Deadlock ends, Iranian delegation arrives in Islamabad for talks…بنبست پایان یافت، هیئت ایرانی برای مذاکره وارد اسلامآباد شد
..
(Asghar Ali Mubarak)ڈیڈ لاک ختم، ایرانی وفد کی مذاکرات کے لیے اسلام آباد آمد…..
(اصغر علی مبارک )
ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل (ڈیڈ لاک) ختم ہونے کے قوی امکانات پیدا ہو گئے ہیں اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک وفد کی24 اپریل 2026 کی رات اسلام آباد آمد متوقع ہے۔ یہ دورہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ بندی کو پائیدار بنانا ہے۔ سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار , صدر ڈپلومیٹک کارسپانڈنٹس فورم آف پاکستان , اصغر علی مبارک کے مطابق پاکستان ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے پاکستانی قیادت مسلسل تہران اور واشنگٹن کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ دونوں فریقین کو ایک مشترکہ ایجنڈے پر لایا جا سکے۔پاکستان کی “برج ڈپلومیسی” نے غیر جانبدارانہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا اگرچہ ایران نے ابتدائی طور پر مذاکرات میں شامل ہونے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ، لیکن پاکستان کی مسلسل ثالثی , سفارتی مشقوں نے معاہدے کی امید کو برقرار رکھا ,
مذاکرات کے اس نئے دور کے حوالے سے اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
وفد کی آمد: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک مختصر وفد کے ساتھ پہنچ رہے ہیں۔ اس سے قبل 11 اپریل کو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی مذاکرات کے پہلے دور کے لیے آئے تھے۔
مذاکرات کا ایجنڈا: ان مذاکرات میں ایران کے 10 نکاتی امن منصوبے، ایران-امریکہ جنگ بندی کی توسیع، آبنائے ہرمز کی صورتحال، اور منجمد اثاثوں کی واپسی جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔
پاکستان کا کردار: پاکستان اس حساس سفارتی معاملے میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستانی حکام، بشمول نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، فریقین کے درمیان براہِ راست اور بالواسطہ رابطوں کے لیے سہولت کاری کر رہے ہیں۔ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں ایران پر سے پابندیاں ہٹنے اور پاک ایران گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں کی بحالی سے پاکستانی معیشت کو طویل مدتی استحکام مل سکتا ہے۔
پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد تقریباً ایک ہفتے سے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کا منتظر ہے، تاہم اب ایک اہم پیش رفت میں، مڈل ایسٹ کے متنازعہ مسائل پر باضابطہ دوسرے دور کی بات چیت ہو سکتی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کے روز پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور پاکستان کے چیف آف ڈیفینس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو فون کیا۔ اگرچہ اسلام آباد میں حکام کی جانب سے باضابطہ طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے، لیکن یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایران کا مثبت ردعمل پاکستان کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے کہ وہ ایران کو اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے آمادہ کرے اور مشرق وسطیٰ کے بحران کا کوئی طے شدہ حل تلاش کرے۔ امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے بارے میں چند ہفتوں سے معمہ ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان گزشتہ تین چار ہفتوں سے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ امریکا اس تنازع پر ایرانی فریق کے ساتھ بات چیت کے لیے اپنا اعلیٰ سطحی وفد بھیجنے کے لیے تیار ہے، لیکن کچھ تازہ ترین پیش رفت متحارب فریقوں کے درمیان بداعتمادی کی خلیج کو وسیع کرنے کا باعث بنی اور اس کی وجہ سے بات چیت میں تاخیر ہوئی۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران منفی پیش رفت کے باوجود، پاکستان نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے جدوجہد جاری رکھی اور ایم ای جنگ کا پرامن حل تلاش کرنے میں دونوں فریقوں کی مدد کی۔ اسلام آباد میں سرکاری ذرائع ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے جلد ہونے کا اشارہ دے رہے ہیں۔ پوری دنیا جنگ کے خاتمے کے لیے ایران اور امریکا کے درمیان اہم مذاکرات کار کے طور پر پاکستان کے کردار کو سراہا رہی ہے۔ ایران مطالبہ رہا ہے کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرے تو ہی وہ مذاکرات کے لیے آئیں گے۔ مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے محمد باقر قالیباف نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایران ‘خطرات کے سائے میں’ مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا۔
تاہم پاکستانی ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئے گا۔ پاکستان بطور ثالث ایران کو مذاکرات میں شرکت پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے ایرانی حکام سے رابطے بھی کیے ہیں۔
امریکہ کی سیکیورٹی اور ایڈوانس ٹیمیں پہلے ہی پاکستان پہنچ چکی ہیں۔ لیکن مرکزی وفد ابھی تک روانہ نہیں ہوا۔ امریکی میڈیا خبر دے رہا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ سے پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے۔ لیکن بعض رپورٹس کے مطابق امریکہ بھی ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کا انتظار کر رہا ہے۔ تاکہ ایسی صورتِ حال نہ ہو کہ امریکی وفد پہنچ جائے اور ایرانی فریق نہ آئے۔
امریکی وفد کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی برائے امور مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف کریں گے۔اگر ایرانی وفد اسلام آباد آتا ہے تو غالب امکان ہے کہ اس میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی شامل ہوں گے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر شدید حملوں اور بمباری کی بھی دھمکی دی ہے۔
مذاکرات کا پہلا دور 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، تاہم وہ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔ اگرچہ بعض معاملات پر پیش رفت ہوئی، لیکن چند اہم نکات پر اختلافات برقرار ہیں۔
ایران کا جوہری پروگرام
امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر بند کرے جب کہ تہران کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیاں صرف محدود مدت کے لیے ہونی چاہئیں۔
افزودہ یورینیم کا ذخیرہ;
ٹرمپ کے مطابق امریکہ ایران کے تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کو اپنی تحویل میں لینا چاہتا ہے جسے ایران نے مسترد کر دیا ہے۔
آبنائے ہرمز;
ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ اس کی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم نہیں کرتا وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر پابندیاں برقرار رکھے گا۔ جب کہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدہ ہونے تک ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
منجمد اثاثے;
ایران کسی بھی معاہدے کے تحت تقریباً 20 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
جنگی ہرجانہ;
ایران امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے تقریباً 270 ارب ڈالر کے معاوضے کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے حوالے سے مثبت اشارہ دے دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ امریکی نائب صدر کی سربراہی میں ایک وفد اگلے چند گھنٹوں میں اسلام آباد پہنچ کر مذاکراتی عمل کا آغاز کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ایرانی قیادت سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، تاہم اس کا انحصار اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے مثبت نتائج پر ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وفد ا پاکستان پہنچتے ہی ایرانی حکام کے ساتھ (پاکستان کی ثالثی میں) بات چیت شروع کرے گا۔
12 اپريل 2026 اتوار کی صبح امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ 21 گھنٹے تک مذاکرات کے بعد بنا کسی معاہدے کے نور خان ایئر بیس سے واپس روانہ ہوئے تو کئی سوالات چھوڑ گئے۔ کیا مذاکرات ختم ہو گئے یا ابھی بات چیت جاری رہے گی؟ جنگ بندی کا مستقبل کیا ہو گا؟ امریکہ کا اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا؟جے ڈی وینس نے روانگی سے قبل ایک مختصر پریس کانفرنس کی جس کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ایران سے کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ تاہم تجزیہ کاروں کی رائے میں اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت ناصرف تاریخی رہی جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ ایرانی وفد سے بات چیت ہوئی، ’یہ اچھی خبر ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔ اور میرا خیال ہے کہ یہ امریکہ کے مقابلے میں ایران کے لیے زیادہ بری خبر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایسی جگہ نہیں پہنچ پائے جہاں ایران ہماری شرائط تسلیم کرتا۔‘ جب ان سے ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فوری اور دیرپا مرکزی مقصد ہے۔‘ جے ڈی وینس نے بتایاتھا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے دوران ان کی تقریباً ایک درجن سے زیادہ مواقع پر ٹرمپ سے بات ہوئی,تاہم جاتے جاتے جے ڈی وینس نے یہ کہا تھا کہ’ہم ایک بہت سادہ تجویز چھوڑ کر جا رہے ہیں جو ہماری حتمی اور بہترین آفر ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آیا ایران اسے مانتا ہے۔‘ اس جملے سے بظاہر یہ تاثر ملا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو پیشکش کی گئی ہے اور اب اس پر جواب کا انتظار کیا جائے گا۔ جب جے ڈی وینس سے سوال کیا گیا تھاکہ ایران نے کون سی شرائط ماننے سے انکار کیا تو امریکی نائب صدر نے جواب دیا کہ ’میں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا کیوں کہ 21 گھنٹے تک بند کمرے میں بات چیت کے بعد میں عوامی سطح پر مذاکرات نہیں کرنا چاہتا۔‘تاہم ایک موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی ریڈ لائنز واضح کر دی ہیں کہ ہم کن معاملات پر لچک دکھا سکتے ہیں اور کن باتوں پر نہیں۔ اور یہ چیز ہم نے بہت کھل کر ان کے سامنے رکھی ہے، انھوں نے ہماری شرائط تسلیم نہیں کیں۔‘
جے ڈی وینس نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ بھی ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں بہت بہترین میزبان تھے اور مذاکرات میں جو بھی کمی رہی وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں تھی ’جنھوں نے بہترین کام کیا اور واقعی کوشش کی کہ ایران اور ہمارے درمیان موجود خلا کو دور کریں اور کسی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوں۔
امریکی نائب صدر کی جانب سے مذاکرات ’بے نتیجہ قرار دیے جانے کے بعد ایران کا مؤقف بھی آیاتھا۔ اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی وفد کی سربراہی کرنے والے محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات سے قبل میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ مذاکرات کے لیے ضروری نیت اور ارادہ موجود ہے، لیکن گذشتہ دو جنگوں کے تجربات کے باعث ہمیں مخالف فریق پر بھروسہ نہیں۔‘ ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ ’بات چیت کے دوران ایرانی وفد میں شامل میرے ساتھیوں نے مختلف تجاویز پیش کیں تاہم مخالف فریق مذاکرات کے اس دور میں ایرانی وفد کا اعتماد جیتنے میں ناکام رہاتھا ۔ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کو ہماری منطق اور اصولوں کے متعلق اندازہ ہو گیا ہے، اب فیصلہ انھوں نے کرنا ہے کہ آیا وہ ہمارا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں کہ نہیں۔‘ ایرانی قوم کے حقوق کے دفاع کے لیے وہ سفارتکاری کے ساتھ ساتھ فوجی جدوجہد پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چالیس دن کی جنگ کے دوران ایرانی قوم کے دفاع میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انھوں نے مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کے لیے اہم کردار ادا کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیاتھا۔ اس سے قبل جے ڈی وینس کی پریس کانفرنس کے بعد جاری بیان میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسمائیل بقائی نے کہا تھا کہ بہت سے موضوعات پر ’مفاہمت‘ ہو گئی تھی تاہم دو یا تین اہم معاملات پر دونوں فریقوں میں اتفاق رائے نہ ہو سکا، جس کے باعث بالآخر مذاکرات کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ انھوں نے کہاتھا ’یہ مذاکرات 40 دن کی مسلط کردہ جنگ کے بعد ہوئے اور بداعتمادی اور شکوک و شبہات کے ماحول میں انجام پائے۔ فطری بات ہے کہ ابتدا ہی سے کسی ایک نشست میں معاہدے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے تھی۔ کسی کو بھی ایسی توقع نہیں تھی۔‘ اسماعیل بقائی کے مطابق ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز سمیت چند نئے موضوعات بھی شامل کیے گئے اور ہر موضوع کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا: ’سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی اور یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے۔امریکی نائب صدر کی پریس کانفرنس کے تقریباً دو گھنٹے بعد پاکستانی وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس کی تھی اور امید ظاہر کی تھی کہ ’دونوں فریق خطے میں اور اس سے باہر پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے مثبت جذبے کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔ وزیر خارجہ نے امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کیا تھاجنھوں نے پاکستان کی جانب سے خطے میں فوری جنگ بندی کی اپیل پر مثبت رد عمل دیا اور اسلام آباد میں امن مذاکرات کے انعقاد کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت قبول کی۔ اسحاق ڈار نے کہاتھا کہ فریقین کے درمیان ’مشکل اور تعمیری مذاکرات‘ کے کئی دور ہوئے جس میں انھوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ معاونت کی۔ وزیر خارجہ نے دونوں فریقوں کا شکریہ ادا کیا تھا کہ ’انھوں نے جنگ بندی کے حصول میں پاکستان کی کوششوں اور اس کے ثالثی کردار کو سراہا۔‘ اسحاق ڈار کا کہنا تھا: ’ضروری ہے کہ تمام فریق جنگ بندی کے حوالے سے اپنے عزم کی پاسداری جاری رکھیں۔‘
ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگ معطل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم پہلے ہی تمام فوجی اہداف حاصل کر چکے ہیں اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن اور مشرق وسطیٰ میں امن کے حوالے سے ایک حتمی معاہدے پر بہت آگے بڑھ چکے ہیں۔ پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ انھیں ایران کی جانب سے 10 نکات پر مشتمل ایک تجویز موصول ہوئی ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات کے لیے ایک قابل عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔ امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ماضی کے تنازعات کے تقریباً تمام مختلف نکات پر امریکہ اور ایران میں اتفاق رائے ہو چکا ہے، تاہم دو ہفتوں کی یہ مدت معاہدے کو حتمی شکل دینے اور اسے عملی جامہ پہنانے میں مدد دے گی۔اسرائیل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا: ’اسرائیل اس بات کو یقینی بنانے کے لیے امریکی کوششوں کی حمایت کرتا ہے کہ ایران اب امریکہ، اسرائیل، اس کے عرب پڑوسیوں اور دنیا کے لیے جوہری، میزائل اور دہشت گردی کا خطرہ نہ بن سکے۔پاکستانی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے اور اس سے آگے امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنے تمام دوست ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام فریقوں سے اپیل کی تھی کہ ہر جگہ جنگ بندی کریں تاکہ سفارت کاری جنگ کے حتمی خاتمے تک پہنچ سکے، جو خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔ ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا تھا کہ ’سفارت کاری کو اپنا راستہ مکمل کرنے دینے کے لیے، میں صدر ٹرمپ سے مخلصانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ ڈیڈ لائن میں توسیع کریں۔‘ مزید لکھا کہ ’پاکستان پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے ایرانی بھائیوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ نیک نیتی کے طور پر دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کو کھول دیں۔‘ اس اپیل کے بعد پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اس حوالے سے پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’فی الحال، صورتحال ایک نہایت نازک اور حساس مرحلے سے ایک قدم آگے بڑھ چکی ہے۔ رضا امیری نے تجویز دی تھی کہ ’اگلے مرحلے میں ضروری ہے کہ احترام اور باہمی شائستگی کو ترجیح دی جائے اور بیان بازی اور غیر ضروری تکرار کی جگہ سنجیدگی لے۔ سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’جنگ روکنے کے لیے پاکستان کی مثبت اور نتیجہ خیز نیک نیتی پر مبنی کوششیں ایک نہایت اہم اور حساس مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی، دھمکیاں اور ان کے بقول ’وعدوں کی خلاف ورزی‘ امریکہ کے ساتھ ’حقیقی اور جامع مذاکرات‘ کی راہ میں بنیادی رکاوٹیں ہیں۔ مزید کہا کہ ’ایران نے مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اب بھی کرتا ہے۔ان کاکہنا تھا کہ ’دنیا آپ کی نہ ختم ہونے والی منافقانہ بیان بازی اور دعوؤں اور اقدامات کے درمیان تضاد کو دیکھ رہی ہے۔‘ان کا یہ بیان اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا، تاہم ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا۔ دوسری طر ف امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے اُن کی افواج اب تک 29 جہازوں کو روک چکی ہیں اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ متعدد تجارتی بحری جہازوں کے ناکہ بندی سے بچ نکلنے کی میڈیا رپورٹس ’درست نہیں‘ ہیں۔ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’دو ایرانی پرچم بردار ٹینکرز ’ہیرو ٹو‘ اور ’ہیڈی‘، جن کا میڈیا میں ذکر کیا گیا تھا کسی بحری قافلے کے حصے کے طور پر ناکہ بندی عبور نہیں کر سکے بلکہ انھیں روکنے کے بعد ایران کی بندرگاہ چاہ بہار میں لنگر انداز کر دیا گیا ہے۔‘ بیان کے مطابق ایک اور جہاز ’ڈورینا‘ نے ناکہ بندی کی ’خلاف ورزی‘ کی کوشش کی جس کے بعد اسے بحرِ ہند میں امریکی بحریہ کے ایک ڈسٹرائر نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’امریکی فوج کی رسائی عالمی سطح تک ہے۔‘ مزید کہا گیا کہ ’امریکی افواج مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر بھی کارروائی کرتے ہوئے ناکہ بندی کو نافذ کر رہی ہیں۔ دریں اثنا،امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرِ ہند میں ایرانی تیل سے منسلک ایک آئل ٹینکر کو روک کر قبضے میں لے لیا ہے، جس کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق ”میجسٹک ایکس“ نامی جہاز کو بھارتی سمندر میں روک کر اس کی تلاشی لی گئی، جس کے بعد امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ نے کارروائی کرتے ہوئے اسے تحویل میں لیا۔ بیان کے مطابق مذکورہ جہاز ایران سے تیل لے جا رہا تھا اور امریکی پابندیوں کی زد میں تھا, دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں 2 بحری جہازوں پر قبضہ کرنے کی ویڈیو جاری کردی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ایرانی بحریہ کے مطابق ان جہازوں کو اس لیے قبضے میں لیا گیا کیوں کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے حفاظتی انتظامات کو خطرے میں ڈالا تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ دونوں جہازوں کو تحویل میں لینے کے بعد ایرانی ساحل کی جانب منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ یاد رکھیں،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر امریکا کے کنٹرول میں ہے اور اس آبی گزرگاہ سے کوئی بھی جہاز امریکی بحریہ کی منظوری کے بغیر داخل یا واپس نہیں ہو سکتا۔ امریکی بحریہ کو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو نشانہ کا بھی حکم دے دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیانات میں کہا ہے کہ ایران اس وقت قیادت کے تعین اور اندرونی سیاسی صورتِ حال کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔ دعویٰ کیا کہ ایران کے اندر سخت گیر عناصر اور اعتدال پسند گروہ کے درمیان اختلافات جاری ہیں, ان کے مطابق سخت گیر گروہ جنگی محاذ پر نقصان اٹھا رہا ہے جب کہ اعتدال پسند عناصر کو کچھ حد تک پذیرائی مل رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب کوئی بھی جہاز امریکی بحریہ کی اجازت کے بغیر اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر نہیں سکتا۔ ان کے مطابق یہ راستہ اس وقت تک مکمل طور پر بند رہے گا جب تک ایران کسی معاہدے تک نہیں پہنچتا۔ پیغام کے آخر میں کہا کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے جس کا مقصد ایران کو مذاکرات اور معاہدے کی طرف لے کر آنا ہے۔ اس دوران‘وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کیرولین لیویٹ نے گزشتہ روز صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کا حوالہ دیا اور کہا کہ امریکہ ایرانی قیادت کی جانب سے ایک متفقہ تجویز کا انتظار کر رہا ہے۔ کہا کہ ایران کی قیادت کے اندر ’تقسیم‘ پائی جاتی ہے۔ اُن کے مطابق جنگ بندی کے دوران بھی ایران کے خلاف امریکی معاشی دباؤ جاری ہے جس میں امریکی بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے جس نے ایرانی تیل کی برآمدات کو روک رکھا ہے۔ لیویٹ نے جنگ بندی میں تین سے پانچ دن کی توسیع سے متعلق خبروں کو ’غلط‘ قرار دیا۔ پریس سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ نے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی وہ بحری ناکہ بندی سے ’مطمئن‘ ہیں اور ’سمجھتے ہیں کہ ایران اس وقت بہت کمزور پوزیشن میں ہے۔‘ کہا ’اس وقت تمام اختیارات صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہیں۔‘ کیرولین لیویٹ سے پوچھا گیا کہ کیا وائٹ ہاؤس کو معلوم ہے کہ ایران میں کسی معاہدے کی حتمی منظوری کون دے گا؟ جواب میں انھوں نے کہا کہ ’وائٹ ہاؤس اور ہماری انٹیلی جنس کمیونٹی کو یقیناً اس بارے میں بہتر معلومات ہیں۔‘ تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہم ایک متفقہ ردِعمل اور جواب کے منتظر ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی قیادت کی جانب سے مختلف نوعیت کے بیانات سامنے آ رہے ہیں،‘ جنھیں انھوں نے ’عوامی سطح پر بے معنی باتیں‘ قرار دیا۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھی ان کی حالیہ پوسٹ کے علاوہ، جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں آٹھ سزائے موت روک دی گئی ہیں، بہت کم ردعمل سامنے آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں واحد دیگر ’خبر‘ ایک نہایت مختصر اور تاحال غیر واضح سکیورٹی الرٹ تھا، جس کے باعث لان میں موجود صحافیوں کو وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یہ واضح نہیں کہ اس کی وجہ کیا تھی۔ یہاں موجود رپورٹرز انتظامیہ کے ایران سے متعلق آئندہ اقدامات پر سوالات کی بھرمار کے ساتھ وائٹ ہاؤس پریس آفس سے رابطے میں مصروف رہے یا مختلف حکام کو فون کر کے کسی بھی قسم کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
The deadlock between Iran and the US appears to be ending, and a delegation led by Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi is expected to arrive in Islamabad on the night of April 24, 2026. The visit is part of the second phase of the Pakistan-mediated Islamabad talks, which aim to reduce tensions between Iran and the US and make the ongoing ceasefire in the Middle East sustainable.
The following are important details regarding this new round of talks: The arrival of the delegation: Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi is arriving with a small delegation. Earlier, Iranian Parliament Speaker Mohammad Baqer Qalibaf also arrived on April 11 for the first round of talks.
Agenda of the talks: Important topics such as Iran’s 10-point peace plan, the extension of the Iran-US ceasefire, the situation in the Strait of Hormuz, and the return of frozen assets are expected to be discussed.
Pakistan’s Role: Pakistan is acting as the main mediator in this sensitive diplomatic issue. Pakistani officials, including Deputy Prime Minister Ishaq Dar and Army Chief Field Marshal Asim Munir, are facilitating direct and indirect contacts between the parties. If the talks are successful, sanctions on Iran could be lifted. The resumption of projects such as the Pakistan-Iran gas pipeline could also provide long-term stability to Pakistan’s economy.
Pakistan’s capital, Islamabad, has been waiting for a week for possible peace talks between the United States and Iran, but now, in a significant development, a second round of formal talks on the contentious Middle East issues may be held. Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi on Friday called Pakistan’s Deputy Prime Minister and Foreign Minister Ishaq Dar and Pakistan’s Chief of Defence Forces and Army Chief Field Marshal Syed Asim Munir. Although there has been no official word from the authorities in Islamabad, it is understood that Iran’s positive response is the result of Pakistan’s continued efforts to persuade Iran to come to the negotiating table with the US in Islamabad and find a negotiated solution to the Middle East crisis. The US has been a mystery for a few weeks about the second round of Iran talks. Pakistan has been making serious efforts for the last three to four weeks to bring Iran to the negotiating table for the second round of talks in Islamabad. The US is ready to send its high-level delegation to talk to the Iranian side on the dispute, but some recent developments have led to a widening of the gulf of mistrust between the warring parties, and this has led to delays in the talks. Despite the negative developments over the past few days, Pakistan has continued to struggle to bring Iran to the negotiating table and has helped both sides find a peaceful solution to the ME war. Official sources in Islamabad are indicating that the second round of talks between Iran and the US is imminent. On the other hand, President Diplomatic Correspondents Forum of Pakistan, Senior Pakistani Diplomatic Analyst, Asghar Ali Mubarak, has said that the hope of an agreement remains with Pakistan’s best military diplomacy, Field Marshal Asim Munir, who is playing an important role in lasting international peace and stability. Pakistan’s name has been elevated at the diplomatic level. The commendable role of Prime Minister of Pakistan Shahbaz Sharif, Deputy Prime Minister Ishaq Dar, and Field Marshal Asim Munir has been recognized at the global level.The whole world is appreciating Pakistan’s role as a key negotiator between Iran and the US to end the war. According to a spokesperson for the Pakistani Foreign Office, during the conversation, Islamabad’s efforts in the context of contacts and diplomatic processes between the US and Iran were also discussed. Ishaq Dar stressed on the occasion that continuous talks and diplomatic contacts are indispensable for resolving outstanding issues so that peace and stability can be promoted in the region as soon as possible. Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi appreciated Pakistan’s constant and constructive facilitating role in this regard. The two leaders agreed to maintain close contact in the future. The Foreign Ministry said that Pakistan will continue to support the de-escalation of tensions in the region and a diplomatic solution. According to Iran’s semi-official IRNA news agency, Foreign Minister Abbas Araqchi had separate telephone conversations with Pakistani officials. Iran has been demanding that the US lift the blockade before it can come to talks. Mohammad Baqer Qalibaf, who led the Iranian delegation in the first round of talks, said in his recent statement that Iran will not accept talks “under the shadow of threats.”
US security and advance teams have already arrived in Pakistan. But the main delegation has not yet left. The US media is reporting that Vice President JD Vance will leave the US for Pakistan.
The US delegation will be represented by Vice President JD Vance, Trump’s son-in-law Jared Kushner, and Special Envoy for Middle East Affairs Steve Wittkoff. If the Iranian delegation comes to Islamabad, it is most likely that Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi will be included. There is a ceasefire between the US and Iran. President Trump has warned that if no agreement is reached, he has also threatened to launch severe attacks and bombardment on Iran. Both sides were claiming victory even before the talks, so reaching an agreement already seemed difficult.
The first round of talks was held in Islamabad on April 11 and 12, but ended without any results. While progress was made on some issues, differences remain on some key points.
Iran’s nuclear program;
The United States wants Iran to completely dismantle its nuclear program, while Tehran insists that such sanctions should only be for a limited period of time.
Enriched uranium stockpile;
According to Trump, the United States wants to take possession of about 400 kilograms of Iran’s enriched uranium, which Iran has rejected.
Strait of Hormuz;
Iran says it will maintain restrictions on shipping in the Strait of Hormuz until the United States lifts the blockade of its ports. Trump says the blockade will remain in place until a deal is reached.
Frozen assets;
Iran is demanding the release of about $20 billion in frozen assets and the lifting of sanctions under any deal.
War reparations;
Iran is also demanding compensation of about $270 billion for the damage caused by the US and Israeli attacks. US President Donald Trump has given a positive signal regarding the restoration of diplomatic relations with Iran. He has announced that a delegation led by the US Vice President will arrive in Islamabad in the next few hours to begin the negotiation process.
President Trump made it clear that he is ready to meet with the Iranian leadership, but this depends on the positive outcome of the talks in Islamabad. According to the White House, the US delegation will begin talks with Iranian officials (mediated by Pakistan) as soon as it reaches Pakistan.
On Sunday morning, April 12, 2026, US Vice President JD Vance left Nur Khan Air Base without an agreement after 21 hours of talks with the Iranian delegation in Islamabad, leaving many questions unanswered. Are the talks over, or will they continue? What will be the future of the ceasefire? What will be the next course of action for the United States? JD Vance held a brief press conference before his departure, the main point of which was that no final agreement could be reached with Iran. However, analysts believe that the talks in Islamabad were not only historic. JD Vance had said that the talks with the Iranian delegation were held, ‘This is good news. The bad news is that we did not reach an agreement. And I think this is worse news for Iran than for the United States.’ He said, ‘We have not reached a place where Iran will accept our terms.’ When asked about the Iranian nuclear program, he said, ‘Preventing Iran from obtaining a nuclear weapon is the immediate and long-term central objective of President Donald Trump.’ JD Vance had said that during the talks in Islamabad, he spoke with Trump on more than a dozen occasions, however, as he left, JD Vance had said, ‘We are leaving with a very simple proposal that is our final and best offer. We will see if Iran accepts it.’ This sentence apparently gave the impression that the US has made an offer to Iran, and now the response will be awaited. When JD Vance was asked what conditions Iran refused to accept, the US Vice President replied, ‘I don’t want to go into details because after 21 hours of closed-door talks, I don’t want to negotiate publicly.’ However, at one point, he said, ‘I have made my red lines clear on which issues we can show flexibility and on which ones. And we have put this very openly in front of them, they have not accepted our conditions.’
JD Vance also thanked Pakistani Prime Minister Shahbaz Sharif and Army Chief Field Marshal Asim Munir, saying that both were very good hosts and that any shortcomings in the talks were not due to the Pakistanis, who did a great job and really tried to bridge the gap between Iran and us and were able to reach an agreement.’
Iran’s stance also came after the US Vice President declared the talks “unproductive.”Mohammad Baqir Qalibaf, who led the Iranian delegation in the Islamabad talks, said, “Before the talks, I emphasized that there is the necessary intention and will for the talks, but due to the experiences of the last two wars, we do not trust the opposing side.” Iranian Parliament Speaker Baqir Qalibaf said in a statement released on X Account that “during the talks, my colleagues in the Iranian delegation presented various proposals, but the opposing side failed to win the trust of the Iranian delegation during this period of talks.” He said, “America has come to understand our logic and principles; now it is up to them to decide whether they can gain our trust or not.” He believes in diplomacy as well as military struggle to defend the rights of the Iranian nation. He said that he will not back down for a moment from the successes achieved in defending the Iranian nation during the Forty-Day War. He thanked Pakistan for playing an important role in facilitating the negotiation process. Earlier, in a statement issued after JD Vance’s press conference, Iranian Foreign Ministry spokesman Esmail Baqai said that ‘understanding’ had been reached on many issues, but the two sides could not reach a consensus on two or three important issues, due to which the talks ultimately did not reach an agreement. He had said, ‘These talks took place after 40 days of imposed war and were held in an atmosphere of mistrust and suspicion. It is natural that an agreement should not have been expected from the very beginning in a single session. No one expected such a thing.’ According to Esmail Baqai, some new topics, including the Strait of Hormuz, were also included in these talks, and each topic has its own complexities. The Iranian Foreign Ministry spokesman said: ‘Diplomacy never ends and it is a means of protecting national interests.’ About two hours after the US Vice President’s press conference, Pakistani Foreign Minister and Deputy Prime Minister Ishaq Dar held a press conference and expressed the hope that ‘both sides will continue to demonstrate positive spirit for lasting peace and prosperity in the region and beyond.’ The foreign minister thanked the US and Iran for responding positively to Pakistan’s call for an immediate ceasefire in the region and accepting Prime Minister Shehbaz Sharif’s invitation to hold peace talks in Islamabad. Ishaq Dar said that the two sides had held several rounds of “difficult and constructive negotiations” in which he, along with Army Chief Field Marshal Asim Munir, facilitated the talks. The foreign minister thanked both sides for “appreciating Pakistan’s efforts and its mediation role in achieving a ceasefire.” Ishaq Dar said: “It is essential that all parties continue to uphold their commitment to the ceasefire.”
In a post on Truth Social, Trump said that the reason for suspending the war is that we have already achieved all military objectives and have made great progress on a final agreement on long-term peace with Iran and peace in the Middle East. In the post, Donald Trump said that he had received a 10-point proposal from Iran and that he believed it provided a workable basis for negotiations. The US president also said that ‘the United States and Iran have reached an agreement on almost all the different points of past disputes; however, this two-week period will help finalize the agreement and implement it.’ The statement issued by Israel said: ‘Israel supports American efforts to ensure that Iran no longer poses a nuclear, missile, and terrorist threat to the United States, Israel, its Arab neighbors, and the world.’ The Pakistani prime minister said that Pakistan is committed to continuing close cooperation with all its friendly countries and partners to promote peace and stability in the region and beyond. Earlier, Pakistani Prime Minister Shehbaz Sharif had appealed to all parties to cease hostilities everywhere so that diplomacy can reach a final end to the war, which is essential for lasting peace and stability in the region. In his message on X, he said, “In order to allow diplomacy to complete its course, I sincerely request President Trump to extend the deadline.” He further wrote, “Pakistan sincerely requests its Iranian brothers to open the Strait of Hormuz for two weeks as a matter of good faith.” Following this appeal, Iranian Ambassador to Pakistan Reza Amiri Moqadam confirmed the progress in this regard and said, “Currently, the situation has moved one step beyond a very delicate and sensitive stage.” Reza Amiri suggested that “in the next stage, it is necessary to prioritize respect and mutual courtesy and replace rhetoric and unnecessary repetition with seriousness.” He wrote on the social media site X that “Pakistan’s positive and fruitful good faith efforts to prevent war are entering a very important and sensitive stage.”Remember, US President Donald Trump has claimed that the Strait of Hormuz is under complete US control and no ship can enter or leave this waterway without the permission of the US Navy. The US Navy has also ordered the US Navy to target Iranian boats laying mines in the Strait of Hormuz. President Trump has said in statements released on his social media platform, Truth Social, that Iran is currently facing serious difficulties in determining leadership and the internal political situation. He claimed that there are ongoing differences between hardliners and moderate groups within Iran. According to him, the hardliners are suffering losses on the war front, while moderate elements are gaining some acceptance. President Trump also claimed that the US has gained complete control over the Strait of Hormuz and now no ship can pass through this important waterway without the permission of the US Navy. According to him, this route will remain completely closed until Iran reaches an agreement.بنبست پایان یافت، هیئت ایرانی برای مذاکره وارد اسلامآباد شد
(اصغر علی مبارک)
احتمال زیادی برای پایان دادن به بنبست بین ایران و آمریکا وجود دارد و انتظار میرود هیئتی به رهبری عباس عراقچی، وزیر امور خارجه ایران، شب ۲۴ آوریل ۲۰۲۶ وارد اسلامآباد شود. این سفر بخشی از مرحله دوم مذاکرات اسلامآباد با میانجیگری پاکستان است که هدف آن کاهش تنشها بین ایران و آمریکا و پایدار کردن آتشبس جاری در خاورمیانه است.
جزئیات مهم در مورد این دور جدید مذاکرات به شرح زیر است:
ورود هیئت: عباس عراقچی، وزیر امور خارجه ایران، با هیئت کوچکی وارد میشود. پیش از این، محمد باقر قالیباف، رئیس مجلس ایران، نیز در ۱۱ آوریل برای دور اول مذاکرات وارد شد.
دستور کار مذاکرات: انتظار میرود موضوعات مهمی مانند طرح صلح ۱۰ مادهای ایران، تمدید آتشبس ایران و آمریکا، وضعیت تنگه هرمز و بازگرداندن داراییهای مسدود شده در این مذاکرات مورد بحث قرار گیرد.
نقش پاکستان: پاکستان نقش میانجی مرکزی را در این مسئله حساس دیپلماتیک ایفا میکند. مقامات پاکستانی، از جمله اسحاق دار، معاون نخست وزیر و فیلد مارشال عاصم منیر، فرمانده ارتش، در حال تسهیل تماسهای مستقیم و غیرمستقیم بین طرفین هستند. اگر مذاکرات موفقیتآمیز باشد، لغو تحریمهای ایران و از سرگیری پروژههایی مانند خط لوله گاز پاکستان-ایران میتواند ثبات بلندمدتی را برای اقتصاد پاکستان فراهم کند.
اسلام آباد، پایتخت پاکستان، یک هفته منتظر مذاکرات احتمالی صلح بین ایالات متحده و ایران بوده است، اما اکنون، در یک تحول قابل توجه، ممکن است دور دوم مذاکرات رسمی در مورد مسائل مورد مناقشه خاورمیانه برگزار شود. عباس عراقچی، وزیر امور خارجه ایران، روز جمعه با اسحاق دار، معاون نخست وزیر و وزیر امور خارجه پاکستان و فیلد مارشال سید عاصم منیر، فرمانده نیروهای دفاعی و فرمانده ارتش پاکستان، تماس گرفت. اگرچه هیچ اظهار نظر رسمی از سوی مقامات اسلام آباد صورت نگرفته است، اما میتوان دریافت که پاسخ مثبت ایران نتیجه تلاشهای مداوم پاکستان برای ترغیب ایران به آمدن به پای میز مذاکره با ایالات متحده در اسلام آباد و یافتن راه حلی از طریق مذاکره برای بحران خاورمیانه است. آمریکا چند هفتهای است که در مورد دور دوم مذاکرات ایران، یک راز بوده است. پاکستان در سه تا چهار هفته گذشته تلاشهای جدی برای آوردن ایران به پای میز مذاکره برای دور دوم مذاکرات در اسلامآباد انجام داده است. آمریکا آماده است تا هیئت عالیرتبه خود را برای گفتگو با طرف ایرانی در مورد این اختلاف اعزام کند، اما برخی تحولات اخیر منجر به گسترش شکاف بیاعتمادی بین طرفین درگیر شده و این امر منجر به تأخیر در مذاکرات شده است. با وجود تحولات منفی در چند روز گذشته، پاکستان همچنان برای آوردن ایران به پای میز مذاکره تلاش کرده و به هر دو طرف کمک کرده است تا راهحلی مسالمتآمیز برای جنگ خاورمیانه پیدا کنند. منابع رسمی در اسلامآباد میگویند که دور دوم مذاکرات بین ایران و آمریکا قریبالوقوع است. تمام جهان از نقش پاکستان به عنوان مذاکرهکننده کلیدی بین ایران و آمریکا برای پایان دادن به جنگ قدردانی میکند. به گفته سخنگوی وزارت امور خارجه پاکستان، در طول این گفتگو، تلاشهای اسلامآباد در زمینه تماسها و فرآیندهای دیپلماتیک بین آمریکا و ایران نیز مورد بحث قرار گرفت. اسحاق دار در این مراسم تأکید کرد که مذاکرات مداوم و تماسهای دیپلماتیک برای حل مسائل معوقه ضروری است تا صلح و ثبات در منطقه در اسرع وقت برقرار شود. عباس عراقچی، وزیر امور خارجه ایران، از نقش تسهیلکننده مداوم و سازنده پاکستان در این زمینه قدردانی کرد. دو رهبر توافق کردند که در آینده نیز تماسهای نزدیکی داشته باشند. وزارت امور خارجه اعلام کرد که پاکستان به حمایت از کاهش تنشها در منطقه و راهحل دیپلماتیک ادامه خواهد داد. به گزارش خبرگزاری نیمه رسمی ایرنا، عباس عراقچی، وزیر امور خارجه، مکالمات تلفنی جداگانهای با مقامات پاکستانی داشته است.ایران خواستار لغو محاصره توسط آمریکا پیش از آغاز مذاکرات بوده است. محمد باقر قالیباف، که رهبری هیئت ایرانی را در دور اول مذاکرات بر عهده داشت، در بیانیه اخیر خود گفت که ایران مذاکرات «زیر سایه تهدید» را نخواهد پذیرفت.
تیمهای امنیتی و پیشاهنگی آمریکا پیش از این به پاکستان رسیدهاند. اما هیئت اصلی هنوز آنجا را ترک نکرده است. رسانههای آمریکایی گزارش میدهند که جی دی ونس، معاون رئیس جمهور، آمریکا را به مقصد پاکستان ترک خواهد کرد.
نمایندگان هیئت آمریکایی جی دی ونس، معاون رئیس جمهور، جرد کوشنر، داماد ترامپ و استیو ویتکوف، فرستاده ویژه امور خاورمیانه خواهند بود. اگر هیئت ایرانی به اسلام آباد بیاید، به احتمال زیاد عباس عراقچی، وزیر امور خارجه ایران، نیز در آن حضور خواهد داشت. بین آمریکا و ایران آتشبس برقرار است. رئیس جمهور ترامپ هشدار داده است که اگر توافقی حاصل نشود، او همچنین تهدید کرده است که حملات و بمباران شدیدی علیه ایران انجام خواهد داد. هر دو طرف حتی قبل از مذاکرات ادعای پیروزی میکردند، بنابراین رسیدن به توافق از قبل دشوار به نظر میرسید.
دور اول مذاکرات در 11 و 12 آوریل در اسلام آباد برگزار شد، اما بدون هیچ نتیجهای پایان یافت. در حالی که در برخی مسائل پیشرفت حاصل شده است، اختلافات در برخی نکات کلیدی همچنان پابرجاست.
برنامه هستهای ایران؛
ایالات متحده میخواهد ایران برنامه هستهای خود را به طور کامل برچیند، در حالی که تهران اصرار دارد که چنین تحریمهایی فقط باید برای مدت محدودی باشد.
ذخیره اورانیوم غنیشده؛
به گفته ترامپ، ایالات متحده میخواهد حدود ۴۰۰ کیلوگرم اورانیوم غنیشده ایران را در اختیار بگیرد، که ایران آن را رد کرده است.
تنگه هرمز؛
ایران میگوید تا زمانی که ایالات متحده محاصره بنادر خود را لغو نکند، محدودیتهای کشتیرانی در تنگه هرمز را حفظ خواهد کرد. ترامپ میگوید این محاصره تا زمان دستیابی به توافق پابرجا خواهد ماند.
داراییهای مسدود شده؛
ایران خواستار آزادسازی حدود ۲۰ میلیارد دلار دارایی مسدود شده و لغو تحریمها تحت هر توافقی است.
غرامت جنگی؛
ایران همچنین خواستار غرامت حدود ۲۷۰ میلیارد دلاری برای خسارات ناشی از حملات ایالات متحده و اسرائیل است. دونالد ترامپ، رئیس جمهور ایالات متحده، در مورد احیای روابط دیپلماتیک با ایران سیگنال مثبتی داده است. او اعلام کرده است که هیئتی به رهبری معاون رئیس جمهور آمریکا طی چند ساعت آینده برای شروع روند مذاکره وارد اسلام آباد خواهد شد.
رئیس جمهور ترامپ به صراحت اعلام کرد که آماده ملاقات با رهبری ایران است، اما این امر به نتیجه مثبت مذاکرات در اسلام آباد بستگی دارد. به گفته کاخ سفید، هیئت آمریکایی به محض رسیدن به پاکستان، مذاکرات با مقامات ایرانی (با میانجیگری پاکستان) را آغاز خواهد کرد.
صبح یکشنبه، ۱۲ آوریل ۲۰۲۶، جی دی ونس، معاون رئیس جمهور آمریکا، پس از ۲۱ ساعت مذاکره با هیئت ایرانی در اسلام آباد، پایگاه هوایی نورخان را بدون توافق ترک کرد و بسیاری از سوالات را بی پاسخ گذاشت. آیا مذاکرات تمام شده است یا ادامه خواهد یافت؟ آینده آتش بس چه خواهد بود؟ مسیر بعدی اقدام برای ایالات متحده چه خواهد بود؟ جی دی ونس قبل از عزیمت خود یک کنفرانس مطبوعاتی کوتاه برگزار کرد که نکته اصلی آن این بود که هیچ توافق نهایی با ایران حاصل نشد. با این حال، تحلیلگران معتقدند که مذاکرات در اسلام آباد نه تنها تاریخی بود. جی دی ونس گفته بود که مذاکرات با هیئت ایرانی برگزار شد: «این خبر خوبی است. خبر بد این است که ما به توافق نرسیدیم.» و من فکر میکنم این خبر برای ایران بدتر از ایالات متحده است. او گفت: «ما به جایی نرسیدهایم که ایران شرایط ما را بپذیرد.» وقتی از او در مورد برنامه هستهای ایران سوال شد، گفت: «جلوگیری از دستیابی ایران به سلاح هستهای هدف اصلی فوری و بلندمدت رئیس جمهور دونالد ترامپ است.» جی دی ونس گفته بود که در طول مذاکرات در اسلام آباد، بیش از دوازده بار با ترامپ صحبت کرده است، با این حال، هنگام ترک اسلام آباد، جی دی ونس گفته بود: «ما با یک پیشنهاد بسیار ساده که آخرین و بهترین پیشنهاد ماست، اینجا را ترک میکنیم. خواهیم دید که آیا ایران آن را میپذیرد یا خیر.» این جمله ظاهراً این تصور را ایجاد کرد که ایالات متحده پیشنهادی به ایران داده است و اکنون منتظر پاسخ آن خواهیم بود. وقتی از جی دی ونس پرسیده شد که ایران از پذیرش چه شرایطی خودداری کرده است، معاون رئیس جمهور آمریکا پاسخ داد: «من نمیخواهم وارد جزئیات شوم زیرا پس از ۲۱ ساعت مذاکره پشت درهای بسته، نمیخواهم علناً مذاکره کنم.» با این حال، در یک مقطع گفت: «من خطوط قرمز خود را در مورد اینکه در کدام مسائل میتوانیم انعطافپذیری نشان دهیم و در کدام موارد، روشن کردهام.» و ما این را خیلی آشکارا به آنها گفتهایم، آنها شرایط ما را نپذیرفتهاند.»
جی دی ونس همچنین از شهباز شریف، نخست وزیر پاکستان، و فیلد مارشال عاصم منیر، فرمانده ارتش، تشکر کرد و گفت که هر دو میزبانان بسیار خوبی بودند و هرگونه کاستی در مذاکرات به دلیل پاکستانیها نبود «که کار بزرگی انجام دادند و واقعاً سعی کردند شکاف بین ایران و ما را پر کنند و توانستند به توافق برسند.»
موضع ایران همچنین پس از آن مطرح شد که معاون رئیس جمهور آمریکا مذاکرات را «بیفایده» اعلام کرد.محمدباقر قالیباف، که رهبری هیئت ایرانی در مذاکرات اسلامآباد را بر عهده داشت، گفت: «قبل از مذاکرات تأکید کردم که نیت و اراده لازم برای مذاکرات وجود دارد، اما به دلیل تجربیات دو جنگ گذشته، به طرف مقابل اعتماد نداریم.» باقر قالیباف، رئیس مجلس ایران، در بیانیهای که در X Account منتشر شد، گفت: «در طول مذاکرات، همکاران من در هیئت ایرانی پیشنهادهای مختلفی ارائه دادند، اما طرف مقابل نتوانست در این دوره از مذاکرات اعتماد هیئت ایرانی را جلب کند.» او گفت: «آمریکا منطق و اصول ما را درک کرده است، اکنون به عهده آنهاست که تصمیم بگیرند که آیا میتوانند اعتماد ما را جلب کنند یا خیر.» او به دیپلماسی و همچنین مبارزه نظامی برای دفاع از حقوق ملت ایران اعتقاد دارد. او گفت که لحظهای از موفقیتهای حاصل شده در دفاع از ملت ایران در طول جنگ چهل روزه عقبنشینی نخواهد کرد. او از پاکستان به خاطر ایفای نقش مهم در تسهیل روند مذاکرات تشکر کرد. پیش از این، اسماعیل بقایی، سخنگوی وزارت امور خارجه ایران، در بیانیهای که پس از کنفرانس مطبوعاتی جی. دی. ونس منتشر شد، گفته بود که در بسیاری از مسائل «تفاهم» حاصل شده است، اما دو طرف نتوانستند در مورد دو یا سه موضوع مهم به اجماع برسند و به همین دلیل مذاکرات در نهایت به توافق نرسید. او گفته بود: «این مذاکرات پس از ۴۰ روز جنگ تحمیلی و در فضایی از بیاعتمادی و سوءظن برگزار شد. طبیعی است که از همان ابتدا نباید انتظار توافق در یک جلسه را داشت. هیچکس چنین انتظاری نداشت.» به گفته اسماعیل بقایی، برخی موضوعات جدید، از جمله تنگه هرمز، نیز در این مذاکرات گنجانده شده است و هر موضوع پیچیدگیهای خاص خود را دارد. سخنگوی وزارت امور خارجه ایران گفت: «دیپلماسی هرگز پایان نمییابد و وسیلهای برای حفاظت از منافع ملی است.» حدود دو ساعت پس از کنفرانس مطبوعاتی معاون رئیس جمهور آمریکا، اسحاق دار، وزیر امور خارجه و معاون نخست وزیر پاکستان، یک کنفرانس مطبوعاتی برگزار کرد و ابراز امیدواری کرد که «هر دو طرف به نشان دادن روحیه مثبت برای صلح و رفاه پایدار در منطقه و فراتر از آن ادامه دهند.» وزیر امور خارجه از ایالات متحده و ایران به خاطر پاسخ مثبت به درخواست پاکستان برای آتشبس فوری در منطقه و پذیرش دعوت نخست وزیر شهباز شریف برای برگزاری مذاکرات صلح در اسلام آباد تشکر کرد. اسحاق دار گفت که دو طرف چندین دور «مذاکرات دشوار و سازنده» برگزار کردهاند که در آن او به همراه سپهبد عاصم منیر، رئیس ارتش، مذاکرات را تسهیل کردهاند. وزیر امور خارجه از هر دو طرف به خاطر «قدردانی از تلاشهای پاکستان و نقش میانجیگری آن در دستیابی به آتشبس» تشکر کرد. اسحاق دار گفت: «ضروری است که همه طرفها به تعهد خود به آتشبس ادامه دهند.»
ترامپ در پستی در وبسایت Truth Social گفت که دلیل تعلیق جنگ این است که ما قبلاً به تمام اهداف نظامی دست یافتهایم و پیشرفت زیادی در توافق نهایی در مورد صلح بلندمدت با ایران و صلح در خاورمیانه داشتهایم. در این پست، دونالد ترامپ گفت که پیشنهادی 10 مادهای از ایران دریافت کرده است و معتقد است که این پیشنهاد، مبنای عملی برای مذاکرات فراهم میکند. رئیس جمهور آمریکا همچنین گفت که «ایالات متحده و ایران تقریباً در مورد تمام نکات مختلف اختلافات گذشته به توافق رسیدهاند، با این حال، این دوره دو هفتهای به نهایی شدن توافق و اجرای آن کمک خواهد کرد.» در بیانیه صادر شده توسط اسرائیل آمده است: «اسرائیل از تلاشهای آمریکا برای اطمینان از اینکه ایران دیگر تهدیدی هستهای، موشکی و تروریستی برای ایالات متحده، اسرائیل، همسایگان عرب خود و جهان ایجاد نکند، حمایت میکند.» نخست وزیر پاکستان گفت که پاکستان متعهد به ادامه همکاری نزدیک با همه کشورهای دوست و شرکای خود برای ارتقای صلح و ثبات در منطقه و فراتر از آن است. پیش از این، شهباز شریف، نخست وزیر پاکستان، از همه طرفها خواسته بود که خصومتها را در همه جا متوقف کنند تا دیپلماسی بتواند به پایان نهایی جنگ برسد، که برای صلح و ثبات پایدار در منطقه ضروری است. او در پیام خود در X گفت: «برای اینکه دیپلماسی مسیر خود را طی کند، صمیمانه از رئیس جمهور ترامپ درخواست میکنم که مهلت را تمدید کند.» او همچنین نوشت: «پاکستان صمیمانه از برادران ایرانی خود میخواهد که به عنوان نشانهای از حسن نیت، تنگه هرمز را به مدت دو هفته باز کنند.» پس از این درخواست، رضا امیری مقدم، سفیر ایران در پاکستان، پیشرفت در این زمینه را تأیید کرد و گفت: «در حال حاضر، وضعیت یک گام فراتر از یک مرحله بسیار ظریف و حساس رفته است.» رضا امیری پیشنهاد کرد که «در مرحله بعدی، لازم است احترام و ادب متقابل را در اولویت قرار دهیم و لفاظی و تکرار غیرضروری را با جدیت جایگزین کنیم.» او در سایت رسانه اجتماعی X نوشت که «تلاشهای مثبت و ثمربخش پاکستان برای جلوگیری از جنگ، وارد مرحله بسیار مهم و حساسی میشود.»به یاد داشته باشید، دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، ادعا کرده است که تنگه هرمز تحت کنترل کامل ایالات متحده است و هیچ کشتی نمیتواند بدون اجازه نیروی دریایی ایالات متحده وارد یا از این آبراه خارج شود. نیروی دریایی ایالات متحده همچنین به نیروی دریایی ایالات متحده دستور داده است که قایقهای ایرانی را که در تنگه هرمز مینگذاری میکنند، هدف قرار دهد. رئیس جمهور ترامپ در اظهاراتی که در پلتفرم رسانه اجتماعی خود «Truth Social» منتشر کرد، گفت که ایران در حال حاضر با مشکلات جدی در تعیین رهبری و وضعیت سیاسی داخلی روبرو است. او ادعا کرد که اختلافات مداومی بین تندروها و گروههای میانهرو در داخل ایران وجود دارد، به گفته وی، تندروها در جبهه جنگ متحمل خساراتی میشوند، در حالی که عناصر میانهرو تا حدودی پذیرفته میشوند. رئیس جمهور ترامپ همچنین ادعا کرد که ایالات متحده کنترل کامل تنگه هرمز را به دست آورده است و اکنون هیچ کشتی نمیتواند بدون اجازه نیروی دریایی ایالات متحده از این آبراه مهم عبور کند. به گفته وی، این مسیر تا زمانی که ایران به توافقی دست یابد، کاملاً بسته خواهد ماند.











