کینگروز سے شکست ؛راولپنڈی میں آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا آغاز پاکستانی ٹیم میں تبدیلیاں ناگزیر ۔۔۔
خصوصی رپورٹ :(اصغر علی مبارک سے )
آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا پہلا ٹیسٹ میچ 11دسمبر سے ا5 دسمبر 2019 کو راولپنڈی میں ھوگا جس کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں پولیس ۔ فوج۔ریسکیو 1122 اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تو مکمل تیاریاں کررکھی ہیں مگر گراونڈ کے اندر قومی ٹیم کی تیاریاں کیسی ھونگی یہ سوال شائقین کرکٹ کے ذہنوں گردش کررہا ہے کیونکہ سری لنکا سے ھوم سیریز میں ناکامی کا سفر آسٹریلیا میں بھی برقرار رھا اور بدترین شکست کے بعد فتح کی امید یں کم ھیں ۔دس سال کے طویل عرصے بعد پاکستان میں کھیلےجانیوالے پاک سری لنکا ٹیسٹ میچ کی میزبانی انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کااھم قدم ھے۔ پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل ھوم گراونڈ پر اور ھوم کراؤڈ کے سامنے بے بی سری لنکا سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا کوچ وسلیکٹر مصباح الحق کی تبدیلی بھی راس نہیں آئی جب کہ سرفراز احمد کی جگہ بنانے جانے والے کپتان اظہر علی بھی کارگر ثابت نہیں ہو سکےاظہر علی ون ڈے میچز سے پہلے ہی ریٹائرڈ منٹ کا اعلان کرچکے ہیں جبکہ ٹیسٹ میچوں میں بھی ان کی کارکردگی نہایت خراب ھے ۔چاھیےتو یہ تھاکہ بابر اعظم کو ٹی ٹونٹی کے ساتھ ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں کے لیے بھی کپتان بنادیاجاتا تاکہ ٹیم ون یونٹ بن کر کھیل سکے مگر ایسا نہ کر ٹیم کو بکھیرکررکھ دیا گیا ہے آسٹریلیا کے خلاف میچز میں ٹیم اسپرٹ سے عاری ٹیم میں ٹیم ورک کا فقدان نظر آیا اگر یہ سلسلہ آسٹریلیا جیسا رھاتو پھر سری لنکا کی ٹیم ون ڈے سیریز اور ٹی ٹونٹی سیریز کے بعد ٹیسٹ میچز بھی جیتنےکی صلاحیت رکھتی ہے سری لنکا کے خلاف راولپنڈی میں پانچ روزہ میچ 12 دسمبر سے کھیلا جائے گا پاکستان جولائی 2020 میں ھالینڈ کے خلاف 4 جولائی سے 9 جولائی 2020 ون ڈے سیریز کی میزبانی بھی کرے گااظہرعلی کو 2020 ٹیسٹ چیمپئن شپ تک کپتان مقرر کیا گیا ہےجبکہ بابر اعظم ورلڈ ٹی ٹونٹی تک کپتان ہونگے ۔ اظہر علی کابیٹ گزشتہ دو سالوں سے رنز بنا نابھول چکا ھے24عشاریہ سات کی شرح سے ابتک 602 رنز بنا سکا 12 بار اننگز میں 10 سے زیادہ رنز نہیں بنا سکا اور 15 با 15 سے زیادہ رنز بناسکے برسبین میں بطوراوپنرناکام رھنے کے بعد ایڈیلیڈ میں بھی تیسرے نمبر پر ناکام ہو ئے جو انکی قائدانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں بھی اظہر علی بحیثیت کپتان بھی بری طرح ناکام ہو ئے ان کی ناتجربہ کاری کا یہ عالم ہے کہ صرف 16 فرسٹ کلاس میچوں میں کپتان رھےناتجربہ کاری سے ٹیم کو وائٹ واش کی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ آسٹریلیا کے درمیان دوسرے اور آخری ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں 302 رنز پر آؤٹ ہو ئی۔ایڈیلیڈ میں پنک بال میچ میں قومی ٹیم آسٹریلیا کے 589 رنز کے جواب میں 302 رنز پر دھیڑ ہو کر فالو آن کا شکار ہو گئی بابراعظم مچل اسٹارک کی وکٹوں سے باہر آتی گیند کو چھیڑنے کی کوشش میں وکٹوں کے پیچھے کیچ دیکر نروس نائنٹیز کا شکار ہو گئے، انہوں نے 97 رنز کی اننگز کھیلی۔
لیگ اسپنر یاسر شاہ سنچری سکور کرکے ٹاپ آرڈر کو بتایا کہ باوئنسی وکٹوں پر بلے بازی کیسے کی جاتی ھے۔یاسر شاہ نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کی پہلی سنچری اسکور کی، انہوں نے 192 گیندوں پر 12 چوکوں کی مدد سے سنچری بنائی۔ یاسر شاہ 113 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے ۔آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز 589 رنز بنا کر ڈکلیئر کر دی تھی۔رنز مشین ڈیوڈ وانر نے ناقابل شکست ج335 رنز بنائے تھے جب کہ مارنس لبوشین نے بھی 162 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔آسٹریلیا سے شکست کے اثرات سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز پر ھونگے قومی ٹیم کواس دباؤ سے نکلانے کیلئے تبدیلیاں ناگزیر ھیں۔راولپنڈی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ کی میزبانی کے لئے تیار ہے ۔ پاکستان کی ٹیم آسٹریلیا کے خلاف مسلسل 14ویں ٹیسٹ سیریز ھاری ھے
سری لنکن بورڈ کی جانب سے دورہ پاکستان کے لئے اپنی ٹیسٹ ٹیم کے اعلان نے پاکستانی شائقین کرکٹ کے چہروں پر رونق بکھیر دی ، دلیر سری لنکنز نے خوف کو شکست دے دی۔ جمعے کوسری لنکن کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کےلئے مضبوط ٹیم کا اعلان کردیا۔ دیموتھ کرونارتنےٹیم کی قیادت کرینگے، مہمان ٹیم کی آمد سے پاکستان میں 10 سال کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی یقینی ہوگئی ہے۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز آئندہ ماہ دسمبر میں کھیلے جائے گی۔ یہ مارچ 2009 کے بعد پاکستانی سرزمین پر پہلی ٹیسٹ سیریز ہوگی اور سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد ملک میں تھم جانے والا ٹیسٹ کرکٹ کا سلسلہ سری لنکن ٹیم کی آمد کے ساتھ ایک بار پھر شروع ہوگا ۔2009 میں پیش آنے والے سانحے کا شکار ہونے والی سری لنکن ٹیم کے رکن سرنگا لکمل بھی دو ٹیسٹ میچز کے لیے پاکستان کا دورہ کرنے والی ٹیم میں شامل ہیں۔آئی لینڈرز 8 دسمبر کو پاکستان پہنچیں گے۔ سری لنکن ٹیم کی قیادت دیمتھ کرونارتنے کے علاوہ انجیلو میتھیوز، چندیمل، کوسال پریرا ، نیروزن ڈکویلا، سرنگا لکمل، سنداکان، کاسون راجتھا، وشوا فرنینڈو، لاہیرو کمارا، لاستھ ایمبول دینیا، دلروان پریرا، دھنن جایا ڈی سلوا، لاہیرو تھریمانے اور اوشاندہ فرنینڈو شامل ہیں۔ آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ سیریز کا پہلا ٹیسٹ 11 سے 15 دسمبر تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ دوسرا اور آخری ٹیسٹ 19 دسمبر سے نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کراچی میں شروع ہوگا۔