۔انجلینا جولی سیلاب زدگان کی فوری امداد پر پاک فوج کی معترف۔۔۔۔۔۔(کالم :ا ندر کی بات۔۔۔۔ کالم نگار؛ اصغر علی مبارک۔۔۔۔)۔۔۔۔۔۔۔۔سیلاب متاثرین کے لیے پاکستان آنے والی اقوام متحدہ کی خیرسگالی سفیر انجلینا جولی متاثرین سیلاب کی فوری اور بروقت امداد پر پاک فوج کی مثالی کاوشوں کی معترف ہے تاہم عالمی برادری پاکستان میں سیلاب زدگان کی مدد کیلئے ڈومور کا مطالبہ کیاہے ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی نے مشکلات میں گھرے عوام کی مدد میں دن رات مصروف پاک فوج سے متاثر ہوتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کوئی بھی امدادی سرگرمی دیکھی تو دیکھا کہ وہ پاک فوج کر رہی ہےانجلینا جولی نے بدترین تباہی، عوام کی مشکلات اور پاک فوج کے ریلیف آپریشن کی حقیقی منظر کشی پیش کی۔ہالی ووڈ اداکارہ نے مشکلات میں گھرے عوام کی مدد میں دن رات مصروف پاک فوج سے متاثر ہوتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی امدادی سرگرمی دیکھی تو دیکھا کہ وہ پاک فوج کر رہی ہے۔انجلینا جولی نے کہا کہ ہر جگہ پاک فوج کو عوام کی مدد کرتے اور زندگیاں بچاتے دیکھا ہے، جن زندگیوں کو بچایا گیا ہے، ان سے بات کی مگر وہ ابھی محفوظ نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ان انسانوں میں بے شمار بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ایسی تباہی اپنی زندگی میں کہیں بھی نہیں دیکھی۔ متاثرین کو خوراک، شیلٹر اور طبی سہولیات کی ہنگامی ضرورت ہے۔ اگلے روز انہوں نے نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر کا دورہ بھی کیا۔ڈپٹی چیئرمین این ایف آر سی سی احسن اقبال نے محترمہ جولی کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کی تاریخ کے سب سے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان آنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔انجلینا جولی کو سیلاب کے ردعمل اور اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔انجلینا جولی نے کہا کہ وہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ ہیں اور دنیا کو یہ بتانے کے لیے اپنی کوششیں کریں گی کہ ان موسمیاتی تبدیلیوں نے کتنی تباہی کی ہے اور انہیں زندگی بچانے کے لیے کس مدد کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد اگر ابھی بچ بھی جاتے ہیں تو یہ لوگ موسم سرما میں کس طرح گزارا کریں گے، میرے لئے یہ سوچنا بھی ممکن نہیں ہے۔انجلینا جولی نے کہا کہ میں بحیثیت پاکستان کی دوست یہاں موجود ہوں، اور مجھے یہاں سے جو پیار ملا ہے وہ کسی اور صورت میں لوٹانے کی کوشش جاری رکھوں گی ۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا بین الاقوامی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ پاکستان کی مزید مدد کریں، میں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ دیکھا ہے کہ کس طرح پاک فوج نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی زندگیاں بچانے کے لئے کوششیں کی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے ان لوگوں کو بھی دیکھا ہے جن کی زندگیاں بچ گئی ہیں اور ان سے ملاقات بھی کی ہے لیکن اگر ان کو مزید امداد نہیں ملی تو ہوسکتا ہے کہ وہ آئندہ 2 ہفتوں میں زندہ نہ رہ پائیں ۔انجلینا جولی نے اس موقع پر پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر دنیا کی توجہ مرکوز کرانے کا عزم کااعادہ کرتے ہوئے پھر پاکستان آنے کا اعلان کیا۔قاریین محترم؛انجلینا جولی کی جانب سے بدترین تباہی، عوام کی مشکلات اور پاک فوج کے ریلیف آپریشن کی حقیقی منظر کشی ایک حقیت ھے دنیا کی مشہور ترین ھالی وڈ کی ادکارہ نے یوں تو سینکڑوں فلمی سین فلماتے ہوئے رونے کی اداکاری کی ہوگی مگر ایکشن فلموں کی معروف فنکارہ سیلاب زدگان کے مسائل دیکھ آبدیدہ ہوگیئں اور سیلاب متاثرین کے سر پر درد شفقت رکھتے ہوئے کہاکہ مشکلات میں گھری عوام کیلئے مدد میں دن رات مصروف پاک فوج کی کارکردگی متاثرکن اقدام ہے انجلینا جولی کا ماننا تھا کہ اگر پاک فوج فوری ریسکیو ریلیف آپریشن شروع نہ کرتی تو بہت زیادہ ہلاکتوں روکنا ممکن نہ تھا اس متاثرکن کارکردگی پر پاک فوج کے سپہ سالار اور فوج کا ایک ایک سپاہی لائق تحسین ہے ان کا کہنا تھاکہ متاثرین سیلاب کیلئےکوئی بھی امدادی سرگرمی دیکھی تو دیکھا وہ امدادی کام پاک فوج کر رہی ھے ۔انجلینا جولی کا مزید کہنا تھا کہ ہر جگہ پاک فوج کو عوام کی مدد کرتے، زندگیاں بچاتے دیکھا ہے ۔ایسے مناظر دنیا میں پہلے کسی اور جگہ نہیں دیکھے ہیں ۔ اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر کا یہ بھی کہناتھا کہ جن زندگیوں کو بچایا گیا، ان سے بات کی مگر وہ ابھی محفوظ نہیں۔ انکے لئے بہت کچھ کرنا باقی ہے پاکستان میں حالیہ سیلاب سےجو تباہی ہوئی ہے، دنیا کو اس کا اندازہ ہی نہیں اور اگر موسم سرما سے قبل مزید کچھ نہ کیا تو بہت بڑی تباہی آسکتی ہے ابھی حالات نارمل نہیں ہیں انجلینا جولی کا کہنا تھاکہ آنے والے ہفتوں میں بھرپور مدد نہ پہنچی تو بچنے والے بھی نہیں بچیں گے۔ وبائی امراض سےان زندگیوں کو بچانا ہے زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ان انسانوں میں بے شمار بچے ہیں۔انکا کہناتھاکہ میں نے ایسی تباہی اپنی زندگی میں کہیں نہیں دیکھی۔ انجلینا جولی نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ متاثرین کو خوراک، شیلٹر، طبی سہولیات کی ہنگامی بنیاد پر اشد ضرورت ہے۔ انجلینا جولی کاکہناثھا کہ میں پہلے جب بھی آئی پاکستانی عوام کو افغان عوام کی مہمان نوازی کرتے پایا۔ مگر آج پاکستانی خود بڑی قدرتی آفت کا شکار ہیں۔انجلینا جولی نے عالمی برادری سے پاکستانی سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے ڈو مور کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سےجو صورتحال ہے دنیا کو اس پر جاگنا چاہیے۔ یہ بہت سارے لوگوں کی زندگی و موت کا مسئلہ ہے۔ کلائمنٹ چینج کے کم ذمہ دار ممالک کو تباہی اور اموات کا دوسروں کی نسبت زیادہ سامنا ہے۔انجلینا جولی کاکہناتھاکہ مصیبت کی اس گھڑی میں میرا دل پاکستانی عوام کے ساتھ ہےسوشل میڈیا پرسیلاب متاثرین کے لیے پاکستان آنے والی اقوام متحدہ کی خیرسگالی سفیر انجلینا جولی کے دورہ کا ردِ عمل سامنے آیا ھےسوشل میڈیا صارف آمنہ بدر نے لکھا کہ انجلینا جولی سنہ 2010 میں اپنے آخری دورہ پاکستان کے بعد ایک بار پھر پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آ پہنچی ہیں۔اُنھوں نے لکھا کہ انجلینا جولی نے ہمیشہ اپنی شہرت کو ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے استعمال کیا۔علی عباس زیدی نے لکھا کہ انجلینا جولی سیلاب کے بعد امدادی کاموں کے لیے پاکستان پہنچ گئی ہیں مگر ہمارے سلیبریٹیز کہاں ہیں اُنھیں بھی آگے آنا چاہیے، متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنا چاہیے اور مدد فراہم کرنی چاہیے۔تزئین نامی صارف نے لکھا کہ انجلینا جولی دادو میں ہیں۔ شاید ان کی موجودگی سے پاکستان میں سیلاب کو وہ عالمی توجہ ملے گی جس کی فی الوقت ضرورت ہے۔انجلینا جولی اس سے پہلے 2010 کے سیلاب اور 2005 کے زلزلے کے متاثرین سے ملاقات کیلئے بھی پاکستان آچکی ہیں,انجلینا جولی نے سندھ میں دادو کے پانی میں گھرے علاقوں کا فضائی جائزہ لیا اور کشتی کے ذریعے بھی متاثرہ علاقوں میں گئیں۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کی نمائندہ خصوصی اور ہالی وڈ اداکارہ اینجلینا جولی نے پاکستان میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کی سرگرمیوں کا جائزہ بھی لیا۔ہالی ووڈ اداکارہ اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کی خصوصی سفیر انجلینا جولی نے عالمی انسانی تنظیم کی ٹیم کے ساتھ اندرون سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔انجلینا جولی نے سیہون اور دادو کے سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کا کشتی کے ذریعے دورہ کیا اور متاثرین سے بات چیت کی۔یونیسیف رپورٹ کے مطابق سیلاب سے 34لاکھ سے زائد بچے متاثر جنہیں امداد کی ضرورت ہے.سیلاب سے متاثرہ بچوں میں وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے.سیلاب متاثرہ علاقوں میں پانی نکالنے میں 6ماہ لگ سکتے ہیں،یاد رہے کہ انجلینا جولی اس سے قبل 2005 اور 2010 میں بھی پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں۔اداکارہ نے 2010 میں آنے والے سیلاب کے موقع پر بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا جب کہ 2005 میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد بھی متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے پاکستان پہنچی تھیں۔آئی آر سی کو امید ہے کہ انجلینا جولی کے دورے سے موسمیاتی تبدیلیوں کا معاملہ ابھر کر سامنے آئے گا اور اس سے متاثر ہونے والے پاکستان جیسے ممالک کی مدد کی راہ ہموار ہو گی ۔آئی آر سی کو امید ہے کہ انجلینا جولی کے دورے سے موسمیاتی تبدیلیوں کا معاملہ ابھر کر سامنے آئے گا اور اس سے متاثر ہونے والے پاکستان جیسے ممالک کی مدد کی راہ ہموار ہو گی، آئی آر سی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ یہ دورہ عالمی برادری بالخصوص کاربن کے اخراج میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والی ریاستوں کو موسمی تغیر کے بحران کا شکار ممالک کو فوری مدد فراہم کرنے کے کی ترغیب دے گا۔ انجلینا جولی نے ہمیشہ اپنی شہرت کو ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے استعمال کیا ہے آئی آر سی کی پاکستان کی ڈائریکٹر شبنم بلوچ کا کہنا ہے کہ موسمیاتی بحران پاکستان میں انسان جانوں اور ملک کے مستقبل کو تباہ کر رہا ہے اور اس کے نتائج سب سے زیادہ خواتین اور بچوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایسی آفات ملک کو بالآخر خوراک کے بحران کی طرف لے جائیں گی جبکہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہو گا۔ ضروری ہے کہ ہم ضرورت مند افراد تک پہنچیں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات سے بچاؤ کے لیے دوررس اقدامات کیے جائیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آنے والے مہینوں میں مزید بارشوں کا بھی امکان ہے ہمیں امید ہے کہ انجلینا کے دورے سے دنیا کو احساس ہو گا اور مستقبل کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ سیلاب کا نشانہ بننے والے افراد کو فوری طور پر خوراک، پانی، رہائش گاہوں اور صحت کی سہولتوں کی ضرورت ہے جبکہ خواتین اور لڑکیوں کو مخصوص ایام کے دنوں میں ضروری اشیا کی قلت کا بھی سامنا ہےانجلینا جولی نے کہا کہ وہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ ہیں اور دنیا کو یہ بتانے کے لیے اپنی کوششیں کریں گی کہ ان موسمیاتی تبدیلیوں نے کتنی تباہی کی ہے اور انہیں زندگی بچانے کے لیے کس مدد کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد اگر ابھی بچ بھی جاتے ہیں تو یہ لوگ موسم سرما میں کس طرح گزارا کریں گے، میرے لئے یہ سوچنا بھی ممکن نہیں ہے۔انجلینا جولی نے کہا کہ میں بحیثیت پاکستان کی دوست یہاں موجود ہوں، اور مجھے یہاں سے جو پیار ملا ہے وہ کسی اور صورت میں لوٹانے کی کوشش جاری رکھوں گی ۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا بین الاقوامی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ پاکستان کی مزید مدد کریں، میں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ دیکھا ہے کہ کس طرح پاک فوج نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی زندگیاں بچانے کے لئے کوششیں کی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے ان لوگوں کو بھی دیکھا ہے جن کی زندگیاں بچ گئی ہیں اور ان سے ملاقات بھی کی ہے لیکن اگر ان کو مزید امداد نہیں ملی تو ہوسکتا ہے کہ وہ آئندہ 2 ہفتوں میں زندہ نہ رہ پائیں ۔ انجلینا جولی نے عالمی انسانی تنظیم کی ٹیم کے ساتھ اندرون سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔انجلینا جولی نے سیہون اور دادو کے سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کا کشتی کے ذریعے دورہ کیا,دادو حالیہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں سے ہےانجلینا جولی نے دوپہر ایک بجے سے لے کر دو بجے تک سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا کشتی پر دورہ کیا جو پانی کے گھیرے میں ہیں۔ یہاں یہ بات کرنا ضروری ہےکہ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ ضلع دادو میں اپنے دورے کے دوران اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کی نمائندہ خصوصی اور امریکی اداکارہ انجلینا جولی تین دیہات کے دورے پر گئیں۔ انجلینا جولی کے ساتھ کشتی میں پاکستان میں آئی آر سی کی سربراہ شبنم بلوچ بھی موجود تھیں جن کا تعلق سندھ سے ہے۔ شبنم بلوچ دورے میں انجلینا جولی کی مترجم تھیں۔ انجلینا جولی نے گاؤں ابراہیم چانڈیو، گاؤں خیر محمد مغیری اور گاؤں علی محمد مغیری کا دورہ کیا۔ وہاں انجلینا جولیکشتی سے نیچے اتریں اور جا کر سیلاب زدگان خواتین سے بات چیت کی۔ انجلینا جولی نے سیلاب زدگان خواتین سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس چیز کی ضرورت ہے؟ تو ان خواتین نے بتایا کہ اُنھیں کھانے پینے کی تکلیف ہے، چاروں اطراف میں پانی ہے اور مریضوں کو بھی اس سے گزر کر لے جانا پڑتا ہے۔ اُنھوں نے مترجم کی مدد سے خواتین کو یقین دہانی کروائی کہ وہ مدد کے لیے لوگ بھیجیں گی۔ گاؤں خیر محمد مغیری میں چاروں اطراف پانی تھا کوئی جگہ نہیں تھی جہاں پرانجلینا جولی اتر کرسیلاب زدگان خواتین سے بات کر سکیں،لہٰذا کشتی خواتین کے قریب لے جائی گئی اور انجلینا کشتی کے سامنے والے حصے پر بیٹھ گئیں اور خواتین سے بات کی۔ سیلاب سے متاثرہ خواتین نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کی نمائندہ خصوصی انجلینا کو بتایا کہ ان کی تین تحصیلیں خیرپور ناتھن شاہ، میہڑ اور جوہی زیر آب ہیں اور اس وقت دادو میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جبکہ جو گھر ہیں ان کا کرایہ بہت ہے جو وہ برداشت نہیں کر سکتیں اس لیے وہ یہاں ہی بیٹھی ہوئی ہیں سیلابی صورتحال دیکھ کر اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی تکلیف سن کر انجلینا جولی کی آنکھوں میں متعدد بار آنسو بھی آگئے لیکن انجلینا پھربھی حوصلہ افزائی کے لیے خواتین اور بچوں کی طرف دیکھ کر مسکراتی رہیں۔ انجلینا جولی نے پوچھا کہ کیا یہ سیلاب ہر سال آتا ہے اور یہ جو گھر ٹوٹتے ہیں تو کون بنا کر دیتا ہے؟انجلینا جولی کو بتایا گیا کہ ہر دسویں سال یہ سیلابی صورتحال ہوتی ہے، لوگ خود اپنے گھر بناتے ہیں اور کوئی مدد نہیں کرتا۔ سیلاب سے متاثرہ لوگوں نے ان کو یہ بھی بتایا کہ بہت نقصان ہوا ہے، گھر تباہ ہو گئے ہیں، جانور مر گئے ہیں لیکن کسی کی طرف سے کوئی مدد نہیں پہنچی۔‘ اس کے بعد انجلینا جولی نے کھیر والی موری واپس آ کر وہاں خیموں میں موجود سیلاب سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور وہاں موجود ایک میڈیکل کمیپ کا بھی دورہ کیا جس کے بعد وہ واپس روانہ ہو گئیں۔یاد رہے کہ انجلینا جولی اس سے قبل سنہ 2005 کے زلزلے اور سنہ 2010 کے سیلاب کے دنوں میں بھی پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں۔ہلال احمر کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق انجلینا جولی پاکستانی عوام کے لیے فوری مدد کے لیے آواز اٹھائیں گی۔امید ہے کہ انجلینا جولی کے دورے سے موسمیاتی تبدیلیوں کا معاملہ ابھر کر سامنے آئے گا اور اس سے متاثر ہونے والے پاکستان جیسے ممالک کی مدد کی راہ ہموار ہو گی،