میثاقِ مکہ اور 14 اگست کی پریڈ: امتِ مسلمہ کا عسکری ستون ,بدلتا تزویراتی نقشہ
(کالم: اندر کی بات : اصغر علی مبارک)14 اگست کو پاکستان کا یومِ آزادی قومی جوش و جذبے اور ملی یکجہتی کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یومِ آزادی کی تقریبات میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مسلح افواج کے دستے مشترکہ پریڈ اور مارچ پاسٹ میں حصہ لیں گے۔ یہ عسکری نمائش اس نئے دفاعی اتحاد کی عملی شکل اور عزمِ نو کا مظہر ہوگی، جو دنیا کو امتِ مسلمہ کے مابین گہرے عسکری اور سٹریٹجک تعاون کا پیغام دیتی ہے۔حالیہ طے پانے والے “میثاقِ مکہ” کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب اور ترکیہ کے فوجی دستے پاکستان کی دھرتی پر پاکستانی افواج کے ساتھ مل کر یومِ آزادی کی پریڈ میں مارچ کریں گے۔اس سال کا یومِ آزادی ملکی تاریخ میں اس لیے انتہائی منفرد اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ روایتی تقریبات کے ساتھ ساتھ آئی ایس پی آر (ISPR) کے زیرِ اہتمام شکر پڑیاں، اسلام آباد میں ایک عظیم الشان مشترکہ عسکری پریڈ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا اور تجزیہ کار اسے امتِ مسلمہ کے اندر ایک مؤثر اور فعال دفاعی ستون یا “مسلم نیٹو” کی تشکیل کی طرف اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔پاک فضائیہ کے جے ایف-17 بلاک 3 اور جے-10 سی طیاروں کے ساتھ ساتھ برادر اسلامی ممالک کے جدید لڑاکا طیارے فضا میں مشترکہ فارمیشنز بنا کر امتِ مسلمہ کی دفاعی یکجہتی کا مظاہرہ کریں گے
علاقائی خودمختاری، معاشی بقا اور عسکری دفاع کے سنگِ میل عبور کرنے کے لیے ملکِ عزیز اس وقت تاریخ کے انتہائی اہم موڑ پر کھڑا ہے۔
سعودی عرب اور بین الاقوامی سفارتی حلقوں سے آنے والی خبریں اب دنیا پر واضح کر رہی ہیں کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا “میثاقِ مکہ” (مشترکہ دفاعی معاہدہ) محض ایک عارضی سفارتی سمجھوتہ نہیں بلکہ مسلم امہ کا ایک ابدی اور ناقابلِ تسخیر دفاعی بلاک بننے جا رہا ہے۔ اس تزویراتی اتحاد کی گونج بیجنگ کے ایوانوں تک سنائی دی ہے، جہاں چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے نہ صرف اس سہ فریقی تاریخی معاہدے کی بھرپور تائید کی ہے بلکہ بیجنگ اور اسلامی ممالک کے درمیان ایک عظیم الشان “سیکیورٹی چارٹر” قائم کرنے کی دور رس تجویز بھی پیش کر دی ہے۔ عالمی امور کے ماہرین اسے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امریکی اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک نئے اور طاقتور جیو پولیٹیکل بلاک کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔اس بین الاقوامی تزویراتی ہلچل کے عین وسط میں، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے باقاعدہ اعلانات کے مطابق افواجِ پاکستان اس سال 14 اگست کو یومِ آزادی کے موقع پر شکر پڑیاں پریڈ گراؤنڈ میں ایک ایسا تاریخ ساز عسکری مظاہرہ کرنے جا رہی ہیں جو روایتی جشن سے بڑھ کر ایک گہرا جیو پولیٹیکل پیغام ہے۔
ملکی تاریخ میں پہلی بار یومِ آزادی پر منعقد ہونے والی اس گرینڈ ملٹری پریڈ کا سب سے بڑا اور یادگار سرپرائز کا عملی مظاہرہ ہوگا، جس کے تحت سعودی عرب اور ترکیہ کے چیدہ چیدہ فوجی دستے اور فضائی عناصر پاکستان کی دھرتی پر قدم ملا کر پریڈ کا حصہ بنیں گے
یہ سہ فریقی عسکری مارچ دنیا پر واضح کر دے گا کہ یہ اتحاد محض کاغذوں تک محدود نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں بھی تینوں ممالک ایک مشترکہ قوت بن چکے ہیں۔
اس تاریخی پریڈ میں پاکستان کی مقامی سطح پر تیار کردہ فورتھ جنریشن پلس دفاعی ٹیکنالوجی، ڈرونز، جدید ترین ٹینک اور تباہ کن میزائل سسٹمز براہِ راست عوام اور بین الاقوامی میڈیا کے سامنے لائے جا رہے ہیں۔ “شاہین-3” اور ایم آئی آر وی ٹیکنالوجی سے لیس “ابابیل” بیلسٹک میزائل سسٹمز کی شمولیت یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان دشمن کے کسی بھی فضائی دفاعی حصار کو سیکنڈوں میں خاک میں ملانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ فضاؤں میں پاک فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر بلاک 3 اور جے-10 سی طیاروں کے ساتھ ترک فضائیہ کے جدید جنگی طیاروں کا مشترکہ فلائی پاسٹ اور زمین پر ملکی ساختہ تھرڈ جنریشن “حیدر ٹینک” کی پہلی عوامی دھمک ,
یہ پیغام ہے کہ پاکستان اب عسکری سازوسامان کے لیے بیرونی امداد کا محتاج نہیں رہا۔جہاں ایک طرف یہ پریڈ پاکستان کی بے پناہ عسکری طاقت کا ثبوت ہے، وہاں دوسری طرف آئی ایس پی آر کا جاری کردہ نیا بلوچی ملی نغمہ “پاک اے وطن” دلوں میں حب الوطنی کی نئی روح پھونک رہا ہے۔ نامور بلوچ گلوکار اختر چنال کی آواز اور روایتی بلوچی موسیقی کے سحر انگیز امتزاج سے سجے اس نغمے کی ویڈیو میں گوادر، سی پیک اور بلوچستان کے پُرعزم چہروں کو دکھا کر بیرونی پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کو کرارا جواب دیا گیا ہے۔ گوادر کی بندرگاہ سے لے کر بحیرہ عرب کی لہروں تک، پاکستان کا یہ مقتدر وجود ثابت کر رہا ہے کہ 17 لاکھ 10 ہزار سے زائد فوج اور ایٹمی طاقت کے ساتھ پاکستان اس نئے عالمی تزویراتی نقشے پر امتِ مسلمہ کا سب سے مضبوط سیکیورٹی ستون ہے۔ اندر کی بات یہ ہے کہ اب دنیا کو پاکستان کے دفاعی اور سفارتی وجود کو تسلیم کرنا ہی ہوگا، کیونکہ یہ اتحاد اور یہ طاقت اب مستقل ہے۔