گمشدہ افراد ؛پاک فوج کےخلاف پروپیگنڈہ میں کوئی حقیقت نہیں۔۔۔۔۔کالم نگار۔۔۔اصغرعلی مبارک۔۔۔۔۔کالم۔۔اندر کی بات۔۔۔۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے قائم عدالتوں کو سابق دور حکومت یہ کہہ کر ختم کر دیاگیا کہ ان عدالتوں کی ضرورت نہیں اور ان حالات میں پاکستان میں انتہائی خطرناک دھشتگردوں نے ایک بار پھر سر اٹھا شروع کیا تو ملکی سلامتی کو درپیش چیلنجزز کا مقابلہ کرنےکیلئے پاک فوج نے جانوں کا نذرانہ دے کر دہشتگردوں کا قلع قمع کیا اگر کسی کو کوئی شک ھے تو آکر راولپنڈی کی دہشتگردی کے مقدمے کا خود جائزہ لےلیں جسکاراقم الحروف مدعی مقدمہ ھے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جان پر کھیل کر تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ مجرموں کو بمعہ ثبوت گرفتارکیا اور بےگناہ بھائی شہید مظہرعلی مبارک کے قاتلوں انسداد دہشتگردی راولپنڈی نے بڑاریلیف دیکر انصاف کے نام پر سوالیہ نشان ثبت کردیا میں حلفا”اس بات کو تحریر میں لا رہا ہوں کہ پاکستان میں دہشتگردی عدالتوں کے معزز ججز دہشتگردوں کو سزادینے سے گریزاں رہے ہیں اور پھر اسکا جواب بھی کوئی دینے کو تیارنہیں۔قانون نافذ کرنے والے ادارے محدود وسائل کے باوجود بہتر سے بہترین کام کررہے ہیں اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سیاستدانوں کی کرسی کی حوس نے اخلاقیات کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ھے رہی سہی کسر نام نہاد آزاد میڈیا اور بیرون ممالک کی فنڈنگ پر پلنے والی این جی اوز نے پوری کر دی ھے جو پاک فوج کے خلاف گندی زبان کا استعمال فرض اولین سمجھتے ہیں۔اور اگر ملک و قوم کے دفاع کیلئے کام کرنے والے ادارے حرکت میں آجائیں تو اسلام آباد ھائیکورٹ جیسے فیصلے انہیں کام سے روک دیتے ہیں۔جن کے نزدیک قانون ان کے گھر کی لونڈی ھے اور رات کو عدالتیں لگا کر پاک فوج کو ننگی گالیاں دینے والوں کو قانون کے محافظوں لے کر آزاد کر دیاجاتاھے بلکہ ان پر قائم مقدمات کو بھی دوسرے فریق کو سنے بغیر ختم کردیا جاتاھے اس سال کی تازہ مثال ایمان مزاری کیس ھے جو قانون کے طالبعلموں اور قانون کے رکھوالوں کیلئے بھی مثال ھے اس کیس میں ایک منٹ کی بھی سزا دے دی جاتی تو کہاجاسکتا کہ قانون اندھا ھوتا ھے جس کے سامنے سب برابر ہیں مگر افسوس عدالتوں کے ایسے فیصلوں سے عوام کو سخت مایوسی ہوئی ھےجسکا مداوہ ممکن نہیں۔قارئین کرام۔پاکستان میں ھنود و یہود کے گٹھ جوڑ سے افواج پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناکر مشرقی پاکستان جیسے حالات پیداکرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ھے مگر صد آفرین ہماری مسلح افواج کا جس نے دشمن کی ہرچال کو ناکام بنایاہے سونے پر سہاگہ یہ ھےکہ پاکستان کے سیاستدان دشمن کی زبان میں افواج پاکستان پر بھونک رہے ہیں اور جب انہیں اخلاقیات کادرس دیا جائے تو انہیں آئین پاکستان کے بینادی حققوق یاد آجاتے ہیں ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرکے کسی اور کو مجیب الرحمن کی سوچ کے ساتھ بات کرنےکی اجازت ہرگز نہیں دے سکتے۔اگر اس دور میں سیاسی غلطیاں نہ ہوتیں تو ملک دو لخت نہ ھوتا۔ لاپتہ افراد۔مسنگ پرسنز یا گمشدہ افراد کی گمشدگی پر پاک فوج پر الزام عائد کرنے کے بجائے گمشدہ کے ماضی حال کے کردار کو بھی زہن نشین رکھنا ہوگا تاکہ حقائق تک جانے کا رستہ مل سکے حالیہ درجنوں مثالیں موجود ہیں جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اگر کسی کو حراست میں لیا ھے تو اسے پوچھ گچھ کے بعد وارننگ دیکر چھوڑ دیاگیا آج کل تحریک انصاف کے لیڈران بھی کچھ ایسی ہی روش اپنائے ہوئےہیں جس میں فوج کو متنازعہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔اور اب تو انہیں قانون کی تشریح کرنے والوں کی حمایت حاصل ھے جس کی بنیاد پر امیروں اور غریبوں کیلئے الگ الگ انصاف کا تذکرہ زود عام ہے اسلام آباد ھائیکورٹ کے معزز چیف جسٹس کے فیصلوں میں آجکل فوج پر تنقید کرنے والوں کیلئے آئین پاکستان کے تحت ریلیف دینے کا سلسلہ جاری ھے موجودہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ریاض پیرزادہ نے ایک حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ’کچھ لاپتہ افراد کلبھوشن یادیو سمیت ہمسایہ ممالک کے ہاتھوں استعمال ہوئے۔‘انہوں نے تجویز دی ہے کہ ’لاپتہ افراد کا معاملہ لاپتہ افراد کے کمیشن کی بجائے ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی دیکھے پاکستان فوج نے 2019 میں واضح کیا تھا کہ ہر لاپتہ شخص کی ذمہ دار ریاست نہیں ہوسکتی ہے اور حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے30 ، اگست کادن ساری دنیا میں لاپتہ افراد۔مسنگ پرسنز یا گمشدہ افراد سے اظہارِ یک جہتی ، جبری گمشدگی کے خلاف اور اسکی روک تھام کیلئے عالمی سطح پر منایا جاتا ہے ، یہ انسانیت سوز طرزِ عمل پاکستان کے علاوہ دنیا کے کئی ایشیائی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں حکومتی اداروں کی طرف سے کیا جاتا ہے،ملک میں لاپتہ افراد کا معاملہ ملک کی عدلیہ ، حکومت اور اداروں کے لئے چیلنج بن گیا ہے 10 مئی 2019 اس وقت کےاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا تھا کہ ہمارے دل تمام لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ان خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کی کوششوں میں ان کے ساتھ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں فوجی جوانوں نے اپنے ہم وطن پاکستانیوں کے تحفظ کے لیے جانیں قربان کیں، وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاسکتے۔ساتھ ہی انہوں نے تاکید بھی کی کہ کسی کو بھی کسی بھی طرح اس معاملے کو خراب نہ کرنے دیا جائے۔واضح رہے کہ پاکستان میں لاپتہ افراد یا جبری گمشدگیوں کا معاملہ بہت سنگین ہے، ان افراد کے اہلِ خانہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے عزیزوں کو جبری طور پر سیکیورٹی ادارے لے جاتے ہیں اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی ہدایات پر وزارت داخلہ نے جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں 2 رکنی کمیشن قائم کیا تھا اعدادوشمار کے مطابق مارچ 2011 سے، جب سے کمیشن قائم کیا گیا، کمیشن کو جبری گمشدگیوں کے حوالے سے 5 ہزار 3 سو 69 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 3 ہزار 6 سو کیسز کو خارج کردیا گیا جبکہ ان میں سے 2 ہزار لوگوں کی موجودگی کے حوالے سے کمیشن کو معلومات حاصل نہیں ہوسکیں۔اگست 2018 سے کمیشن کو 318 نئی شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 59 شکایات اگست کے ماہ میں درج کرائی گئی، 74 ستمبر، 84 اکتوبر اور 101 نومبر میں درج کروائی گئیں۔مذکورہ شکایات کی روشنی میں 35 افراد کو مبینہ طور پر نومبر 2015 میں لاپتہ کیا گیا جبکہ 45 شکایات نومبر 2016 میں لاپتہ کیے جانے والے افراد سے متعلق تھیں۔2018 کے ابتدا میں کمیشن کو جنوری میں 80، فروری میں 116، مارچ میں 125، اپریل میں 162، مئی میں 86 جون میں 36 اور جولائی میں 77 لاپتہ افراد کی شکایات موصول ہوئیں۔یاد رہے کہ گزشتہ برس 12 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے جبری گمشدگی کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ نامعلوم مقامات سے شہریوں کی گمشدگی اور اغوا میں ملوث شخص پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو لاپتہ افراد بازیاب کرانے کے لیے 9 ستمبر تک آخری مہلت دے دی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر آئندہ سماعت تک ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو وزیر اعظم عدالت میں پیش ہوں۔وزیراعظم شہبازشریف نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے تین رکنی وفد سے ملاقات یقین دہانی کروائی ہے کہ مشاورت کے بعدجبری گمشدگیوں سے متعلق بل تیار کرکے قومی اسمبلی میں لایا جائےگا۔گزشتہ روز وزیرمملکت ہاشم نوتیزئی نے کہا تھا کہ اگر جبری گمشدگی کے بل پر قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے اگر حمایت نہ کی گئی تو پھر ہم حکومت سے ازاد ہوں گے۔بی این پی وفد نے وزیراعظم کو واضح کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس پر جلد قانون سازی چاہتےہیں۔لاپتہ افراد کیسز کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے استفسار کیاکہ ساری ایجنسیز کس کے کنٹرول میں ہیں ؟ کون ذمہ دار ہے، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایاکہ یہ ایجنسیز وفاقی حکومت کے زیر کنٹرول ہیں چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے کہاکہ دو فورمز نے قرار دیا کہ جبری گمشدگیوں کا کیس ہے؟ جے آئی ٹی جس میں آئی ایس آئی اور دیگر ادارے ہیں انہوں نے کہا کہ مدثر نارو جبری گمشدگی کا کیس ہے، یہ بڑا واضح ہے کہ موجودہ نہ سابقہ حکومت کا لاپتہ افراد متعلق ایکٹو رول ہے۔ سب سے بہترین انٹلیجنس ایجنسی نے یہ کیس جبری گمشدگی کا قرار دیا۔ یہ عدالت صرف آئین کے مطابق جائے گی، بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے، بنیادی ذمہ داری وفاقی حکومت اور وزیر اعظم کی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں بتایا جائے کہ عدالت کیا کرے؟ آئی ایس آئی، ایم آئی، پولیس اور دیگر ادارے جو جے آئی ٹی میں تھے سب نے جبری گمشدگی کا کہا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ یقین دہانی کراتا ہوں کہ کابینہ کی کمیٹی ان تمام معاملات کو دیکھے گی ان کیسز میں مانتے ہیں کہ اس طرح نہیں ہو رہا جس طرح ڈیل ہونے چاہیں تھے جس چیف ایگزیکٹو کے دور میں لوگ لاپتہ ہوئے وہ ذمہ دار ہیں،اگر کسی کو لاپتہ افراد کا احساس ہوتا تو ان کو عدالت آنے ہی نہ دیتے۔ ان کو تلاش کرتے اس معاملے میں صرف رسمی کاروائیاں ہورہی ہیں، نہ موجودہ حکومت اور نہ ہی پچھلی حکومت نے کچھ کیا۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ پچھلی حکومت کا کچھ نہیں کہہ سکتا مگر موجودہ حکومت اس معاملے کو بڑے غور سے دیکھ رہی ہے۔ فرحت اللہ بابر نے عدالت کو بتایا کہ پارلیمنٹ نے قانون بنایا جس میں کہا گیا کہ آئی ایس آئی کو دائرہ اختیار میں لایا جائے، مسئلہ یہ ہے کہ آئی ایس آئی کسی بھی قانون کے تحت نہیں آتی، چیف جسٹس نے کہاکہ آئی ایس آئی وزیر اعظم کے ماتحت ہے، جو آئین میں لکھا گیا ہے یہ عدالت اس کی قدر کرتی ہے اور عمل کرے گی، کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں ایک بل آیا اور وہ بل بھی غائب ہو گیا، اس عدالت کو پارلیمنٹ پر اعتماد ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حکومت کس کو جوابدہ ہے؟ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کو ہی جوابدہ ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ عدالت نے ریاست کو ایک اور موقع دیتی ہے، کابینہ کمیٹی کی میٹنگ کو عدالت آبزرو کریگی۔لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کا حکم دے دیا اور کہا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہوا تو وزیر اعظم عدالت میں پیش ہوں، عدالت نے کیس کی سماعت 9 ستمبر تک کے لئے ملتوی کردی ۔17 مئی 2022 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے لا پتہ افراد کیس میں کہا کہ اگربنیادی حقوق کا معاملہ ہو ریاست ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے تو عدالت کردارادا کرسکتی ہےیہ بے بس عدالت نہیں کہ صرف پٹیشن کی استدعا کو دیکھے، دیگر چیزیں بھی دیکھ سکتے ہیں۔مئی 2022 ء اسلام آباد ہائی کورٹ نے لا پتہ افراد کے ضمن میں ایک فیصلہ دیا ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس کیس میں اٹارنی جنرل کو آئینی خلاف ورزیوں پر دلائل دینے کیلئے آخری موقع دیتے ہو ئے کہا کہ لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کریں یا ریاست کی ناکامی کا جواز دیں ، عدالت نے وفاقی حکومت کو پرویز مشرف سے لیکر آج تک کے تمام حکومتی سربراہوں کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے فیصلے میں کہاکہ’’ پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جبری گمشدگیاں ریاست کی غیر اعلانیہ پالیسی تھی لہٰذا چیف ایگزیکٹو وضاحت کرے کہ کیوں نہ اس کیخلاف سنگین غداری کے جرم کے تحت کارروائی کی جائے اپریل 2018 ء میں لاپتہ افراد سے متعلق قائم شدہ کمیشن کا جائزہ اجلاس ہوا تھا جس میں 31 ، مارچ 2018 ء تک مبینہ لاپتہ افراد کے کیسز پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس کو بتایاتھا کہ 28 فروری 2018 ء تک لاپتہ افراد سے متعلق 4804 کیسز اور مارچ 2018 ء کے دوران 125کیسز موصول ہوئے تھے ، یہ سب ملا کر مجموعی کیسز کی تعداد 4929 تھی، 31 ، مارچ 2018 ء تک باقی لا پتہ افراد کے کیسز کی تعداد 1710 بتائی گئی تھی ، کمیشن کی کوششوں سے مارچ 2018 ء تک مجموعی طور پر 3274 لاپتہ افراد اپنے گھروں میں واپس پہنچے تھے۔بلوچستان سے لا پتہ افرادکے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فاربلوچ مسنگ پرسنز اور بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کا دعویٰ ہے کہ 20 ہزار سے زائد افراد کو بلوچستان سے جبری طور پر لا پتہ کیا گیا ہے ،جب کہ ہیومن رائٹس آف کمیشن پاکستان کی رپورٹ کے مطابق جبری گمشدگان بلوچستان سے4000 کی تعداد میں ہیں ، سندھ سے 150 سے 200 تک افرادلا پتہ ہیں ، حالانکہ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے ہی دفتر میں شیعہ کمیونٹی نے صر ف 25 افراد کو رجسٹرڈ کرا یا ، انکوائری آف کمیشن برائے جبری گمشدگی کی جولائی 2020 ء کی رپورٹ کیمطابق پاکستان میں گمشدگان کی مجموعی تعداد 7,296 تھی ، جس میں سے 6164 معاملات حل شدہ ہیں ،یہ ایک الگ بحث ہے کہ اس میں کتنا توازن پایا جاتاہے ۔اقوامِ متحدہ کا ایک کنونشن جو کہ 20 دسمبر 2006 ء میں منعقد ہوا تھا ، اس میں جبری گمشدگی کو انسانی خلاف ورزی کی انتہا پسندی قرار دیاتھا، تمام ممالک نے اس قراداد پر دستخط کئےپاکستان نے آئی سی سی پی آر کا کنونشن سائن کیا ہوا ہے جس کے مطابق پاکستان نے جبری گمشدگیاں ختم کرنی ہیں اور جی ایس پی پلس پر یہ مسئلہ پھر سے بن رہا ہےپاکستان فوج نے 2019 میں واضح کیا تھا کہ ہر لاپتہ شخص کی ذمہ دار ریاست نہیں ہوسکتی ہے اور حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہےقومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل سات ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود سینیٹ سے منظور نہیں ہو سکا۔ لاپتہ افراد کے اس بل کو جون 2021 میں قومی اسمبلی میں اس وقت کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے پیش کیا تھا۔قارئین محترم؛عدالتی فیصلوں رائے دینے اور تنقید کرنے کا حق موجود ہے لیکن اعلی عدلیہ کے کرداد پر شک نہیں کیا جاتا ایمان مزاری کا کیس ایک ٹیسٹ کیس تھا جس میں اگر آئین اور قانونی کے مطابق فیصلہ ہوجاتا تو پاکستان ایسی حرکت کرنے کی کوئی جسارت نہ کرسکتا پی ٹی آئی حکومت خاتمے کے بعد افواج پاکستان اور اسکے سربراہاں کے خلاف جو غلیظ زبان استمعال کی جاتی رہی ھے وہ ناقابل تحریر ھے اب اگر دیگر ملزمان بھی اس فیصلے کو بنیاد بنالیں اور ایمان مزاری کی طرح معافی کے طلبگار بن جائیں تو کیا انہیں معافی مل جائے گی ھرگز نہیں۔۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیادہ کیسوں دوران سماعت گمشدہ افراد کا ذکر کے اخبارات کی ہیڈ لائن بنوائی جاتی ہیں حالانکہ زیر سماعت کیسوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔پاکستان میں قانون کے محافظ یہ ادارے نہ ہوتے تو خدانخواستہ کیا حال ہوتا۔۔ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت پاکستان کو نقصان پہچانے کے درپے ہے بلوچستان علحیدگی پسندوں کے زریعے سی پیک کے منصوبوں کو نقصان پہنچانے کی سازشیں پکڑی جاچکی ہیں۔بھارتی حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن جاسوس کے بلوچستان سے پکڑے جانے کے بعد انکشافات کے بعد ھمارے زمہ داروں کی آنکھیں کھل جانی چاہیں جس کے نیٹ ورک لوگ چینی شہریوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔پاک فوج جانوں کا نذرانہ دیکر دفاع وطن کیلئے کوشاں ہے دلچسپ حقیقت تو یہ ہے کہ میاں بیوی کی لڑائی کاالزام بھی اب فوج پر لگایا جائے گا کیونکہ شتربےمہار میڈیا آزادی اظہار رائے کے نام پر پاکستان دشمنوں کو خوش کررہاھے اب بھی وقت ہے کہ ہمیں حساس اداروں پر الزامات لگانے سے پہلے ھزار با تحقیق کرلینی چاہیے تاکہ ایمان مزاری جیسی سبکی نہ اٹھانا پڑے۔انسدادِ دہشتگردی قانون 1997 کی شِق L-21 کے تحت مشتبہ فرد کے ساتھ ایک مفرور فرد کو عدالت کے سامنے پیش ہونا لازمی ہے اور جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس یہ آزادی ہے کہ وہ مشتبہ فرد کو اپنی حراست میں رکھیں اور کسی گواہ کو بھی شاملِ تفتیش نہ کریں۔2013 میں کراچی میں رینجرز آپریشن شروع کرنے سے پہلے بھی انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں ترمیم کرکے شِق شامل کی گئی تھی، جس کے تحت پیرا ملٹری ادارے شک کی بنیاد پر کہیں سے بھی، کسی بھی شخص کو 90 دن کے لیے زیرِ حراست رکھ سکتے ہیں اور اس دوران وہ گرفتاری ظاہر کرنے کے پابند نہیں ہوں گے۔اس قانون پر خاصا شور شرابا برپا ہوا لیکن وکلا بتاتے ہیں کہ اب تک جبری گمشدگی کا جو بھی مقدمہ ان کے پاس آتا ہے اس میں کارروائی کا یہی طریقہ استعمال کیا جاتا ہے اور اکثر اوقات نوے دن بعد ہی گرفتاری ثابت کی جاتی ہے۔ایک عام فرد کی سیکورٹی کیلئے کوئی مؤثر قانونی تحفظ کا لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔رضا کارانہ اور غیررضاکارانہ افراد کی گمشدگیوں کو ملایا جاتاہے۔رضا کارانہ گمشدگیوں کو قائم کرنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔
۔ انسدادِ دہشتگردی عدالتوں کی انتہائی مطلوب دہشتگردوں کے خلاف مؤثرکارروائی نہ کرنے سے ملک بھر میں انارکی پھیل رہی ہے اور دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
۔ پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے مغربی سرحد پر مختلف ممالک سے سزا یافتہ دہشتگردوں کی غیر قانونی نقل وحرکت۔
لاپتہ افراد کے متعلق خدشات:
۔ دہشتگردی کے خلاف کوئی قانونی طریقہ کار مکمل طور پر موجود نہیں ہے، جوڈیشل میکنزم میں خلاء ہے اور ساتھ ہی ساتھ ملٹری کورٹس کو بھی کام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
۔ ترقی یافتہ ممالک امریکہ میں Patriot Act-2001،برطانیہ میں Terrorism Act-2000اور ترکی میں Anti Terror Law 2006دہشتگردی کی روک تھام کیلئے موجود ہیں۔ ان قوانین کے ذریعے انسدادِ دہشتگردی کی روک تھام کیلئے چند اختیارات دیے گئے ہیں۔جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔
۔ مشتعبہ افردا کی گرفتاری اور حراست کے لئے غیرمعمولی اختیارات
۔ الزامات عائد کئے بغیر مشتعبہ افراد کو زیرِ حراست رکھنا
۔ اوپن ٹرائل کی اجازت نہ دینا (صرف اِن کیمرہ ٹرائل)
۔ عدالتی احکامات کے بغیر emails،ٹیلیفون اور فنانشل ریکارڈ کی چھان بین کے اختیارات اور ذاتی آزادی اور رازداری کے حقوق کو محدو د کرنا شامل ہیں۔
۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیر معمولی قانونی اختیارات دئیے جائیں جیسا کہ دہشتگردی کی روک تھام کیلئے دیگر ممالک میں موجود ہیں۔
۔ عدالتوں اور انکوائری کمیشن میں مقدمات کی بیک وقت پیروی کی جائے اور ان مقدمات پرہائیکورٹس کے ذریعے عمل درآمد کر ایا جائے۔
۔ جب بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے یا ایجنسیاں کسی مشتعبہ فرد کو پکڑ کر پولیس کے پاس FIRکے لئے پیش کر تی ہے تو پولیس کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔ جس کے باعث مشتعبہ افراد غیر قانونی طور پر طویل حراست میں رہتے ہیں۔
۔ بغیر تصدیق کے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی گمراہ کُن معلومات اور بیانات کی وجہ سے حقائق کو مسخ کیا جاتا ہے۔ جس سے اداروں اور عوام کے درمیان نفرت پیدا ہوتی ہے۔
۔ اس ضمن میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ”فوجی قیادت حکومت سے زیادہ جبری گمشدگی کے خلاف ہے“










