International Al-Quds Day is a day of solidarity with the Palestinians.
…;(Asghar Ali Mubarak)عالمی یوم القدس فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کادن .
…;(اصغر علی مبارک)
عالمی یوم القدس دنیا کے تمام مظلومین اور مستضعفین کی امید کا دن ہے۔یوم القدس کا دن فلسطینیوں کا دن ہے۔ مظلوموں کا دن ہے۔ ظالموں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کا دن ہے۔یہ دن ایسے حالات میں ہمارے درمیان واقع ہو رہاہے کہ جب ہمارے فلسطین کے بھائی اور بہنیں اور ہمارے بچے ایک ایک بوند پانی کو ترس رہے ہیں۔کھانے کو روٹی نہیں ہے۔پہننے کو لباس میسر نہیں ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہاہے کہ مسجد اقصیٰ بندش انتہائی افسوسناک ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ سے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران سینئر پاکستانی تجزیہ کار اصغر علی مبارک نے سوال کیا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مسجد اقصیٰ کو بند کر کے مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے پاکستان بورڈ آف پیس کا رکن ہونے کے ناطے کیا یہ مسئلہ اپنے اتحادیوں کے سامنے اٹھائے گا؟ ترجمان طاہر حسین اندرابی نے جواب دیا کہ وزارت خارجہ نےاس معاملے پر گزشتہ رات پہلے ہی پاکستان سمیت آٹھ (عرب اسلامی) ممالک نے مسجد اقصیٰ کے دروازے بند کرنے سے متعلق مشترکہ بیان جاری کیا ہے یہ ایک بہت ہی پریشان کن پیشرفت ہے، خاص طور پر چونکہ یہ اس مقدس مہینے کے آخری عشرہ میں ہو رہا ہے۔ لہذا جب کہ ہر کوئی مسجد اقصیٰ جانا چاہتا ہے اور وہاں چوبیس گھنٹے نماز ادا کرنا چاہتا ہے، لیکن خاص طور پر رمضان کے ان آخری دنوں میں۔ اس لیے بندش انتہائی افسوسناک ہے۔ مشترکہ بیان میں ہم نے اسرائیلی حکام سے ان دروازوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا۔ یقیناً ان مسائل کو متعلقہ بین الاقوامی فورم پر اٹھایا جائے گا۔ماہ رمضان المبار ک کا آخری جمعہ جسے جمعۃ الوداع کہتے ہیں دنیا بھر میں فلسطین کے نا م سے منسوب ہے۔ اس دن کو ”یوم القدس“ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس دن کو یوم القدس کا لقب ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی اورروحانی پیشوا امام خمینی نے دیا تھا۔لہٰذا رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا گیااور پھر دیکھتے ہی دیکھتے فلسطین سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں اقوام عالم نے اس دن کو فلسطینیوں کے دن کے طورپر منانا شروع کر دیا۔آج بھی یوم القدس پوری دنیا بشمول فلسطین میں فلسطین کی آزادی اور بیت المقدس کی بازیابی کا دن منایا جاتا ہے۔امام خمینی کے اس اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ امام خمینی کی جدوجہد صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ وہ پوری دنیا کے مسلمانوں اور انسانوں کی ظالم طاقتوں کے مقابلہ میں کامیابی کے خواہاں تھے۔ فلسطین کاز کی حمایت اور فلسطینیوں کے لئے جدوجہد بھی امام خمینی کی زندگی کا بے مثال نمونہ ہےسب سے پہلے جمہوریہ ایران کے پہلے وزیر خارجہ ابراہیم یزدی نے ہر سال ایک صیہونی مخالف دن منانے کی تجویز ایرانی انقلاب کے رہنما روح اللہ خمینی کے سامنے پیش کی تھی۔ اس وقت اسرائیل اور لبنان میں سخت کشیدگی جاری تھی اور دونوں ملکوں کے درمیان یہی تناؤ اس تجویز کا باعث تھا۔ خمینی کو یزدی کی یہ تجویز پسند آئی اور 7 اگست 1979ء میں انھوں نے اعلان کر دیا کہ ہر سال رمضان کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کو یوم القدس منایا جائے گا اور اس دن دنیا بھر کے مسلمان اسرائیل کے مظالم کے خلاف اور فلسطینوں کے حق میں احتجاج اور اتحاد کا مظاہرہ کریں گے۔ نیز آیت اللہ روح اللہ خمینی نے یہ بھی اعلان کیا کہ یروشلم کی آزادی تمام مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے۔ اس دن انھوں نے اعلان کیا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ ماہ رمضان کے آخری جمعے کو یوم القدس قرار دیں اور اس دن فلسطین کے مسلمان عوام کے قانونی حقوق کی حمایت میں اپنے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کہا کہ ” میں عرصہ دراز سے تمام مسلمانوں کو غاصب اسرائیل کے خطرے سے آگاہ کر رہا ہوں، جس نے ان دنوں ہمارے فلسطینی بہن بھائیوں پر اپنے مظالم میں اضافہ کر دیا ہے اور خاص طور پر جنوبی لبنان میں فلسطینی مجاہدین کے خاتمے کے لیے ان کے گھروں پر مسلسل بمباری کر رہا ہے”۔ آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کہا کہ میں پورے عالم اسلام کے مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس غاصب اور اس کے حامیوں کے ہاتھ کاٹنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہو جائیں اور تمام مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ رمضان المبارک کے آخری جمعے کے دن جو ایام قدر میں سے بھی ہے اور فلسطینی عوام کی تقدیر کو واضح کرنے کا دن بھی ہو سکتا ہے، اس کو ‘یوم القدس’ قرار دیں اور کسی پروگرام کے ذریعے بین الاقوامی طور پر ان مسلمان عوام کے ساتھ تمام مسلمانوں کی ہمدردی کا اعلان کریں۔ اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کو کافروں پر فتح عنایت کرے۔ یوم القدس کے موقع پر اسرائیل کے خلاف اس طرح کے مظاہرے مشرقی وسطیٰ کے بہت سے ممالک حتیٰ کہ کچھ یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں میں بھی ہوتے ہیں۔ سنہ 2018ء میں لندن کے مظاہرے میں تین ہزار افراد جبکہ برلن میں سولہ سو افراد نے شرکت کی۔ نیز سنہ 2017ء میں یوم القدس کی مناسبت سے امریکا کے کم از کم اٹھارہ شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں, یوم القدس کا آغاز اس لیے کیا گیا تھا کہ اسرائیل کی مخالفت میں تمام مسلمانوں کو متحد کیا جائے اس دن کی تقریبات میں عوامی ریلیاں اور مظاہرے ہی قابل ذکر ہیں۔ اس موقع پر ایران کے متعدد رہنما ایران کے دشمنوں، اسرائیل اور امریکا وغیرہ کے خلاف خوب خوب اشتعال انگیز تقریریں کرتے اور ان کی مذمت کرتے ہیں۔ جواب میں عوام بھی چیخ چیخ کر “اسرائیل مردہ باد” اور “امریکا مردہ باد” کے نعرے لگاتے ہیں, یوم القدس کے موقع پر اسرائیل کے خلاف اس طرح کے مظاہرے مشرقی وسطیٰ کے بہت سے ممالک حتیٰ کہ کچھ یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں میں بھی ہوتے ہیں۔ سنہ 2018ء میں لندن کے مظاہرے میں تین ہزار افراد جبکہ برلن میں سولہ سو افراد نے شرکت کی۔ نیز سنہ 2017ء میں یوم القدس کی مناسبت سے امریکا کے کم از کم اٹھارہ شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں۔دوسری جانب فلسطینی مسلمان اقوام کی طرف سوالیہ نظروں سے بھی دیکھ رہے ہیں کہ کب تک ہم اپنی روز مرہ کی نمازوں اور عبادات میں مشغول رہیں گے؟ کب تک ہم مساجد میں بیٹھ کر فقط دعائیں کرنے پر اکتفا کریں گے؟ افسوس کہ مسلمان اقوام کے پاس فلسطینیوں کے سوالوں کے جواب نہیں ہے۔فلسطینی عوام اپنے فیصلوں پر کاربند ہیں۔
آج دنیا بھر میں یوم القدس منایا جارہا ہےمسلمان قوموں کے درمیان اتحاد کا مفہوم یہ ہے کہ عالم اسلام سے متعلق مسائل کے سلسلے میں ایک ساتھ حرکت کریں، ایک دوسرے کی مدد کریں فلسطین کی آزادی اور غاصبین کے قبضہ سے قبلہ اول بیت المقدس کی بازیابی کی تحریک کے تحت دنیا بھرکے مسلمان آج ایک بار پھر سراپا احتجاج ہیں اور دنیا بھر کے انسانیت کے علمبرداروں اور حقوق انسانی کی حفاظت کا دم بھرنے والوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انبیاء کی سرزمین کو آزاد کیا جائے اور نہتے فلسطینیوں پرصہیونیوں کی وحشیانہ بربریت بند کی جائے۔ اس سلسلے میں ہرسال منایا جانے والا عالمی یوم قدس، تسلط کے نظاموں کے خلاف حریت پسند اقوام اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلی جذبات کی آواز اور استکبار کے خلاف ایک علامت ہے۔یہ وہ دن ہے جب امت اسلامیہ اور دنیا کے بیدار ضمیر افراد ، جارح صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے، جرائم اور جبر کے خلاف متحد ہوکر ایک آواز میں فلسطینی عوام کے لیے انصاف اور آزادی کی صدا بلند کرتے ہیں۔ یہ دن کیلنڈر کا ایک دن نہیں بلکہ دنیا بھر کے آزادی پسند لوگوں کے درمیان ایک تاریخی میثاق ہے جنہوں نے ظلم اور جرائم کے خلاف، جنگ کا پرچم بلند رکھا ہے۔یوم القدس’بیت المقدس‘کی آزادی کے لئے ایک بین الاقوامی دن ہے اور اس کا تعلق عالم اسلام سے ہے۔ عالمی یوم القدس امام خمینی کے حکم سے منایا جاتا ہے۔ یہ دن عالم اسلام اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک اہم دن ہے جس میں غاصب صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کے خلاف فلسطینی مزاحمت کی حمایت کی جاتی ہے۔ عالمی استکبار نے 1948 میں مسلمانوں کے قبلہ اول قدس شریف کو اس کے باشندوں سے چھین لیا۔ صیہونی حکومت کے اس غاصبانہ قبضے کے خلاف ابتدائی سالوں سے ہی فلسطین کے مسلمان عوام نے مزاحمت کی جو پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد امام خمینی نے بیت المقدس کو غاصب صہیونیوں کے چنگل سے آزاد کرانے کے لئے ایک مزاحمتی تحریک کے طور رمضان کے آخری جمعہ کو’یوم القدس‘ منانے کی سفارش کی۔ امام خمینی نے اپنے پیغام میں کہا کہ دنیا کے تمام مسلمان اور اسلامی حکومتیں اس غاصب اور اس کے حامیوں کا مقابلہ کریں۔ بانی انقلاب اسلامی کے پیغام نے مظلوم فلسطینیوں کے دلوں میں امید کی شمع روشن کی۔ امام خمینی کے نزدیک یوم القدس عالمی دن ہے اور یہ مظلوموں اور مستکبروں کے درمیان تصادم کا دن ہے۔ یہ ان اقوام کی مزاحمت کا دن ہے جو سپر پاور کے خلاف امریکی اور مغربی جبر کا شکار تھیں۔یوم قدس مزاحمتی محور کے لیے بہت اہم دن ہے، کیونکہ یہ فلسطینی مزاحمت کی حمایت کے عزم کو تقویت دیتا ہے، اس دن مجاہدین فلسطین کے دفاع کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔اس سال ملت اسلامیہ عالمی یوم قدس ایک ایسے وقت منارہی جب غاصب اور سفاک صیہونی حکومت نے ایک بار پھر اپنا وحشیانہ چہرہ آشکار کر دیا ہے اور انتہائی وحشیانہ حملوں کے ساتھ غزہ کے نہتے اور مظلوم عوام کو بم دھماکوں، محاصروں اور بے رحمانہ قتل و غارت کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اس وقت غزہ کے باشندوں کے بے گھر ہونے، ان کی تباہی و بربادی اور بے گناہ فلسطینی بچوں کی شہادت کے دردناک مناظر دنیا کی نگاہوں کے سامنے ہیں اور یہ سب کچھ انسانی حقوق کے علمبرداروں اور بچوں کو مارنے والی جارح حکومت کے حامیوں کے لیے ذلت و رسوائی کی دستاویزات ہیں۔یوم القدس دراصل غاصب صیہونی حکومت اور امریکہ کے لیے بھی پیغام ہے۔قبلہ اول کا تقدس اس کے نام سے ہی عیاں ہے اور اس کی تقدیم و تقدس کے لیے یہ امر کافی ہے کہ اس سے مسلمانان عالم کے قبلہ اول ہونے کا شرف حاصل ہے۔ خدا کے اس مقدس گھر کے جانب رخ کر کے اولین و سابقین مومنوں نے امام المرسلین حضرت محمد مصطفی کی امامت میں نماز ادا کی ،خدا وند عالم نے اپنے محبوب کو معراج پر لے جانے کے لیے روئے زمین پر اسی مقدس مقام کا انتخاب کیا جب سے اسکی بنیاد پڑی ہے ۔خاصانِ خدا بالخصوص پیغمبروں نے اسکی زیارت کو باعث افتخار جانا ہے، بیت المقدس بارگاہِ خدا وند کے ان اولین سجدہ گزاروں اور توحید پرستوں کا مرکز اول ہے جن کے سجدوں نے انسانیت کو ہزار سجدے سے نجات دِلا دی، وہی قبلہ اول آج امریکی کٹھ پتلی اسلام دشمن ، انسان دشمن ،جابر و غاصب اسرائیل کے ہاتھوں پامال ہوتا جا رہا ہے اور بزبانِ حال دنیا کے تمام مسلمانوں سے اپنی بازیابی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ عالمی یومِ قد س امت مسلمہ کے لیے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے ایک نعرے اورایک مقصد کے تحت مسلمانانِ عالم کی اقتدار کے مجتمع ہونے کا دن ہے، سبھی مسلم ممالک اورمسالک کے مابین اتحاد ویگانیت کا دن ہے، یوم اسلام ، یوم انسانیت اور یوم انقلاب ہے۔اتحاد کا معنی و مفہوم بہت آسان اور واضح ہے۔ اس سے مراد ہے مسلمان فرقوں کا باہمی تعاون اور آپس میں ٹکراو اور تنازعے سے گریز۔ اتحاد بین المسلمین سے مراد یہ ہے کہ ایک دوسرے کی نفی نہ کریں، ایک دوسرے کے خلاف دشمن کی مدد نہ کریں اور نہ آپس میں ایک دوسرے پر ظالمانہ انداز میں تسلط قائم کریں۔ مسلمان قوموں کے درمیان اتحاد کا مفہوم یہ ہے کہ عالم اسلام سے متعلق مسائل کے سلسلے میں ایک ساتھ حرکت کریں، ایک دوسرے کی مدد کریں اور ان قوموں کے درمیان پائے جانے والے ایک دوسرے کے سرمائے اور دولت کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ماہ رمضان المبار ک کا آخری جمعہ جسے جمعۃ الوداع کہتے ہیں دنیا بھر میں فلسطین کے نا م سے منسوب ہے۔ اس دن کو ”یوم القدس“ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس دن کو یوم القدس کا لقب ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی اورروحانی پیشوا امام خمینی نے دیا تھا۔لہٰذا رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا گیااور پھر دیکھتے ہی دیکھتے فلسطین سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں اقوام عالم نے اس دن کو فلسطینیوں کے دن کے طورپر منانا شروع کر دیا۔آج بھی یوم القدس پوری دنیا بشمول فلسطین میں فلسطین کی آزادی اور بیت المقدس کی بازیابی کا دن منایا جاتا ہے۔امام خمینی کے اس اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ امام خمینی کی جدوجہد صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ وہ پوری دنیا کے مسلمانوں اور انسانوں کی ظالم طاقتوں کے مقابلہ میں کامیابی کے خواہاں تھے۔ فلسطین کاز کی حمایت اور فلسطینیوں کے لئے جدوجہد بھی امام خمینی کی زندگی کا بے مثال نمونہ ہےسب سے پہلے جمہوریہ ایران کے پہلے وزیر خارجہ ابراہیم یزدی نے ہر سال ایک صیہونی مخالف دن منانے کی تجویز ایرانی انقلاب کے رہنما روح اللہ خمینی کے سامنے پیش کی تھی۔ اس وقت اسرائیل اور لبنان میں سخت کشیدگی جاری تھی اور دونوں ملکوں کے درمیان یہی تناؤ اس تجویز کا باعث تھا۔ خمینی کو یزدی کی یہ تجویز پسند آئی اور 7 اگست 1979ء میں انھوں نے اعلان کر دیا کہ ہر سال رمضان کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کو یوم القدس منایا جائے گا اور اس دن دنیا بھر کے مسلمان اسرائیل کے مظالم کے خلاف اور فلسطینوں کے حق میں احتجاج اور اتحاد کا مظاہرہ کریں گے۔ نیز آیت اللہ روح اللہ خمینی نے یہ بھی اعلان کیا کہ یروشلم کی آزادی تمام مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے۔ اس دن انھوں نے اعلان کیا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ ماہ رمضان کے آخری جمعے کو یوم القدس قرار دیں اور اس دن فلسطین کے مسلمان عوام کے قانونی حقوق کی حمایت میں اپنے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کہا کہ ” میں عرصہ دراز سے تمام مسلمانوں کو غاصب اسرائیل کے خطرے سے آگاہ کر رہا ہوں، جس نے ان دنوں ہمارے فلسطینی بہن بھائیوں پر اپنے مظالم میں اضافہ کر دیا ہے اور خاص طور پر جنوبی لبنان میں فلسطینی مجاہدین کے خاتمے کے لیے ان کے گھروں پر مسلسل بمباری کر رہا ہے”۔ آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کہا کہ میں پورے عالم اسلام کے مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس غاصب اور اس کے حامیوں کے ہاتھ کاٹنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہو جائیں اور تمام مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ رمضان المبارک کے آخری جمعے کے دن جو ایام قدر میں سے بھی ہے اور فلسطینی عوام کی تقدیر کو واضح کرنے کا دن بھی ہو سکتا ہے، اس کو ‘یوم القدس’ قرار دیں اور کسی پروگرام کے ذریعے بین الاقوامی طور پر ان مسلمان عوام کے ساتھ تمام مسلمانوں کی ہمدردی کا اعلان کریں۔ اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کو کافروں پر فتح عنایت کرے۔ یوم القدس کے موقع پر اسرائیل کے خلاف اس طرح کے مظاہرے مشرقی وسطیٰ کے بہت سے ممالک حتیٰ کہ کچھ یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں میں بھی ہوتے ہیں۔ سنہ 2018ء میں لندن کے مظاہرے میں تین ہزار افراد جبکہ برلن میں سولہ سو افراد نے شرکت کی۔ نیز سنہ 2017ء میں یوم القدس کی مناسبت سے امریکا کے کم از کم اٹھارہ شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں, یوم القدس کا آغاز اس لیے کیا گیا تھا کہ اسرائیل کی مخالفت میں تمام مسلمانوں کو متحد کیا جائے اس دن کی تقریبات میں عوامی ریلیاں اور مظاہرے ہی قابل ذکر ہیں۔ اس موقع پر ایران کے متعدد رہنما ایران کے دشمنوں، اسرائیل اور امریکا وغیرہ کے خلاف خوب خوب اشتعال انگیز تقریریں کرتے اور ان کی مذمت کرتے ہیں۔ جواب میں عوام بھی چیخ چیخ کر “اسرائیل مردہ باد” اور “امریکا مردہ باد” کے نعرے لگاتے ہیں, یوم القدس کے موقع پر اسرائیل کے خلاف اس طرح کے مظاہرے مشرقی وسطیٰ کے بہت سے ممالک حتیٰ کہ کچھ یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں میں بھی ہوتے ہیں۔ سنہ 2018ء میں لندن کے مظاہرے میں تین ہزار افراد جبکہ برلن میں سولہ سو افراد نے شرکت کی۔ نیز سنہ 2017ء میں یوم القدس کی مناسبت سے امریکا کے کم از کم اٹھارہ شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں۔دوسری جانب فلسطینی مسلمان اقوام کی طرف سوالیہ نظروں سے بھی دیکھ رہے ہیں کہ کب تک ہم اپنی روز مرہ کی نمازوں اور عبادات میں مشغول رہیں گے؟ کب تک ہم مساجد میں بیٹھ کر فقط دعائیں کرنے پر اکتفا کریں گے؟ افسوس کہ مسلمان اقوام کے پاس فلسطینیوں کے سوالوں کے جواب نہیں ہے۔فلسطینی عوام اپنے فیصلوں پر کاربند ہیں۔ اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق فلسطین کو آزاد خودمختار بنایا جائے، فلسطین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے، غزہ فلسطین میں پائیدار امن و آزادی کیلئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سفارتی اور ہر سطح پر جرأت مندانہ عملی جدوجہد نمایاں ہیں، ایران پر جارحیت قابل مذمت ہے، مشکل کی گھڑی میں ہمیشہ کی طرح برادر اسلامی ایران کے ساتھ ہیں، موجودہ حالات میں وحدت امت کی اشد ضرورت ہے، متحدہ علماء محاذ کی امن و اتحاد ملکی استحکام کیلئے کاوشیں قابل تحسین ہیں۔یوم القدس فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار اور اسرائیل کی مبینہ جارحیت کے خلاف ہر برس رمضان کے آخری جمعے کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کا آغاز سن 1979میں ایران کے اس وقت کے روحانی پیشوا آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کیا تھا۔۔دنیا بھر میں مسلمان رمضان کے آخری جمعے کو یوم القدس کے طور پر مناتے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان میں بھی ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔پاکستان میں بھی مختلف تنظیموں نے رمضان کے آخری جمعے کو نماز کے بعد مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی ہے۔ اس برس یوم القدس سے قبل فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ شہید القدس رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی شہادت کسی ملک رنگ و نسل و مسلک کے رہنما کی نہیں بلکہ عالم اسلام کے عظیم رہبر و رہنما کی عظیم شہادت ہے جس پر سارا عالم اسلام سوگوار و غم زدہ ہے شہید القدس رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی شہادت کسی ملک رنگ و نسل و مسلک کے رہنما کی نہیں بلکہ عالم اسلام کے عظیم رہبر و رہنما کی عظیم شہادت ہے جس پر سارا عالم اسلام سوگوار و غم زدہ ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل حافظ عاصم منیر کی قیادت میں کشمیر کے ساتھ ساتھ فلسطین بھی جلد آزاد ہوگا اور وہ عالمی کفریہ طاقتوں کے خلاف عالم اسلام کی قیادت کریں گے، افواج پاکستان پورے عالم اسلام کا دفاعی حصار ہے افواج کے شانہ بشانہ ساتھ کھڑے ہیں,جمعۃ الوداع کے موقع پر ملک بھر میں ریلیاں، سیمینارز اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے جن میں فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھرپور آواز بلند کی جائے گی، عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ القدس کے پروگراموں میں شرکت کرکے مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کریں۔علماء نے کہا کہ متحدہ علماء محاذ سے وابستہ مساجد میں علماء مشائخ یوم القدس کے موقع پر فلسطین سے اظہار یکجہتی کریں گے اور بیت المقدس پر اسرائیلی غاصبانہ ظالمانہ قبضہ و تسلط کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کرائیں گےجمعۃ الوداع کے موقع پر ملک بھر میں ریلیاں، سیمینارز اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے جن میں فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھرپور آواز بلند کی جائے گی، عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ القدس کے پروگراموں میں شرکت کرکے مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کریں۔علماء نے کہا کہ متحدہ علماء محاذ سے وابستہ مساجد میں علماء مشائخ یوم القدس کے موقع پر فلسطین سے اظہار یکجہتی کریں گے اور بیت المقدس پر اسرائیلی غاصبانہ ظالمانہ قبضہ و تسلط کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کرائیں گےحکومتِ سندھ نے رمضان المبارک کے آخری جمعے یعنی جمعتہ الوداع کے موقع پر صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔اس حوالے سے صوبائی وزیرِ بلدیات ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کراچی کی ایک اہم شاہراہ کو ایران کے رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔ یہ اقدام عالمی سطح پر ان کی خدمات کے اعتراف میں کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم پاکستان کےکوآرڈینیٹر قومی پیغام امن کمیٹی, چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ عالمی حالات کے تناظر میں امتِ مسلمہ کو اتحاد و اتفاق کی اشد ضرورت ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے علامہ محمد عارف واحدی، علامہ زاہد، مولانا محمد ابوبکر حمید صابری ،علامہ اشفاق واحدی،ودیگر علماء ؤ مشائخ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ان کا کہنا تھا کہ مذہبی و سیاسی قیادت کو مشترکہ طور پر مثبت اور عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔فلسطینی عوام کے حق میں یکجہتی ,عالمی یوم القدس کی تقریبات امت مسلمہ کے اتحاد کا عملی مظاہرہ ہیں۔امت مسلمہ میں تفرقہ ڈالنے والی سازشوں کا مقابلہ صرف وحدت اور اتحاد کے ذریعے ممکن ہے۔امت مسلمہ کے اتحاد اور وحدت کو پارہ پارہ نہ کیا جائے ہر کسی کو ذمہ داری کے ساتھ امت کے مسائل میں کردار ادا کرنا چاہیے۔اسرائیل عالمِ اسلام میں تفریق پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جس سے خطے کے امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عالمِ اسلام کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی مشاورت اور اجتماعی حکمتِ عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے موجودہ صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک کو باہمی اختلافات ختم کر کے اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل کا مؤثر حل تلاش کیا جا سکے۔انہوں نے علماءِ کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سب کو باہمی اتحاد و اتفاق کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ موجودہ حالات میں عالمِ اسلام کے اتحاد کے لیے عملی کردار ادا کیا جائے گا اور پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت پر عالم اسلام کو شدید افسوس ہے، رہبرِ معظم آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پورے عالمِ اسلام کےلیے افسوسناک ہے۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ایران کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی دشمن کا نشانہ ہے۔ اسرائیل، بھارت اور اسلام مخالف قوتوں نے پاکستان کو افغانستان کے خلاف لڑایا ہے۔ علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ ایران پر حملہ رکوانے کے لئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر شامل تھے۔ دیگر رہنما جو اس حملے کو روکنے کے لئے کوشش کر رہے تھے ان میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر طیب اردوگان، قطر کے امیر اور عمان کی قیادت شامل تھی، جنہوں نے امریکا کے ساتھ ایران کے مذاکرات کروانے کی بھی کوشش کی۔ تاہم پاکستان نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ مل کر قائدانہ کردار ادا کیا۔علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان کی اس وقت سب سے بڑی ذمہ داری مسلم امہ میں وحدت اور اتحاد کو فروغ دینا ہے اور کسی بھی ملک یا قوت کی سازش کو ناکام بنانا ہے جو مسلم ممالک میں اختلاف پیدا کرنا چاہتی ہے۔علامہ طاہر اشرفی نے واضح کیا کہ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا بڑھا ہے اور بعض قوتیں مسلم ممالک کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے کردار میں اعتدال اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، اور ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو خراب ہونے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی قیادت نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے مسلسل رابطے قائم کیے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی۔ یہ کوششیں امت مسلمہ کے لیے مثال ہیں اور پاکستان نے ہر سطح پر یہ کردار ادا کیا ہے کہ کوئی جنگ یا تصادم نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، لیکن پاکستان کا کردار ہمیشہ امن، استحکام اور امت کی یکجہتی کے فروغ میں رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سعودی عرب اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخی، قلبی اور دفاعی لحاظ سے مضبوط ہیں اور کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ ایران پر حملہ رکوانے کے لئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر شامل تھے۔ دیگر رہنما جو اس حملے کو روکنے کے لئے کوشش کر رہے تھے ان میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر طیب اردوگان، قطر کے امیر اور عمان کی قیادت شامل تھی، جنہوں نے امریکا کے ساتھ ایران کے مذاکرات کروانے کی بھی کوشش کی۔ تاہم پاکستان نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ مل کر قائدانہ کردار ادا کیا۔علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان کی اس وقت سب سے بڑی ذمہ داری مسلم امہ میں وحدت اور اتحاد کو فروغ دینا ہے اور کسی بھی ملک یا قوت کی سازش کو ناکام بنانا ہے جو مسلم ممالک میں اختلاف پیدا کرنا چاہتی ہے۔علامہ طاہر اشرفی نے واضح کیا کہ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا بڑھا ہے اور بعض قوتیں مسلم ممالک کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے کردار میں اعتدال اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، اور ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو خراب ہونے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی قیادت نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے مسلسل رابطے قائم کیے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی۔ یہ کوششیں امت مسلمہ کے لیے مثال ہیں اور پاکستان نے ہر سطح پر یہ کردار ادا کیا ہے کہ کوئی جنگ یا تصادم نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، لیکن پاکستان کا کردار ہمیشہ امن، استحکام اور امت کی یکجہتی کے فروغ میں رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سعودی عرب اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخی، قلبی اور دفاعی لحاظ سے مضبوط ہیں اور کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے تناظر میں ایران کے مستقبل اور جنگ کے ممکنہ انجام کے حوالے سے پانچ اہم منظرنامے سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پہلا ممکنہ منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ امریکا اور ایران دوبارہ مذاکرات شروع کریں اور ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے نیا معاہدہ طے پا جائے۔دوسرا امکان یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ امریکا دباؤ یا خفیہ کارروائیوں کے ذریعے ایران کی موجودہ قیادت میں تبدیلی لانے کی کوشش کرے اور موجودہ نظام کے اندر ہی کسی نئی قیادت کے ساتھ کام شروع کر دے۔تیسرے امکان کے مطابق جنگ، معاشی بحران اور سیاسی دباؤ کے باعث ایران میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج شروع ہو سکتے ہیں جس سے موجودہ نظام حکومت کمزور یا ختم ہو سکتا ہے۔ایک اور ممکنہ امکان یہ بتایا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل زمینی فوجی کارروائی کریں اور ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیں یا اپنے کنٹرول میں لے لیں۔ پانچواں منظرنامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو کمزور قرار دے کر جنگ میں فتح کا اعلان کر دیں اور امریکی افواج کو واپس بلا لیا جائے۔واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران کے مختلف شہروں پر شدید حملے کیے تھے جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے



International Al-Quds Day stands as a symbol of solidarity with the Palestinians and all oppressed people globally. It is an opportunity to raise a unified voice against injustice. This year, as Palestinians face dire shortages of basic necessities, Foreign Office Spokesperson Tahir Hussain Andrabi emphasized regret over the closure of Al-Aqsa Mosque during Ramadan. In response to a question from senior analyst Asghar Ali Mubarak, Andrabi confirmed that Pakistan, along with seven other countries, issued a joint statement urging Israeli authorities to open the mosque gates and committed to raising this issue on international platforms.
Today, Al-Quds Day is being celebrated all over the world. According to the resolutions passed by the United Nations, Palestine should be made independent and independent. Palestine will not be left alone under any circumstances. The diplomatic and courageous practical struggles of Prime Minister Shahbaz Sharif and Field Marshal General Asim Munir at all levels for lasting peace and freedom in Gaza and Palestine are prominent. The aggression against Iran is condemnable. As always, we are with our Islamic brotherhood in Iran in this difficult time. In the current situation, there is a dire need for unity in the nation. The efforts of the United Ulema Front for peace, unity, and stability of the country are commendable. Quds Day is celebrated all over the world on the last Friday of Ramadan every year to express solidarity with the Palestinians and against the alleged aggression of Israel. This day was started in 1979 by the then spiritual leader of Iran, Ayatollah Ruhollah Khomeini. Muslims around the world celebrate the last Friday of Ramadan as Al-Quds . Rallies are also held in Pakistan on this occasion. In Pakistan, various organizations have called for protests in different cities after prayers on the last Friday of Ramadan. This year, there has been an increase in Israeli violence in the Palestinian territories ahead of Al-Quds . The martyrdom of the Supreme Leader of the Islamic Revolution, Sayyed Ali Khamenei, is not a great martyrdom of a leader of any country, race, or creed, but of a great leader and leader of the Islamic world, over which the entire Islamic world is mourning and grieving. The martyrdom of the Supreme Leader of the Islamic Revolution, Sayyed Ali Khamenei, is not a great martyrdom of a leader of any country, race, or creed, but of a great leader and leader of the Islamic world, over which the entire Islamic world is mourning and grieving. Under the leadership of Field Marshal General Hafiz Asim Munir, Kashmir, as well as Palestine, will soon be free, and he will lead the Islamic world against the global infidel powers. The Pakistani armed forces are the defensive wall of the entire Islamic world and stand side by side with the armed forces. On the occasion of Juma-tul-Wida, rallies, seminars, and protest demonstrations will be held across the country, in which solidarity with the Palestinian people and a strong voice will be raised against Israeli aggression. The public was urged to participate in the Quds Day programs in large numbers to express their commitment to the oppressed Palestinian people. The scholars said that the clerics in the mosques affiliated with the United Ulema Front will express solidarity with Palestine on the occasion of Quds Day and pass resolutions condemning the Israeli usurpation and tyranny over Jerusalem. Rallies, seminars, and protest demonstrations will be held across the country on the occasion of Juma-tul-Wida, in which solidarity with the Palestinian people and a strong voice will be raised against Israeli aggression. The public was urged to participate in the Quds Day programs in large numbers to express their commitment to the oppressed Palestinian people. Express your commitment to the oppressed Palestinian people by participating in the programs of the United Ulema Front. The scholars said that the clerics in the mosques affiliated with the United Ulema Front will express solidarity with Palestine on the occasion of Quds Day and will pass resolutions condemning the Israeli usurpation and cruel occupation of Jerusalem. The Sindh government has declared a public holiday across the province on the last Friday of Ramadan, i.e., the Friday of the Farewell. In this regard, Provincial Minister for Local Government Nasir Hussain Shah said that the Sindh government has decided that an important highway in Karachi will be named after Iran’s Supreme Leader Ayatollah Khamenei. This step is being taken in recognition of his services at the global level.The meaning of unity among Muslim nations is to act together on issues related to the Islamic world, to help each other. Under the movement for the liberation of Palestine and the recovery of the first Qibla, Jerusalem, from the occupation of the invaders, Muslims around the world are once again protesting today and are demanding from the champions of humanity and those who breathe the protection of human rights around the world to liberate the land of the prophets and stop the barbaric barbarity of the Zionists on the unarmed Palestinians. In this regard, the International Quds Day, celebrated every year, is a voice of the heartfelt feelings of freedom-loving nations and Muslims around the world against the systems of domination and a symbol against arrogance. This is the day when the Islamic Ummah and the people of conscience of the world unite against the usurping occupation, crimes, and oppression of the aggressive Zionist government and raise the voice of justice and freedom for the Palestinian people in one voice. This day is not a day on the calendar, but a historical pact between freedom-loving people around the world who have raised the flag of war against oppression and crimes. Quds Day is an international day for the liberation of Jerusalem and is related to the Islamic world. International Quds Day is celebrated by the order of Imam Khomeini. This day is an important day for the Islamic world and Muslims around the world, in which the Palestinian resistance against the usurping Zionist government and its supporters is supported. Global arrogance took away the first Qibla of Muslims, Jerusalem, from its inhabitants in 1948. The Muslim people of Palestine have resisted this usurpation by the Zionist government from the early years, which continues with full force. After the success of the Islamic Revolution, Imam Khomeini recommended celebrating Quds Day on the last Friday of Ramadan as a resistance movement to liberate Jerusalem from the clutches of the usurping Zionists. Imam Khomeini said in his message that all Muslims and Islamic governments in the world should confront this usurper and its supporters. The message of the founder of the Islamic Revolution lit a candle of hope in the hearts of the oppressed Palestinians. According to Imam Khomeini, Quds Day is an international day and a day of confrontation between the oppressed and the arrogant. It is a day of resistance of those nations that were victims of American and Western oppression against the superpower. Quds Day is a very important day for the resistance axis, because it strengthens the determination to support the Palestinian resistance. On this day, the Mujahideen renew their determination to defend Palestine. This year, the Islamic nation is celebrating International Quds Day at a time when the usurper and brutal Zionist regime has once again revealed its barbaric face and is subjecting the defenseless and oppressed people of Gaza to bombings, sieges, and merciless massacres with the most brutal attacks. At present, the painful scenes of the displacement of the residents of Gaza, their destruction and devastation, and the martyrdom of innocent Palestinian children are before the eyes of the world, and all of these are documents of humiliation and disgrace for the champions of human rights and the supporters of the aggressive government that kills children. Al-Quds Day is actually a message for the usurping Zionist government and America as well. The sanctity of the first Qibla is evident from its name alone, and it is sufficient for its presentation and sanctity that it has the honor of being the first Qibla of the Muslims of the world. Facing this holy house of God, the first and earliest believers offered prayers under the leadership of Imam al-Mursaleen Hazrat Muhammad Mustafa. God Almighty chose this holy place on earth to take His beloved on the ascension since its foundation was laid. The people of God, especially the prophets, have considered their pilgrimage a source of honor. The Holy House of Jerusalem is the first center of those who first prostrated before God and worshipped monotheism, whose prostrations saved humanity from a thousand prostrations. That first Qibla is being trampled upon today by the American puppet, the enemy of Islam, the enemy of humanity, the oppressor and usurper Israel, and is currently demanding its recovery from all Muslims of the world. International Quds Day is of great importance to the Muslim Ummah. It is a day of unity of the Muslims of the world under one slogan and one goal. It is a day of unity among all Muslim countries and religions. It is a day of unity. It is a day of Islam, a day of humanity, and a day of revolution. The meaning of unity is very simple and clear. It refers to mutual cooperation between Muslim sects and the avoidance of conflict and conflict. Unity among Muslims means not to deny each other, not to help the enemy against each other, and not to establish tyranny over each other. The meaning of unity among Muslim nations is to act together on issues related to the Islamic world, to help each other, and not to allow the capital and wealth of these nations to be used against each other.Prime Minister of Pakistan’s Coordinator National Peace Message Committee, Chairman Pakistan Ulema Council Hafiz Muhammad Tahir Mahmood Ashrafi has said that in the context of global circumstances, the Muslim Ummah is in dire need of unity and consensus. He expressed these views while holding a press conference along with Allama Muhammad Arif Wahidi, Allama Zahid, Maulana Muhammad Abu Bakr Hameed Sabri, Allama Ashfaq Wahidi, and other scholars and mashaikhs. He said that religious and political leadership should jointly play a positive and practical role. Solidarity for the Palestinian people, International Quds Day celebrations are a practical demonstration of the unity of the Muslim Ummah. Conspiracies that create division in the Muslim Ummah can only be countered through unity and solidarity. The unity and solidarity of the Muslim Ummah should not be torn apart. Everyone should play a responsible role in the problems of the Ummah. Israel is busy trying to create division in the Islamic world, which can pose a threat to the peace and stability of the region. He said that mutual consultation is needed to address the challenges facing the Islamic world. And adopting a collective strategy is the need of the hour. He seriously considered the current situation and said that Muslim countries should put aside their differences and demonstrate unity so that effective solutions to the problems facing the Muslim Ummah can be found. He thanked the scholars and prayed that Allah Almighty may grant everyone the ability to serve the country and the nation with mutual unity and agreement. On this occasion, it was also expressed that in the current circumstances, a practical role will be played for the unity of the Islamic world, and joint efforts will be continued to make Pakistan a cradle of peace. Hafiz Tahir Mahmood Ashrafi said that the Islamic world deeply regrets the American and Israeli aggression on Iran, and the martyrdom of Supreme Leader Ayatollah Seyyed Ali Khamenei and his companions is regrettable for the entire Islamic world. Hafiz Muhammad Tahir Mahmood Ashrafi said that along with Iran, Pakistan is also a target of the enemy. Israel, India, and anti-Islamic forces have made Pakistan fight against Afghanistan. Allama Tahir Ashrafi said that Prime Minister of Pakistan Shahbaz Sharif and Field Marshal Hafiz Syed Asim Munir were involved in stopping the attack on Iran. Other leaders who were trying to stop the attack included Saudi Arabia’s Crown Prince Mohammed bin Salman, Turkish President Tayyip Erdogan, the Emir of Qatar, and the leadership of Oman, who also tried to get Iran to negotiate with the United States. However, Pakistan, along with Saudi Arabia’s Crown Prince Mohammed bin Salman, played a leading role. Allama Tahir Ashrafi said that Pakistan’s biggest responsibility at this time is to promote unity and solidarity in the Muslim Ummah and to thwart the conspiracy of any country or force that wants to create discord among Muslim countries. Allama Tahir Ashrafi clarified that propaganda on social media has increased in recent days, and some forces are trying to create discord among Muslim countries. He said that Pakistan has always shown moderation and responsibility in its role and has played an important role in preventing relations between Iran and Saudi Arabia from deteriorating. He added that Pakistan’s leadership has continuously established contacts to prevent a possible conflict between Iran and Saudi Arabia and facilitated negotiations between the two countries. These efforts are an example for the Muslim Ummah, and Pakistan has played a role at every level to ensure that there is no war or conflict. He said that some elements were acting irresponsibly, but Pakistan’s role has always been in promoting peace, stability, and unity of the Ummah. He stressed that Pakistan’s relations with Saudi Arabia and Iran are strong in historical, cordial, and defensive terms, and no conspiracy will be allowed to succeed.Allama Tahir Ashrafi said that Prime Minister of Pakistan Shahbaz Sharif and Field Marshal Hafiz Syed Asim Munir were involved in stopping the attack on Iran. Other leaders who were trying to stop the attack included Saudi Arabia’s Crown Prince Mohammed bin Salman, Turkish President Tayyip Erdogan, the Emir of Qatar, and the leadership of Oman, who also tried to get Iran to negotiate with the United States. However, Pakistan, along with Saudi Arabia’s Crown Prince Mohammed bin Salman, played a leading role. Allama Tahir Ashrafi said that Pakistan’s biggest responsibility at this time is to promote unity and solidarity in the Muslim Ummah and to thwart the conspiracy of any country or force that wants to create discord among Muslim countries. Allama Tahir Ashrafi clarified that propaganda on social media has increased in recent days, and some forces are trying to create discord among Muslim countries. He said that Pakistan has always shown moderation and responsibility in its role and has played an important role in preventing relations between Iran and Saudi Arabia from deteriorating. He added that Pakistan’s leadership has continuously established contacts to prevent a possible conflict between Iran and Saudi Arabia and facilitated negotiations between the two countries. These efforts are an example for the Muslim Ummah, and Pakistan has played a role at every level to ensure that there is no war or conflict. He said that some elements are acting irresponsibly, but Pakistan’s role has always been in promoting peace, stability, and unity of the Ummah. He stressed that Pakistan’s relations with Saudi Arabia and Iran are strong in historical, cordial, and defensive terms, and no conspiracy will be allowed to succeed.
In the context of the ongoing war with the US and Israel, five important scenarios have emerged regarding the future of Iran and the possible outcome of the war. According to the report, the first possible scenario is that the US and Iran resume negotiations and a new agreement is reached to limit the Iranian nuclear program. The second possibility is that the US tries to change the current leadership of Iran through pressure or secret operations and starts working with a new leadership within the current system. According to the third possibility, war, economic crisis, and political pressure may trigger large-scale public protests in Iran, which may weaken or end the current government system. Another possibility is that the US and Israel take ground military action and completely destroy or take control of Iran’s nuclear facilities. The fifth scenario is that US President Donald Trump declares victory in the war by weakening Iran’s missile and drone capabilities and withdraws US forces. It should be noted that on February 28, the US and Israel launched severe attacks on various cities in Iran, including Tehran, after which tensions in the region increased significantly.




