۔یومِ تحفظ ناموس رسالت ﷺ;پاکستان اسلاموفوبیا کے خاتمے کیلئے پرعزم. .Pakistan committed to ending Islamophobia. …..;(اصغر علی مبارک)…. پاکستان بھر میں “یومِ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ” انتہائی عقیدت، جوش و جذبے اور ایمانی غیرت کے ساتھ منایا گیا۔
سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے بدترین توہین مذہب توہین رسالت و صحابہ و اہل بیت، کو روکنے کے حوالے سے 15 مارچ کو اسلامی فوبیا کے دن کو یوم تحفظ ناموس رسالت کے طور پر منایا گیاہے
یومِ تحفظ ناموس رسالت ﷺ پر پاکستان اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے عالمی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ مل کر ایک جامع اقوام متحدہ ایکشن پلان کی تیاری پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد اسلاموفوبیا کو بہتر انداز میں سمجھنا، روکنا اور ختم کرنا ہے۔
عوام میں توہین مذہب کے متنازع مواد کو روکنے کے حوالے سے آگاہی ,سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے بدترین توہین مذہب، توہین رسالت و صحابہ و اہل بیت کو روکنے کے حوالے سے حکومت پاکستان نے 15 مارچ اسلامی فوبیا کے دن کو یوم تحفظ ناموس رسالت کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا,دوسری طرف صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن پر خصوصی پیغام میں کہا کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ اسلام امن، ہمدردی اور انصاف کا دین ہے۔ اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ مذہبی تنوع کے احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ضروری ہے، کرائسٹ چرچ سانحہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا واقعہ تھا، پاکستان اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی فورمز پر مسلسل آواز اٹھاتا رہا ہے۔ بیرون ملک پاکستانی معاشروں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، مسلمانوں کے خلاف تعصب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے تحفظ کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد نیشنل کمیشن قائم کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری تعصب کے خاتمے اور مکالمے کے فروغ کے لیے مل کر کام کرے، مذہبی عقائد کا احترام اور مساوی قانونی تحفظ عالمی ذمہ داری ہے۔
اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف نے اسلامو فوبیا کے تدارک کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا کہ آج اسلامو فوبیا کے تدارک کا عالمی دن ہے، دین اسلام تمام نوع انسانی کے لیے امن و آشتی کا پیغام ہے، اسلام کو انتہا پسند خیالات سے منسوب کرنا صریحاً لاعلمی ہے یہ دن دین اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تعصب کی مذمت میں عالمی آواز ہے۔ آج کا دن مسلمانوں کو مذہبی تعصب اور متشدد واقعات کے خلاف تخفظ فراہم کرنے کا عالمی احساس ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلامو فوبیا معاشرتی عدم برداشت، بنیادی مذہبی آزادی اور باہمی اتحاد و رواداری جیسی اقدار کو کمزور کرنے کا باعث ہے۔ مہذب معاشرے عقائد کی بنیاد پر انسانی حقوق میں تفریق نہیں کرتے بلکہ باہمی احترام و ایثار پر قائم ہوتے ہیں۔ پاکستان اسلامو فوبیا پر مبنی تمام طرزعمل اس کی تمام صورتوں کی مذمت کرتا ہے، اسلامی تعلیمات کے عین مطابق اور بین الاقوامی قوانین کی نظر میں تمام انسان مساوی حقوق رکھتے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تمام بین الاقوامی فورمز پر ہمیشہ ذمہ دارانہ انداز میں اسلامو فوبیا کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ آئندہ بھی پاکستان اقوام عالم کے درمیان مذہبی رواداری کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا یاد رکھیں کہ جید علماء کرام و مشائخ عظام ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے حوالے سےوفاقی وزارت مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی کی طرف سے متفقہ طور پر درج ذیل نکات پر اتفاق کیا ہے کہ یہ بات طے شدہ ہے کہ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عزت و حرمت ہر مسلمان کے ایمان کا جزوِ لازم ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ناموسِ رسالت ﷺ کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قانونی اور سماجی کوشش کرے, پاکستان نے عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کے خلاف مؤثر کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ نے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھا, اس موقع پر تمام مسلم اور غیر مسلم ممالک سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ انبیائے کرام علیہم السلام اور مقدساتِ اسلام کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور آزادیٔ اظہار کے نام پر گستاخانہ حرکات کو روکنے کے لیے عالمی قوانین بنائیں۔ پاکستان میں ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے پہلے سے موجود قوانین کا سختی سے نفاذ یقینی بنایا جائے ۔ ساتھ ہی اس امر پر بھی زور دیا گیا تھاکہ ان قوانین کا غلط استعمال نہ ہو تاکہ بے گناہ افراد کسی جھوٹے الزام کا شکار نہ ہوں ,ملک بھر کے علمائے کرام اور مشائخ سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ جمعہ کے خطبات میں تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کی اہمیت کو اجاگر کریں, نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے مثبت اور تعمیری استعمال کی تعلیم دیں اور انہیں گستاخانہ یا اشتعال انگیز مواد شیئر کرنے سے روکنے کی ترغیب دیں,عوام میں یہ شعور اجاگر کریں کہ گستاخانہ مواد کا جواب قانون کے دائرے میں رہ کر دیا جائے، اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں حکومتی اداروں سے رجوع کیا جائے, اعلان کیا گیا تھاکہ “سوشل میڈیا کے مفید استعمال کی تعلیم و تربیت میں ریاستی ذمہ داریاں – سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں اس بات پر غور کیا جائے کہ نوجوان نسل کو اسلامی اقدار کے مطابق سوشل میڈیا کا استعمال سکھانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ کسی بھی گستاخانہ مواد کو آگے نہ پھیلائیں بلکہ فوری طور پر متعلقہ اداروں کو رپورٹ کریں۔ اس حوالے سے وزارتِ مذہبی امور کے ویب پورٹل کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی، قانونی اور سماجی اقدامات جاری رکھے گا۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مذہبی مقدسات کی توہین کو عالمی جرم قرار دینے کے لیے قانون سازی کرے۔,حکومتِ پاکستان سے درخواست کی کہ وہ اینٹی بلاسفیمی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے اور ان قوانین کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کرے۔,سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی نگرانی اور اس کی روک تھام کے لیے ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال کیا جائے اور عوام الناس کو ان قوانین سے مکمل آگاہی دی جائے , پاکستان میں تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے قانون کو کمزور کرنے یا اس میں کسی قسم کی نرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی , تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، مشائخ اور مذہبی اسکالرز متحد ہو کر قوم میں اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں , اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ دینِ اسلام کے اصولوں پر کاربند رکھے، ہمیں عشقِ رسول ﷺ میں ثابت قدمی عطا کرے اور نبی کریم ﷺ کے ناموس کے تحفظ کے لیے ہماری کوششوں کو قبول فرمائے,وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی حکومت پاکستان نے 15 مارچ 2025 یومِ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے طور پر منانے کا مراسلہ جاری کیاتھا۔ عوام میں توہین مذہب کے متنازع مواد کو روکنے کے حوالے سے آگاہی مہم چلانے کی سفارشات صوبائی سیکریٹری مذہبی امور، اوقاف پنجاب، سندھ، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، بلوچستان، مظفر آباد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو جاری کی گئی تھی۔
عوام الناس میں آگاہی کے حوالے سے ملک بھر کی مذہبی قیادت ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ مولانا محمد حنیف جالندھری، مفتی منیب الرحمان، علامہ محمد افضل حیدری، پروفیسر ڈاکٹر ساجد میر، مولانا عبد المالک سے لائحہ عمل بنا کر عوام الناس میں آگاہی مہم چلانے کی اپیل کی گئی تھی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تاریخی فیصلے کے لیے اہم کردار ادا کیا جس کے تحت 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن قرار دیا گیا یہ اقدام مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی، برداشت اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ کی عالمی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں اسلاموفوبیا میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے مظاہر میں قرآن مجید کی بے حرمتی، حجاب پہننے والی خواتین پر حملے، مساجد کی توڑ پھوڑ، مذہبی بنیادوں پر پروفائلنگ اور عوامی و میڈیا مباحث میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ شامل ہیں۔ اسلاموفوبیا عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ پاکستان نے ایک اور قرارداد کی منظوری میں بھی کلیدی کردار ادا کیا جس کا مقصد اسلاموفوبیا کے خلاف بین الاقوامی اقدامات کو مضبوط بنانا تھا، جس کے تحت اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی تقرری کی درخواست کی گئی۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا اور اس تعصب کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کو متحد ہو کر اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے مئی 2025 میں اسلاموفوبیا کے انسداد کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی تقرری اور مئی 2024 میں اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی کی تقرری کا خیرمقدم کیا تھا۔اسلاموفوبیا کے انسداد کا عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف تعصب، امتیاز، دشمنی اور تشدد کے خاتمے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسلاموفوبیا کی مذمت کے ساتھ ساتھ ان ساختیاتی عوامل کو بھی ختم کرے جو اس رجحان کو فروغ دیتے ہیں، اور باہمی احترام، مکالمے اور برداشت کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔یاد رکھیں کہ14 دسمبر 2024 کوپاکستان اور ترکیہ نے اپنے سرکاری ٹیلی ویژن چینلز کے درمیان مشترکہ نشریات کے ذریعے میڈیا تعاون کو مضبوط بنانے اور اسلاموفوبیا اور غلط معلومات کا مقابلہ کرنے کے طریقوں پر اتفاق کیاتھا,یہ پیش رفت پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور ترکیہ کے ہیڈ آف کمیونیکیشنز پروفیسر فرحتین التون کے درمیان ترک ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات کے دوران ہوئی تھی۔پروفیسر فرحتین التون کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے میڈیا تعاون کو مضبوط بنانے، عوامی سفارتکاری کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کی طرف سے اسلامو فوبیا اور غلط معلومات کا مقابلہ کرنے پر تبادلہ خیال کیاتھا۔ دونوں فریقین نے پی ٹی وی اور ترکیہ کے سرکاری ٹیلی ویژن ’ٹی آر ٹی‘ کے درمیان مشترکہ نشریات پر اتفاق کیاتھا انہوں نے کہاتھا کہ دونوں ممالک کے درمیان میڈیا کے تعاون سے اسلاموفوبیا اور غلط معلومات کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی ,اسی طرح اسلام مخالف بیانیے پر امریکی ریپبلکن قیادت تنقید کی زد میں، اشتعال انگیز ریمارکس اور پالیسی تجاویز نے امریکی سیاست میں اسلامو فوبیا پر نئی بحث چھیڑ دی امریکی کانگریس میں ریپبلکن رہنماؤں کو اسلام مخالف بیانیے پر ردعمل دینے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ اشتعال انگیز ریمارکس اور پالیسی تجاویز کے ایک سلسلے نے امریکی سیاست میں اسلامو فوبیا (اسلام دشمنی) پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تازہ ترین تنازعہ ٹینیسی سے تعلق رکھنے والے اینڈی اوگلز اور فلوریڈا کے رینڈی فائن سمیت ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن ارکان کے بیانات سے پیدا ہوا ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بیانات سیکیورٹی خدشات کی حد عبور کر کے بطور مذہبی گروہ مسلمانوں کے خلاف کھلی دشمنی میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اشتعال انگیز بیانیے کو خود صدر ٹرمپ کی جانب سے حوصلہ افزائی ملی ہے۔ مخالفین ان کی پہلی صدارتی مدت کے دوران کئی مسلم اکثریتی ممالک سے امریکہ آمد پر عائد کردہ پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں،جسے عوامی سطح پر ’’مسلم بین‘‘ (مسلمانوں پر پابندی) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔14 جنوری 2026 کو امریکی سینیٹر مارک وارنر نے سینیٹ کے فلور پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا میں مذہبی امتیاز اور نفرت پر مبنی انتہاپسندی میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے، جس کا الزام انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ پر عائد کیاتھا۔ وارنر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے بیانات اور پالیسیوں نے اسلاموفوبیا اور عرب مخالف جذبات کو ہوا دی ہے۔ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ نیو یارک سٹی کے میئر کے امیدوار ظہران ممدانی کو ڈیموکریٹک پرائمری میں غیر متوقع کامیابی کے بعد اسلام مخالف آن لائن حملوں کا سامنا ہے،مسلم حقوق کی وکالت کرنے والی تنظیم کیر ایکشن کے مطابق، تقریباً 6,200 آن لائن پوسٹس میں اسلام مخالف جملے یا دشمنی کا اظہار کیا گیاتھاکیر ایکشن کا کہنا تھا کہ وہ نفرت انگیز مواد پر نظر رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پوسٹس کی خودکار نگرانی، عوام کی جانب سے آن لائن رپورٹس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اطلاعات پر انحصار کرتا ہے 3 دسمبر 2025 کوکیتھولک مسیحیوں کے رہنما پوپ لیو نے اسلام کے خلاف خوف پھیلانے والے ‘تارکین وطن مخالف’ گروہوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان تعاون یورپ اور امریکا کے لیے مثال بننا چاہیے۔ اسلام مخالف جذبات اکثر اُن لوگوں کی جانب سے ابھارے جاتے ہیں جو تارکینِ وطن کو نسلی یا مذہبی بنیادوں پر روکنا چاہتے ہیں۔سوشل میڈیا کے ذریعے توہین آمیز مواد کی تشہیر ایک سنگین قانونی اور اخلاقی جرم ہے، جس پر پاکستان سمیت کئی ممالک میں سخت قوانین نافذ ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کا سائبر کرائم ونگ ملکی اداروں اور شخصیات کے خلاف توہین آمیز مہم چلانے والوں کے خلاف مقدمات درج کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مذہبی شخصیات یا مقدس ہستیوں کی توہین پر سخت سزائیں اور جرمانے ہو سکتے ہیں۔ عدالتوں نے پی ٹی اے کو ایسا مواد فوری بلاک کرنے کے احکامات بھی جاری کر رکھے ہیں۔ کسی فرد کی اجازت کے بغیر اس کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنا یا اسے ہراساں کرنا جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں سوشل میڈیا پر توہین آمیز پوسٹ یا کمنٹ کرنے پر 2.5 لاکھ سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ایسا مواد شیئر کرنے سے گریز کریں جو کسی کی دل آزاری یا تضحیک کا باعث بنے۔ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے بچیں۔عصر حاضر میں، سوشل میڈیا نے رائے کے اظہار اور عوامی مکالمے کے نئے دروازے کھولے ہیں۔ تاہم، سوشل میڈیا نے دنیا بھر میں اور خصوصاً پاکستان میں ایک دو دھاری تلوار کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر جہاں ہر طبقے کے افراد سیاسی، سماجی، اور مذہبی معاملات پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہیں، وہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا بسا اوقات اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز مواد پھیلانے کا ذریعہ بھی بن جاتا ہےپاکستان میں جہاں مختلف ثقافتی، مذہبی، اور سیاسی خیالات موجود ہیں، سوشل میڈیا عوامی مکالمے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ ہر طبقے کے افراد کو اب سیاست سے لے کر سماجی ناانصافیوں تک کے معاملات پر اپنی آرائ کا اظہار کرنے کی آزادی حاصل ہوئی ہے۔ پہلے جو مکالمے مخصوص حلقوں تک محدود تھے، وہ اب سامعین کی ایک وسیع تعداد تک پہنچ سکتے ہیں۔ خواتین کے حقوق، اقلیتوں کے تحفظات، اور ماحولیاتی مسائل جیسے اہم موضوعات کو سوشل میڈیا پر کوریج ملتی ہے اور عوامی شمولیت بڑھتی ہے۔ تاہم، ان مثبت پہلوو¿ں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے منفی پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی جانب سے فراہم کردہ گمنامی اور فاصلے اکثر افراد کو ایسے خیالات کے اظہار کی جرات دیتے ہیں جو نفرت یا تشدد کو ہوا دیتے ہیں۔ نفرت انگیز تقریر، فرقہ وارانہ گفتگو، اور مذہبی شخصیات یا کمیونٹیوں کے خلاف توہین آمیز بیانات کی مثالیں بڑھتی جا رہی ہیں، جو ایسے اشتعال انگیز مواد کے ممکنہ نتائج کے بارے میں تشویش بڑھا رہی ہیں۔ یہ سلسلہ اسلامی تعلیمات کے اس اصول کے خلاف ہے جو اخلاق اور احترام پر زور دیتا ہے۔ اسلام میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ بات چیت میں احترام اور مہربانی کو فروغ دیا جائے تاکہ معاشرتی امن قائم رہے۔اسلام میں فتنہ کا تصور بھی اس تناظر میں بہت اہم ہے، جو کسی بھی ایسی بات یا عمل کی مذمت کرتا ہے جو معاشرتی بے چینی اور فساد پیدا کرنے کا سبب بنے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتیں اور رہنما بھی سوشل میڈیا کو اپنا بیانیہ عوام تک پہنچانے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم براہ راست عوام سے رابطے کی سہولت فراہم کرتے ہیں جس سے شفافیت اور جوابدہی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ سنسنی خیزی کی ایک نئی ثقافت بھی پروان چڑھتی ہے، جہاں جعلی خبریں، غلط معلومات اور پروپیگنڈا عام ہو جاتا ہے۔ اسلام سچائی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور جھوٹی باتیں پھیلانے کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ لہذا مسلمان ہونے کی حیثیت سے، یہ ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم معلومات کو شیئر کرنے سے پہلے ان کی تصدیق کریں، خاص طور پر ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہوئے جہاں ایک ٹوئٹ پورے ملک میں بے چینی پیدا کر سکتی ہے اور ایک غلط خبر قومی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے قانونی فریم ورک بھی موجود ہیں، جیسے پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016، جس کا مقصد آن لائن مواد کو کنٹرول کرنا، اسے منظم کرنا اور سائبر جرائم کا سدباب کرنا ہےآزادی اظہار اور اشتعال انگیزی کو روکنے کی کوششوں میں توازن قائم کرنا ایک پیچیدہ چیلنج ہے، جس کے لیے نرم پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے، مصلحت یعنی عوامی مفاد کا تصور اس تناظر میں اہم ہے جس کی روشنی میں سوشل میڈیا کو منظم کرنے والی پالیسیوں کا مقصد معاشرتی بہبود اور عوامی مفاد کا تحفظ ہونا چاہیے تاکہ تعمیری مکالمہ فروغ پائے اور نقصان دہ مواد کی حوصلہ شکنی ہو۔
سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے آگاہی مہمات اور ڈیجیٹل لٹریسی کا انعقاد ضروری ہے جو صارفین کو اس قابل بنا سکتی ہیں کہ وہ دیکھی جانے والی اور شیئر کی جانے والی معلومات کو جانچ سکیں۔ افراد کو یہ سکھانا کہ ان کے الفاظ کے اثرات، باہمی گفتگو کی اہمیت، اور اشتعال انگیز مواد کے شیئر کرنے کے نتائج کیا ہیں، ایک زیادہ شائستہ آن لائن ماحول کو فروغ دینے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات علم اور حکمت کے حصول کی وکالت کرتی ہیں، اس لیے اسلامی اصولوں کو تعلیمی منصوبوں میں شامل کرکے، ایک ایسا فریم ورک بنایا جا سکتا ہے جو آن لائن رویے کو اسلامی اخلاقیات کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔ اگر ہم سوشل میڈیا کو اپنے معاشرتی مسائل کے حل، فلاحی منصوبوں، اور معاشرتی چیلنجز پر شعور پیدا کرنے کے لیے استعمال کریں تو یہ امت اور یکجہتی کے اسلامی نظریے کے مطابق ہوگا، جو معاشرت میں تعاون اور ہمدردی کو فروغ دیتا ہے ضروری ہے کہ ہم اس کے استعمال میں اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔ اظہار رائے اور اشتعال انگیزی کے درمیان حد اکثر دھندلا جاتی ہے، اور اس پیچیدہ میدان میں چلنے کے لیے حکمت، بصیرت اور فراست کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں اپنی گفتگو میں ادب اور حکمت کے اصولوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے پاکستان جیسے ملک میں جہاں مختلف مذہبی اور نسلی گروپوں کے درمیان تاریخی تناو¿ موجود ہے، سوشل میڈیا کے اشتعال انگیزی کا مرکز بننے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ اس اشتعال انگیزی سے معاشرتی اور قومی ہم آہنگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے الفاظ کی طاقت کو سمجھیں اور بات چیت کو مثبت رخ دیں تا کہ عوامی جذبات مجروح نہ ہوں۔Pakistan committed to ending Islamophobia.* .. …..;(Asghar Ali Mubarak)…. “Day for the Protection of the Honor of the Prophet ﷺ” was celebrated with great devotion, enthusiasm, and religious zeal across Pakistan.
To address increasing blasphemy on social media, Pakistan declared March 15th as Islamophobia Day, which is now observed annually.
On the Day for the Protection of the Honor of the Prophet ﷺ, Pakistan is committed to advancing global efforts to end Islamophobia and, in this regard, is working with the member states of the Organization of Islamic Cooperation and the UN Special Envoy to prepare a comprehensive UN Action Plan, which aims to better understand, prevent, and eliminate Islamophobia.
Awareness among the public about preventing controversial blasphemy content. In order to prevent the increasing worst blasphemy, blasphemy and blasphemy of the Prophet Muhammad and his companions and Ahl al-Bayt on social media, the government of Pakistan had announced to observe March 15 as Islamophobia Day as the Day for the Protection of the Honor of the Prophet Muhammad. On the other hand, President Asif Ali Zardari, in a special message on the International Day for the Prevention of Islamophobia, said that there is a need to eliminate hatred and prejudice against Muslims around the world. Islam is a religion of peace, compassion, and justice. Linking Islam with extremism is a reflection of ignorance. He said that freedom of expression should not be used to spread hatred. The President stated that it is essential to foster respect for religious diversity and interfaith harmony. The Christchurch tragedy was an incident that shook the conscience of humanity. Pakistan has been continuously raising its voice against Islamophobia at international forums. Pakistanis abroad are playing an important role in the development of societies; prejudice against Muslims affects the safety of Pakistanis living abroad. Minorities are being provided equal rights and opportunities in Pakistan, and an independent National Commission is being established to protect the rights of minorities. He further stated that the international community should work together to eliminate prejudice and promote dialogue, emphasizing that respect for religious beliefs and equal legal protection is a global responsibility. Similarly, Prime Minister Shehbaz Sharif, in his message on the International Day for the Prevention of Islamophobia, said that today is the International Day for the Prevention of Islamophobia, the religion of Islam is a message of peace and harmony for all mankind, attributing Islam to extremist ideas is blatant ignorance. This day is a global voice in condemning the religion of Islam and prejudice against Muslims. Today, there is a global sense of providing Muslims with protection against religious prejudice and violent incidents. The Prime Minister said that Islamophobia is a cause of weakening values ​​such as social intolerance, fundamental religious freedom, and mutual unity and tolerance. Civilized societies do not discriminate in human rights on the basis of beliefs, but are based on mutual respect and sacrifice. Pakistan condemns all forms of Islamophobia, in accordance with Islamic teachings and international law, and all human beings have equal rights. The Prime Minister said that Pakistan has always raised its voice against Islamophobia in a responsible manner at all international forums. Pakistan will continue its efforts for religious tolerance among the nations of the world. Remember that the eminent scholars and great sheikhs have unanimously agreed on the following points regarding the protection of the honor of the Prophet Muhammad (peace be upon him). It is a matter of consensus that the honor and sanctity of the Holy Prophet (peace be upon him) is an integral part of the faith of every Muslim. In the light of the Quran and Sunnah, it is the duty of every Muslim to make every possible legal and social effort to protect the honor of the Prophet Muhammad (peace be upon him). Pakistan has played an effective role against Islamophobia at the global level, as a result of which the United Nations decided to observe March 15 as the International Day against Islamophobia. On this occasion, all Muslim and non-Muslim countries were called upon to take effective measures to ensure respect for the Prophets (peace be upon them) and the sanctities of Islam and to enact international laws to prevent blasphemous acts in the name of freedom of expression. Strict implementation of the existing laws to protect the honor of the Prophet Muhammad (peace be upon him) should be ensured in Pakistan. It was also emphasized that these laws should not be misused so that innocent people do not fall victim to any false accusation. An appeal was made to scholars and preachers across the country to highlight the importance of protecting the honor of the Prophet (peace be upon him) in their Friday sermons, to teach the youth the positive and constructive use of social media and to encourage them to refrain from sharing blasphemous or provocative content, to raise awareness among the public that blasphemous content should be responded to within the ambit of the law, and in case of any violation, government institutions should be approached. It was announced that “State responsibilities in the education and training of the beneficial use of social media – in the light of the Seerat-un-Nabi (peace be upon him) – consider what steps can be taken to teach the young generation to use social media in accordance with Islamic values.”The youth of Pakistan were urged not to spread any blasphemous content but to immediately report it to the relevant institutions. The web portal of the Ministry of Religious Affairs can be used in this regard. Pakistan will continue to take all possible diplomatic, legal, and social measures to protect the honor of the Prophet Muhammad (peace be upon him). The international community was called upon to enact legislation to make the insult of religious sanctities an international crime. The government of Pakistan was requested to ensure the strict implementation of anti-blasphemy laws and also take steps to prevent the misuse of these laws. Technology should be used effectively to monitor and prevent blasphemous content on social media, and the public should be fully informed about these laws. The law for the protection of the honor of the Prophet (peace be upon him) will not be weakened or relaxed in Pakistan. Ulema, Mashaikhs, and religious scholars of all schools of thought should unite and play their role in creating unity and solidarity in the nation. May Allah Almighty always keep Pakistan committed to the principles of Islam, grant us steadfastness in the love of the Prophet (peace be upon him), and accept our efforts to protect the honor of the Holy Prophet (peace be upon him). The Ministry of Religious Affairs and Interfaith Harmony, Government of Pakistan, has declared March 15, 2025, as the Day for the Protection of the Honor of the Prophet (peace be upon him). A letter was issued to celebrate. Recommendations to run an awareness campaign to prevent controversial content of blasphemy among the public were issued to the Provincial Secretaries of Religious Affairs, Auqaf Punjab, Sindh, Islamabad, Khyber Pakhtunkhwa, Balochistan, Muzaffarabad, Azad Kashmir, and Gilgit Baltistan.
Regarding awareness among the public, religious leaders across the country, including Nazim-e-Ala Wifaq-e-Madaris Al-Arabiya Maulana Muhammad Hanif Jalandhari, Mufti Muneeb-ur-Rehman, Allama Muhammad Afzal Haideri, Professor Dr. Sajid Mir, and Maulana Abdul Malik, were appealed to prepare a plan of action and run an awareness campaign among the public. Pakistan played a key role in the historic decision of the United Nations General Assembly to declare March 15 as the International Day against Islamophobia, a milestone in global efforts to promote harmony, tolerance, and peaceful coexistence among religions, cultures, and civilizations. The Foreign Minister said that in recent years, there has been an alarming increase in Islamophobia in different parts of the world, manifested in desecration of the Holy Quran, attacks on women wearing the hijab, vandalism of mosques, religious profiling, and hateful narratives against Muslims in public and media discourse. Islamophobia can also pose a threat to global peace and security. Pakistan also played a key role in the adoption of another resolution aimed at strengthening international action against Islamophobia, which called for the appointment of a UN Special Envoy. Deputy Prime Minister and Foreign Minister Muhammad Ishaq Dar says that Pakistan will continue to play a full role in global efforts against Islamophobia, and the international community must unite and take steps to eliminate this prejudice. He welcomed the appointment of the United Nations Special Envoy to Combat Islamophobia in May 2025 and the Special Envoy of the Secretary-General of the Organization of Islamic Cooperation in May 2024. In his message on the occasion of the International Day for the Combating of Islamophobia, Ishaq Dar said that Pakistan expresses solidarity with Muslims around the world and reiterates its commitment to ending prejudice, discrimination, hostility, and violence against Muslims. He urged the international community to condemn Islamophobia as well as eliminate the structural factors that foster this trend, and to take joint steps to promote mutual respect, dialogue, and tolerance. It is worth noting that on December 14, 2024, Pakistan and Turkey agreed on ways to strengthen media cooperation and combat Islamophobia and misinformation through joint broadcasts between their state-run television channels. This development took place during a meeting between Pakistan’s Information Minister Attaullah Tarar and Turkey’s Head of Communications Professor Fahrettin Altun at the Turkish Presidency. During his meeting with Professor Fahrettin Altun, Information Minister Attaullah Tarar discussed strengthening media cooperation, promoting public diplomacy, and combating Islamophobia and misinformation by both countries. The two sides agreed on joint broadcasts between PTV and Turkey’s state-run television, TRT.He said that media cooperation between the two countries would help combat Islamophobia and misinformation, as US Republican leadership comes under fire for an anti-Islamic narrative, inflammatory remarks, and policy proposals, sparking a new debate on Islamophobia in US politics. Republican leaders in the US Congress are facing growing pressure to respond to the anti-Islamic narrative. A series of inflammatory remarks and policy proposals have sparked a new debate on Islamophobia in US politics. The latest controversy stems from statements by Republican members of the House of Representatives, including Andy Ogles of Tennessee and Randy Fine of Florida, that critics say cross the line from security concerns to outright hostility toward Muslims as a religious group. Opponents of President Donald Trump say such inflammatory narratives have been encouraged by President Trump himself. Opponents point to the restrictions imposed on entry into the United States from several Muslim-majority countries during his first term, popularly known as the “Muslim ban.” On January 14, 2026, U.S. Senator Mark Warner, speaking on the Senate floor, said that there was a worrying increase in religious discrimination and hate-based extremism in the United States, which he blamed on President Donald Trump and his administration. According to Warner, the Trump administration’s statements and policies have fueled Islamophobia and anti-Arab sentiment. It is important to note that New York City mayoral candidate Zahran Mamdani has faced online attacks against Islam after his unexpected victory in the Democratic primary. According to the Muslim rights advocacy organization Care Action, about 6,200 online posts contained anti-Islamic phrases or expressions of hostility. Care Action said that it relies on automated monitoring of social media posts, online reports from the public, and information from law enforcement agencies to monitor hateful content. On December 3, 2025, Pope Leo, the leader of Catholic Christians, strongly criticized “anti-immigrant” groups that spread fear against Islam, saying that cooperation between Muslims and Christians should be an example for Europe and the United States. Anti-Islamic sentiments are often fueled by those who want to stop immigrants on racial or religious grounds.