..پاک فوج کی کامیاب حکمت عملی سے پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) گرے لسٹ سے باہر ھوگیا ؟………… (اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)……………………….پاک فوج کی کامیاب حکمت عملی سے پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) گرے لسٹ سے لسٹ سے نکال دیاگیا ہےجرمنی کے دارالحکومت برلن میں جاری ایف اے ٹی ایف اجلاس کے آخری روز لسٹ سے متعلق اسٹیٹس کا فیصلہ ھوا۔ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالےجاتے پر بھی معاملات طے ہونے میں 7 سے 8 ماہ کا عرصہ درکار ہو گا گرے لسٹ سے نکالنے کے بعد ا ب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی تاکہ خود تسلی کر سکے کہ ان کی سفارشات پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کو رہ جانے والی دو سفارشات میں قانون میں ترمیم کے ساتھ ساتھ اس کے نفاذ سے متعلق خدشات تھےجنکو پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کی خصوصی ہدایت پر دور کردیئےگئےاس مقصدکیلئےملکی تاریخ میں پہلی دفعہ دو عسکری راہنماؤں ( ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم او) کو قومی ایگزیکٹو کمیٹی میں عہدہ دار ی دیے جانے کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسپیشل سیل تشکیل دیا جس کا بنیادی مقصد ہی FATF کے تحفظات کی دوری اور مجوزہ نکات کا نفاذ تھا پاکستان نے اس بارسفارتی سطح پر ممبر ممالک کے سامنے غیر رسمی طورپر اپنی پوزشین بھی واضح کی، جس سے پاکستان پرامید ہے کہ نام گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو 2 مرحلوں میں34 نکات پرعملدرآمد کا کہا تھاگزشتہ اجلاس میں پاکستان نے34 میں سے 33 شرائط پرپہلے ہی عملدرآمد کردیا تھا، اس مرتبہ پاکستان نے تمام 34 نکات پرعملدرآمد کردیاتھا ۔پاکستان کی کارکردگی رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے ایف اے ٹی ایف کا وفد پاکستان بھیجا جائے گا رپورٹ کا جائزہ لے کر اکتوبر کے پیرس اجلاس تک حتمی فیصلہ مؤخر کرسکتا ہے پاکستان جون 2018سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ پر تھا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے احکامات پر جی ایچ کیو میں میجر جنرل کی سربراہی میں اسپیشل سیل قائم کیا گیا سیل نے مختلف محکموں، وزارتوں اور ایجنسیزکے درمیان کوآرڈی نیشن میکنزم بنایا سیل نے ہر پوائنٹ پر مکمل ایکشن پلان بنایا اورمحکموں، وزارتوں اور ایجنسیزسے عمل کروایا، سیل نے منی لانڈرنگ، ٹیرر فنانسنگ ، بھتہ خوری، اغوا برائےتاوان اورٹارگٹ کلنگ پر مؤثرلائحہ عمل سے قابو پایا ، دہشتگردوں کی مالی معاونت سے متعلق تحقیقات اور تمام متعلقہ تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس جرمنی میں ہوا ۔وزیر مملکت خارجہ امور حنا ربانی کھر نے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی پاکستان کو بليک لسٹ کرانے کی بھارتی سازش ناکام. ہوگئی ہےدو سال سے پاکستان کو لافیئر کا سامنا رہا، بھارتی لابی نے مشکلات پیدا کیں ،گرے لسٹ میں ڈالا گیا بھارت کی کوشش تھی کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا جائے مگرپاک فوج نے سازش ناکام بنا دی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسپیشل سیل تشکیل دیا جس کا بنیادی مقصد ہی FATF کے تحفظات کی دوری اور مجوزہ نکات کا نفاذ ہے۔ اس سیل کی دن رات کی انتھک محنت کی بدولت 30 سے زیادہ اداروں کے مابین رابطے، بروقت قانون سازی اور بھرپور نفاذی کاروائیوں کی بدولت پاکستان FATF کے 34 کے 34 نکات پر ملدرآمد کردیاہے موجودہ صورت حال میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں تھا یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان کے دشمن ممالک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے تھے کیونکہ وہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے پاکستان کو دبائو میں رکھنا چاہتے تھے۔ایف اے ٹی ایف کچھ ممالک کے سیاسی دباؤ اور اثر و رسوخ کو قبول کر رہا ہے جسکی وجہ سے پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالاتھا یہ راز بھارتی وزیر خارجہ کے اعترافی بیان سے فاش ہوا ہے جس میںدعویٰ کیا تھا کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھا جائے۔بھارتی وزیر خارجہ کے مذکورہ اعتراف نے ایف اے ٹی ایف کی دیانتداری اور شفافیت پر بڑا سوال کھڑا کر دیا تھا,ماضی میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھنے کا دعویٰ بھارت کے ملوث ہونے کی تصدیق کرتا ہےلیکن بدقسمتی سے نہ تو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اس تشویشناک بیان کا نوٹس لیتے ہوئے کوئی کارروائی کی.دہشت گردوںکی مالی معاونت، منی لانڈرنگ اور ایٹمی پھیلاؤ کے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہونے کے واضح ثبوتوں کے باوجود، بھارت کونوازا جا رہا اور ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کر کے رعایت دی جارہی ہےایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو دو مرحلوں میں 34 نکات پر عمل درآمد کے لیے کہا تھا، پاکستان نے اس بار تمام 34 شرائط پر عمل درآمد کیاوزیر مملکت خارجہ امور حنا ربانی کھر نے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی وزیر مملکت ایف اے ٹی ایف کے لائحہ عمل پر عمل درآمد سے متعلق پاکستانی اقدامات سےآ گاہ کیا۔اس اجلاس میں فیٹف کے عالمی تعاون کیلیے جائزہ گروپ کی سفارشات پر بھی غور ہوا۔عالمی مالیاتی نظام کی حفاظت کے لیے ترقی یافتہ معیشتوں کے جی 7 گروپ کی جانب سے قائم کردہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس; ایف اے ٹی ایف) ایک عالمی نگران ادارہ ہے، جو ابتدا میں منی لانڈرنگ سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا تھا لیکن 9/11 کے دہشت گرد حملوں کے بعد اس کا کردار نمایاں ہو گیا ہے۔ ان حملوں کے بعد ایف اے ٹی ایف نے اپنی کارروائیوں کو بڑھایا اور اس کے دائرہ کار میں دہشت گردی کی مالی معاونت پر تحقیقات بھی شامل ہےسنہ 2003 میں ایف اے ٹی ایف نے ہدایات کا ایک نیا مجموعہ سامنے جاری کیا، جہاں اس نے ملکوں سے غیر قانونی لین دین کی آمدنی ضبط کرنے، مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس وصول کرنے اور ان کی تحقیقات کے لیے مالیاتی انٹیلی جنس یونٹ بنانے پر زور دیا۔ اس کی سفارشات کو ‘ہم مرتبہ جائزے’ یا ‘باہمی تشخیص’ کے ذریعے مانیٹر کیا جاتا ہے۔ایف اے ٹی ایف دو فہرستیں رکھتا ہے۔ ایک بلیک لسٹ اور دوسرا گرے لسٹ۔ اس کی بلیک لسٹ میں شامل ممالک وہ ہیں جن پر واچ ڈاگ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا الزام ہوتا ہے ، وہ ممالک اس کو روکنے کے لیے عالمی کوششوں میں تعاون نہیں کرتے ہیں۔دوسری جانب گرے لسٹ کو سرکاری طور پر ‘بڑھتی ہوئی مانیٹرنگ کے تحت دائرہ اختیار کہا جاتا ہے، وہ قومیں تشکیل دیتی ہیں جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے اہم خطرات پیش کرتی ہیں لیکن جو ایف اے ٹی ایف کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم رکھتی ہیں۔ اس کے بعد ایک ایکشن پلان تیار کیا جاتا ہے ، جو اس کمی کو دور کرتا ہےایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ ایسے ممالک کو تشکیل دیتی ہے جنہیں دہشت گردی کی فنڈنگ ​​اور منی لانڈرنگ کے لیے محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ فہرست میں شمولیت بلیک لسٹ ہونے کی طرح شدید نہیں ہے۔ یہ ملک کے لیے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک انتباہ ہےفنانشل ایکشن ٹاسک فورس آن منی لانڈرنگ ایک عالمی ادارہ ہے جو جی-سیون ممالک (امریکا، برطانیہ کینیڈا،فرانس، اٹلی، جرمنی اور جاپان) کی ایما پر بنایا گیا ہے، اس ادارے کا مقصد ان ممالک پر نظر رکھنا اور اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے جو دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں تعاون نہیں کرتے اور عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیے گئے دہشت گردوں کے ساتھ مالی تعاون کرتے ہیں-فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے رواں برس اکتوبر میں ہ پلینری اجلاس ہوگا ایف اے ٹی ایف کا جوائنٹ اسسمنٹ گروپ جولائی یا اگست میں پاکستان کا دورہ کرے گا اور ایکشن پلان کے نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لے گا