.ہاکی ورلڈ کپ 2018:پاکستانی ٹیم کا فاتحانہ آغاز کیلئے گیم پلان تیار …۔
..رپورٹ :اصغر علی مبارک سے




ہاکی ورلڈ کپ 2018 میں پاکستان ہاکی ٹیم اپنا پہلا میچ جرمنی کیخلاف کھیلا،پاکستانی ٹیم نےابتدا سے ہی میں فاتحانہ آغاز کیلئے گیم پلان بنایا ھے ۔ بھارت کے شہر بھوبنیشور میں ہاکی ورلڈ کپ 2018 جاری ہے جس میں 16ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جنہیں چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔گروپ اے میں اسپین، نیوزی لینڈ، فرانس اور ارجینٹائن، گروپ بی آئرلینڈ، انگلینڈ، آسٹریلیا، چائنہ، گروپ سی میں ساتھ افریقا، انڈیا، کینیڈا، بیلجیئم اور گروپ ڈی میں پاکستان ھالینڈ، ملائیشیا اور جرمنی کو رکھا گیا ہے۔اس عالمی مقابلے میں سولہ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جنہیں چار گروپ میں رکھا گیا ہے۔ہر گروپ کی فاتح ٹیم کوارٹرفائنل میں جگہ بنائے گی جبکہ ہر گروپ کی دوسرے اور تیسرے نمبر کی ٹیمیں دوسرے راؤنڈ میں کھیلیں گی جہاں سے چار ٹیمیں کوارٹرفائنل میں پہلے سے موجود چار ٹیموں کے ساتھ شامل ہوجائیں گی۔ایف آئی ایچ کے قواعد وضوابط کے مطابق پانچ براعظمی چیمپیئن ٹیموں اور میزبان ملک کو ورلڈ کپ میں براہ راست شرکت کا حق حاصل ہے تاہم بھارت میزبان ہونے کے ساتھ ساتھ ایشین چیمپیئن ہونے کی وجہ سے بھی اس مقابلے میں شریک ہے۔پاکستان کو اپنے ابتدائی میچوں میں ہی مشکل حریفوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی کپ پہلی بار 1971 میں سپین میں منعقد ہوا تھا اور اس کی خوبصورت ٹرافی بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اس وقت کے صدر ائرمارشل ( ریٹائرڈ ) نورخان نے خصوصی طور پر تیار کرا کر ایف آئی ایچ کوبطور عطیہ دی تھی۔1971 کے عالمی کپ کے فائنل میں پاکستان میزبان سپین کو ایک گول سے شکست سے دے کر عالمی چیمپیئن بنا تھا۔پاکستان نے 1978 ۔ 1982 اور 1994 میں بھی ورلڈ کپ جیتا اس طرح اسے سب سے زیادہ چار مرتبہ عالمی چیمپیئن بننے کا منفرد اعزازحاصل ہے۔ہالینڈ اور آسٹریلیا نے تین تین مرتبہ عالمی کپ جیتا ہے۔ جرمنی نے دو بار کامیابی حاصل کی ہے جبکہ انڈیا ایک بار عالمی چیمپئن بنا ہے۔انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کی جاری کردہ عالمی رینکنگ میں آسٹریلیا اس وقت پہلے نمبر پر ہے۔ارجنٹائن کا نمبر دوسرا ہےجس کے بعد بیلجیئم۔ ہالینڈ۔ انڈیا اور جرمنی کا نمبر آتا ہے۔عالمی رینکنگ کی ابتدائی دس ٹیموں کی تکمیل انگلینڈ،سپین، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ سے ہوتی ہے۔ پاکستان اس وقت عالمی رینکنگ میں 13ویں نمبر پر ہے۔اس عالمی کپ میں بھی اصل مقابلہ انہی صف اول کی ٹیموں کے درمیان متوقع ہے۔آسٹریلیا دفاعی چیمپیئن ہے جس نے گذشتہ عالمی کپ کے فائنل میں ہالینڈ کو ایک کے مقابلے میں چھ گول سے شکست دی تھی۔ارجنٹائن اولمپک چیمپیئن ہے جس نے ریو اولمپکس کے فائنل میں بیلجیم کو ہرایا تھا۔ بیلجیم اور ارجنٹائن دو ایسی ٹیمیں ہیں جو حالیہ برسوں میں اپنی چونکادینے والی کارکردگی سے سامنے آئی ہیں۔انڈیا کو میزبان ہونے کا فائدہ ہو گا لیکن جہاں تک کارکردگی کا تعلق ہے تو انڈیا نے بھی پچھلے دو برسوں میں اپنی کارکردگی کو پہلے سے کافی بہتر کیا ہے۔ ان دو برسوں میں انڈین ہاکی ٹیم چیمپیئنز ٹرافی میں دو مرتبہ دوسرے نمبر پر آئی ہے۔اس سال ایشین گیمز میں اس کا نمبر تیسرا رہا جبکہ ایشیا کپ کا ٹائٹل بھی اس کے نام رہا ہے۔انڈیا کی موجودہ ٹیم میں سات ایسےکھلاڑی ہیں جو دو سال پہلے لکھنؤ میں منعقدہ جونیئر ورلڈ کپ جیت چکے ہیں۔پاکستان کی ہاکی جس نے طویل عرصے تک راج کیا اس وقت اچھے حالات سے نہیں گزر رہی ہے۔اس سال ایشین گیمز کے سیمی فائنل میں اسے جاپان نے شکست دی اور پھر تیسری پوزیشن کے میچ میں انڈیا کے خلاف بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔پاکستانی ہاکی ٹیم کی موجودہ مایوس کن کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ 2014میں ہالینڈ میں ہونے والے عالمی کپ اور پھر 2016 میں ریو ڈی جنیرو اولمپکس کے لیے کوالیفائی تک نہیں کر سکی تھی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان نے آخری بار 2010 کے ورلڈ کپ میں شرکت کی تھی جو اتفاق سے انڈیا ہی میں منعقد ہوا تھا اور اس میں اس کی پوزیشن سب سے آخری یعنی 12ویں رہی تھی۔میگا ٹورنامنٹ میں پاکستان 5دسمبر کو پاکستان دوسرے میچ میں ملائیشیا کے خلاف میدان میں اترے گا جبکہ قومی ہاکی ٹیم کا9 دسمبر کو ہالینڈ کے خلاف تیسرا میچ شیڈول ہے۔ ہاکی ورلڈ کپ میں فتح کیلیے پاکستان نے گیم پلان بنالیاھے کھلاڑیوں پر واضح کیا گیا کہ وہ کسی سے کم نہیں، اگر جوش کے ساتھ ہوش کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھیلیں تو ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ادھر ہاکی ورلڈ کپ 2018 میں دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا نے فاتحانہ انداز میں ایونٹ کا آغاز کرتے ہوئے آئرلینڈ کو شکست دے دی جبکہ انگلینڈ اور چین کے درمیان مقابلہ 2-2 گول سے برابر رہا۔بھارت کے شہر بھوبھنیشور میں جاری ہاکی کے عالمی کپ میں آسٹریلیا نے 11ویں منٹ میں پینالٹی کارنر پر گول اسکور کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔28سال بعد ہاکی ورلڈ کپ میں شرکت کے باوجود آئرلینڈ نے میچ میں کمال مہارت کا ثبوت دیا اور پہلے کوارٹر کے اختتام سے قبل شان مرے کے پاس پر شین ڈونوگو نے گیند کو گول کی راہ دکھا کر مقابلہ برابر کردیا۔میچ کے دوسرے کوارٹر میں کوئی بھی ٹیم گول اسکور نہ کر سکی لیکن تیسرے کوارٹر میں عالمی چیمپیئن ٹیم نے گول اسکور کر کے ایک مرتبہ پھر برتری حاصل کر لی۔اس کے بعد آئرلینڈ نے کاؤنٹر اٹیک پر گول کی متعدد کوششیں کیں لیکن وہ مقابلہ برابر نہ کر سکے اور آسٹریلیا نے میچ میں فتح حاصل کر لی۔یاد رہے کہ آسٹریلیا کی ٹیم لگاتار دو مرتبہ عالمی جیت چکی ہے اور 2018 کا ایونٹ جیت کر لگاتار تین ورلڈ کپ جیتنے والی دنیا کی پہلی ٹیم بن سکتی ہے۔ دوسرا میچ انگلینڈ اور چین کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا جہاں چین کی ٹیم نے عالمی نمبر سات انگلینڈ کو کامیابی سے محروم کردیا۔میچ کے لیے فیورٹ قرار دی جانے والی انگلش ٹیم کو اس وقت دھچکا لگا جب پانچویں منٹ میں چین کے ژیاؤ پنگ نے انگلینڈ کے تین دفاعی کھلاڑیوں کو مات دیتے ہوئے خوبصورت گول اسکور کیا۔البتہ ان کی برتری زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی اور انگلینڈ نے میچ میں گول اسکور کر کے مقابلہ برابر کردیا۔اس کے بعد انگلینڈ نے میچ میں برتری کے حصول کی کئی کوششیں کیں لیکن وہ اگلے دونوں کوارٹرز میں چینی دفاعی حصار کو توڑنے میں ناکام رہے البتہ میچ کے 48ویں منٹ میں لیام آنسل نے اس جمود کو توڑتے ہوئے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔چین کی ٹیم نے خسارے میں جانے کے باوجود ہمت نہ ہاری اور میچ ختم ہونے سے ایک منٹ قبل انہوں نے گول کر کے مقابلہ 2-2 سے برابر کردیا۔



