Battle of Truth; Pakistan defeated India with the power of truthمعرکہِ حق: سچائی کی وہ طاقت جس نے بھارتی غرور کو خاک میں ملا دیا
(اصغر علی مبارک )
پاکستان کی دفاعی تاریخ میں مئی 2025ء کا “معرکہِ حق” (آپریشن بنیان مرصوص) وہ درخشاں باب ہے جس نے قوم کے عزم، ایمان اور حب الوطنی کو نئی بلندیوں سے روشناس کرایا۔ آج اس عظیم الشان عسکری و اخلاقی کامیابی کو ایک برس مکمل ہو چکا ہے، لیکن اس کی گونج دشمن کے ایوانوں میں آج بھی لرزہ طاری کر دیتی ہے۔
یہ صرف ایک جنگ نہیں تھی، بلکہ حق و باطل کا وہ معرکہ تھا جہاں پاکستان نے سچائی کی طاقت سے بھارتی پروپیگنڈے کے پہاڑ کو ریت کی دیوار ثابت کر دیا۔
پہلگام واقعہ:
بھارتی سازش کا آغازاس تنازع کی بنیاد 22 اپریل 2025ء کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک مشکوک حملے سے رکھی گئی، جسے بنیاد بنا کر نئی دہلی نے روایتی مہم جوئی کا آغاز کیا۔ بھارت نے ثبوت فراہم کرنے کے بجائے “سندھ طاس معاہدہ” معطل کرنے جیسی گیدڑ بھبکیاں دیں، لیکن پاکستان نے نہایت ذمہ دارانہ رویہ اپنایا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی منصفانہ پیشکش کی، جسے بھارت نے اپنے مزموم مقاصد کی خاطر مسترد کر دیا۔
آئی ایس پی آر کا پیغام:
“تیار، مستعد اور بے خوف”معرکہِ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر افواجِ پاکستان کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک نہایت طاقتور بیان جاری کیا ہے۔ ترجمانِ افواجِ پاکستان کے مطابق، پاک افواج مستقبل کے جنگی ماحول کے لیے پہلے سے زیادہ تیار، مرکوز اور مکمل طور پر مستعد ہیں۔ آئی ایس پی آر نے دشمن کو دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ “معرکہِ حق میں دشمن نے پاکستان کی فیصلہ کن صلاحیت کا مشاہدہ کیا، اب کسی بھی مہم جوئی کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت اور درستگی کے ساتھ دیا جائے گا۔”
پاک فضائیہ: فضاؤں کی ناقابلِ تسخیر محافظ ;
اس معرکے کا مرکز پاک فضائیہ کی وہ پیشہ ورانہ برتری تھی جس نے دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، آپر یشن بنیان مرصوص کے دوران فضائی کارروائیاں تاریخ میں منفرد اور اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا شاہکار تھیں۔ آج پاک فضائیہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس، اسمارٹ سسٹمز اور ملٹی ڈومین آپریشنز کے ذریعے ایک ایسی فیصلہ کن قوت بن چکی ہے جو ہر قسم کے جدید چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ڈیجیٹل محاذ پر فتح;
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے درست نشاندہی کی کہ سچائی کی طاقت نے بھارتی میڈیا کی ڈرامہ بازی کو پاش پاش کر دیا۔ جہاں بھارت نے سچ کے خوف سے پاکستانی یوٹیوب چینلز بند کیے، وہاں پاکستان نے اپنی منفرد ڈیجیٹل حکمت عملی کے تحت بھارتی صارفین تک حقائق پر مبنی ویڈیوز پہنچائیں، جس نے خود بھارتی عوام کو اپنی حکومت کے جھوٹ پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا۔امن کی خواہش مگر وقار کے ساتھافواجِ پاکستان کے بیان کے مطابق، پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور اس کی تزویراتی سوچ پختہ ہے، لیکن یہ امن ہمیشہ عزت، وقار اور خود مختار برابری کے اصولوں سے جڑا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک افواج خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال اور دشمن کی ہر چال سے پوری طرح باخبر ہیں۔
معرکہِ حق نے ثابت کر دیا کہ جدید جنگ صرف روایتی میدانوں میں نہیں بلکہ ذہنوں اور بیانیوں کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہے۔ آج پوری قوم پاک فضائیہ کے ان غازیوں اور شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنی جرات سے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔ 10 مئی ‘یومِ معرکۂ حق نے یہ پیغام واضح کیا ہے کہ “سچ” وہ ہتھیار ہے جس کے سامنے دنیا کا بڑے سے بڑا پروپیگنڈا بھی نہیں ٹھہر سکتا۔
مئی 2025ء کی “معرکہِ حق” (آپریشن بنیان مرصوص) پاکستان کی دفاعی تاریخ کا وہ سنہرا اور درخشاں باب ہے جس نے قوم کے ایمان، جرات اور حب الوطنی کے جذبوں کو نئی بلندیوں سے روشناس کرایا۔
آج جب اس غیر معمولی عسکری کامیابی کو ایک برس مکمل ہو چکا ہے، اس کی بازگشت اب بھی ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہے، جو مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور قومی عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پہلگام واقعہ اور بھارتی عزائم کا بے نقاب ہونااس معرکے کا پس منظر اپریل 2025ء کے پہلگام واقعے سے جڑا ہے، جسے بنیاد بنا کر بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔
23 اپریل کو بھارتی کابینہ نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی جیسے سخت اقدامات کا اعلان کر کے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا۔ اس کے برعکس، وزیراعظم شہباز شریف نے 26 اپریل کو کاکول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی منصفانہ پیشکش کی، جسے بھارت نے اپنے مخصوص خوف کی وجہ سے مسترد کر دیا۔
سچائی کی طاقت اور ڈیجیٹل دفاع ;وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اس معرکے کی پہلی سالگرہ پر درست نشاندہی کی کہ سچائی کی طاقت نے بھارتی پروپیگنڈے کو پاش پاش کر دیا۔ بھارتی میڈیا کی ڈرامہ بازی اور سنسنی خیزی کے مقابلے میں پاکستان نے حقائق پر مبنی بیانیہ دنیا کے سامنے رکھا۔ پاکستان نے اپنی منفرد ڈیجیٹل حکمت عملی کے تحت بھارتی لوکیشنز کو جیو ٹیگ کر کے وہاں کے عوام تک پاک فضائیہ کے نغمے اور جے ایف-17 تھنڈر کی کارکردگی پہنچائی، جس نے خود بھارتی عوام کو اپنی حکومت کے جھوٹ پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا۔
پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے اس موقع پر کئی اہم سوالات اٹھائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پہلگام واقعے کے چند منٹ بعد ہی ایف آئی آر کا اندراج اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ دنیا نے دیکھا کہ بھارتی جارحیت کا شکار معصوم بچے اور عام شہری ہوئے، جس سے بھارت کا “دہشت گردی کا ڈرامہ” ہمیشہ کے لیے بے نقاب ہو گیا۔ جہاں بھارتی عسکری قیادت سیاسی بیانات میں الجھی رہی، وہیں پاک مسلح افواج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اعلیٰ پیشہ ورانہ طرزِ عمل اپنایا۔جدید جنگ کے نئے تقاضے اور پاکستان کی تیاریآپریشن بنیان مرصوص نے ثابت کیا کہ آج کی جنگ صرف روایتی میدانوں تک محدود نہیں بلکہ یہ زمین، سمندر، فضا کے ساتھ ساتھ سائبر اور انفارمیشن وارفیئر (Information Warfare) تک پھیلی ہوئی ہے۔ پاکستان نے ان تمام محاذوں پر اپنی برتری ثابت کی اور دنیا کو دکھا دیا کہ وہ ایک ذمہ دار اور ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے دفاع کے لیے ہر لمحہ تیار ہے۔
آج ایک سال مکمل ہونے پر دنیا پاکستان کو ایک سنجیدہ اور مضبوط ملک کی حیثیت سے دیکھ رہی ہے۔
وزیراعظم کے وژن اور عسکری قیادت کے دفاعی و سفارتی اقدامات کی بدولت پاکستان نہ صرف دفاع بلکہ معاشی لحاظ سے بھی اپنا جائز مقام حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ 6 مئی کی رات تقریباً 1 بجے کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں خصوصاً مظفرآباد، کوٹلی، بہاولپور اور مریدکے کے اطراف دھماکوں کی اطلاعات آنا شروع ہوئیں۔ کچھ ہی دیر بعد بھارتی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ اس نے ‘آپریشن سندور’ کے تحت پاکستان اور آزاد کشمیر میں مبینہ ‘دہشت گرد ٹھکانوں’ کو نشانہ بنایا ہے۔ بھارت کے مطابق کارروائی رات گئے شروع ہوئی اور اس میں فضائیہ کے رافیل طیاروں اور دیگر جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب پاکستانی فضائیہ نے فوری طور پر ایئر ڈیفنس اور فضائی ردعمل دینا شروع کیا۔ پاکستانی عسکری ذرائع کے مطابق بھارتی طیارے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے بغیر اسٹینڈ آف ہتھیار استعمال کر رہے تھے جبکہ پاکستان نے اپنے لڑاکا طیارے فضا میں بھیج دیے۔ اس دوران لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے قریب ایک بڑی فضائی جھڑپ ہوئی جسے بعد میں کئی بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں نے حالیہ دہائیوں کی بڑی فضائی لڑائیوں میں شمار کیا۔6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستانی میڈیا پر تقریباً رات 3 بجے سے 3:30 بجے کے درمیان یہ خبریں چلنا شروع ہوئیں کہ پاکستان نے بھارتی جنگی طیارے مار گرائے ہیں۔ ابتدائی طور پر تعداد واضح نہیں تھی، تاہم صبح فجر کے بعد سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع نے دعویٰ کیا کہ متعدد بھارتی طیارے تباہ ہوئے ہیں جن میں کم از کم ایک یا زیادہ رافیل طیارے شامل ہیں۔پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 7 مئی کی صبح پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے دشمن کے 5 طیارے مار گرائے ہیں جن میں رافیل، مگ 29 اور ایس یو 30 شامل تھے۔ پاکستانی میڈیا میں یہی وہ لمحہ تھا جب رافیل گرنے کی خبر بڑے پیمانے پر بریکنگ نیوز بنی۔ بھارت نے ابتدا میں طیاروں کے نقصان کی واضح تصدیق نہیں کی، تاہم بعد میں بین الاقوامی میڈیا میں ایسے شواہد اور انٹیلی جنس رپورٹس سامنے آئیں جن میں کم از کم کچھ بھارتی طیاروں کے نقصان کا ذکر کیا گیا۔ فرانسیسی اور امریکی ذرائع ابلاغ میں بھی یہ رپورٹ ہوا کہ ایک یا زیادہ رافیل طیاروں کے نقصان کے امکانات زیرِ غور ہیں، اگرچہ بھارتی حکومت نے باضابطہ طور پر رافیل طیارے گرنے کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی۔6 اور 7 مئی کی درمیانی شب ہوئے حملوں میں پاکستانی حکام کے مطابق شہری علاقے متاثر ہوئے اور خواتین و بچوں سمیت سویلین افراد شہید ہوئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے۔ جبکہ اُسی روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا صورتحال کو قریب سے دیکھ رہا ہے اور دونوں ممالک سے تحمل کی اپیل کرتا ہے۔8 مئی کو لائن آف کنٹرول اور پاک بھارت بین الاقوامی سرحد پر شدید گولہ باری جاری رہی۔ بھارت نے پاکستان پر ڈرون حملوں کا الزام لگایا جبکہ پاکستان نے کہا کہ بھارتی ڈرونز کو مار گرایا گیا۔ پاکستان نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بھارت کی جانب سے بھی فوجی تیاریوں میں اضافہ کیا گیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ابتدائی طور پر کہا کہ یہ معاملہ امریکا کا براہ راست مسئلہ نہیں لیکن بعد میں واشنگٹن نے سفارتی سرگرمیاں تیز کردیں۔چین، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، برطانیہ اور جی 7 ممالک نے دونوں ممالک سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کی۔9مئی کو صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کئے۔ پاکستان نے فتح سیریز کے میزائلوں سمیت محدود جوابی کارروائیوں کا اشارہ دیا۔ اسی روز امریکی سفارتکاری انتہائی متحرک ہوگئی۔ مارکو روبیو نے وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے رابطہ کیا اور فوری ڈی ایسکلیشن پر زور دیا۔ امریکی ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس نے نریندر مودی سے رابطہ کیا جبکہ مارکو روبیو نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے گفتگو کی۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اگر بھارت حملے روکے تو پاکستان کشیدگی کم کرنے پر آمادہ ہے۔10مئی کی صبح بھارت نے پاکستان کے بعض فضائی اڈوں پر حملوں کی کوشش کی۔ پاکستان نے اس کے جواب میں آپریشن بنیان المرصوص شروع کرنے کا اعلان کیا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق اس کارروائی میں بھارتی فوجی تنصیبات اور اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی فضائیہ اور فوج نے بھارت کے مزید اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں بھارت کا فضاتی دفاعی نظام ایس 400 بھی شامل تھا جبکہ بھارت نے کہا کہ اس نے پاکستانی حملے ناکام بنائے۔ دونوں ممالک کے درمیان میزائل، ڈرون اور فضائی کارروائیاں جاری رہیں۔اسی دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ امریکہ کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت فوری جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں۔ بعد ازاں بھارتی خارجہ سیکریٹری وکرم مسری اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی جنگ بندی کی تصدیق کی۔ اعلان کے مطابق شام 5 بجے بھارتی وقت سے زمینی، فضائی اور بحری کارروائیاں روکنے پر اتفاق ہوا۔ شہباز شریف نے ٹرمپ، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، چین، برطانیہ اور اقوام متحدہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی میں ان کا اہم کردار رہا۔ بھارت نے بعد میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ جنگ بندی براہ راست فوجی رابطوں کے ذریعے طے ہوئی، کسی تیسرے فریق کی ثالثی نہیں تھی۔ جنگ بندی کے چند گھنٹوں بعد بھارت نے پاکستان پر خلاف ورزی کا الزام لگایا جبکہ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کردیا۔ پاکستان میں 10 مئی کو بعد ازاں ‘یومِ معرکۂ حق’ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔اس دوران،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ’معرکہ حق‘ میں پاکستان کی کامیابی صرف فضائیہ، بحریہ اور دیگر فورسز کی نہیں بلکہ انٹیلیجنس اداروں کی بروقت اور درست معلومات کا بھی بڑا کردار تھا۔پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے جنگ کے دوران انتہائی اہم اور بروقت معلومات فراہم کیں، جن کی بنیاد پر پیشگی تیاری ممکن ہوئی۔ ان کے مطابق یہ معلومات تقریباً مکمل طور پر درست ثابت ہوئیں، جس سے آپریشنز کے نتائج بہت بہتر آئےانہوں نے کہا کہ اس جنگ میں ڈرون حملوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق دشمن نے مختلف چھوٹے اور درمیانے سائز کے ڈرونز کے ذریعے مختلف علاقوں میں حملے کرنے کی کوشش کی، تاہم پاکستان نے مؤثر دفاعی حکمت عملی سے انہیں ناکام بنایا۔وفاقی وزیر کے مطابق اس دوران دشمن کی جانب سے بڑے پیمانے پر ڈرون سرگرمیاں دیکھی گئیں، جس سے خطے میں خوف و ہراس کی صورتحال بھی پیدا ہوئی، تاہم پاکستان نے اپنے دفاعی نظام کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا۔پاکستان کی حکمت عملی کا مقصد صرف دفاع تھا اور کسی بھی مرحلے پر شہری آبادی یا سویلین مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ مزید کہا کہ پوری جنگ کے دوران پاکستان کی توجہ صرف اپنے دفاعی نظام، تنصیبات اور قومی سلامتی کے تحفظ پر رہی، اور تمام اداروں نے مل کر بہترین ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا۔کہا کہ “معرکہ حق” میں حاصل ہونے والی کامیابی قومی اتحاد، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید دفاعی صلاحیتوں کا نتیجہ ہے، جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ ہماری رینجرز جو بارڈر کے بالکل ساتھ ہوتی ہیں، انہوں نے کئی دنوں تک پاکستان میں داخل ہونے والے ڈرونز کو گرا دیا۔ آپ کے سامنے ہے کہ جن کے پاس اور کچھ نہیں تھا وہ اپنی گنز استعمال کر کے ڈرونز گراتے رہے۔ بہت کم تعداد ہے جو شہروں تک پہنچی، زیادہ تر ڈرونز جو تھے وہ ہماری رینجرز نے بارڈر پر ہی گرا دیے۔انہوں نے ہماری تقریباً 100 کے قریب پوسٹوں پر اس وقت حملہ کیا تھا، اور اللہ کا شکر ہے کہ ان کو اسی طرح کا جواب ملا جس کے وہ مستحق تھے۔ آپ کے سامنے وہ تصویریں بھی موجود ہیں جن میں انہیں ایل او سی پر خود سفید جھنڈا لہرانا پڑا کہ اب بس کر دیں۔وزیر داخلہ کے مطابق سائبر اٹیک کی بھی انہوں نے کوشش کی کہ کہیں نہ کہیں کامیاب ہو جائیں، یہ وہ ساری چیزیں ہیں جو جنگوں میں نئے طریقوں سے استعمال ہوتی ہیں، جو عام جنگ سے بالکل مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ سائبر حملوں میں وہ ہم تک پہنچ نہیں سکے۔ جو ہمارے نوجوانوں نے ان کے ساتھ کیا، وہ بہتر وہی بتا سکتے ہیں۔کیونکہ ان کا کوئی نظام ایسا نہیں تھا جو محفوظ رہ گیا ہو۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمارے میڈیا نے اس معاملے کو بہترین انداز میں پیش کیا، جس پر میں سب سے زیادہ تعریف کروں گا کہ انہوں نے پورے ملک میں اتحاد اور ایک آواز پیدا کی۔ پاکستان میں اس سے پہلے ایسی مثال نہیں ملتی۔ دوسری طرف بھارتی میڈیا مسلسل کنفیوژن کا شکار رہا، اور آپ کو یاد ہوگا کہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر حملے کی خبریں پھیلا دیں، جبکہ ہم بار بار کہہ رہے تھے کہ ابھی ہم نے کوئی حملہ نہیں کیا، جب کریں گے تو بتا کر کریں گے، چھپ کر نہیں کریں گے۔ انہوں نے پورے بھارت میں یہ تاثر دیا کہ امرتسر اور دیگر علاقوں پر حملے ہو گئے ہیں، جبکہ ہماری پوزیشن واضح تھی کہ جب بھی کارروائی ہوگی تو سامنے سے اور واضح ہوگی۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ معرکہ حق کے دوران اور خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت میں کئی ایسے مواقع آئے جن میں غیر معمولی حالات پیدا ہوئے، تاہم ان کا حل اللہ تعالیٰ کی مدد اور بہترین حکمت عملی سے ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں اہم فیصلوں کے دوران غیر معمولی حالات بھی پیدا ہوئے، لیکن جس طرح معاملات سنبھالے گئے وہ قابلِ ذکر ہے۔ ان کے مطابق ایسے مواقع بھی آئے جب صورتحال انتہائی حساس تھی اور فیصلہ کن لمحات میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں محسن نقوی نے کہا کہ انہوں نے خود دیکھا کہ مذاکرات کے دوران بعض اوقات بات چیت ٹوٹنے کے قریب پہنچ جاتی تھی اور پھر اچانک دوبارہ بحال ہو جاتی تھی۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسا عمل تھا جس میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ اسی طرح جنگ کے دوران بھی ایک اہم موقع پر بلوچستان کے ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا گیا، اس وقت صورتحال انتہائی حساس تھی اور سیزفائر کے قریب معاملات چل رہے تھے۔ ان کے مطابق تقریباً 16 میزائل داغے گئے، تاہم ان میں سے زیادہ تر اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکے اور صرف ایک میزائل نے ہدف کو متاثر کیا، جبکہ باقی میزائل راستے میں ہی ناکام ہو گئے۔اس طرح کی صورتحال میں اس حد تک درست دفاعی ردعمل ممکن ہونا غیر معمولی بات ہے اور ان کے مطابق یہ صرف حکمت عملی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاص مدد اور نصرت کا نتیجہ تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب حالات انتہائی نازک ہوں تو کامیابی کے لیے بہترین منصوبہ بندی اور اللہ کی مدد دونوں ضروری ہوتے ہیں۔ معرکہ حق کے دوران پاکستان کی جانب سے کیے گئے دفاعی اور جوابی اقدامات انتہائی درست نشانے پر تھے اور دشمن کے اہم اہداف کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔بتایا کہ ایک موقع پر بھارت کے ایک بڑے اور حساس علاقے کی جانب میزائل فائر کیے گئے، تاہم درست ہدف بندی کے باعث یہ میزائل اپنی اصل ہدف سے ہٹ کر صرف فوجی نوعیت کے اہداف تک محدود رہے، جس سے شہری آبادی کو نقصان نہیں پہنچا۔ اگر معمولی سی بھی غلطی ہو جاتی تو سول آبادی متاثر ہو سکتی تھی، تاہم پاکستان کی جانب سے انتہائی احتیاط اور درستگی کے ساتھ کارروائی کی گئی۔ وفاقی وزیر کے مطابق اس دوران بھارت کے بڑے ایندھن ذخائر اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے اس کے اہم اسٹوریج نظام کو نقصان پہنچا۔ان کارروائیوں کے دوران درجنوں اہداف زیر نگرانی اور نشانے پر تھے، اور پاکستان کی دفاعی حکمت عملی انتہائی مؤثر ثابت ہوئی۔ مزید کہا کہ اس صورتحال میں دشمن کو احساس ہو گیا تھا کہ اگلے چند گھنٹوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، اسی لیے کشیدگی کم کرنے کے لیے سیزفائر کی طرف پیش رفت کی گئی۔ پاکستان کی کامیابی کا ایک بڑا سبب درست منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی اور بروقت فیصلے تھے جنہوں نے جنگی صورتحال میں واضح برتری دلائی۔قبل ازیں,پاکستان ایئرفورس کی جانب سے ’معرکہ حق‘ میں شاندار کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر نے خطاب کیا اور اس موقع کو قابلِ فخر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی پاکستان فضائیہ کے بلند حوصلے، پیشہ ورانہ مہارت اور فوری ردعمل کا نتیجہ ہے۔ایئر چیف کے مطابق کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر پاک فضائیہ نے فوری طور پر ہائی الرٹ نافذ کیا اور فضائی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی ہر نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی گئی اور جدید ریڈار سسٹم اور فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال رکھا گیا۔بتایا کہ پاک فضائیہ نے مختلف علاقوں میں مسلسل فضائی گشت اور فوری ردعمل کے لیے جنگی طیاروں کی تیاری برقرار رکھی تاکہ کسی بھی جارحیت کا فوری جواب دیا جا سکے۔ ان کے مطابق متعدد آپریشنز کے دوران فضائیہ نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔ایئر چیف مارشل نے کہا کہ پاک فضائیہ نے نہ صرف دفاعی حکمت عملی کو مؤثر بنایا بلکہ مختلف علاقوں میں اپنی دفاعی اور آپریشنل تیاریوں کو بھی تیزی سے مکمل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فضائیہ ہر سطح پر ہمہ وقت تیار ہے اور کسی بھی صورتحال میں ملک کا دفاع یقینی بنائے گی۔ایئر چیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’معرکہ حق‘ پاکستان فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کی روشن مثال ہے اور یہ تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھی جائے گی۔ پاکستان فضائیہ کے مطابق دشمن نے ابتدا میں اپنی ایک ناکام فضائی حکمتِ عملی ہاشم آرا میں تعینات کی، جسے بعد میں امبالہ منتقل کیا گیا اور پھر یہ پورا فضائی نظام گوالیار کی طرف منتقل کر دیا گیا۔ یہ حکمتِ عملی اس مقصد کے لیے تھی کہ اپنی مرکزی فضائی طاقت کو چھپایا جا سکے، تاہم پاکستان فضائیہ کے جنوبی اور مرکزی علاقوں میں سخت اور جارحانہ فضائی پوزیشن کے باعث دشمن کو اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنا پڑی اور اسے شمال سے جنوب تک اپنے طیارے دوبارہ تعینات کرنے پڑے، جس سے ان کی اصل پوزیشن ظاہر ہو گئی۔پاکستان فضائیہ نے اسی دوران اپنی حکمتِ عملی کو خفیہ رکھنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جن میں الیکٹرانک سگنلز میں تبدیلی، بار بار نقل و حرکت اور غیر متوقع آپریشنل پیٹرن شامل تھے۔ اس حکمتِ عملی کے باعث دشمن کو پاکستان کے منصوبوں کا اندازہ نہیں ہو سکا۔ فضائیہ کے مطابق دشمن کی اس عسکری تیاری کے مقابلے میں پاکستان فضائیہ مکمل الرٹ رہی اور مسلسل فضائی نگرانی جاری رکھی تاکہ ملکی فضائی حدود کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس دوران وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر کتاب ’دی بیٹل آف ٹروتھ‘ کی تقریب رونمائی کی گئی، جس کے مہمان خصوصی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف تھے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ، پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال عزیز اور وفاقی سیکریٹری اطلاعات و نشریات اشفاق احمد خلیل نے پکچر بک ’دی بیٹل آف ٹروتھ‘ کی رونمائی کی۔ تقریب میں کتاب کے حوالے سے دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ معرکہ حق میں پاکستان نے بیانیے اور سفارتی محاذ پر بھارت کو شکست دی۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بھارت کے خلاف عظیم فتح عطا کی انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا نے معرکہ حق میں انتہائی مثبت کردار ادا کیا، اور اس فتح کے پیچھے پوری قوم کا جذبہ اور لگن شامل تھی۔ ان کے مطابق بیانیے کی جنگ میں پاکستان کے میڈیا، سوشل میڈیا اور نوجوانوں نے بھرپور ساتھ دیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارت کی مکاری، جھوٹ اور منافقت سب پر عیاں ہے، اور دنیا نے بھارت کے بیانیے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ زندہ قومیں عزت اور وقار کے ساتھ اپنا مقام خود بناتی ہیں۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ حق اور سچ پر ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل رہی، اور انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ ان کے مطابق معرکہ حق کے دوران آئی ایس پی آر اور وزارت اطلاعات کے درمیان مکمل ہم آہنگی رہی۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد اور اتفاق کی بدولت قومی بیانیے کی ترویج ممکن ہوئی اور اسی اتحاد کے باعث بیانیے کی جنگ جیتی گئی۔ تقریب سے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض (ہلال امتیاز ملٹری)، زرین خان مگسی، ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور سینیٹر پلوشہ خان نے بھی خطاب کیا۔اس دوران،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معرکہ حق کا یاد گار سال مکمل ہونے پر قوم اور مسلح افواج کو مبارکباد پیش کی ہے اور اسے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرصدارت کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ فیلڈ مارشل نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ معرکہ حق قومی اتحاد، اجتماعی عزم اور پاکستان کی خودمختاری کی ہر قیمت پر تحفظ کے غیر متزلزل عہد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ معرکہ حق عوام، حکومت اور افواجِ پاکستان کے درمیان غیر متزلزل ہم آہنگی کی علامت ہے، جو تمام اندرونی و بیرونی چیلنجز کے مدِمقابل ’بنیان مرصوص‘ کی مانند یکجا کھڑے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کو کمانڈرز کانفرنس میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے معصوم شہریوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ فورم نے شہدا کی بے مثال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اعادہ کیاکہ شہدا کی لازوال قربانیاں ہمیشہ پاکستان کی قومی سلامتی، اتحاد اور استقامت کی بنیاد بنی رہیں گی۔
آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے پاکستان کی مسلح افواج کی تیاری، پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی صلاحیتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔
آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر جاری انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں میں کمانڈرز اور فارمیشنزکے عزم، مستعدی اور کامیابی کو سراہا۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ دہشتگرد نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے، اُن کے معاون انفراسٹرکچر کی تباہی اور پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی شر انگیز کارروائی سے روکنے کے لیے موجودہ آپریشنل رفتار برقرار رکھی جائے گی۔

فورم نے آپریشن غضب للحق کے ذریعے دہشتگردوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کی مسلسل تباہی کا احاطہ کیا۔

کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی غیر منطقی اور گمراہ کن پالیسی کے تحت خوارج اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

فورم نے کہاکہ افغان طالبان رجیم کی دہشتگردی کو سپورٹ افغان عوام کے مفادات کے مکمل برعکس ہے اور یہ رجیم اب اپنے عوام کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔

فورم کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایک مسلسل پروپیگنڈا کے تحت پاکستان پر افغانستان کے اندر شہریوں کو نشانہ بنا نے کا جھوٹا الزام لگایا جارہا ہے۔

فورم نے کہاکہ یہ گمراہ کن بیانیہ افغان طالبان رجیم کی ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا اور خود کو مظلوم پیش کرنے کا ڈرامہ رچانا ہے۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ پاکستان ان بے بنیاد الزامات کو واضح طور پر مسترد کر تا ہے اور واضح کرتا ہے کہ ہماری دفاعی کارروائیاں صرف دراندازوں، دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور معان انفراسٹرکچر کے خلاف درست اہداف پر مبنی ہیں۔

فورم نے علاقائی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیاکہ ابھرتی ہوئی جیو پولیٹیکل پیشرفت علاقائی استحکام پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

کورکمانڈرز کانفرنس میں علاقائی کشیدگی سے بچاؤ اور تحمل اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ پاکستان مسلسل ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطے میں استحکام کے فروغ اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

فورم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خطے میں امن اور استحکام کا دارومدار باہمی تحمل، ذمہ داری اور خودمختاری کے احترام پر مبنی ہے۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ قومی سطح پر معرکہ حق کی یاد منانا بھارتی متکبرانہ سیاسی سوچ کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستانی قوم متحد، مضبوط اور ہر لحاظ سے مکمل طور پر تیار ہے۔

فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم، ماورائے عدالت قتل اور آبادیاتی تبدیلیوں کی شدید مذمت کی۔

فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیرکے عوام کی منصفانہ جدوجہد کے لیے پاکستان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔کانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کمانڈروں کو ہدایت کی کہ وہ ابھرتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر مستعدی اور آپریشنل تیاری کی اعلیٰ سطح کو برقرار رکھیں۔ آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزنے پیشہ ورانہ مہارت کے تسلسل، مربوط ردِعمل اور روایتی و غیر روایتی دونوں نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان کی فضائی حدود کا یہ دفاع تاریخ کا وہ روشن باب ہے جو انشااللہ ہمیشہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔Battle of Truth; Pakistan defeated India with the power of truth

…..(Asghar Ali Mubarak) …….Battle of Truth, Pakistan defeated Indian propaganda with the power of truth in Marka-e-Haq, Battle of Truth” Marka-e-Haq is an important milestone in Pakistan’s defense history, “Battle of Truth” is that bright and golden chapter in our national history that took the courage, faith and patriotism of the Pakistani nation to new heights. “Battle of Truth” (Operation Bunyan-un-MarsoosOperation Bunyan-un-Marsoos) has emerged as an extraordinary military success in Pakistan’s defense history, which is being described as a golden chapter of the nation’s determination and the professionalism of the armed forces.
This battle, which took place in May 2025, has completed a year, but its echo is still alive in the hearts of the nation,
Earlier, on April 22, 2025, allegedly in the Pahalgam area of ​​occupied Kashmir was attacked, on which India’s Cabinet Committee on Security announced other tough measures, including the suspension of the Indus Waters Treaty, on April 23.
Meanwhile, Prime Minister Shehbaz Sharif, while addressing the passing out parade in Kakul on April 26, 2025, had offered India an independent investigation, which India rejected.
On the completion of one year of the Battle of Truth, Federal Information Minister Atta Tarar said that the power of truth defeated Indian propaganda on the Pahalgam incident. The world is looking at Pakistan as a serious and strong country. Pakistan has confronted the storm of Indian propaganda and fabricated news on the Pahalgam incident with utmost responsibility and truth-based narrative. In contrast to the kind of dramatization and sensationalism seen on the Indian media, we presented the facts to the world, because the enemy was not able to digest the truth. The Indian government imposed restrictions on Pakistani YouTube channels out of fear of the truth, but when I was asked When asked whether we should also shut down their channels in response, my answer was in the negative. The federal minister revealed that our team geo-tagged Indian locations and delivered Pakistani national songs, armed forces anthems and JF-17 Thunder videos to the users there, as a result of which the Indian people themselves were forced to question their government. He clarified that we adopted a separate and specific strategy for each social media platform, which has yielded far-reaching results. Today, after completing one year, the world is looking at Pakistan as a serious and strong country. Moreover, thanks to the coordination of the civil-military leadership, appreciating the vision of the Prime Minister and the defense and diplomatic efforts of the military leadership, especially Field Marshal Asim Munir, Pakistan will achieve the position it deserves not only in defense but also in economic terms.On the other hand, DG ISPR Ahmed Sharif Chaudhry said in a press conference on the completion of the year of the struggle for truth that despite the passing of a year since the Pahalgam incident, many important questions are still before the international community, the Pakistani people and the Indian people themselves. The narrative of terrorism allegations against Pakistan by India has now been completely exposed and during the struggle for truth, the world saw who was playing a responsible role in the region. He said that immediately after the Pahalgam incident, an FIR was registered within a few minutes and it was claimed that the attackers had come from outside, although no solid evidence has been brought to light in this regard till date. He said that if Indian intelligence was so effective and informed, then why could not information be obtained in advance about the people who came hundreds of kilometers inside. He raised the question of where Indian institutions were and what they were doing at that time. DG ISPR said that even today the international community is asking the same question as to who was behind the Pahalgam incident and what was its purpose. According to him, the people of Pakistan as well as the intelligentsia of India are also seeking answers to these questions. He further said that the very next day of the incident, the Indian Information Minister took the international media with him, but despite this, reliable evidence could not be provided to the world. The DG ISPR said that international media representatives went to various places and mosques and they themselves raised the question of who were the targets of the attacks. He said that the world saw that the victims included children, women, the elderly and ordinary citizens. He said that India kept accusing Pakistan of terrorism again and again, but after the Battle of Haq, this drama has been buried forever. According to him, the fact is that the world is now seeing for itself who is playing a role in creating instability in the region. Pakistan showed utmost responsibility during the Battle of Haq and kept the tension under control. He said that Pakistan not only prioritized the peace of the region but also prevented the situation from becoming more dangerous. The world also saw that Pakistan played the role of a responsible state in controlling tensions and keeping the region stable, while India was trying to endanger the entire region through emotional statements, political objectives and provocative behaviors. He further said that if any country is trying the most for stability in the region even today, it is Pakistan. Several examples of India’s so-called professional military thinking have come to light during the past year. According to him, on some occasions, statements were made by the Indian military leadership that appeared to be of a political nature rather than a professional military behavior. The Indian military leadership seemed to be trying to transfer its political narrative to military institutions, while the Pakistani armed forces adopted a completely professional behavior throughout the period. No officer of the Pakistani army ever adopted a provocative style of speech based on the statements of the political leadership, while the statements of Indian politicians often seemed to create a war atmosphere. The Indian leadership continued to make provocative slogans and aggressive statements, but Pakistan adopted a responsible, restrained and professional approach at every opportunity. The DG ISPR said that if India has an objection or disagreement on an issue, it should speak in a direct and responsible manner instead of provocative statements. India is facing its own internal and external problems, but it tries to shift the responsibility for these problems onto others. The treatment of Muslims, Christians and other minorities in various areas of India, including Kashmir, is in front of the world. According to him, the situation in Manipur and other areas was also worrying, but despite these problems, India continued to accuse Pakistan. The DG ISPR said that the Kashmir issue is an international dispute, on which there are UN resolutions, despite India changing the population ratio, making legal changes and other measures, the Kashmir issue still exists. He said that when India faces its internal and external problems, it starts using the narrative of terrorism. This is not a new strategy, but India has been following this approach for a long time. The DG ISPR said that Pakistan has experienced various aspects of modern warfare during the battle of Haq and Bunyan Marsus. Today’s war is not limited to traditional fields but has become a multi-dimensional war, which has spread to air, land, sea, cyber, information and human minds. The effects of this type of war are felt in cities, villages, streets and even ordinary citizens. In modern warfare, not only weapons are used but also information, narrative and mental influence tactics are used. Pakistan faced all these challenges and demonstrated readiness and effective strategy in every field. Pakistan was ready before, remained fully active during the war and is still ready to deal with all kinds of threats.Pakistan gave a clear message during the Battle of Haq that there can be no compromise on the country’s defense and it has the full capability to give a befitting reply to any kind of aggression. Pakistan is ready to face every challenge and any action of the enemy will be responded to effectively and promptly. According to the DG ISPR, the stance of the founder of Pakistan, Muhammad Ali Jinnah, is still alive with full force that no conspiracy or aggression against Pakistan can succeed. The Battle of Haq sent a message to the world that Pakistan is united and strong in terms of its sovereignty, security and defense, and this stance is also being recognized at the global level. During the Battle of Haq, Pakistan showed the world that the country, the army, the leadership and the people are on the same page. Some quarters suspected that Pakistan was not internally united, however, circumstances proved that the entire nation, from children to the elderly, from the poor to the rich, from Kashmir to Gwadar, stood united. This national unity is a special blessing of Allah Almighty, for which the entire nation is grateful. According to him, on the completion of one year of the War of Truth, this entire period is being reviewed to see what conditions Pakistan faced and what was the situation in the region. In this context, it is also important to understand what behavior and strategy the eastern neighbor India was following during this time. The DG ISPR said that growing problems are becoming clear at the political, military and social levels within India. There, questions are being raised about the state’s attitude towards minorities and anxiety is increasing among different classes. According to him, there is also an impression that sometimes different religious communities are discriminated against, which is being debated internally and externally. India’s internal conditions and social divisions are becoming more prominent with time, which is also having an impact on its overall political and security situation. Pakistan demonstrated a clear, organized and professional military strategy during the War of Truth, while the opponent’s behavior was frivolous and unprofessional at various levels. During the past year, there has been a lack of consistency and seriousness in the Indian military and media narrative, while Pakistan has always presented its case to the world in a clear, responsible and professional manner. Pakistan’s armed forces have shown complete preparedness and restraint in every situation during the Battle of Haq, while emotional and unbalanced statements have been coming out from some Indian media channels and defense circles. The practice of a professional army is to speak with facts and strategy, and not rely on unnecessary emotions or unsubstantiated claims. According to him, Pakistan has consistently maintained its defense policy and operational readiness throughout the year and has demonstrated its capabilities at all levels. For stability in the region, it is essential that all parties adopt a serious, responsible and factual approach, as unnecessary narratives not only create misunderstandings but also prove detrimental to regional peace. The DG ISPR said that during the War of Truth in May 2025, Pakistan took various steps under its defense strategy, which continued until October 2025. During this time, Pakistan also identified operations against terrorist networks and their supporting structures in Afghanistan and took steps to eliminate them. DG ISPR Ahmed Sharif Chaudhry said that Pakistan maintained effective control over the border situation and security challenges during the War of Truth. Significant improvement has been seen in border facilitation and cross-border movement issues and Pakistan improved the situation through operations against terrorist networks. After Pakistan’s actions during the War of Truth, the balance of power in the region clearly changed, as a result of which the opposing side had to reconsider its strategy. Pakistan’s position has always been clear that all countries in the region must play a responsible role in eliminating terrorism. According to him, Pakistan has always talked about peace and cooperation in the region, while extremist narratives and controversial relations by some elements are proving to be harmful to the stability of the region. DG ISPR said that when India was taught a lesson in the context of the War of Truth, it called the so-called Afghan Foreign Minister and contacted the Afghan Taliban to help us, we sit with you and talk. Because the people who are sitting there have close relations with these same elements. He said that these people call themselves the champions of Islam, but on the other hand, their relations with elements promoting the ideology of Hindutva, who have been involved in oppression and persecution of different communities, including Muslims, are also revealed. Their own statements and actions make it clear that on the one hand they claim religion and on the other hand they belong to groups that incite chaos and violence in the region. In the ongoing narrative war between Pakistan and India, Indian statements are often unrealistic and contradictory. He said that some official statements issued by India try to link Pakistan to various issues, however, the ground realities are the opposite and Pakistan has no connection with any illegal or non-state activity.Pakistan has been making it clear that it is committed to the principled stance of peace and stability not only in its own territory but also in the region. Pakistan’s stance on terrorism and extremism has always been clear that these elements have no connection with any religion, state or nation. According to him, Pakistan’s security forces and state institutions are constantly active for the defense of the country and the preservation of peace and no negative propaganda can be linked to the ground realities. Pakistan and its military leadership are unnecessarily made the subject of by some elements, however, the ground realities and the official stance are clear. According to the DG ISPR, Pakistan is fully prepared with regard to its defense capabilities and operational preparedness and the public is informed about the progress from time to time so that there is no room for any misunderstanding or ambiguity. He said that Pakistan’s aim is to give transparency and a clear message so that later no party has a wrong impression about the situation. Meanwhile, Pakistan Air Force Deputy Chief of Air Staff Projects Air Vice Marshal Tariq Ghazi has said that during ‘Operation Banyan Al-Marsoos’, the Pakistan Air Force destroyed 8 Indian warplanes, after which the ‘score’ has become 0-8. Addressing a press conference along with DG ISPR Lieutenant General Ahmed Sharif Chaudhry, Air Vice Marshal Tariq Ghazi said that the destroyed Indian planes included 4 Rafales, one Su-30, one MiG-29 and one Mirage 2000, while a modern and expensive automated air system was also targeted. The Pakistan Air Force demonstrated professionalism and modern combat tactics in the battle, due to which the enemy suffered heavy losses. The Pakistan Air Force is fully prepared and determined to defend the country’s air borders at all times, while due to the timely and effective actions of the Falcons, the enemy did not dare to come even close to Pakistani airspace. According to the Deputy Chief of Air Staff, the cyber force also played a significant role in the battle and disabled the enemy’s communication system, while keeping a constant watch on every enemy activity. The Pakistan Air Force also tracked the enemy’s digital footprints, due to which the Indian forces were under severe pressure. He further said that the enemy is still unable to understand what happened to it, because the Pakistan Air Force shot down the enemy’s warplanes through modern tactics and professionalism and demonstrated its air superiority. Pakistan Navy Rear Admiral Ali has said that the ‘Battle of Truth’ was a historic and unforgettable battle and said that this conflict has opened the door to the enemy’s so-called naval superiority. Earlier, Rear Admiral Ali said that before the battle started, the enemy was extremely proud of its naval capabilities, the Indian Navy used to consume a significant part of its defense budget and made big claims like ‘Made in India’, ‘Net Security Provider’ and ‘Blue Water Navy’, but the fact is that when the time came, they completely failed to gather courage against Pakistan. According to the spokesperson, the Indian Navy had tried to deploy its war fleets in the North Arabian Sea during the ‘Battle of Truth’, the main objective of which was to destroy the Pakistani Navy. The aim was to target assets and cause economic damage to the country by disrupting trade routes (sea lines), however, due to the Pakistan Navy’s foolproof strategy, maritime traffic continued uninterrupted in all waterways and all ports of Pakistan remained functional as usual. Rear Admiral Ali revealed that the Pakistan Navy was keeping an eye on every movement of the enemy through its latest surveillance system. He said: “The Pakistan Navy and the Pakistan Air Force were fully prepared to destroy the Indian aircraft carrier ‘Vikrant’, which was the reason why the Indian Navy did not dare to come out of its safe havens.” He made it clear in two words that Pakistan certainly desires peace but this should not be considered our weakness. He added that the Pakistan Navy is not even slightly negligent in its preparations to deal with any aggression or unexpected situation and the defense of the maritime borders of the beloved homeland will be ensured at all costs.