہریوں اور سیاحوں کو بڑی تعداد میں شرکت کی دعوت دی ہے تاکہ وہ کھیل، ثقافت اور تفریح سے بھرپور اس قومی فیسٹیول کا حصہ بن سکیں۔ وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس نے فیسٹول کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں سیاحت کو فروغ وترقی دینے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ پاکستان ٹورازم سپورٹس اینڈ فیملی فیسٹول ملک میں سیاحت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا، سیاحت کے ذریعے 40 ارب ڈالر سالانہ تک حاصل کئے جاسکتے ہیں، پاکستان ایک مہمان نواز اور پرکشش مقامات رکھنے والا ملک ہےایونٹ میں روایتی و ثقافتی کھیلوں خصوصاً ٹینٹ پیگنگ، مختلف سپورٹس سرگرمیوں، کار اور بائیک شو، ثقافتی مظاہروں، علاقائی کھانوں کے سٹالز، موسیقی اور دیگر تفریحی پروگرامز کا اہتمام کیا گیا ہے،فیسٹیول کے دوران کار شو، موٹر بائیک شو، پیرا گلائیڈنگ، نیزہ بازی اور فیملیز کے لئے متعدد دیگر ایونٹس منعقد کئے جائیں گے, پاکستان کے مشہور روایتی کھیل نیزہ بازی کے مقابلے میں ملک بھر سے 50سے زائد ٹیمیں شرکت کریں گی۔وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت نے کہاہے کہ دو روزہ فیسٹول کے مقابلے ایف نائن پارک اور اسلام آباد سپورٹس کمپلیکس میں ہوں گے, فیسٹول کا مقصد پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنا،سیاحت کا فروغ اور عوام کو سیاحتی مقامات سے آگاہی فراہم کرنا ہےفیسٹول میں فیملیز کے لئے انٹری مکمل طور پر مفت ہے یہ ایک قومی سطح کا میگا ایونٹ ہے جس کا مقصدپاکستان کی سیاحتی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا،کھیلوں اور ایڈونچر ٹورازم کو فروغ دینا،اسلام آباد کو ایک متحرک سیاحتی مرکز کے طور پر پیش کرنا ہے،یہ ایونٹ خصوصی طور پر فیملیز اور خواتین کے لئے منعقد کیا جا رہا ہےتاکہ ایک محفوظ، خوشگوار اور باوقار ماحول میں تفریح اور ثقافت سے لطف اندوز ہو سکیں۔ بغیر کسی ٹکٹ کےفیملیز کے ساتھ اس شاندار فیسٹول کا لطف اٹھائیں۔ یہ مقابلے شائقین کے لئے خصوصی کشش کا باعث ہوں گے اور پاکستان کے روایتی کھیلوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے شہریوں اور سیاحوں کو بڑی تعداد میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے تاکہ وہ کھیل، ثقافت اور تفریح سے بھرپور اس قومی فیسٹول کا حصہ بن سکیں۔ سردار یاسر الیاس نے کہا کہ اس میگا ایونٹ کے ذریعے پوری دنیا میں پاکستان کا سافٹ امیج ابھرے گا اور پوری دنیا میں یہ پیغام جائے گا کہ ہم ایک پر امن ملک ہیں۔ اس ایونٹ کے لیے وفاقی حکومت ، بین الصوبائی وزارت ، ٹورازم کارپوریشن ، سی ڈی اے اور دیگر ادارے مل کر کام کر رہے ہیں ۔ ایسے میگا ایونٹس پورے پاکستان میں آرگنائز کئے جائیں تاکہ لوگوں کو معیاری تفریح میسر آسکے ۔ اس میگا ایونٹ کے لئے ٹریفک پلان بھی ترتیب دے دیا گیا ہے تاکہ عوام کو زحمت نہ اٹھانا پڑے۔ فیسٹول کے بارے میں بات کرتے ہوئے، بین الصوبائی رابطہ کی وزارت کے سیکرٹری محی الدین وانی نے کہا کہ پاکستان ٹورازم، سپورٹس اینڈ فیملی فیسٹول 2026 ملکی سیاحت، ثقافتی ہم آہنگی اور صحت مند تفریحی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے یہ فیسٹول سیاحت، کھیل اور ثقافت کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتا ہے اور اسلام آباد کو سیاحوں کے لیے ایک خوش آئند اور متحرک مقام کے طور پر اجاگر کرتا ہے۔ اس میگا نیشنل ایونٹ کا انعقاد بین الصوبائی رابطہ کی وزارت، پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن، صوبائی محکمہ سیاحت اور اہم سرکاری و نجی شعبے کے سٹیک ہولڈرز کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔ فیسٹول میں سیاحت کے فروغ کے سٹالز، صوبائی ثقافتی پرفارمنس، ثقافتی نمائش، آرٹ اینڈ کرافٹ سٹالز، لائیو پینٹنگ، فوٹو گرافی کی نمائش، جواہرات اور زیورات کی نمائش، علاقائی کھانوں پر مشتمل فوڈ فیسٹول، فیملی اور بچوں کی سرگرمیاں، میڈیکل ٹورازم پروموشن کے ذریعے ڈبل سائیکلنگ، بس سائکلنگ ایونٹس شامل ہیں۔ گرم ہوا کے غبارے کا ڈسپلے، پیرا گلائیڈنگ کے مظاہرے مونال سے اڑتے ہوئے گلائیڈرز جو ایف ۔6 کرکٹ گراؤنڈ پر اتریں گے اور ایک میوزیکل کنسرٹ کا انعقاد کیا جائے گا ۔ایک خصوصی سائیڈ ایونٹ، 31 جنوری 2026 کو صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک ایف نائن پارک میں ٹینٹ پیگنگ مقابلہ منعقد کیا جائے گا۔کہتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں پاکستان ایسا ملک ہے جس کے پاس سیاحوں کو دینے کے لیے بہت کچھ ہے، لیکن پاکستان میں سیاحت کی صنعت میں سیاسی اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اتار چڑھاؤ آتا رہا ہےپاکستان میں ثقافتی و سیاحتی ڈپلومیسی کے تحت عالمی گندھارا سمپوزیم ہوا، جس کے دوران تھائی لینڈ، سری لنکا، نیپال، جاپان، چین، ویت نام، کوریا اور دیگر ایشیائی ممالک سے آنے والے بدھ پیشواؤں نے ٹیکسلا، صوابی میں ہنڈ اور پھر ضلع مردان میں تخت بائی کے مقام پر بدھ مت کے مذہبی مقامات کا دورہ کیا۔
ایک طرف انہوں نے پاکستان میں واقع بدھ مت کے مختلف مقامات کی تعریف کی اور کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں بدھا کی تخیلات پر مبنی شبیہ موجود ہیں لیکن صرف پاکستان ایسا ملک ہے جہاں ان کے خیال میں ’بدھا کے چہرے کی قریب ترین شبیہ ملتی ہے
لیکن جو اہم بات انہوں نے کی وہ یہ تھی کہ پاکستان اگر سیاحوں کی تعداد بڑھانے کا خواہاں ہے تو اسے سکیورٹی کے نام پر غیر ضروری طور پر اسلحے کی نمائش بند کرنا ہوگی۔
گذشتہ 12 سال میں عالمی معیشت کے مقابلے میں سیاحت زیادہ تیزی سے بڑھی ہے۔ دنیا بھر میں ایک ارب لوگ ہر سال بیرون ملک سفر کرتے ہیں اور ان میں سے سیاحوں کی آدھی تعداد ترقی پذیر ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں پاکستان ایسا ملک ہے جس کے پاس سیاحوں کو دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔
پاکستان نے اب تک تیسری کیٹیگری یعنی ثقافتی سیاحت جس میں مذہبی ثقافت بھی شامل ہے، پر توجہ دینی شروع نہیں کی ہے۔ ملک میں قدیم تہذیبوں کے آثار موجود ہیں۔ صوفی مزار، ہندو مندر، سکھوں کے گردوارے اور بدھ مت کی خانقاہیں موجود ہیں، لیکن غیر ملکی سیاحوں کے لیے اتنا کچھ ہونے کے باوجود پاکستان انڈیا، سری لنکا اور دیگر علاقائی ممالک سے پیچھے ہے۔
صرف پنجاب میں 480 ورثے اور مذہبی مقامات ہیں اور ان میں سے 106 مقامات تاریخی طور پر اہمیت کے حامل ہیں جبکہ 120 مذہبی اور 26 مقامات ایسے ہیں جو مذہبی اور تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستان میں مردان، ٹیکسلا اور سوات کے علاقے بدھ مت کی گندھارا تہذیب کا گڑھ ہیں، جہاں موجود مقامات دنیا بھر میں 500 ملین سے زیادہ بدھ متوں کے لیے بہت خاص ہیں۔ پاکستان ہی میں دنیا کا سب سے قدیم سوئے ہوئے بدھا کا مجسمہ ہری پور میں ہے۔ کوریا، چین اور جاپان کے 50 ملین مہایان بدھ متوں کے لیے خیبر پختونخوا میں تخت بائی اور شمالی پنجاب میں دیگر مقامات مذہبی اہمیت کے حامل ہیں، لیکن ان ممالک سے یہاں کوئی نہیں آتا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سفر اور سیاحت کی صنعت کا جی ڈی پی میں 6.9 فیصد حصہ تھا یعنی 19.4 ارب ڈالر اور ایک اندازے کے مطابق 2027 تک سفر اور سیاحت کا جی ڈی پی میں حصہ 7.2 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔
مذہبی سیاحت ایک بہت بڑی سیاحتی صنعت ہے۔ مذہبی سیاحت کی ویب سائٹس کے مطابق آج بھی کم از کم 300 ملین افراد دنیا بھر میں مذہبی سیاحت کے لیے اہم مذہبی مقامات پر جاتے ہیں۔ ہر سال 600 ملین اندرونی اور بیرونی ٹرپس کیے جاتے ہیں، جس سے دنیا بھر میں 18 ارب ڈالر آمدنی ہوتی ہے۔ لیکن سیاحت کو بھی بہتر انداز میں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سیاحوں کو خوف نہ آئے۔جب ہم بین فقیرا سٹوپا پر جاتے ہیں تو ایک طرف ٹیکسلا اور دوسری طرف اسلام آباد نظر آتا ہے۔ رات کو یہ منظر بہت رومانوی لگتا ہے تاہم یہ جگہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہےپاکستان ان تہذیبوں پر معرض وجود میں آیا جن کا سلسلہ ہزاروں سال پرانا ہے۔
پاکستان میں یوں تو بہت سے قدیمی مقامات موجود ہیں لیکن چھ مقامات کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا ہے جن میں موئن جو دڑو، تخت بائی کے آثار، ٹیکسلا، شاہی قلعہ، شالامار باغ، قلعہ روہتاس، مکلی شامل ہیں یاد رکھیں کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کو اللہ تعالی نے متنوع جغرافیہ اور انواع و اقسام کی آب و ہوا دی ہے۔ پاکستان میں مختلف لوگ،مختلف زبانیں اور علاقے ہیں جو پاکستان کو بہت سے رنگوں کا گھر بنا دیتے ہیں۔ پاکستان میں سرسبز و شاداب میدان،پہاڑ، جنگلات،سرداور گرم علاقے، خوبصورت جھیلیں،جزائر اور بہت کچھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال پاکستان نے اپنی طرف لاکھوں سیاحوں کو مائل کیا پاکستان کے شمالی حصے میں قدرت کے بے شمار نظارے موجود ہیں،اس کے ساتھ ساتھ مختلف قلعے،تاریخی مقامات، آثار قدیمہ، وادیاں، دریا، ندیاں،جنگلات،جھیلیں اور بہت کچھ موجود ہے۔سکردو میں دیوسائی کا خوب صورت ٹھنڈا صحرا قدرت کی بے نظیر کاری گری ہے۔ پاکستان کے جنوبی علاقہ جات بھی سیاحوں کے لیے پرکشش ہیں۔ بلوچستان کے خوب صورت خشک پہاڑ،زیارت،کوئٹہ اور گوادر اپنی مثال آپ ہیں۔ سندھ کا ساحل سمندر،کراچی،گورکھ ہل اسٹیشن دادو،صحرائے تھر،موہن جو ڈارو اور بہت سے شہر اور دیہات اپنی خوب صورتی اور تاریخی پس منظر کی وجہ سے سیاحت میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کا تاریخی شہر ملتان،بہاولپور کا صحرائے چولستان اور ضلع ڈیرہ غازی خان کا خوب صورت علاقہ فورٹ منرو بھی سیاحتی اہمیت کا حامل ہے۔سوات کا نیا سیاحتی مقام’’دشت لیلیٰ‘‘جس پر جا کر چار اضلاع کی خوبصورتی کو دیکھا جا سکتا ہے۔پاکستان کے دیگر شمالی علاقہ جات کی طرح قدرت نے خیبر پختونخوا کے شمالی اور مشرقی حصے میں خوبصورت نظارے پیدا کیے ہیں۔ خیبر پختونخوا کا شمالی حصہ خوبصورت سرسبز وادیوں اور قدرتی خطوں پر مشتمل ہے جہاں لوگ سیر و تفریح کے لیے بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ پختونخوا میں بے شمار خوبصورت صحت افزا مقامات موجود ہیں جو نہ صرف ملک کے اندر سے بلکہ بیرونی ملک سیاحوں کے توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ پختونخوا میں بہت سی تاریخی عمارتیں،آثار قدیمہ،پہاڑ،کھیلوں کے میدان، جھیلیں،ندیاں،تعلیمی مراکز،عجائب گھر،سرسبز و شاداب وادیاں،وغیرہ موجود ہیں۔
پنجاب پاکستان کا ایک صوبہ ہے جو ملک کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔ بلحاظ آبادی سب سے بڑا صوبہ ہے۔ پنجاب میں سیاحت کے بہت سے خوبصورت مقامات موجود ہیں جن میں مری قابل ذکر قدرتی صحت افزا مقام ہے۔ صوبہ پنجاب بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہے شمالی پنجاب اور اور جنوبی پنجاب۔ شمالی پنجاب میں قدرتی خطے پائے جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کے بہت سے بڑے بڑے شہر بھی یہاں پر واقع ہیں جیسے لاہور،راولپنڈی،گوجرانوالہ،سرگودھا،فیصل آباد وغیرہ۔ پنجاب کی صوبائی سرحد گلگت بلتستان کے سوا تمام دیگر پاکستانی علاقوں اور صوبوں سے ملتی ہے۔ پنجاب کے شمال میں وفاقی دارالحکومت،اسلام آباد، شمال مغرب میں صوبہ خیبر پختونخوا ہے،مغرب میں قبائلی علاقوں کا چھوٹا سا حصہ،جنوب میں صوبہ سندھ،جنوب مشرق میں بلوچستان ہے۔ پنجاب کا صوبائی دار الحکومت لاہور ہے جو برطانوی دور کے بڑے پنجاب کا بھی دار الحکومت رہاہے۔ پنجاب کی جغرافیہ میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ پاکستان کے پانچوں بڑے دریاؤں کا گھر ہے۔ سندھ پاکستان کا ایک صوبہ ہے جو ملک کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ہے۔ سندھ میں سیاحت کے بہت سے مقامات موجود ہیں جہاں سیاحوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔ خاص کر وادء سندھ کی تہذیب کا زیادہ تر حصہ موجودہ سندھ میں ہی واقع ہے اس لیے اس تہذیب کے مختلف آثار قدیمہ مقامات سندھ میں موجود ہیں جن میں موہن جو داڑو قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ ٹھٹھہ میں موجود جامع مسجد جس کی تعمیر مغل شہنشاہ شاہجہان نے کی تھی۔ اس کے علاوہ سندھ میں بہت سے مزارات بھی موجود ہیں جن میں سب سے زیادہ معروف مزار قائد ہے۔ سندھ میں سیاحوں کا سب سے زیادہ اہم مرکز موہن جو داڑو ہے،موہن جو داڑو جو وادء سندھ کی تہذیب کا مرکز اور سب سے اہم مقام تھا، صوبہ سندھ میں لاڑکانہ شہر سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔کشمیر جو پاکستان کے شمالی حصے میں واقع ہے،پاکستان کے خوبصورت ترین خطوں میں سے ایک ہے۔ آزاد کشمیر زیادہ تر سرسبز وادیوں اور پہاڑوں پر مشتمل ہے اور قدرت نے خطے کو ہر قسم کے نظارے بخشے ہیں۔ کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی اور دلکش مناظر کی وجہ سے جانا جاتا ہے
پاکستان بہت سی تہذیبوں کا مسکن رہا جن کے آثار اب بھی یہاں ملتے ہیں خاص کر گندھارا تہذیب کے آثار بکثرت موجود ہیں۔ یہ ایک قدیمی ریاست تھی جس کا ذکر وید اور بدھ مت کی کتابوں میں بھی ملتا ہے یہ چھٹی سے گیارہویں صدی قبل میسح میں قائم تھی اور موجودہ کے پی، پنجاب پوٹھوہار تک پھیلی ہوئی تھی۔
230 قبل مسیح میں جب اشوکا یہاں آیا تو یہاں کے لوگ نے بڑی تعداد میں بدھ مت مذہب قبول کرلیا۔ یہ ایک جدید تہذیب تھی جہاں پر خانقاہیں عبادت گاہیں تعلیمی ادارے اور تجارتی مرکز موجود تھے۔
یونانی ایرانی اور مقامی کلچر کے سنگم سے اس کا فن تعمیر وجود میں آیا۔ گندھارا آرٹ کے تحت ملنے والے مجسمے اور برتنوں پر کندہ کاری سنگ تراشی میں اپنی مثال آپ ہے۔ گندھارا تہذیب کے چالیس مقامات پاکستان میں موجود ہیں جن میں اسلام آباد میں بین فقیراں سٹوپا موجود ہے وہ بدھ مت دور کے غاروں سے دو کلومیٹر دور ہے اور یہ اس ہی طرز تعمیر پر قائم ہے جیسی تعمیر دوسری سے تیسری صدی میں ہوتی تھی۔تاہم شاید ہی سیاحوں کو اس جگہ کے بارے میں پتہ ہو۔ اس کے ساتھ سپہولا سٹوپا جمرود، گور گٹھری کمپلیس پشاور، پشاور میوزیم، بدلپور سٹوپا ہری پور، جہان آباد بدھا سوات، سوات میوزیم، مانسہرہ راکس، بھاملا سٹوپا ہری پور، جولیاں سٹوپا ہری پور، شنگردار سٹوپا سوات، گہلی گیے راکس کارونگ سوات، بٹکارا ایک اور دو مینگورہ، بٹکارہ تھری مینگورہ، املوک درہ سوات، شہباز گڑھی راکس مردان، تخت بائی کے آثار مردان، رانی گھاٹ بونیر، جمال گڑھی مردان، غاروں کا شہر بیلا لسبیلہ، سری بہلول مردان، سدہیران جو داڑو ٹندو محمد خان، نیشل میوزیم کراچی، جوہی ٹاون سٹوپا دادو، بدھسٹ سٹوپا مونیجو داڑو، مینکالا سٹوپا، جندال ٹیپمل ٹکیسلا، جنان والی ڈھیری ٹیکسلا، پیپلاں سٹوپا، سرسخ سٹی ٹیکسلا، سرکپ سٹی ٹیکسلا، دھرمارجکا سٹوپا، منتھل راکس اسکردو، پھیر ماونڈ ٹیکسلا، کارگھا بدھا گلگت، تھل پان راکس کراونگ چلاس، شیتل راکس کارونگ شامل ہیں۔ گندھارا تہذہب کی 19 نشانیاں کے پی میں، پانچ سندھ میں، ایک بلوچستان میں، دس پنجاب میں، چار گلگت میں اور ایک اسلام آباد میں ہے بہت سے سیاح کے پی اور بلوچستان میں ان آثار کو دیکھنے سے گریز کرتے ہیں۔بہت سے آثار کے قریب اچھے قیام طعام کی سہولیات موجود نہیں اور بہت سے مقامات پر کوئی خاص انتظام بھی نہیں کہ سیاح اس جگہ کے بارے میں جان سکیں۔ نہ ہی اس حوالے سے اب تک کوئی سروے کیا گیا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب نے کن کن جگہوں کونقصان دیا ہے۔ ان علاقوں میں بدھ مت تہذیب کے فن تعمیر، گوتم بدھ کے مجسمے، سٹوپا اور منظم شہری تہذیب موجود ہے لیکن مذہبی سیاحت نہ ہونے کے برابر ہےاسلام آباد میں بھی انڈس ویلی تہذیب کے آثار موجود ہیں۔
’اسلام آباد کے سیکٹر آئی الیون مرکز میں ایک پورا ماؤںڈ موجود ہے جس میں انڈس ویلی ہڑپا اور بدھ مت کے آثار موجود ہیں۔ وہاں پانچ ہزار پرانی تاریخ کے آثار ملے ہیں۔‘ تاہم اتنظامیہ وہاں سب کو بلڈوز کرکے تعمیرات میں مصروف ہے۔ اسلام آباد بھی اتنا ہی قدیم ہے جتنے ملک کے دیگر حصے پرانی تہذیب کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ بدھ مت سے منسلک مارگلہ ہلز میں واچ ٹاور موجود ہے جس کو آثار قدیمہ نے سٹوپا غلطی سے قرار دے رکھا ہے۔ اسی طرح شاہ اللہ دتہ کے غار اور منسلک علاقہ اتنا پرانا ہے کہ پہلے یہاں سمندر ہوتا تھا اور کھدائی کے دوران یہاں سمندری فوسل ملے۔ یہ تمام جگہ بہت قدیم ہے اور یہ جگہ بدھ مت کی مذہبی سیاحت کے لیے استعمال ہوسکتی ہے سرائے خربوزہ میں قدیمی سرائے موجود ہے وہ بھی عدم توجہ کا شکار ہیں۔ اسی طرح ہندوؤں کے مندر ہیں جو اٹھارویں صدی کے ہیں۔ سید پور گاؤں ہندوؤں کی ایک قدیمی جگہ تھی لیکن سی ڈی اے نے اس کو تباہ کر کے کمرشل کردیا۔
’اب وہاں کھانے پینے کے سپاٹس بن گئے ہیں۔ وہاں پانی کے چشموں کا سنگم ہوتا تھا جو ایک مقدس جگہ تھی۔ ایسی جگہوں پر صرف تزئین و آرائش ہوتی ہے، نئی تعمیرات کی اجازت نہیں دی جاتی۔‘ ’لوئرڈنڈی بدھ مت کی سائٹس تھیں جن کو تباہ کردیا گیا۔ 1971 سے پہلے پاکستان میں بدھ مت کی بہت بڑی آبادی موجود تھی۔
اسلام آباد قدیم ٹیکسلا کا حصہ ہے ہمیں اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک بدھا ڈے منانا چاہیے تاکہ یہاں پر زیادہ سے زیادہ مذہبی سیاح آئیں۔ ان جگہوں پر میلوں کا انعقاد کیا جائے۔ یادگاری اشیا بنائی جائیں۔‘ ای ویزہ نے پاکستان میں سیاحت کے حالات کو تبدیل کردیا اب سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں, پرانی نسل بدھ مت میں گہری دلچسپی لیتی ہے۔ نئی نسل کا اتنا رجحان نہیں ہے۔ اب امن وامان اچھا ہے تو گندھارا ٹرپ کو بھی متعارف کروائیں
اگر اسلام آباد میں موجود بین فقیرا سٹوپا کی بات کریں تو شاید ہی لوگ اس واقف ہوں۔ یہ ایک تاریخی جگہ ہے جو گندھارا تہذیب کا آئینہ ہے۔بین فقیرا سٹوپا گندھارا تہذیب کی نشانی ہے اور شاہ اللہ دتہ کے غاروں کے قریب قائم ہے۔ اس جگہ وہ تاریخی مقام نظر آتا ہے جو راجہ اشوک نے تعمیر کروایا تھا۔ جب یہ جگہ دریافت ہوئی تو یہاں سے کچھ سکے بھی ملے تھے جن کا تعلق بھی گندھارا تہذیب سے تھا۔ وہ میوزیم کی زینت بنا دیے گئے۔سٹوپا گندھارا تہذیب کا مقدس مقام ہے جس کے گرد عبادت گزار طواف کیا کرتے تھے اور عبادت کرتے تھے۔جب ہم بین فقیرا سٹوپا پر جاتے ہیں تو ایک طرف ٹیکسلا اور دوسری طرف اسلام آباد نظر آتا ہے۔ رات کو یہ منظر بہت رومانوی لگتا ہے تاہم یہ جگہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔ پاکستان بدھ مت کی نشانیوں سے بھرا پڑا ہے تاہم مذہبی سیاحت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر حکومت سکھوں کے تاریخی مقامات کے ساتھ اس طرف بھی توجہ دے تو بدھسٹ آبادی کی بڑی تعداد پاکستان آئے گی۔ اس وقت پاکستان میں بدھ مت مذہب اور آبادی تقریبا معدوم ہوگئی ہےسیاحت کا فروغ کسی بھی ملک کی معیشت، ثقافت اور امن کو مضبوط بنانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے انفراسٹرکچر کی بہتری، سیاحتی مقامات پر عالمی معیار کی سہولیات، اور “گرین ٹورازم” (ماحول دوست سیاحت) کے ذریعے سیاحوں کو راغب کر کے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
سیاحت نہ صرف علم و فضل کو جلا بخشتی ہے بلکہ مقامی معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے
سیاحت کے فروغ کے لیے اہم اقدامات میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری میں سیاحتی مقامات تک سڑکوں، ہوٹلوں اور مواصلات کی سہولیات کو بہتر بنانا۔, ملک کے ثقافتی ورثے اور قدرتی مناظر کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا, سیاحوں کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا,پائیدار سیاحت ماحول کی حفاظت کرتے ہوئے مقامی ثقافت اور قدرتی حسن کو برقرار رکھنا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر سیاحت کی صنعت کا مجموعی سالانہ حجم تقریباً 9ٹریلین ڈالر سے زائد ہے جو اقوام عالم کے مجموعی جی ڈی پی کا دس سے 11فیصد بنتا ہے۔ تاہم سیاحت کی اس عالمی صنعت میں پاکستان کا حصہ 0.05 فیصد سے بھی کم ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جنہیں قدرت نے بیش بہا تفریحی مقامات اور موسموں سے نوازا ہے۔ ایسے میں حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس اہم شعبے کی ترقی اور فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔ حالیہ برسوں میں حکومت نے مختلف اقدامات کیے ہیں جن میں حکومت اور پاک آرمی کے اشتراک سے گرین ٹورازم پاکستان کے نام سے کمپنی کا قیام اہم اقدام ہے۔ اس آئیڈئیے کو عملی شکل دے کر اس پر تیزرفتاری سے عملدرآمد کا تمام تر کریڈٹ پاک آرمی کو جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ کمپنی ابتدائی طور پر سیاحتی مقامات پر سیاحوں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے 150 ہوٹل قائم کرے گی۔ اس سلسلے میں تقریباً ~15 سے 20 ہوٹلوں کے قیام کا کام مکمل ہو چکا ہے اور جلد ہی ان کی لانچنگ متوقع ہے۔ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے تحت پہلے سے موجود ہوٹلز بھی یہ کمپنی اپنے انتظام میں لے کر ان کی دوبارہ سے تزئین و آرائش کرکے ری لانچ کرنے جا رہی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ہوٹل بہت اہم سیاحتی مقامات پر موجود ہیں لیکن ان کے ڈیزائن، اندرونی تزئین وآرائش اور سب سے بڑھ کر خدمات کی فراہمی کا معیار وہ نہیں تھا جو کہ ہونا چاہیے تھا۔ گرین ٹورازم کمپنی نے اب ان ہوٹلز کو ناصرف عالمی معیار کے اداروں کی مشاورت اور مدد سے ری ڈیزائن کیا ہے بلکہ ان کی مینجمنٹ اور خدمات کی فراہمی کے معیار کو بھی عالمی معیار سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پروفیشنل اسٹاف اور مینجمنٹ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔اس اقدام سے جہاں پاکستان میں عالمی سیاحت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی وہیں مقامی سیاحوں کو بھی بہتر خدمات اور سہولیات دستیاب ہوں گی۔ قبل ازیں پی ٹی ڈی سی کا ادارہ سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کو عالمی معیار کی سہولیات کی فراہمی میں وہ معیار برقرار رنہیں رکھ سکا تھا جس کی اب ضرورت ہے۔ ایسے میں گرین ٹورازم پاکستان کے نام سے نئی کمپنی کا قیام اس شعبے میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا ہے جس کی پیروی میں سیاحتی مقامات پر پہلے سے موجود مقامی ہوٹل انڈسٹری کا معیار بھی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس سلسلے میں مقامی شراکت اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے کے لئے مختلف جوائنٹ وینچرز پر بھی کام ہو رہا ہے جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کی ٹورازم انڈسٹری کے کاروبار اور خدمات کی فراہمی کے معیار میں بہتری آئے گی۔

اس طرح نہ صرف ملک بھر سے شمالی علاقوں کا رخ کرنے والے مقامی سیاحوں کو وہ ماحول میسر آئے گا جس کا تجربہ وہ دیگر ممالک کی سیاحت کے دوران کر چکے ہیں بلکہ مذہبی سیاحت کے شعبے میں بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بھی فوری طور پر نمایاں اضافہ ہو گا جس سے ملک کو قیمتی زرمبادلہ کے حصول کا ایک نیا اور مستقل ذریعہ میسر آئے گا۔سکھ کمیونٹی اپنے مذہبی مقامات کی زیارتوں کے لئے پاکستان آنے میں ناصرف دلچسپی رکھتی ہے بلکہ وہ ان مذہبی مقامات کی سیاحت کے سلسلے میں سہولیات کی فراہمی اور دستیابی کے لئے سرمایہ کاری بھی کرنا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے سکھ کمیونٹی کے بااثر افراد اور اہم کاروباری شخصیات سے جب بھی کہیں ملاقات ہوتی ہے وہ اس حوالے سے اپنی دلچسپی کا اظہار لازمی کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے پاس اس شعبے میں ترقی اور سرمایہ کاری کے بہت زیادہ مواقع میسر ہیں۔

تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے مذہبی سیاحت کی غرض سے بیرون ملک سے آنے والی سکھ کمیونٹی کو ترجیحی بنیادوں پر ویزوں کے اجرا کو یقینی بنایا جائے۔ علاوہ ازیں پشاور اور دیگر شہروں میں سکھ کمیونٹی کے بعض ایسے مذہبی مقامات موجود ہیں جہاں ان کی رسائی ممکن نہیں ہے۔میرا آبائی شہر رسول نگر (رام نگر)وزیرآباد کے قریب ایک تاریخی جگہ ہے جہاں راجہ رنجیت سنگھ کی پیدائش ہوئی تھی۔سنہ 1849 کے شروع میں شہر رسول نگر (رام نگر)وزیرآباد اور گجرات کے بیچ چناب کے کنارے واقع شہر رسول نگر (رام نگر، سعداللہ پور، چیلیاں والا اور بعد میں گجرات کے مقام پر سکھوں اور انگریزوں کے مابین خوں ریز معرکے ہوئے جن میں ابتدا میں انگریزوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، تاہم سکھ فوج نے 12 مارچ کو ہتھیار ڈال دیے اور پنجاب بھر میں سکھ حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ پنجاب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ گذشتہ ہزار سال میں پہلے ہندوستانی تھے جنھوں نے ہندوستان کے روایتی فاتحین پشتونوں (افغانوں) کی یلغارپسپا کی۔غیر ملکی حملہ آوروں کو شکست دیتے اور مقامی علاقوں کو زیرِ نگیں کرتے ان کا راج شمال مغرب میں درّہ خیبر سے مشرق میں دریائے سُتلج تک اور برصغیر پاک و ہند کی شمالی حد سے جنوب کی طرف (عظیم ہندوستانی) صحرائے تھر تک پھیلا ہوا تھا۔ لاہور صدر مقام تھا۔جب 27 جون 1839 کو رنجیت سنگھ کی وفات ہوئی تو لاہور ریاست کا رقبہ دو لاکھ مربع میل سے کچھ زیادہ تھا۔. (Asghar Ali Mubarak)…. .Prime Minister of Pakistan Shehbaz Sharif is committed to the promotion and development of tourism in the country. The Prime Minister says that Pakistan’s tourism sector has unlimited potential to earn foreign exchange. The public and private sectors should work together to facilitate the travel of international tourists to Pakistan’s tourist destinations. The Prime Minister has expressed his determination to include Pakistan in the list of the world’s leading tourist centers. For this purpose, proposals were presented in a meeting on promoting tourism in Pakistan, chaired by the Prime Minister, to utilize the potential of the tourism sector.
Remember that in an important meeting last year, Prime Minister Mian Shehbaz Sharif had made it clear that Pakistan’s tourism sector has unlimited potential to earn foreign exchange. Allah Almighty has blessed Pakistan with natural resources and timeless beauty. Pakistan has snow-capped mountains, forests, rivers, even plains and desert areas.
The Prime Minister said that thanks to natural resources, our country is no less than any other country in terms of tourism. Pakistan should be introduced abroad as a tourism brand, and steps should be taken to promote tourism throughout the country with the cooperation of the provinces. The Prime Minister, while directing the Pakistan Tourism Development Authority to take practical steps to promote tourism, said that special tourism zones should be created to promote tourism.
Public and private sectors should work together to facilitate the movement of international tourists. Special steps should be taken for domestic tourism and the arrival of domestic tourists to recreational places, and plans should be made for permanent investment in the tourism sector.
Under the direction of the Prime Minister, the Pakistan Tourism, Sports and Family Festival will begin in Islamabad from today. The two-day festival competitions will be held at F-9 Park and Islamabad Sports Complex. Car shows, motorbike shows, paragliding, spear throwing, and many other events for families will be organized during the festival. Pakistan’s famous traditional game of spear-throwing competitions. The event will be held on Saturday, January 31, at F-9 Park in Islamabad, in which more than fifty teams from all over the country will participate.
For the first time, the team of Al-Baraq Tent Pegging Club is also participating in the javelin competition. Al-Baraq Club will be represented by Lady Riders Zamal Qaisrani and Manahil Qaisrani, as well as Noman Khalid, Chaudhry Aftab Plak, Rana Ahmed Nawaz Kilo, Ibrahim, and others, while Malik Ibtisam, Hassan Raza Cheema, Humayun Gondal, and Noman Ali will participate in the competition from Al-Khayyam Club. These javelin competitions are being organized under the patronage of former Deputy Mayor of Islamabad, Syed Zeeshan Naqvi.
According to the organizers, these competitions will be a special attraction for the spectators and will play an important role in the promotion of the traditional sports of Pakistan. The organizers have invited citizens and tourists to participate in large numbers so that they can be a part of this national festival full of sports, culture, and entertainment. Prime Minister’s Coordinator for Tourism Sardar Yasir Ilyas Talking about the festival, said that the government will utilize all available resources to promote and develop tourism in the country. The Pakistan Tourism, Sports and Family Festival will play an important role in promoting tourism in the country. Up to $40 billion can be earned annually through tourism. Pakistan is a hospitable country with attractive places. The event will feature traditional and cultural sports, especially tent pegging, various sports activities, car and bike shows, cultural demonstrations, regional food stalls, music, and other entertainment programs. Car shows, motorbike shows, paragliding, spear throwing, and many other events for families will be organized during the festival. More than 50 teams from all over the country will participate in the famous traditional sport of Pakistan, spear throwing. The Prime Minister’s Coordinator for Tourism has said that the two-day festival competitions will be held at F-9 Park and Islamabad Sports Complex. The festival aims to highlight the positive image of Pakistan. To promote tourism and provide awareness to the public about tourist destinations. Entry for families in the festival is completely free. This is a national-level mega event aimed at highlighting Pakistan’s tourism potential, promoting sports and adventure tourism, and presenting Islamabad as a vibrant tourist hub. This event is being organized exclusively for families and women so that they can enjoy entertainment and culture in a safe, pleasant, and dignified environment. Enjoy this wonderful festival with families without any tickets. These competitions will be a special attraction for the fans and will play an important role in the promotion of Pakistan’s traditional sports.
Sardar Yasir Ilyas said that through this mega event, Pakistan’s soft image will emerge all over the world, and the message will be sent to the whole world that we are a peaceful country. The federal government, inter-provincial ministry, Tourism Corporation, CDA, and other institutions are working together for this event. Such mega events should be organized all over Pakistan. So that people can get quality entertainment. A traffic plan has also been prepared for this mega event so that the public does not have to suffer.
Speaking about the festival, Secretary, Ministry of Inter-Provincial Coordination, Mohiuddin Wani said that the Pakistan Tourism, Sports and Family Festival 2026 reflects the government’s commitment to promote domestic tourism, cultural harmony, and healthy recreational activities. The festival brings together tourism, sports, and culture on one platform and highlights Islamabad as a welcoming and vibrant destination for tourists. This mega national event is being organized in collaboration with the Ministry of Inter-Provincial Coordination, Pakistan Tourism Development Corporation, Provincial Tourism Department, and key public and private sector stakeholders. The festival includes tourism promotion stalls, provincial cultural performances, cultural exhibitions, art and craft stalls, live painting, photography exhibition, exhibition of gems and jewelry, food festival featuring regional cuisines, family and children’s activities, double cycling, bus cycling events through medical tourism promotion. A hot air balloon display, paragliding demonstrations, gliders flying from Monal, which will land at the F-6 Cricket Ground, and a musical concert will be held. A special side event, a tent pegging competition, will be held at F-9 Park on January 31, 2026, from 10 am to 5 pm.

It is said that Pakistan is a country among developing countries that has a lot to offer tourists, but the tourism industry in Pakistan has been experiencing fluctuations due to political and security reasons. The International Gandhara Symposium was held in Pakistan under the Cultural and Tourism Diplomacy, during which Buddhist leaders from Thailand, Sri Lanka, Nepal, Japan, China, Vietnam, Korea, and other Asian countries visited Buddhist religious sites in Taxila, Hind in Swabi, and then at Takht Bai in Mardan district.

On one hand, he praised the various Buddhist sites in Pakistan and said that there are images of Buddha based on his imagination in different parts of the world, but only Pakistan is the country where he thinks ‘the closest image to the face of Buddha is found’.
But the important point he made was that if Pakistan wants to increase the number of tourists, it should stop unnecessarily displaying weapons in the name of security.
In the last 12 years, tourism has grown faster than the global economy. One billion people travel abroad every year, and half of these tourists visit developing countries. Among developing countries, Pakistan is a country that has a lot to offer tourists.
Pakistan has not yet started focusing on the third category, i.e., cultural tourism, which also includes religious culture. The country has traces of ancient civilizations. There are Sufi shrines, Hindu temples, Sikh gurdwaras, and Buddhist monasteries, but despite having so much for foreign tourists, Pakistan lags behind India, Sri Lanka, and other regional countries.
Punjab alone has 480 heritage and religious sites, of which 106 are historically important, while 120 are religious and 26 are both religious and historical.

The Mardan, Taxila, and Swat regions of Pakistan are the cradle of the Gandhara civilization of Buddhism, where the sites are very special to more than 500 million Buddhists worldwide. Pakistan alone has the oldest sleeping Buddha statue in the world in Haripur. Takht Bai in Khyber Pakhtunkhwa and other sites in northern Punjab are of religious importance to the 50 million Mahayana Buddhists of Korea, China, and Japan, but no one from these countries comes here.
According to official figures, the travel and tourism industry contributed 6.9% to GDP, or $19.4 billion, and is expected to grow to 7.2% by 2027.
Religious tourism is a huge tourism industry. According to religious tourism websites, at least 300 million people still visit important religious sites around the world for religious tourism. 600 million domestic and international trips are made every year, generating $18 billion in revenue worldwide. But tourism also needs to be done in a better way so that tourists are not intimidated. When we go to the Ben Faqira Stupa, we see Taxila on one side and Islamabad on the other. This view looks very romantic at night, but this place is hidden from the eyes of people. Pakistan came into existence due to these civilizations, whose history is thousands of years old.
There are many ancient sites in Pakistan, but six sites have been included in the World Heritage List, including Mohenjo-Daro, Takht Bai’s ruins, Taxila, Shahi Fort, Shalamar Garden, Rohtas Fort, and Makli.
However, Pakistan’s cultural heritage, remains, antiquities, and archaeological sites are suffering from government neglect, including degradation. Now, heavy rains and floods have partially damaged many ancient sites.
Pakistan has been the home of many civilizations, the traces of which are still found here; especially, the traces of the Gandhara civilization are abundant. It was an ancient kingdom mentioned in the Vedas and Buddhist texts. It was established in the 6th to 11th centuries BC and extended to present-day KP, Punjab, and Pothohar.
When Ashoka came here in 230 BC, the people here converted to Buddhism in large numbers. It was a modern civilization with monasteries, places of worship, educational institutions, and commercial centers.
Its architecture came into being from the confluence of Greek, Iranian, and local cultures. The sculptures and pottery found under Gandhara art are exemplified in the stone carvings. There are forty sites of Gandhara civilization in Pakistan, including the Ben Fakiran Stupa in Islamabad, which is located two kilometers away from the Buddhist caves and features a construction style similar to that used in the 2nd to 3rd centuries. However, tourists hardly know about this place. Along with this, Sphula Stupa Jamrud, Gour Guthri Complex Peshawar, Peshawar Museum, Badalpur Stupa Haripur, Jehanabad Buddha Swat, Swat Museum, Mansehra Rocks, Bhamla Stupa Haripur, Julian Stupa Haripur, Shangardar Stupa Swat, Gehligay Rocks Karong Swat, Batkara One and Two Mingora, Batkara Three Mingora, Amlok Pass Swat, Shahbaz Garhi Rocks Mardan, Takht Bai’s relics Mardan, Rani Ghat Buner, Jamal Garhi Mardan, City of Caves Bela Lasbela, Sri Bahlul Mardan, Sudhiran Jo Daro Tando Muhammad Khan, National Museum Karachi, Juhi Town Stupa Dadu, Buddhist Stupa Monijo Daro, Menkala Stupa, Jindal Temple Taxila, Jinan Wali Dheri Taxila, Pipalan Stupa, Sirsakh City Taxila, Sirkup City Taxila, Dharmarajka Stupa, Manthal Rocks Skardu, Pher Mound Taxila, Kargha Buddha Gilgit, Thal Pan Rocks Karong Chilas, Sheetal Rocks Karong. There are 19 monuments of Gandhara culture in KP, five in Sindh, one in Balochistan, ten in Punjab, four in Gilgit, and one in Islamabad. Many tourists avoid visiting these monuments in KP and Balochistan. There are no good accommodation facilities near many monuments, and there are no special arrangements at many places for tourists to learn about these places. Nor has any survey been conducted so far to see which places have been damaged by the recent rains and floods. There is Buddhist architecture, statues of Gautam Buddha, stupas, and organized urban civilization in these areas, but religious tourism is negligible. There are also monuments of the Indus Valley Civilization in Islamabad.
‘There is a whole mound in the Sector I-11 center of Islamabad, which contains relics of the Indus Valley, Harappa, and Buddhism. There are relics of five thousand years old history there.’ However, the administration is busy bulldozing everything there and building. Islamabad is also as old as other parts of the country, which are connected to ancient civilizations. There is a watchtower in the Margalla Hills, which is associated with Buddhism, which archaeologists have mistakenly called a stupa. Similarly, the Shah Allah Dutta Cave and the surrounding area are so old that there used to be a sea here, and marine fossils were found here during excavations. This entire place is very old, and this place can be used for Buddhist religious tourism. There is an ancient inn in Sarai Kharboza, which is also neglected. Similarly, there are Hindu temples that date back to the 18th century. Saidpur village was an ancient place of Hindus, but the CDA destroyed it and commercialized it.
‘Now there are food and drink spots there. There used to be a confluence of water springs there, which was a sacred place. Only renovations are done in such places; no new construction is allowed.’ ‘Lower Dundee was a Buddhist site which was destroyed. Before 1971, there was a large Buddhist population in Pakistan.
Islamabad is a part of ancient Taxila; we need to pay attention to this. We should celebrate Buddha Day so that more and more religious tourists come here. Fairs should be organized in these places. Souvenirs should be made.’ E-visa has changed the tourism situation in Pakistan. Now tourists come in large numbers, and the older generation is deeply interested in Buddhism. The new generation is not so inclined. Now the law and order are good, so introduce the Gandhara trip as well.
If we talk about the Ben Faqira Stupa in Islamabad, hardly anyone is aware of it. It is a historical place that is a mirror of the Gandhara civilization. The Ben Faqira Stupa is a symbol of the Gandhara civilization and is located near the caves of Shah Allah Dutta. The historical place that was built by King Ashoka is visible at this place. When this site was discovered, some coins were also found here, which were also related to the Gandhara civilization. They were made into an ornament of the museum. The stupa is a sacred place of the Gandhara civilization, around which worshippers used to circumambulate and worship. When we go to the Ben Fakir Stupa, we see Taxila on one side and Islamabad on the other. This scene looks very romantic at night, but this place is hidden from the eyes of people. Pakistan is full of Buddhist monuments, but religious tourism is nonexistent. If the government pays attention to this side, along with the historical sites of Sikhs, a large number of Buddhists will come to Pakistan. At present, Buddhism and its population have almost disappeared in Pakistan. Tourism promotion is key to strengthening the economy, culture, and peace of any country. Employment opportunities can be created by attracting tourists through infrastructure improvement, world-class facilities at tourist destinations, and “green tourism” (eco-friendly tourism).
Tourism not only ignites knowledge and virtue but also helps in strengthening the local economy.
Important steps for the promotion of tourism include improving infrastructure, improving roads, hotels, and communication facilities to tourist destinations, highlighting the country’s cultural heritage and natural landscapes to the world, ensuring a safe environment for tourists, and maintaining local culture and natural beauty while protecting the environment.
The total annual volume of the tourism industry at the international level is about $ 9 trillion, which is ten to 11 percent of the total GDP of the world. However, Pakistan’s share in this global tourism industry is less than 0.05 percent. It is worth mentioning here that Pakistan is one of the few countries in the world that nature has blessed with many recreational places and seasons. In such a situation, it is the duty of the government to include the development and promotion of this important sector in its priorities. In recent years, the government has taken various steps, including the establishment of a company called Green Tourism Pakistan in collaboration with the government and the Pakistan Army. All the credit for implementing this idea in practice and implementing it quickly goes to the Pakistan Army. According to the details, this company will initially establish 150 hotels to provide world-class facilities to tourists at tourist destinations. In this regard, the work of establishing about ~15 to 20 hotels has been completed, and their launch is expected soon. The company is also going to take over the existing hotels under the Pakistan Tourism Development Corporation and renovate and relaunch them. Most of these hotels are located in very important tourist destinations, but their design, interior decoration, and above all, the quality of service provision were not what they should have been. Green Tourism Company has now redesigned these hotels not only with the consultation and help of world-class institutions, but also their management and service provision standards have been aligned with world standards. In this regard, the services of professional staff and management have been obtained. While this initiative will help promote global tourism in Pakistan, local tourists will also get better services and facilities. Earlier, the PTDC organization was not able to maintain the standards in promoting tourism and providing world-class facilities to tourists that are now needed. In such a situation, the establishment of a new company by the name of Green Tourism Pakistan has proven to be a breath of fresh air in this sector, which will help in improving the quality of the local hotel industry already existing in tourist destinations. In this regard, various joint ventures are also being worked on to provide local partnership and investment opportunities, which are expected to improve the quality of business and service delivery in Pakistan’s tourism industry.

In this way, not only will local tourists from all over the country visiting the northern regions get the same environment that they have experienced while touring other countries, but the number of tourists coming from abroad in the religious tourism sector will also increase significantly, which will provide the country with a new and permanent source of earning valuable foreign exchange. The Sikh community is not only interested in coming to Pakistan for pilgrimages to their religious places, but they also want to invest in providing and making available facilities for tourism to these religious places. In this regard, whenever I meet influential people and important business figures of the Sikh community, they inevitably express their interest in this regard. This shows that we have a lot of opportunities for development and investment in this sector.

However, it is necessary to first ensure the issuance of visas on a priority basis to the Sikh community coming from abroad for the purpose of religious tourism. In addition, there are some religious places of the Sikh community in Peshawar and other cities where they are not accessible. My hometown, Rasool Nagar (Ramnagar), is a historical place near Wazirabad where Raja Ranjit Singh was born. In early 1849, bloody battles took place between the Sikhs and the British at Rasool Nagar (Ramnagar), Wazirabad, and Gujarat on the banks of the Chenab River (Ramnagar, Sadullahpur, Chelianwala and later Gujarat), in which the British initially suffered heavy losses, but the Sikh army surrendered on March 12 and Sikh rule in Punjab came to an end. In Punjab, Maharaja Ranjit Singh was the first Indian in the last thousand years to repel the invasion of the traditional conquerors of India, the Pashtuns (Afghans). Defeating foreign invaders and subduing local areas, his rule stretched from the Khyber Pass in the northwest to the Sutlej River in the east, and from the northern border of the Indian subcontinent to the south, it extended to the Thar Desert (Great Indian Desert). Lahore was the capital. When Ranjit Singh died on 27 June 1839, the area of ​​the Lahore State was a little over two hundred thousand square miles.