February 5, Kashmir Solidarity Day,Pakistan’s Top Military and civilian leadership reiterates unwavering support for the Kashmiris’ struggle for freedom. (Asghar Ali Mubarak)_یوم یکجہتی کشمیر; پاکستانی اعلیٰ عسکری اور سویلین قیادت کاکشمیریوں کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ ..

(اصغر علی مبارک ).. ………پاکستان کی اعلیٰ عسکری اور سویلین قیادت نےکشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیاہے۔پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور ان کے حق خودارادیت کا اعادہ کیاہے۔

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغامات میں صدر اور وزیراعظم نے کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی ثابت قدم اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت کا اعادہ کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی تصدیق کی۔اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستانی کشمیری عوام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔انہوں نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو عالمی ضمیر کے لیے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 5 اگست 2019 سے بھارت نے اپنے قبضے کو مستحکم کرنے اور خطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو تیز کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔صدر پاکستان نے بین الاقوامی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی قابض افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھی روشنی ڈالی جو کہ من مانی حراستوں، اجتماعی سزاؤں اور تعزیری گھروں کی مسماری میں اضافے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل آزادیوں کو دبانا، بشمول ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کرنا، زمینی حقائق کو چھپانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں مساجد اور مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کی حالیہ پروفائلنگ کا حوالہ دیتے ہوئے، صدر زرداری نے ان کارروائیوں کو دانستہ دھمکی قرار دیا جس کا مقصد مسلم اکثریتی آبادی کی مذہبی آزادی کو محدود کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات مذہبی ظلم و ستم کے وسیع نمونے کا حصہ ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ کشمیریوں کو بلا خوف و تفریق اپنے مذہب پر عمل کرنے کا ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو جوابدہ بنائے اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے پر مجبور کرے۔پاکستان کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ملک کشمیریوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہےصدر زرداری نے یہ بھی یاد کروایا کہ یوم یکجہتی کشمیر منانے کا باقاعدہ آغاز 1989 میں بے نظیر بھٹو نے کیا تھا۔انہوں نے کشمیری عوام کی ہمت، لچک اور ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کیا، جو تقریباً آٹھ دہائیوں سے بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔

دریں اثناء وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر کشمیریوں کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کے اعادہ کے لیے منایا جاتا ہے۔ایک پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ تنازعہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر دیرینہ حل طلب مسائل میں سے ایک ہے اور بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرتی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، اور بھارت کی طرف سے 5 اگست 2019 کو کیے گئے اقدامات کا مقصد اقوام متحدہ کی قراردادوں اور جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خطے پر اپنے غیر قانونی کنٹرول کو مضبوط کرنا تھا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی بھرپور اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔

دریں اثنا، یوم یکجہتی کشمیر کے پروقار موقع پر، پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا،

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز؛ ایڈمرل نوید اشرف، نشانِ امتیاز، چیف آف نیول اسٹاف؛ اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، نشانِ امتیاز (ملٹری)، چیف آف ایئر اسٹاف نے افواجِ پاکستان کی جانب سے بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم اور بہادر عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، بیان میں کہا گیا ہے کہ افواجِ پاکستان کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گی۔ بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، جن میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، بلاجواز گرفتاریاں اور علاقے کے آبادیاتی و سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی منظم کوششیں شامل ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ اور پُرامن حل، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق، جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ افواجِ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے ٹھوس اور بامعنی اقدامات کرے۔آئی ایس پی آر کے مطابق افواجِ پاکستان ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں اور کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی آزادی اور وقار کی جدوجہد میں ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہیں۔پاکستان زندہ باد! کشمیر زندہ باد!مسئلہ کشمیر آج بھی برصغیر کے امن کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور جب تک اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کرواتا، خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ .پاکستان میں 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر, پاکستانیوں کو کشمیر کے جاری مسئلے اور انصاف اور انسانی حقوق کے لیے کھڑے ہونے کی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد شروع ہوا جب 1947 میں جموں و کشمیر کے مہاراجا نے حالات کے دباؤ میں بھارت سے الحاق کر لیا۔ پاکستان نے اس کو غیر منصفانہ قرار دیا کیونکہ ریاست کی اکثریت مسلمان تھی اور اُسے پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہیے تھا۔ یہ تنازع دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا باعث بنا

اقوام متحدہ نے اس مسئلے پر غور کرتے ہوئے 1948 اور 1949 میں متعدد قراردادیں پاس کیں۔ ان قراردادوں میں واضح طور پر کہا گیا کہ کشمیر کے عوام کو استصواب رائے کے ذریعے اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔ بھارت اور پاکستان دونوں نے ابتدائی طور پر ان قراردادوں کو قبول کیا لیکن بعد میں بھارت نے اس پر عمل درآمد سے انکار کر دیا

اس وقت بھی اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں جو واضح کرتی ہیں کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور اس کا حل عوامی رائے شماری کے ذریعے ہونا چاہیے۔ لیکن بھارت اس پر عمل درآمد کی بجائے فوجی طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام ہر سال ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ مناتے ہیں تاکہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے ان کی منصفانہ اور جائز جدوجہد کی مستقل حمایت کی تجدید کی جاسکے۔ حق خود ارادیت بین الاقوامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے۔ ہر سال، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک قرارداد منظور کرتی ہے جس میں لوگوں کو اپنی تقدیر خود طے کرنے کے قانونی حق پر زور دیا جاتا ہے۔ افسوس کہ کشمیری عوام گزشتہ 79سال گزرنے کے باوجود اس ناقابل تنسیخ حق کو استعمال نہیں کر سکے۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط، مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کے سب سے بڑے قابض فوجی علاقوں میں سے ایک ہے۔ کشمیری خوف اور دہشت کے ماحول میں جی رہے ہیں۔ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو طویل حراست میں رکھا جا رہا ہے اور ان کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں۔ کشمیری عوام کی حقیقی امنگوں کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ان جابرانہ اقدامات کا مقصد اختلاف رائے کو کچلنا ہے۔ بھارت، مقبوضہ کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے غیر قانونی اقدامات کر رہا ہے۔ 5 اگست, 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد، بھارت کی کوششوں کا مقصد بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی اور سیاسی ماحول کو تبدیل کرنا ہے تاکہ کشمیری اپنی ہی سرزمین میں ایک بے اختیار کمیونٹی میں تبدیل ہو جائیں- مشرق وسطیٰ کی حالیہ پیش رفت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ دیرینہ تنازعات کو مزید طول نہیں دیا جانا چاہیے۔ مقامی لوگوں کی حقیقی امنگوں کو دبا کر دیرپا امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے مفاد میں عالمی برادری کو بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ کشمیری عوام کو آزادانہ طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت دے۔ جموں و کشمیر کا تنازعہ ہماری خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہے پاکستان کشمیری عوام کے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، حق خودارادیت کے حصول تک ان کی غیر متزلزل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا بہادر کشمیری عوام کے عزم اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں جو اپنے بنیادی حقوق اور آزادیوں کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد میں لاتعداد قربانیاں دے رہے ہیں۔ یومِ یکجہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو پاکستان اور دنیا بھر میں منایا جاتا ہے اس دن کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ابھی حل طلب ہے اور کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت دلوانا ضروری ہے پاکستان کشمیری عوام کے حق میں ہمیشہ کھڑا رہا ہے اور کشمیریوں کی مکمل حمایت جاری رکھتا ہے۔ پاکستان 5 فروری کو منقسم کشمیر کے سبھی حصوں میں بسنے والے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کا دن مناتا ہے۔ یہ دن منانے کا سلسلہ گذشتہ کئی سال سے بلا تعطل جاری ہے جس میں پاکستان اور دنیا کے کئی ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں احتجاجی جلسے منعقد کرتی ہیں اور مقبوضہ كشمير کی آزادی اور کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کرتی ہےشیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت 1975ء میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا۔ اس دور کی میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ احتجاج اس قدر سخت تھا کہ پورا پاکستان بند ہو گیا اور لوگوں نے اپنے مویشیوں کو پانی تک نہیں پلایا۔ یہ دن منانے کی تجویز وزیر اعظم بھٹو کو دینے والوں میں جماعت اسلامی کی سربراہ قاضی حسین احمد کے علاوہ آذاد کشمیر کے اس وقت کے صدر و بانی صدر آزاد حکومت سردار محمد ابراہیم خان پیش پیش تھے۔ پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر منانے کا آغاز کب اور کیوں ہوا؟ یہ قصہ کافی دلچسپ ہے۔ عمومی طور پر قومی سطح پر منائے جانے والے دنوں کی کوئی تاریخی نسبت ہوتی ہے لیکن غالباً پانچ فروری ایک ایسا دن ہے جو قومی سطح پر منایا تو ضرور جاتا ہے لیکن اس دن کی کوئی خاص نسبت یا تاریخی حیثیت نہیں ہے۔ فروری 1989 میں سویت یونین کا جب افغانستان سے انخلا شروع ہوا تو دنیا بھر کی آزادی کی تحریکوں میں سرگرم نوجوانوں کو ایک عجیب و غریب احساس نے جکڑ لیا۔ وہ سوچنے لگے کہ وہ بھی افغانوں کی طرح مسلح مزاحمت کے ذریعے آزادی کی تحریک چلا سکتے ہیں اور فاتح بھی کہلا سکتے ہیں۔ کشمیری نوجوانوں کا خیال تھا کہ جس طرح اہل مغرب افغانوں کی پشت پر کھڑے ہوئے اسی طرح وہ ان کی بھی حمایت میں صف آرا ہوں گے کیونکہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازع اور حل طلب مسئلہ ہے۔ پاکستان میں اس دن کو منانے کا تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سنہ 1990 میں شروع ہونے والی عسکری تاریخ سے ہے۔ ‘یہ وقت تھا جب کشمیریوں نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے عین مطابق فیصلہ کیا کہ قابض فوج کے خلاف بندوق اٹھانی ہے۔ پاکستان میں اس وقت کے امیر جماعتِ اسلامی قاضی حسین احمد نے سنہ 1990 میں پہلی دفعہ یہ مطالبہ کیا کہ کشمیریوں سے تجدیدِ عہد کے لیے ایک دن مقرر کیا جائے۔ ‘قاضی حسین نے پہلی دفعہ یہ کال دی۔ نواز شریف اس وقت پنجاب کے وزیرِ اعلی تھے جب کہ بے نظیر بھٹو کی مرکز میں حکومت تھی اور وہ وزیرِ اعظم تھیں۔ قاضی حسین احمد کے مطالبے کو نہ صرف پنجاب، وفاق، بلکہ باقی صوبوں نے بھی اہمیت دی اور پہلی مرتبہ یہ دن 5 فروری 1990 کو منایا گیا اور اس وقت سے اب تک یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس سے پہلے بھی پاکستان گاہے بگاہے کشمیر میں بسنے والوں سے یکجہتی کا اظہار کرتا رہا ہے تاہم اس کے لیے کوئی خاص دن مخصوص نہ تھا۔’

سنہ 1975 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے طور پر بھٹو نے اعلان کیا کہ پاکستانی عوام بھرپور طریقے سے کشمیریوں کا ساتھ دے گی اور ایسا ہوا بھی۔ ‘یہ 28 فروری 1975 کا دن تھا۔ پاکستان میں اظہارِ یک جہتی ہوا اور کشمیر میں اتنا زبردست احتجاج اور ہڑتال ہوئی کہ لوگوں نے اپنے جانوروں تک کو پانی نہ پلایا۔ یہ مثالی ہڑتال تھی جو بھٹو صاحب کے کہنے پر ہوئی۔’ اس دن کو منانے کا مطالبہ کرنے والوں میں قاضی حسین احمد کے علاوہ سردار محمد ابراہیم بھی پیش پیش تھے۔ یہ مطالبہ پہلے سردار محمد ابراہیم نے بھی پیش کیا تھا جس کو قاضی صاحب نے آگے بڑھایا آئندہ آنے والے دنوں میں یہ مطالبہ کافی زور پکڑ گیا اور بعد ازاں وفاق اور صوبوں نے اس کو مان لیا۔ ویسے تو پاکستان اور کشمیر کا رشتہ پاکستان کے قیام میں آنے سے بھی پہلے کا ہے اور اب ہر سال یہ دن اس رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے منایا جاتا ہے۔جماعت اسلامی نے سنہ 1990 میں اپنے قائدین کی ایک میٹنگ بلائی۔ ‘اس نشست میں یہ مشورہ سامنے آیا کہ اس مقصد کے لیے ایک دن مقرر کیا جائے۔ کیلنڈر کو دیکھا گیا اور میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا کہ پانچ فروری کا دن مناسب رہے گا۔’ پانچ فروری کو کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آیا تھا کہ اس مناسبت سے اس تاریخ کا انتخاب کیا گیا۔شاید اس وقت انھیں اندازہ نہ تھا کہ آئندہ آنے والے برسوں میں یہ دن ایک تہوار کی شکل اختیار کر جائے گا۔ یہ بھی مسئلہ تھا کہ پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت تھی اور مرکز میں پیپلز پارٹی کی تو کیا دونوں پارٹیاں اس پر متفق بھی ہوں گی۔ چونکہ مقصد نیک تھا تمام لوگ مان گئے اور پہلی بار 5 فروری 1990 کو یہ دن منایا گیا۔ اور بعد ازاں ہر سال یہ دن منایا جاتا ہے۔ ‘تمام پارٹیاں شاید اس لیے بھی مان گئیں کہ کشمیر کے مسئلے کو پاکستان میں ہمیشہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر دیکھا جاتا ہےبھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف برسر جدوجہد کشمیری عوام سے بھرپور یکجہتی کے لئے 5 فروری کو پوری قوم ایک بار پھرکراچی سے خیبر تک یوم یکجہتی کشمیر منا رہی ہے۔ پاکستان کے عوام ہر سال یوم یکجہتی کشمیر روایتی جوش و جذبے سے مناتے ہیں اس موقع پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ملک بھر میں خصوصی تقریبات کا انعقاد اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔ پاکستان نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی ہمیشہ سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر بھرپور حمایت کی ہے، پاکستان کا یہ اصولی موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل ہونا چاہئے، پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر کے آزادی پسند عوام کی جائز جدوجہد کی طویل عرصہ سے حمایت کی ہے جو اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان میں حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود مسئلہ کشمیر پر پوری قوم کا موقف ایک ہے۔بھارت نے 1947 میں جموں وکشمیر پر ناجائز فوجی تسلط قائم کرکے کشمیری عوام کو محکوم بنایا اور وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا جائز حق خودارادیت دینے سے گریزاں ہے، ‏اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کو اپنی قراردادوں میں کشمیری عوام سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں رائے شماری کا موقع دیا جائے گا۔ بھارت طویل عرصہ گزرنے کے باوجود کشمیریوں اور عالمی برادری کی خواہشات کا احترام کرنے میں ناکام رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا واحد، دیرپا اور مستقل حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے ہی ممکن ہے پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ تنازع کشمیرکا حل اقوام متحدہ کی قرارداودں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے نکالا جائے۔کشمیری عوام بھارت کے تمام تر مظالم کے باوجود حق خود ارادیت کے حصول تک جدوجہدجاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں، مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل سے ہی برصغیر میں امن قائم ہوسکتا ہے۔بھارت نےکشمیریوں کے مطالبہ آزادی کو دبانے کیلئے انہیں ہمیشہ ظلم و جبر کا نشانہ بنایا۔ 75 برس سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد اب بھی بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل اور بے دریغ پامالیاں جاری ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کرہ ارض کا وہ واحد خطہ ہے جہاں محض چند ہزار مربع میل علاقے میں کم و بیش 9 لاکھ سے زائد بھارتی قابض فوجی تعینات ہیں۔ بھارت سرزمین کشمیر پر جبری اور ناجائز فوجی تسلط کو جاری رکھنے کےلئے اپنے تمام وسائل کو استعمال کررہا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کی کشمیر پالیسی ظلم و ستم، ہٹ دھرمی اور جھوٹ پر مبنی ہے اور یہ پالیسی بھارت کی بڑی نام نہاد جمہوریت ہونے کے دعوئوں کی یکسر نفی کرتی ہے۔ بھارت خطے میں بالادست قوت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے،کشمیری عوام اور پاکستان نے کبھی بھی بھارتی بالادستی قبول نہیں کی ہے۔ 5 اگست 2019ءکو مقبوضہ کشمیرکوخصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد بھارت کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو تیزی سے تبدیل کررہا ہے، اس مقصد کے لئے بھارت کی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی قوانین کا اطلاق بھی عمل میں لایا ہے۔بھارتی حکومت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں افراد کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا گیا، حریت کانفرنس کی پوری قیادت اور آزادی پسند کارکنوں کو فرضی مقدمات میں جیلوں، عقوبت خانوں اور گھروں میں نظربند کیا گیا ہے۔ کشمیری عوام بھارتی حکومت کے5 اگست 2019 کے غیر آئینی اقدام کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب کم کرنا اور بھارتی باشندوں کو آباد کرنے کی گھنائونی سازش کا حصہ ہے۔بھارت کے موجودہ حکمرانوں خاص طور پر مودی کی جارحانہ پالیسی اور اقدامات نے خطہ کو سنگین خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ بھارت کشمیر میں ہندوتوا کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، بھارت مقبوضہ علاقہ میں نوجوانوں کا قتل عام کررہا ہے، کشمیری عوام بھارت کی فرقہ پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے اقدامات کو مسترد کرتے ہیں۔ کشمیریوں کی حق خود ارادیت کے حصول کیلئے جدوجہد کسی کے زیر اثر یا تابع نہیں ہے بلکہ وہ بھارت کے غیر قانونی فوجی تسلط کے خلاف اپنی جدوجہد خود چلارہے ہیں، بھارت کے ان استبدادی ہتھکنڈوں اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود کشمیر کے عوام اپنی مبنی بر حق جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان اور دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانی 5 فروری کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن اس عہد کے ساتھ منا رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کی ہر قیمت پر حمایت جاری رکھی جائے گی۔واضح رہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانا تنازعہ ہے، کشمیر میں ہزاروں افراد کالے قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا کررہے ہیں، مقبوضہ علاقہ میں تحریک آزادی کے بعض کارکنوں کوموت اور عمر قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں، کشمیریوں کو انسانی حقوق کی پامالیوں اور ظلم وزیادتیوں کا نشانہ بنا کر خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیری عوام کا یہ عزم صمیم ہے کہ وہ بھارت کے گھنا ئونے اقدامات کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اپنی جدوجہد آزادی کو منزل کے حصول تک جاری رکھیں گے۔جبکہ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان اس بات کا تجدید عہد کرے گا کہ وہ کشمیریوں کی جائز اور مبنی بر صداقت جدوجہد آزادی کا ساتھ دیتا رہے گا۔مودی حکومت کے بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کو مکارانہ اقدام کے تحت ختم کئے جانے کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ ہر قسم کے رابطوں میں پیش رفت ختم کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے مقاصد میں بھی پیشرفت رکی نہیں ان پر ظلم وستم پہلے کی طرح جاری ہیں پانچ اگست 2019 کو نئی دہلی حکومت نے ایک صدارتی حکمنامہ بھارتی ایوان بالا میں پیش کیا جس میں ہندوستانی آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا چونکہ یہ پیشگی منصوبہ بندی کا حصہ تھا اس لئے اس کی منظوری میں کوئی تاخیر نہیں کی گئی۔ اس شق کے تحت کشمیر کو بھارتی وفاق میں ایک مخصوص حیثیت کو برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں اس کا ردعمل تو انا ہی تھا اور بہت زیادہ آیا لیکن پاکستان کا بھی اس پر احتجاج عالمی سطح پر دیکھنے میں آیا ،جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی فضاء بدستور موجود ہے ایک طرف تو مودی حکومت جس نے خود آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان کیا ہے ان کے نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے کو خود ہی واپس لے لیں پھر وہاں ایک مضبوط، فعال اور بااثر اپوزیشن موجود ہے جس کی موجودگی میں اس نوعیت کا کوئی بھی فیصلہ مودی کے اقتدار کا خاتمہ کر سکتا ہے تو دوسری طرف پاکستان نے جس قطعیت کے ساتھ یہ فیصلہ سنایا ہے کہ جب تک بھارتی حکومت اپنا یہ فیصلہ واپس نہیں لیتی اس سے کسی قسم کا رابطہ، مذاکرات یا تعلقات رکھنا کشمیریوں کے خون سے غداری کے مترادف ہوگا تو یا دونوں طرف سے بطاہر فیصلوں میں کوئی لچک کی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے اہم حوالہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر ہے جس پر پاکستان کی ہر حکومت نے ایک ہی موقف اختیار کیا ہے گو کہ اس حوالے سے کئی بار اس مسئلے کے حل کیلئے مختلف تجاویز، سفارشات، بیک ڈور رابطوں اور مذاکرات کی کوششیں کی گئیں اور امکانات پر بات ہوئی لیکن پاکستان کبھی اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹا۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہئے گزشتہ کچھ عرصے اور بالخصوص موجودہ حکومت مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے غیر روایتی اور غیر معمولی انداز میں پیش رفت ہوئی۔ایک طرف جہاں بھارت کو اس حوالے روایتی ہٹ دھرمی پر اہم پلیٹ فارمز پر ہمزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے وہیں دنیا کی مختلف پارلیمانز، انسانی حقوق کے اداروں، عالمی سول سوسائٹی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت اور پاکستان کے موقف میں اضافہ ہوا ہے تاہم اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اہم حکومتوں اور اس مقصد کیلئے قائم بعض اداروں کی جانب سے وہ حمایت اور بیانیہ سا منے نہیں آیا جن کی توقعات تھی بالخصوص ان اسلامی ممالک کی جابن سے جنہیں پاکستان برادر اسلامی ملک قرار دیتا ہے۔ 5 فروری دنیا بھر میں موجود پاکستانی ہر سال اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر مناتے ہیں اور ظلم و نا انصافی کا شکار کئی دہائیوں سے اپنے عزم اور منصف پر ڈٹے رہنے والے مقبوضہ کشمیر سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ صورتحال ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مختلف ہے اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے اور خود پر ہونے والے مظالم ناانصافیوں اور بھارتی جبر و استبداد کا مقابلہ بے سروسامانی کے عالم میں تو کشمیری کئی دہائیوں سے کرتے آرہے تھے لیکن مودی حکومت نے اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے ظلم و ستم کے ہتھکنڈوں سے انہیں جھکانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور ایک انتہائی مکارانہ اقدام یہ کیا کہ بھارتی آئین میں موجود آرٹیکل370 ختم کر دیا جس کے ختم ہونے سے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی جو خصوصی اہمیت اور حیثیت تھی وہ ختم ہوگئی۔ اس آرٹیکل کے تحت اب غیر کشمیر ا فراد وہاں جائیدادیں بھی خرید سکیں گے اور سرکاری نوکریاں بھی حاصل کر سکیں گے اور بااثر اور معتمول ہندو تو کشمیری خواتین سے شادی کرنے کے عزائم کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

جموں و کشمیر میں مودی حکومت نے آرٹیکل 370 نافذ کرنے کے وار سے صورتحال میں کیا تبدیلی آئی ہے اس سے مودی حکومت کے عزائم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جموں وکشمیر کے پاس دوہری شہریت ہوتی ہے۔ جموں وکشمیر کی کوئی خاتون اگر ہندوستان کی کسی ریاست کے شخص سے شادی کرے تو اس خاتون کو جموں وکشمیر کی شہریت ختم ہو جائے گی۔ اگر کوئی کشمیری خاتون پاکستان کے کسی شخص سے شادی کرے تو اس کے شوہر کو بھی جموں وکشمیر کی شہریت مل جاتی ہے۔ ۔5 اگست 2019 سے نافذ کئے اقدامات کے اثرات بھی جاری ہیں، پوری وادی محاصرے میں ہے، مواصلاتی نظام منجمد کر دیا گیا ہے،5 اگست کو کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت نے پوری ریاست پر سخت مواصلاتی پابندیاں نافذ کر دی تھیں جن کی زد میں سوشل میڈیا بھی بری طرح آیا لیکن خبر کے ذریعے خاموش کی جانیوالی آوازیں آج بھی چیخوں کی طرح شور مچارہی ہیں احتجاج کررہی ہیں۔ بھارت نے غیر ملکی صحافیوں، تجزیہ نگاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی غیر اعلانیہ پابندی عائد کر رکھی ہے البتہ اپنے ہم خیال طبقات کو وہاں لے جانے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جاتے ہیں۔ نئی دہلی میں متعین غیر ملکی سفیروں کو وادی کا دورہ کرانے کی دعوت دی گئی تو ان شخصیات کو فہرست میں شامل نہیں کیا گیا جنہوں نے و ادی میں آزادانہ گھوم پھر کرعوام کے جذبات جاننے اور حالات کا اپنی مرضی کے مقامات پر جا کر جائزہ لینے کی خواہش ظاہر کی تھی کشمیری رہنمائوں آل پارٹی حریت کانفرنس اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ارکان سے رابطہ کرنے پر زور دیا تھا لیکن انہیں بتایا کہ ایسا ممکن نہیں ہے چنانچہ سفیروں اور دیگر سفارتکاروں کی بڑی تعداد نے وادی کا دورہ کرنے سے انکار کردیا۔ پانچ فروری مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے عالمی دن کے طورپر منایا جاتا ہے۔یہ بھارت کے ظلم و استبداد اور ہٹ دھرمی کے خلاف کشمیریوں کی لازوال جہدوجہد آزادی کی حمایت میں تجدید عہد کا دن ہے۔ یہ صرف پاکستان اور آزادکشمیر میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھرمیں جوش وجذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے اور آزادی کے متوالوں مظلوم کشمیریوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ بھارت کے تسلط سے کشمیر کو آزادی دلانے میں وہ تنہا نہیں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے حالات کے تناظر میں یوم یکجہتی کشمیر کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

کشمیریوں نے اپنی قربانیوں سے مسئلہ کشمیرزندہ رکھا ہوا ہے ۔ بھارت کا کوئی ظلم و جبر ان کے جذبۂ مزاحمت کو ختم نہیں کر سکا ۔وہ جدوجہد آزادی کو جاری رکھے ہوئے ہیں پاکستانی قوم نے بھی اپنے کشمیری بھائیوں کی پشت بانی میںکبھی کمی نہیں آنے دی۔ اپنے دلی جذبات کے اظہار کیلئے ہر سال 5 فروری کو گلی کوچوں میں سڑکوں، چوراہوں پر کشمیریوں کی جہدوجہد آزادی سے یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔

کشمیر کے مسئلے پر پاکستانی قوم کا اُصولی اور تاریخی مؤقف ہے جس پر قائداعظم سے لیکرآج تک پاکستانی قوم اورمسلمانان جموں وکشمیر قائم ہیں۔ وہ اس پر کسی انحراف یا سمجھوتے کا تصور بھی نہیں کرسکتی ۔مسئلہ کشمیر ان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔ اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت سے کم کسی بات کو قبول نہیں کریں گے

February 5, Kashmir Solidarity Day in Pakistan, reminds Pakistanis of the ongoing Kashmir issue and the importance of standing up for justice and human rights. Pakistan’s Top Military and civilian leadership reiterates unwavering support for the Kashmiris’ struggle for freedom.
The President of Pakistan, Asif Ali Zardari, and Prime Minister Shehbaz Sharif reaffirmed Pakistan’s full solidarity with the people of Kashmir and their right to self-determination on the occasion of the Kashmir Solidarity Day.

In their messages on the occasion, the president and the prime minister reiterated Pakistan’s steadfast moral, diplomatic, and political support for the Kashmiri people, reaffirming their inalienable right to self-determination as enshrined in the relevant United Nations Security Council resolutions.

In his message, the president said that Pakistanis across the world are expressing their unwavering support for the Kashmiri people.

He described the situation in Indian Illegally Occupied Jammu and Kashmir (IIOJK) as a matter of grave concern for the global conscience, stating that since August 5, 2019, India has intensified efforts to consolidate its occupation and accelerate human rights violations in the region.

The president also highlighted grave human rights violations by Indian occupation forces, citing international reports that point to a rise in arbitrary detentions, collective punishment, and punitive house demolitions.

He added that the suppression of digital freedoms, including the blocking of thousands of social media accounts, reflected attempts to conceal the realities on the ground.

Referring to the recent profiling of mosques and mosque management committees in IIOJK, President Zardari termed these actions as deliberate intimidation aimed at restricting the religious freedom of the Muslim majority population.

He said such measures were part of a broader pattern of religious persecution and stressed that Kashmiris have an inalienable right to practice their religion without fear or discrimination.

He urged the international community to hold India accountable and compel it to halt human rights violations.

Reiterating Pakistan’s stance, the president said the country stands shoulder to shoulder with the Kashmiri people.

President Zardari also recalled that the formal observance of Kashmir Solidarity Day was initiated in 1989 by Benazir Bhutto.

He paid tribute to the courage, resilience, and steadfastness of the Kashmiri people, who have been resisting Indian occupation for nearly eight decades.

Meanwhile, Prime Minister Shehbaz Sharif said that Kashmir Solidarity Day is observed to reaffirm unwavering support for the Kashmiris’ right to self-determination.

In a message, he said that the Kashmir dispute is one of the long-standing unresolved issues on the United Nations agenda, and that due to India’s intransigence, the Kashmiri people have been deprived of their fundamental rights for decades.

The prime minister said that multiple UN Security Council resolutions recognise Jammu and Kashmir as a disputed territory.

He added that IIOJK remains a hub of repression and grave human rights violations, and that the actions taken by India on August 5, 2019, were aimed at strengthening its illegal control over the region in violation of UN resolutions and the Geneva Conventions.

Prime Minister Shehbaz Sharif reaffirmed that Pakistan will continue to provide full moral, diplomatic, and political support to the Kashmiri people in their just struggle.


Meanwhile on the solemn occasion of Kashmir Solidarity Day, Pakistan’s Top Military leadership reiterates unwavering support for the Kashmiris’ struggle for freedom,Field Marshal Syed Asim Munir, NI (M), HJ, COAS & CDF; Admiral Naveed Ashraf, NI, NI (M), T Bt, Chief of the Naval Staff; and Air Chief Marshal Zaheer Ahmed Baber Sidhu, NI (M), HJ, Chief of Air Staff, on behalf of the Armed Forces of Pakistan, reaffirm their unwavering support for the resilient people of Indian Illegally Occupied Jammu and Kashmir (IIOJK) in their epic struggle for self-determination.

The Pakistan Armed Forces strongly condemned grave violations of human rights in IIOJK, including extrajudicial killings, enforced disappearances, arbitrary detentions, and attempts to alter the demographic and political landscape of the region, with blatant disregard for international law, according to a statement issued by the ISPR.

The armed forces reiterated that a just and peaceful resolution of the Jammu and Kashmir dispute, in accordance with relevant United Nations Security Council resolutions and the aspirations of the Kashmiri people, remains essential for lasting peace and stability in South Asia.

The international community must take concrete and meaningful action to alleviate the suffering of the Kashmiri people, the statement added.

The Armed Forces of Pakistan remain steadfast in their duty to safeguard Pakistan’s sovereignty and territorial integrity, and unwavering in their solidarity with their Kashmiri brothers and sisters in their rightful quest for freedom and dignity. The Kashmir issue remains the biggest obstacle to peace in the subcontinent, and until the United Nations implements its resolutions, peace cannot be established in the region.

The Armed Forces of Pakistan remain steadfast in their duty to safeguard Pakistan’s sovereignty and territorial integrity, and unwavering in their solidarity with their Kashmiri  brothers and sisters in their rightful quest for freedom and dignity.
 
Long live Pakistan! Long live Kashmir!

According to research by senior analyst Asghar Ali Mubarak, the Kashmir issue began immediately after the partition of the subcontinent when the Maharaja of Jammu and Kashmir acceded to India in 1947 under pressure from circumstances. Pakistan called it unfair because the state was predominantly Muslim and should have joined Pakistan. This dispute led to war between the two countries.
The United Nations considered the issue and passed several resolutions in 1948 and 1949. These resolutions clearly stated that the people of Kashmir should be given the right to decide their fate through a plebiscite. Both India and Pakistan initially accepted these resolutions, but later India refused to implement them.
Even now, there are UN resolutions that make it clear that Kashmir is a disputed territory and its solution should be through a plebiscite. But instead of implementing them, India is trying to suppress the struggle of the Kashmiris through military force. The government and people of Pakistan observe “Kashmir Solidarity Day” every year to renew their continuous support for the just and legitimate struggle of the Kashmiri people for their right to self-determination. The right to self-determination is a fundamental principle of international law. Every year, the UN General Assembly passes a resolution emphasizing the legal right of the people to determine their own destiny. Unfortunately, despite the passage of the last 79 years, the Kashmiri people have not been able to exercise this inalienable right. Illegally occupied by India, the occupied Jammu and Kashmir is one of the largest occupied military territories in the world. Kashmiris live in an atmosphere of fear and terror. Political activists and human rights defenders are being held in prolonged detention, and their properties are being confiscated. Political parties that represent the genuine aspirations of the Kashmiri people have been banned. These repressive measures are designed to suppress dissent. India is taking illegal steps to consolidate its illegal occupation of occupied Kashmir.Following the illegal and unilateral actions of August 5, 2019, India’s efforts are aimed at changing the demographic and political environment of Indian Occupied Jammu and Kashmir so that the Kashmiris are transformed into a powerless community in their own land. Recent developments in the Middle East demonstrate that long-standing conflicts should not be prolonged. Lasting peace cannot be achieved by suppressing the genuine aspirations of the local people. In the interest of sustainable peace in South Asia, the international community must urge India to allow the Kashmiri people to freely decide their future. The Jammu and Kashmir dispute is an important pillar of our foreign policy. Pakistan will continue to extend unwavering moral, diplomatic, and political support to the Kashmiri people until they achieve their right to self-determination, in accordance with the relevant UN Security Council resolutions. We salute the determination and courage of the brave Kashmiri people who are making countless sacrifices in their struggle to achieve their fundamental rights and freedoms. Kashmir Solidarity Day is observed annually on February 5 in Pakistan and around the world. The purpose of this day is to convince the international community that the Kashmir issue is still unresolved, and it is necessary to give the Kashmiri people their right to self-determination. Pakistan has always stood by the Kashmiri people and continues to fully support the Kashmiris. Pakistan celebrates February 5 as a day of solidarity with the Kashmiris living in all parts of divided Kashmir. The celebration of this day has been going on continuously for the past several years, in which political and religious parties of Pakistanis living in Pakistan and many countries of the world hold protest rallies and express solidarity with the Kashmiri people and the freedom of occupied Kashmir. At the time of the agreement between Sheikh Abdullah and Indira Gandhi, in 1975, Prime Minister Zulfikar Ali Bhutto announced that February 28 would be observed as a day of solidarity with the Kashmiris. Media reports of that time say that the protest was so severe that the whole of Pakistan was shut down, and people did not even water their cattle. Among those who suggested celebrating this day to Prime Minister Bhutto were Jamaat-e-Islami chief Qazi Hussain Ahmed and the then President of Azad Kashmir and founder of the Azad Government, Sardar Muhammad Ibrahim Khan. When and why did the celebration of Kashmir Solidarity Day on February 5 begin? This story is quite interesting. Generally, days celebrated at the national level have some historical connection, but February 5 is probably a day that is celebrated at the national level, but there is no special connection or historical status to this day. When the Soviet Union began to withdraw from Afghanistan in February 1989, a strange feeling gripped the youth active in freedom movements around the world. They started thinking that they too could launch a freedom movement through armed resistance like the Afghans and be called winners. Kashmiri youth believed that just as the West stood behind the Afghans, they would also stand in their support because Kashmir is a controversial and unresolved issue according to UN resolutions. The celebration of this day in Pakistan is related to the military history that began in 1990 in Indian-administered Kashmir. ‘This was the time when Kashmiris decided to take up arms against the occupying forces in accordance with the UN Charter. In Pakistan, the then Ameer of Jamaat-e-Islami, Qazi Hussain Ahmed, first demanded in 1990 that a day be set aside for the Kashmiris to renew their commitment. ‘Qazi Hussain made this call for the first time. Nawaz Sharif was the Chief Minister of Punjab at that time, while Benazir Bhutto was in power at the center, and she was the Prime Minister. Qazi Hussain Ahmed’s demand was given importance not only by Punjab, the federation, but also by the other provinces, and for the first time, this day was celebrated on February 5, 1990, and this day has been celebrated since then. Even before this, Pakistan has been expressing solidarity with the people of Kashmir from time to time, but there was no special day dedicated to it.’
In 1975, during the rule of Zulfikar Ali Bhutto, at the time of the agreement between Sheikh Abdullah and Indira Gandhi, as an expression of solidarity with the Kashmiris, Bhutto announced that the people of Pakistan would fully support the Kashmiris, and this happened. ‘It was February 28, 1975. There was an expression of solidarity in Pakistan, and there was such a strong protest and strike in Kashmir that people did not even water their animals. This was an exemplary strike that happened at the behest of Bhutto Sahib.’ Apart from Qazi Hussain Ahmed, Sardar Muhammad Ibrahim was also among those who demanded the celebration of this day. This demand was first made by Sardar Muhammad Ibrahim, which was taken forward by Qazi Sahib. In the coming days, this demand gained a lot of strength, and later the federation and the provinces accepted it.By the way, the relationship between Pakistan and Kashmir dates back to before the formation of Pakistan, and now this day is celebrated every year to further strengthen this relationship. Jamaat-e-Islami called a meeting of its leaders in 1990. ‘In this meeting, it was suggested that a day should be fixed for this purpose. The calendar was looked at, and the meeting decided that February 5 would be a suitable day.’ No such incident had occurred on February 5, so this date was chosen accordingly. Perhaps they did not realize at that time that this day would take the form of a festival in the coming years. Another problem was that the Muslim League was in power in Punjab, and the People’s Party was in power at the Centre, so would both parties agree on this? Since the purpose was noble, everyone agreed, and this day was celebrated for the first time on February 5, 1990. And since then, this day has been celebrated every year. “All parties agreed, perhaps because the Kashmir issue has always been seen above political affiliations in Pakistan. In order to express full solidarity with the Kashmiri people in their struggle against India’s illegal occupation, the entire nation is once again celebrating Kashmir Solidarity Day from Karachi to Khyber on February 5. The people of Pakistan celebrate Kashmir Solidarity Day every year with traditional enthusiasm. On this occasion, special events and rallies will be held across the country to express solidarity with the Kashmiris. Pakistan has always strongly supported the right of Kashmiris to self-determination at political, moral, and diplomatic levels. It is Pakistan’s principled position that the Kashmir issue should be resolved in accordance with the wishes of the Kashmiri people and under the United Nations resolutions. Pakistan has long supported the legitimate struggle of the freedom-loving people of Jammu and Kashmir, which is an expression of the fact that, despite the change of governments in Pakistan, the position of the entire nation on the Kashmir issue is one. India subjugated the Kashmiri people by establishing illegal military rule over Jammu and Kashmir in 1947, and is reluctant to grant the Kashmiris their legitimate right to self-determination in accordance with the United Nations resolutions. The United Nations Security Council had promised the Kashmiri people in its resolutions on August 13, 1948, and January 5, 1949, that they would be given the opportunity to hold a plebiscite. Despite the passage of a long time, India has failed to respect the wishes of the Kashmiris and the international community. The only lasting and permanent solution to the Kashmir issue is possible only through a plebiscite in accordance with the UN resolutions. Pakistan has always maintained that the Kashmir dispute should be resolved through a plebiscite in accordance with the UN resolutions. Despite all the atrocities of India, the Kashmiri people are determined to continue their struggle until they achieve their right to self-determination. Peace can be established in the subcontinent only if the Kashmir issue is resolved in accordance with the aspirations of the Kashmiri people. India has always subjected the Kashmiris to oppression and coercion to suppress their demand for freedom. After more than 75 years, India is still continuously and relentlessly violating human rights in occupied Kashmir. Occupied Kashmir is the only region on the planet where more than 900,000 Indian occupying troops are deployed in an area of ​​just a few thousand square miles. India is using all its resources to continue its forced and illegal military rule over the land of Kashmir. The Kashmir policy of the Indian rulers is based on oppression, stubbornness, and lies, and this policy completely negates India’s claims of being a great so-called democracy. India is dreaming of becoming the hegemonic power in the region, but the Kashmiri people and Pakistan have never accepted Indian hegemony. After the abrogation of Articles 370 and 35A of the Indian Constitution, which gave special status to occupied Kashmir, on August 5, 2019, India is rapidly changing the proportion of Muslims in Kashmir. For this purpose, the Indian government has also implemented Indian laws in the occupied territory. After the illegal move of the Indian government on August 5, 2019, thousands of people were arrested and put in jails in occupied Kashmir. The entire leadership of the Hurriyat Conference and freedom-loving activists have been put in jails, detention centers, and house arrest on fake cases. Kashmiri people: The unconstitutional move of the Indian government on August 5, 2019, is aimed at reducing the Muslim population ratio in occupied Kashmir and is part of a heinous conspiracy to settle Indian residents. The aggressive policies and actions of the current rulers of India, especially Modi, have exposed the region to serious threats.India is pursuing a policy of Hindutva in Kashmir. India is massacring youth in the occupied territory. The Kashmiri people reject the actions of India’s sectarian Bharatiya Janata Party government. The struggle of Kashmiris for their right to self-determination is not under anyone’s influence or subservience, but they are waging their own struggle against India’s illegal military rule. Despite these tyrannical tactics and state terrorism of India, the people of Kashmir are continuing their legitimate struggle, while Pakistanis living in Pakistan and around the world are celebrating February 5 as a day of solidarity with the Kashmiris with a pledge that in accordance with the resolutions passed by the United Nations Security Council, the legitimate struggle of the Kashmiri people will continue at all costs. It should be noted that the Kashmir issue is the oldest dispute on the agenda of the United Nations Security Council. Thousands of people in Kashmir are facing cases under black laws. Some freedom movement activists in the occupied territory have been sentenced to death and life imprisonment. Kashmiris cannot be intimidated by being subjected to human rights violations and atrocities. The Kashmiri people are determined that they will never allow India’s heinous actions to succeed and will continue their freedom struggle in accordance with the UN resolutions until they achieve their goal. Meanwhile, on the occasion of Kashmir Solidarity Day, Pakistan will renew its commitment that it will continue to support the legitimate and truthful freedom struggle of the Kashmiris. After the Modi government’s cunning move to abrogate Article 370 in the Indian Constitution, Pakistan’s decision to end all kinds of contacts with India has not stopped the progress in the goals of the Kashmiris in occupied Kashmir. The oppression against them continues as before. On August 5, 2019, the New Delhi government presented a presidential order in the Indian upper house in which it announced the abrogation of Article 370 of the Indian Constitution. Since this was part of pre-planning, there was no delay in its approval. Under this article, Kashmir was allowed to maintain a special status in the Indian federation. In occupied Kashmir, the reaction was egotistical and overwhelming, but Pakistan’s protest against it was also seen at the global level, after which an atmosphere of tension continues to exist between the two countries. On the one hand, from the perspective of the Modi government, which itself has announced the abolition of Article 370 of the Constitution, how is it possible for it to withdraw its decision on its own? Then there is a strong, active, and influential opposition in whose presence any decision of this nature can end Modi’s rule. On the other hand, with the certainty with which Pakistan has declared that until the Indian government withdraws its decision, any kind of contact, negotiations, or relations with it will be tantamount to treason against the blood of Kashmiris, there is no flexibility in the decisions taken by both sides. The most important reference point of Pakistan’s foreign policy is Indian-occupied Kashmir, on which every government of Pakistan has taken the same position. Although various proposals, recommendations, backdoor contacts, and negotiations have been made many times to resolve this issue and possibilities have been discussed, Pakistan has never backed down an inch from its position. There should be no hesitation in acknowledging this fact. In the past few years, and especially under the current government, there has been progress in an unconventional and extraordinary way to highlight the issue of occupied Kashmir at the international level. On the one hand, while India has faced opposition on important platforms due to its traditional stubbornness in this regard, on the other hand, support for Kashmiris and Pakistan’s position from various parliaments of the world, human rights institutions, international civil society, and international media has increased.However, the other side of this is that the support and narrative from the major governments and some institutions established for this purpose have not been as expected, especially from the Islamic countries that Pakistan considers a brotherly Islamic country. Pakistanis around the world celebrate February 5 every year as an expression of solidarity with their Kashmiri brothers and reiterate their determination and commitment to the occupied Kashmir, which has been suffering from oppression and injustice for decades. But this time the situation is much different than in the past. Kashmiris have been raising their voices for their rights and fighting against the atrocities, injustices, and Indian oppression and tyranny for decades. But the Modi government, realizing this situation, changed its strategy and took a very cunning step, abolishing Article 370 in the Indian Constitution, with the abolition of which the special importance and status of occupied Kashmir in the Indian Constitution was lost. Under this article, now non-Kashmiris will be able to buy properties there and get government jobs, and influential and wealthy Hindus even express their intentions to marry Kashmiri women.

The Modi government’s intentions can be gauged from the change in the situation in Jammu and Kashmir after the implementation of Article 370. Jammu and Kashmir has dual citizenship. If a woman from Jammu and Kashmir marries a person from any state of India, her citizenship of Jammu and Kashmir will be lost. If a Kashmiri woman marries a person from Pakistan, her husband also gets the citizenship of Jammu and Kashmir. The effects of the measures implemented since August 5, 2019 are also ongoing, the entire valley is under siege, the communication system has been frozen, along with the abrogation of the constitutional status of Kashmir on August 5, India had imposed strict communication restrictions on the entire state, which also hit social media badly, but the voices that were silenced through the news are still making noise like screams and protesting. India has imposed an undeclared ban on foreign journalists, analysts, and human rights organizations from visiting occupied Kashmir; however, special measures are taken to take its like-minded communities there. When foreign ambassadors stationed in New Delhi were invited to visit the valley, those personalities who had expressed their desire to freely roam the valley and know the sentiments of the people and assess the situation at places of their choice were not included in the list. Kashmiri leaders had urged them to contact the members of the All-Party Hurriyat Conference and human rights organizations, but they were told that this was not possible. Therefore, a large number of ambassadors and other diplomats refused to visit the valley. February 5 is observed as the International Day of Solidarity with the oppressed people of occupied Kashmir. It is a day of renewal of the commitment to support the eternal struggle of Kashmiris against Indian oppression, tyranny, and stubbornness. It is celebrated with enthusiasm not only in Pakistan and Azad Kashmir but all over the world, and the message is given to the oppressed Kashmiris who love freedom that they are not alone in liberating Kashmir from Indian rule; we are with them. In the context of the situation in occupied Kashmir, the importance of Kashmir Solidarity Day has increased.
Kashmiris have kept the Kashmir issue alive with their sacrifices. No oppression or oppression by India could end their spirit of resistance. They are continuing their struggle for freedom. The Pakistani nation has also never waned in its support for its Kashmiri brothers. To express their heartfelt feelings, every year on February 5, the Kashmiris express their solidarity with the struggle for freedom on the streets, on the streets, on the crossroads. The Pakistani nation has a principled and historical stance on the Kashmir issue, on which the Pakistani nation and the Muslims of Jammu and Kashmir have been standing since the Quaid-e-Azam till today. They cannot even imagine any deviation or compromise on it. The Kashmir issue is a matter of life and death for them. According to the resolutions passed by the United Nations, they will not accept anything less than the right to self-determination._*یوم یکجہتی کشمیر; پاکستانی اعلیٰ عسکری اور سویلین قیادت کاکشمیریوں کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ*_ …..

(اصغر علی مبارک ).. ………پاکستان کی اعلیٰ عسکری اور سویلین قیادت نےکشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیاہے۔پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور ان کے حق خودارادیت کا اعادہ کیاہے۔

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغامات میں صدر اور وزیراعظم نے کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی ثابت قدم اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت کا اعادہ کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی تصدیق کی۔اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستانی کشمیری عوام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔انہوں نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو عالمی ضمیر کے لیے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 5 اگست 2019 سے بھارت نے اپنے قبضے کو مستحکم کرنے اور خطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو تیز کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔صدر پاکستان نے بین الاقوامی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی قابض افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھی روشنی ڈالی جو کہ من مانی حراستوں، اجتماعی سزاؤں اور تعزیری گھروں کی مسماری میں اضافے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل آزادیوں کو دبانا، بشمول ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کرنا، زمینی حقائق کو چھپانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں مساجد اور مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کی حالیہ پروفائلنگ کا حوالہ دیتے ہوئے، صدر زرداری نے ان کارروائیوں کو دانستہ دھمکی قرار دیا جس کا مقصد مسلم اکثریتی آبادی کی مذہبی آزادی کو محدود کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات مذہبی ظلم و ستم کے وسیع نمونے کا حصہ ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ کشمیریوں کو بلا خوف و تفریق اپنے مذہب پر عمل کرنے کا ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو جوابدہ بنائے اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے پر مجبور کرے۔پاکستان کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ملک کشمیریوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہےصدر زرداری نے یہ بھی یاد کروایا کہ یوم یکجہتی کشمیر منانے کا باقاعدہ آغاز 1989 میں بے نظیر بھٹو نے کیا تھا۔انہوں نے کشمیری عوام کی ہمت، لچک اور ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کیا، جو تقریباً آٹھ دہائیوں سے بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔

دریں اثناء وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر کشمیریوں کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کے اعادہ کے لیے منایا جاتا ہے۔ایک پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ تنازعہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر دیرینہ حل طلب مسائل میں سے ایک ہے اور بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرتی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، اور بھارت کی طرف سے 5 اگست 2019 کو کیے گئے اقدامات کا مقصد اقوام متحدہ کی قراردادوں اور جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خطے پر اپنے غیر قانونی کنٹرول کو مضبوط کرنا تھا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی بھرپور اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔

دریں اثنا، یوم یکجہتی کشمیر کے پروقار موقع پر، پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا،

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز؛ ایڈمرل نوید اشرف، نشانِ امتیاز، چیف آف نیول اسٹاف؛ اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، نشانِ امتیاز (ملٹری)، چیف آف ایئر اسٹاف نے افواجِ پاکستان کی جانب سے بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم اور بہادر عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، بیان میں کہا گیا ہے کہ افواجِ پاکستان کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گی۔ بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، جن میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، بلاجواز گرفتاریاں اور علاقے کے آبادیاتی و سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی منظم کوششیں شامل ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ اور پُرامن حل، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق، جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ افواجِ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے ٹھوس اور بامعنی اقدامات کرے۔آئی ایس پی آر کے مطابق افواجِ پاکستان ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں اور کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی آزادی اور وقار کی جدوجہد میں ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہیں۔پاکستان زندہ باد! کشمیر زندہ باد!مسئلہ کشمیر آج بھی برصغیر کے امن کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور جب تک اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کرواتا، خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ .پاکستان میں 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر, پاکستانیوں کو کشمیر کے جاری مسئلے اور انصاف اور انسانی حقوق کے لیے کھڑے ہونے کی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد شروع ہوا جب 1947 میں جموں و کشمیر کے مہاراجا نے حالات کے دباؤ میں بھارت سے الحاق کر لیا۔ پاکستان نے اس کو غیر منصفانہ قرار دیا کیونکہ ریاست کی اکثریت مسلمان تھی اور اُسے پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہیے تھا۔ یہ تنازع دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا باعث بنا

اقوام متحدہ نے اس مسئلے پر غور کرتے ہوئے 1948 اور 1949 میں متعدد قراردادیں پاس کیں۔ ان قراردادوں میں واضح طور پر کہا گیا کہ کشمیر کے عوام کو استصواب رائے کے ذریعے اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔ بھارت اور پاکستان دونوں نے ابتدائی طور پر ان قراردادوں کو قبول کیا لیکن بعد میں بھارت نے اس پر عمل درآمد سے انکار کر دیا

اس وقت بھی اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں جو واضح کرتی ہیں کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور اس کا حل عوامی رائے شماری کے ذریعے ہونا چاہیے۔ لیکن بھارت اس پر عمل درآمد کی بجائے فوجی طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام ہر سال ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ مناتے ہیں تاکہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے ان کی منصفانہ اور جائز جدوجہد کی مستقل حمایت کی تجدید کی جاسکے۔ حق خود ارادیت بین الاقوامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے۔ ہر سال، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک قرارداد منظور کرتی ہے جس میں لوگوں کو اپنی تقدیر خود طے کرنے کے قانونی حق پر زور دیا جاتا ہے۔ افسوس کہ کشمیری عوام گزشتہ 79سال گزرنے کے باوجود اس ناقابل تنسیخ حق کو استعمال نہیں کر سکے۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط، مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کے سب سے بڑے قابض فوجی علاقوں میں سے ایک ہے۔ کشمیری خوف اور دہشت کے ماحول میں جی رہے ہیں۔ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو طویل حراست میں رکھا جا رہا ہے اور ان کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں۔ کشمیری عوام کی حقیقی امنگوں کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ان جابرانہ اقدامات کا مقصد اختلاف رائے کو کچلنا ہے۔ بھارت، مقبوضہ کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے غیر قانونی اقدامات کر رہا ہے۔ 5 اگست, 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد، بھارت کی کوششوں کا مقصد بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی اور سیاسی ماحول کو تبدیل کرنا ہے تاکہ کشمیری اپنی ہی سرزمین میں ایک بے اختیار کمیونٹی میں تبدیل ہو جائیں- مشرق وسطیٰ کی حالیہ پیش رفت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ دیرینہ تنازعات کو مزید طول نہیں دیا جانا چاہیے۔ مقامی لوگوں کی حقیقی امنگوں کو دبا کر دیرپا امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے مفاد میں عالمی برادری کو بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ کشمیری عوام کو آزادانہ طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت دے۔ جموں و کشمیر کا تنازعہ ہماری خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہے پاکستان کشمیری عوام کے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، حق خودارادیت کے حصول تک ان کی غیر متزلزل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا بہادر کشمیری عوام کے عزم اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں جو اپنے بنیادی حقوق اور آزادیوں کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد میں لاتعداد قربانیاں دے رہے ہیں۔ یومِ یکجہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو پاکستان اور دنیا بھر میں منایا جاتا ہے اس دن کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ابھی حل طلب ہے اور کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت دلوانا ضروری ہے پاکستان کشمیری عوام کے حق میں ہمیشہ کھڑا رہا ہے اور کشمیریوں کی مکمل حمایت جاری رکھتا ہے۔ پاکستان 5 فروری کو منقسم کشمیر کے سبھی حصوں میں بسنے والے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کا دن مناتا ہے۔ یہ دن منانے کا سلسلہ گذشتہ کئی سال سے بلا تعطل جاری ہے جس میں پاکستان اور دنیا کے کئی ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں احتجاجی جلسے منعقد کرتی ہیں اور مقبوضہ كشمير کی آزادی اور کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کرتی ہےشیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت 1975ء میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا۔ اس دور کی میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ احتجاج اس قدر سخت تھا کہ پورا پاکستان بند ہو گیا اور لوگوں نے اپنے مویشیوں کو پانی تک نہیں پلایا۔ یہ دن منانے کی تجویز وزیر اعظم بھٹو کو دینے والوں میں جماعت اسلامی کی سربراہ قاضی حسین احمد کے علاوہ آذاد کشمیر کے اس وقت کے صدر و بانی صدر آزاد حکومت سردار محمد ابراہیم خان پیش پیش تھے۔ پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر منانے کا آغاز کب اور کیوں ہوا؟ یہ قصہ کافی دلچسپ ہے۔ عمومی طور پر قومی سطح پر منائے جانے والے دنوں کی کوئی تاریخی نسبت ہوتی ہے لیکن غالباً پانچ فروری ایک ایسا دن ہے جو قومی سطح پر منایا تو ضرور جاتا ہے لیکن اس دن کی کوئی خاص نسبت یا تاریخی حیثیت نہیں ہے۔ فروری 1989 میں سویت یونین کا جب افغانستان سے انخلا شروع ہوا تو دنیا بھر کی آزادی کی تحریکوں میں سرگرم نوجوانوں کو ایک عجیب و غریب احساس نے جکڑ لیا۔ وہ سوچنے لگے کہ وہ بھی افغانوں کی طرح مسلح مزاحمت کے ذریعے آزادی کی تحریک چلا سکتے ہیں اور فاتح بھی کہلا سکتے ہیں۔ کشمیری نوجوانوں کا خیال تھا کہ جس طرح اہل مغرب افغانوں کی پشت پر کھڑے ہوئے اسی طرح وہ ان کی بھی حمایت میں صف آرا ہوں گے کیونکہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازع اور حل طلب مسئلہ ہے۔ پاکستان میں اس دن کو منانے کا تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سنہ 1990 میں شروع ہونے والی عسکری تاریخ سے ہے۔ ‘یہ وقت تھا جب کشمیریوں نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے عین مطابق فیصلہ کیا کہ قابض فوج کے خلاف بندوق اٹھانی ہے۔ پاکستان میں اس وقت کے امیر جماعتِ اسلامی قاضی حسین احمد نے سنہ 1990 میں پہلی دفعہ یہ مطالبہ کیا کہ کشمیریوں سے تجدیدِ عہد کے لیے ایک دن مقرر کیا جائے۔ ‘قاضی حسین نے پہلی دفعہ یہ کال دی۔ نواز شریف اس وقت پنجاب کے وزیرِ اعلی تھے جب کہ بے نظیر بھٹو کی مرکز میں حکومت تھی اور وہ وزیرِ اعظم تھیں۔ قاضی حسین احمد کے مطالبے کو نہ صرف پنجاب، وفاق، بلکہ باقی صوبوں نے بھی اہمیت دی اور پہلی مرتبہ یہ دن 5 فروری 1990 کو منایا گیا اور اس وقت سے اب تک یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس سے پہلے بھی پاکستان گاہے بگاہے کشمیر میں بسنے والوں سے یکجہتی کا اظہار کرتا رہا ہے تاہم اس کے لیے کوئی خاص دن مخصوص نہ تھا۔’

سنہ 1975 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے طور پر بھٹو نے اعلان کیا کہ پاکستانی عوام بھرپور طریقے سے کشمیریوں کا ساتھ دے گی اور ایسا ہوا بھی۔ ‘یہ 28 فروری 1975 کا دن تھا۔ پاکستان میں اظہارِ یک جہتی ہوا اور کشمیر میں اتنا زبردست احتجاج اور ہڑتال ہوئی کہ لوگوں نے اپنے جانوروں تک کو پانی نہ پلایا۔ یہ مثالی ہڑتال تھی جو بھٹو صاحب کے کہنے پر ہوئی۔’ اس دن کو منانے کا مطالبہ کرنے والوں میں قاضی حسین احمد کے علاوہ سردار محمد ابراہیم بھی پیش پیش تھے۔ یہ مطالبہ پہلے سردار محمد ابراہیم نے بھی پیش کیا تھا جس کو قاضی صاحب نے آگے بڑھایا آئندہ آنے والے دنوں میں یہ مطالبہ کافی زور پکڑ گیا اور بعد ازاں وفاق اور صوبوں نے اس کو مان لیا۔ ویسے تو پاکستان اور کشمیر کا رشتہ پاکستان کے قیام میں آنے سے بھی پہلے کا ہے اور اب ہر سال یہ دن اس رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے منایا جاتا ہے۔جماعت اسلامی نے سنہ 1990 میں اپنے قائدین کی ایک میٹنگ بلائی۔ ‘اس نشست میں یہ مشورہ سامنے آیا کہ اس مقصد کے لیے ایک دن مقرر کیا جائے۔ کیلنڈر کو دیکھا گیا اور میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا کہ پانچ فروری کا دن مناسب رہے گا۔’ پانچ فروری کو کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آیا تھا کہ اس مناسبت سے اس تاریخ کا انتخاب کیا گیا۔شاید اس وقت انھیں اندازہ نہ تھا کہ آئندہ آنے والے برسوں میں یہ دن ایک تہوار کی شکل اختیار کر جائے گا۔ یہ بھی مسئلہ تھا کہ پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت تھی اور مرکز میں پیپلز پارٹی کی تو کیا دونوں پارٹیاں اس پر متفق بھی ہوں گی۔ چونکہ مقصد نیک تھا تمام لوگ مان گئے اور پہلی بار 5 فروری 1990 کو یہ دن منایا گیا۔ اور بعد ازاں ہر سال یہ دن منایا جاتا ہے۔ ‘تمام پارٹیاں شاید اس لیے بھی مان گئیں کہ کشمیر کے مسئلے کو پاکستان میں ہمیشہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر دیکھا جاتا ہےبھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف برسر جدوجہد کشمیری عوام سے بھرپور یکجہتی کے لئے 5 فروری کو پوری قوم ایک بار پھرکراچی سے خیبر تک یوم یکجہتی کشمیر منا رہی ہے۔ پاکستان کے عوام ہر سال یوم یکجہتی کشمیر روایتی جوش و جذبے سے مناتے ہیں اس موقع پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ملک بھر میں خصوصی تقریبات کا انعقاد اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔ پاکستان نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی ہمیشہ سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر بھرپور حمایت کی ہے، پاکستان کا یہ اصولی موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل ہونا چاہئے، پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر کے آزادی پسند عوام کی جائز جدوجہد کی طویل عرصہ سے حمایت کی ہے جو اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان میں حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود مسئلہ کشمیر پر پوری قوم کا موقف ایک ہے۔بھارت نے 1947 میں جموں وکشمیر پر ناجائز فوجی تسلط قائم کرکے کشمیری عوام کو محکوم بنایا اور وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا جائز حق خودارادیت دینے سے گریزاں ہے، ‏اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کو اپنی قراردادوں میں کشمیری عوام سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں رائے شماری کا موقع دیا جائے گا۔ بھارت طویل عرصہ گزرنے کے باوجود کشمیریوں اور عالمی برادری کی خواہشات کا احترام کرنے میں ناکام رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا واحد، دیرپا اور مستقل حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے ہی ممکن ہے پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ تنازع کشمیرکا حل اقوام متحدہ کی قرارداودں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے نکالا جائے۔کشمیری عوام بھارت کے تمام تر مظالم کے باوجود حق خود ارادیت کے حصول تک جدوجہدجاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں، مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل سے ہی برصغیر میں امن قائم ہوسکتا ہے۔بھارت نےکشمیریوں کے مطالبہ آزادی کو دبانے کیلئے انہیں ہمیشہ ظلم و جبر کا نشانہ بنایا۔ 75 برس سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد اب بھی بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل اور بے دریغ پامالیاں جاری ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کرہ ارض کا وہ واحد خطہ ہے جہاں محض چند ہزار مربع میل علاقے میں کم و بیش 9 لاکھ سے زائد بھارتی قابض فوجی تعینات ہیں۔ بھارت سرزمین کشمیر پر جبری اور ناجائز فوجی تسلط کو جاری رکھنے کےلئے اپنے تمام وسائل کو استعمال کررہا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کی کشمیر پالیسی ظلم و ستم، ہٹ دھرمی اور جھوٹ پر مبنی ہے اور یہ پالیسی بھارت کی بڑی نام نہاد جمہوریت ہونے کے دعوئوں کی یکسر نفی کرتی ہے۔ بھارت خطے میں بالادست قوت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے،کشمیری عوام اور پاکستان نے کبھی بھی بھارتی بالادستی قبول نہیں کی ہے۔ 5 اگست 2019ءکو مقبوضہ کشمیرکوخصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد بھارت کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو تیزی سے تبدیل کررہا ہے، اس مقصد کے لئے بھارت کی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی قوانین کا اطلاق بھی عمل میں لایا ہے۔بھارتی حکومت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں افراد کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا گیا، حریت کانفرنس کی پوری قیادت اور آزادی پسند کارکنوں کو فرضی مقدمات میں جیلوں، عقوبت خانوں اور گھروں میں نظربند کیا گیا ہے۔ کشمیری عوام بھارتی حکومت کے5 اگست 2019 کے غیر آئینی اقدام کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب کم کرنا اور بھارتی باشندوں کو آباد کرنے کی گھنائونی سازش کا حصہ ہے۔بھارت کے موجودہ حکمرانوں خاص طور پر مودی کی جارحانہ پالیسی اور اقدامات نے خطہ کو سنگین خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ بھارت کشمیر میں ہندوتوا کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، بھارت مقبوضہ علاقہ میں نوجوانوں کا قتل عام کررہا ہے، کشمیری عوام بھارت کی فرقہ پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے اقدامات کو مسترد کرتے ہیں۔ کشمیریوں کی حق خود ارادیت کے حصول کیلئے جدوجہد کسی کے زیر اثر یا تابع نہیں ہے بلکہ وہ بھارت کے غیر قانونی فوجی تسلط کے خلاف اپنی جدوجہد خود چلارہے ہیں، بھارت کے ان استبدادی ہتھکنڈوں اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود کشمیر کے عوام اپنی مبنی بر حق جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان اور دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانی 5 فروری کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن اس عہد کے ساتھ منا رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کی ہر قیمت پر حمایت جاری رکھی جائے گی۔واضح رہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانا تنازعہ ہے، کشمیر میں ہزاروں افراد کالے قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا کررہے ہیں، مقبوضہ علاقہ میں تحریک آزادی کے بعض کارکنوں کوموت اور عمر قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں، کشمیریوں کو انسانی حقوق کی پامالیوں اور ظلم وزیادتیوں کا نشانہ بنا کر خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیری عوام کا یہ عزم صمیم ہے کہ وہ بھارت کے گھنا ئونے اقدامات کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اپنی جدوجہد آزادی کو منزل کے حصول تک جاری رکھیں گے۔جبکہ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان اس بات کا تجدید عہد کرے گا کہ وہ کشمیریوں کی جائز اور مبنی بر صداقت جدوجہد آزادی کا ساتھ دیتا رہے گا۔مودی حکومت کے بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کو مکارانہ اقدام کے تحت ختم کئے جانے کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ ہر قسم کے رابطوں میں پیش رفت ختم کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے مقاصد میں بھی پیشرفت رکی نہیں ان پر ظلم وستم پہلے کی طرح جاری ہیں پانچ اگست 2019 کو نئی دہلی حکومت نے ایک صدارتی حکمنامہ بھارتی ایوان بالا میں پیش کیا جس میں ہندوستانی آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا چونکہ یہ پیشگی منصوبہ بندی کا حصہ تھا اس لئے اس کی منظوری میں کوئی تاخیر نہیں کی گئی۔ اس شق کے تحت کشمیر کو بھارتی وفاق میں ایک مخصوص حیثیت کو برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں اس کا ردعمل تو انا ہی تھا اور بہت زیادہ آیا لیکن پاکستان کا بھی اس پر احتجاج عالمی سطح پر دیکھنے میں آیا ،جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی فضاء بدستور موجود ہے ایک طرف تو مودی حکومت جس نے خود آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان کیا ہے ان کے نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے کو خود ہی واپس لے لیں پھر وہاں ایک مضبوط، فعال اور بااثر اپوزیشن موجود ہے جس کی موجودگی میں اس نوعیت کا کوئی بھی فیصلہ مودی کے اقتدار کا خاتمہ کر سکتا ہے تو دوسری طرف پاکستان نے جس قطعیت کے ساتھ یہ فیصلہ سنایا ہے کہ جب تک بھارتی حکومت اپنا یہ فیصلہ واپس نہیں لیتی اس سے کسی قسم کا رابطہ، مذاکرات یا تعلقات رکھنا کشمیریوں کے خون سے غداری کے مترادف ہوگا تو یا دونوں طرف سے بطاہر فیصلوں میں کوئی لچک کی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے اہم حوالہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر ہے جس پر پاکستان کی ہر حکومت نے ایک ہی موقف اختیار کیا ہے گو کہ اس حوالے سے کئی بار اس مسئلے کے حل کیلئے مختلف تجاویز، سفارشات، بیک ڈور رابطوں اور مذاکرات کی کوششیں کی گئیں اور امکانات پر بات ہوئی لیکن پاکستان کبھی اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹا۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہئے گزشتہ کچھ عرصے اور بالخصوص موجودہ حکومت مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے غیر روایتی اور غیر معمولی انداز میں پیش رفت ہوئی۔ایک طرف جہاں بھارت کو اس حوالے روایتی ہٹ دھرمی پر اہم پلیٹ فارمز پر ہمزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے وہیں دنیا کی مختلف پارلیمانز، انسانی حقوق کے اداروں، عالمی سول سوسائٹی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت اور پاکستان کے موقف میں اضافہ ہوا ہے تاہم اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اہم حکومتوں اور اس مقصد کیلئے قائم بعض اداروں کی جانب سے وہ حمایت اور بیانیہ سا منے نہیں آیا جن کی توقعات تھی بالخصوص ان اسلامی ممالک کی جابن سے جنہیں پاکستان برادر اسلامی ملک قرار دیتا ہے۔ 5 فروری دنیا بھر میں موجود پاکستانی ہر سال اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر مناتے ہیں اور ظلم و نا انصافی کا شکار کئی دہائیوں سے اپنے عزم اور منصف پر ڈٹے رہنے والے مقبوضہ کشمیر سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ صورتحال ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مختلف ہے اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے اور خود پر ہونے والے مظالم ناانصافیوں اور بھارتی جبر و استبداد کا مقابلہ بے سروسامانی کے عالم میں تو کشمیری کئی دہائیوں سے کرتے آرہے تھے لیکن مودی حکومت نے اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے ظلم و ستم کے ہتھکنڈوں سے انہیں جھکانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور ایک انتہائی مکارانہ اقدام یہ کیا کہ بھارتی آئین میں موجود آرٹیکل370 ختم کر دیا جس کے ختم ہونے سے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی جو خصوصی اہمیت اور حیثیت تھی وہ ختم ہوگئی۔ اس آرٹیکل کے تحت اب غیر کشمیر ا فراد وہاں جائیدادیں بھی خرید سکیں گے اور سرکاری نوکریاں بھی حاصل کر سکیں گے اور بااثر اور معتمول ہندو تو کشمیری خواتین سے شادی کرنے کے عزائم کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

جموں و کشمیر میں مودی حکومت نے آرٹیکل 370 نافذ کرنے کے وار سے صورتحال میں کیا تبدیلی آئی ہے اس سے مودی حکومت کے عزائم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جموں وکشمیر کے پاس دوہری شہریت ہوتی ہے۔ جموں وکشمیر کی کوئی خاتون اگر ہندوستان کی کسی ریاست کے شخص سے شادی کرے تو اس خاتون کو جموں وکشمیر کی شہریت ختم ہو جائے گی۔ اگر کوئی کشمیری خاتون پاکستان کے کسی شخص سے شادی کرے تو اس کے شوہر کو بھی جموں وکشمیر کی شہریت مل جاتی ہے۔ ۔5 اگست 2019 سے نافذ کئے اقدامات کے اثرات بھی جاری ہیں، پوری وادی محاصرے میں ہے، مواصلاتی نظام منجمد کر دیا گیا ہے،5 اگست کو کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت نے پوری ریاست پر سخت مواصلاتی پابندیاں نافذ کر دی تھیں جن کی زد میں سوشل میڈیا بھی بری طرح آیا لیکن خبر کے ذریعے خاموش کی جانیوالی آوازیں آج بھی چیخوں کی طرح شور مچارہی ہیں احتجاج کررہی ہیں۔ بھارت نے غیر ملکی صحافیوں، تجزیہ نگاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی غیر اعلانیہ پابندی عائد کر رکھی ہے البتہ اپنے ہم خیال طبقات کو وہاں لے جانے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جاتے ہیں۔ نئی دہلی میں متعین غیر ملکی سفیروں کو وادی کا دورہ کرانے کی دعوت دی گئی تو ان شخصیات کو فہرست میں شامل نہیں کیا گیا جنہوں نے و ادی میں آزادانہ گھوم پھر کرعوام کے جذبات جاننے اور حالات کا اپنی مرضی کے مقامات پر جا کر جائزہ لینے کی خواہش ظاہر کی تھی کشمیری رہنمائوں آل پارٹی حریت کانفرنس اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ارکان سے رابطہ کرنے پر زور دیا تھا لیکن انہیں بتایا کہ ایسا ممکن نہیں ہے چنانچہ سفیروں اور دیگر سفارتکاروں کی بڑی تعداد نے وادی کا دورہ کرنے سے انکار کردیا۔ پانچ فروری مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے عالمی دن کے طورپر منایا جاتا ہے۔یہ بھارت کے ظلم و استبداد اور ہٹ دھرمی کے خلاف کشمیریوں کی لازوال جہدوجہد آزادی کی حمایت میں تجدید عہد کا دن ہے۔ یہ صرف پاکستان اور آزادکشمیر میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھرمیں جوش وجذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے اور آزادی کے متوالوں مظلوم کشمیریوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ بھارت کے تسلط سے کشمیر کو آزادی دلانے میں وہ تنہا نہیں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے حالات کے تناظر میں یوم یکجہتی کشمیر کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

کشمیریوں نے اپنی قربانیوں سے مسئلہ کشمیرزندہ رکھا ہوا ہے ۔ بھارت کا کوئی ظلم و جبر ان کے جذبۂ مزاحمت کو ختم نہیں کر سکا ۔وہ جدوجہد آزادی کو جاری رکھے ہوئے ہیں پاکستانی قوم نے بھی اپنے کشمیری بھائیوں کی پشت بانی میںکبھی کمی نہیں آنے دی۔ اپنے دلی جذبات کے اظہار کیلئے ہر سال 5 فروری کو گلی کوچوں میں سڑکوں، چوراہوں پر کشمیریوں کی جہدوجہد آزادی سے یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔

کشمیر کے مسئلے پر پاکستانی قوم کا اُصولی اور تاریخی مؤقف ہے جس پر قائداعظم سے لیکرآج تک پاکستانی قوم اورمسلمانان جموں وکشمیر قائم ہیں۔ وہ اس پر کسی انحراف یا سمجھوتے کا تصور بھی نہیں کرسکتی ۔مسئلہ کشمیر ان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔ اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت سے کم کسی بات کو قبول نہیں کریں گے