..کیا فوج اور عدلیہ کو گالیاں آزادی صحافت ھے۔۔۔۔ ……..(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)………………………عدلیہ کی خودمختاری اور میڈیا کی آزادی کے بغیر جمہوریت کا تصور بھی ممکن نہیں ہے پاکستان میں میڈیا اور عدالتیں جس قدر آزاد ہیں اسکی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔قانون کی حکمرانی کو عدالتیں ہی یقینی بناتی ہیں۔معاشرے میں امن کی ضمانت صرف قانون کی حکمرانی سے ہی دی جا سکتی ہے۔ہمارے ملک میں عدالتیں اور میڈیا ایک نئے دور میں داخل ہوئی ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے عدلیہ، فوج، الیکشن کمیشن اور دیگر وفاقی و صوبائی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم چلانے سے متعلق سابق وزیر اعظم عمران خان اور دیگر کے خلاف دائر کی گئی آئینی درخواست میں درخواست گزار کو ترمیم کرنے کی ہدایت کردی۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے شہری اختر علی کی آئینی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ترمیم کے بعد دوبارہ درخواست دائر کریں، پھر اسے پانچ رکنی لارجر بینچ کے پاس بھجوائیں گے۔دوران سماعت عدالت نے کہا کہ اداروں کے خلاف مہم چلانا اہم معاملہ ہے، اس معاملے کو ایک ہی مرتبہ طے ہونا چاہیے۔جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے کہا کہ درخواست کے متن سے لگتا ہے کہ یہ کسی ایک مخصوص سیاسی جماعت کے خلاف ہے، لیکن اس درخواست کو عمومی نوعیت کا ہونا چاہیے کیونکہ یہ ایک اہم معاملہ چل پڑا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیے کہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف ہی عدلیہ، فوج اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف منظم مہم چلا رہی ہے۔

دوران سماعت درخواست گزار نے کہا کہ آئین و قانون میں آزادی اظہار رائے کی اجازت ہے مگر مسلسل منظم مہم چلانا جرم ہے، عدلیہ، فوج اور الیکشن کمیشن کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہم چلائی جارہی ہے۔شہری نے عدالت سے استدعا کی کہ اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہم روکنے کے لیے حکومت کو پالیسی بنانے کا حکم دیا جائے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ طور پر ‘بدنیتی’ پر مبنی مہم چلانے کے خلاف شہری نے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان، پی ٹی آئی پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر کے خلاف کارروائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
لاہور ہائی کورٹ میں شہری اختر علی نے میاں داؤد ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر آئینی درخواست میں حکومت پنجاب، وفاقی اور صوبائی اداروں بشمول پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی (پیمرا)، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)، آئی جی پنجاب اور عمران خان کو فریق بنایا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین پاکستان، پیمرا آرڈیننس اور پیکا آرڈیننس میں ریاستی اداروں کے خلاف ٹوئٹر، فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک وغیرہ پر سوچی سمجھی بدنیتی پر مہم چلانے کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین اور قانون میں آزادی اظہار رائے کی اجازت ہے مگر مسلسل منظم مہم چلانا جرم ہے، عدلیہ، فوج اور الیکشن کمیشن کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہم چلائی جا رہی ہے۔ ریاستی اداروں کے خلاف منظم مہم چلانے کے پیچھے پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا سیل متحرک نظر آتا ہے کیونکہ اداروں کے خلاف پی ٹی آئی کا ایک رہنما بیان دیتا ہے اور پھر اس بیان کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا سیل نے سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے ججوں کو اسکینڈلائز کیا گیا، جس پر لاہور ہائی کورٹ کے 5 رکنی بینچ کو عدلیہ کو منظم مہم کے ذریعے اسکینڈلائز کرنے پر حکم جاری کرنا پڑا۔اسلام آباد ھائیکورٹ سے فوج کو ننگی گالیاں دیکر باعزت بری قرار دی جانے والی ایمان مزاری کیس اور گزشتہ روز عمران ریاض خان کی بغاوت کیس اٹک عدالت سے ڈسچارجگی اسکی واضع مثالیں ہیں۔ لیکن کیا پاکستان میں میڈیا تنظمیں اس قدر غیر فعال ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ فیصلے کے نتیجہ میں ان سے کوئی مشاورت کی جاتی اور کیا جس کا جو دل چاہیے وہ بکواس کرکے اداروں کو بدنام کرتارہے اور جب قانون حرکت میں آجائے تو سب صحافتی لیڈر برسات کے مینڈکوں کی طرح ملکر ٹرانا شروع کردیں کیا اخلاقیات کا جنازہ نکالنے والے پیراشوٹ صحافیوں کے لیے بھی کوئی کوڈ آف کنڈکٹ ھے جس سے انکو لگام دی جاسکے الیکٹرانک میڈیا (پروگرام اور اشتہارات) ضابطہ اخلاق 2015 کی دفعات کے مطابق لائسنس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کوئی ایسا مواد نشر نہ کیا جائے جس میں عدلیہ یا افواج پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی ہو۔ اگلے روز صدر مملکت عارف علوی نے وزیر اعظم کو صحافیوں کے خلاف ھراسیگی روکنےکیلئے اقدامات کرنے کی ھدایت کی۔ یہ کبھی ممکن نہیں ہوا کہ سارا میڈیا حکومت وقت کا ہمنوا ہو اور مکمل ڈکٹیشن لے۔ آزاد میڈیا کسی حکومت کا دشمن یا مخالف نہیں ہوتا، وہ اختلافِ رائے یا تنقیدی آرا کے اظہار کا فورم ہوتا ہے۔ آزاد میڈیا کے ذریعے حکومتوں کو اپنی غلطیاں درست کرنے یا اصلاح کا موقع میسر آتا ہے۔ خاص طور پر جمہوری حکومتوں کو میڈیا کی آزادی کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے کیونکہ حکمرانوں کو دوبارہ عوام کے پاس جانا ہوتا ہے۔ میڈیا کو دبانے والے حکمران عوام کے جذبات کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں اور بالآخر وہ عوام کے غیظ وغضب کا شکار ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے مؤثر ہونے کے بعد دنیا بھر کی حکومتوں کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کو دبانے کے انتہائی خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔ ایک طرف تو پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی لوگوں کی نظروں میں ساکھ متاثر ہوتی ہے کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ میڈیا حکومت اور طاقتور حلقوں کے دبائو میں ہے اور دوسری طرف سوشل میڈیا پر عوام کا غم و غصہ ڈِس انفارمیشن کی شکل میں حالات کو خطرناک رخ پر ڈال دیتا ہے صدر مملکت تحریک انصاف کے لیڈر کی زبان بولتے نظر آئے اور انہوں خط میں جن معزز صحافیوں کا تذکرہ فرمایاھے ان دونوں حضرات نے پاک فوج کے خلاف گندگی زبان استمعال کی تحریک انصاف کی قیادت سیاسی تدبر سے محروم ہے یا پھر یہ اس کا اپنا ایجنڈا نہیں ہے، جس پر وہ مجبوراً عمل درآمد کر رہی ہے ڈاکٹر عارف علوی نے خط میں لکھا کہ الزام لگایا گیا کہ ریاست کے طاقتور عناصر کے خلاف اختلاف رائے اور تنقید دبانے کیلئے صحافیوں کو بغاوت اور دہشت گردی کے الزامات کا نشانہ بنایا گیا۔ صدر مملکت عارف علوی نے وزیراعظم کے نام خط میں صحافیوں اور میڈیا پرسن کی ہراست اور تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا خط میں لکھا کہ صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات عدم برداشت ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں، ایسے واقعات سے جمہوریت کے مستقبل اور آزادی اظہار رائے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔خط میں لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 19 اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کا آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے کی ضمانت دیتا ہے، پاکستان میں خوف پیدا کرنے کے علاوہ ایسے واقعات بین الاقوامی توجہ میں آتے ہیں اور ملک کا تاثر داغدار کرتے ہیں۔خط میں پاکستان فریڈم آف پریس انڈیکس 2022 میں پاکستان کی 157 ویں پوزیشن پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ مختلف بین الاقوامی تنظیموں نے اپنی رپورٹس میں صحافیوں کو ہراساں کرنے، دھمکیاں دینے اور جسمانی تشدد کو پاکستان کی مایوس کن پوزیشن کی بنیادی وجوہات قرار دیا ہےخط میں صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1992 سے 2022 تک 96 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ انہوں نے خط میں لکھا کہ آئین کے آرٹیکل 41 کے مطابق صدر کو تمام شہریوں کے لیے آزادی اظہار اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو ممکن بنانا چاہیے، پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جس میں دانشوروں اور صحافیوں پر ظلم و ستم نہیں ہونا چاہیے صدر مملکت نے خط میں لکھا کہ آئین کے آرٹیکل 46 کے تحت وزیر اعظم اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات سے صدر کو آگاہ رکھیں۔پاکستان میں ویسے تو ہر دورِ حکومت میں میڈیا کو اپنا ہمنوا بنانے یا اسے دبانے کی کوشش کی گئی لیکن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں صحافت، صحافتی اداروں اور صحافیوں کے لیے جس طرح ابتر حالات پیدا کر دئیے گئے ہیں، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ماضی میں بھی آزادیٔ صحافت پر قدغن لگائی گئی، سنسر شپ کے ذریعہ اطلاعات کی فراہمی کو روکا گیا۔ٹی وی چینلز کو بند کیا گیا، آزادیٔ صحافت کیلئے جدوجہد کرنے والے صحافیوں اور کارکنوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔ میڈیا ہائوسز، اخبارات اور ٹی وی چینلز کو اشتہارات کی فراہمی بھی بند کی گئی لیکن ماضی میں میڈیا کو طاقت کے ذریعہ ڈکٹیٹ کرانے یا ہمنوا بنانے کا اتنا مربوط نظام وضع نہیں ہو سکا جتنا آج ہے صحافت ایک انتہائی مشکل ترین شعبہ ہے، جس میں نیوزا سٹوری، رپوٹنگ، نیوز ایڈیٹنگ ، کمپوزنگ ،پروف ریڈنگ، پیسٹنگ، کاپی میکنگ اور پرنٹنگ سمیت ہر ایک کام انتہائی محنت طلب ہوتا ہے۔ اور جب ساری دنیا سوتی ہے تب صحافی جاگ کر اپنی قلم چلاتے ہیں گزشتہ کئی عشروں سے نظریاتی صحافی اور ادارے آزادی اظہار اور حرمت قلم کیلئے سر بکف ہیں۔پاکستانی میڈیا اور میڈیا سے وابستہ وہ ورکنگ جرنلسٹ ہوں یا وہ مالکان جنہوں نے صحافت کو بطورکیریئر اختیار کیا، اپنی تمام تر خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود آزاد صحافت کے علم کو تھامے ہوئے ہیں، انہی کے عزم اور حوصلوں نے سچائی جاننے اور عوام کے سامنے حقائق پیش کرنے کے مشن کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ بلاشبہ صحافت ریاست کا ایسا چوتھاستون ہے جو باقی تینوں ستونوں، انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کو بھی طاقت مہیا کرتا ہے، جس سے ریاست کی امارت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔صحافی نہ صرف عوامی مسائل اورانتظامی اداروں کے بارے میں اطلاعات فراہم کرتے ہیں اور سچ کی کھوج لگا کر اسے عوام تک پہنچاتے ہیں بلکہ حکومت اور رعایا کے مابین پل کا کردار بھی ادا کرتے ہیں، مگر بدقسمتی سے تحریک انصاف کے دور حکومت میں صحافیوں کو جانبدرانہ رپورٹنگ پر مائل کردیا گیا صحافی نما سیاسی رہنماوں نے بازاری غلیظ اور گندگی زبان استمعال کرکے طوائفوں کو پیچھے چھوڑدیا اور سنجیدہ صحافی ان سے دور ہٹنے پر مجبور ہوگئے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے بھی اقتدار میں آتے ہی بیحد گراں گزرتی تنقید کو کنٹرول کرنے کے لیے ، قومی خزانے کے پیسے بچانے کا نعرہ لگا کر اشتہارات بند کر کے میڈیا ہاؤسز اور اشاعتی اداروں کو شدید مالی نقصان پہنچایا جس سے ملک بھر میں شعبہ صحافت سے وابستہ افراد بے روزگار ہوگئے۔ ۔ اور آج پوری میڈیا انڈسٹری بحران کا شکار ہے، اشتہارات کم ہونے اور فنڈز نہ ملنے کے باعث اخبارات اور چینلز بند اور صحافی بیروزگار ہوگئے ہیں۔پاکستان کی صحافی برادری نے ہمیشہ جمہوریت کی ترویج اوراستحکام کے لئے جدوجہد کی ہے ، اور عدم تحفظ کے احسا س کے باوجود بھی سربکف صحافی عوام کو حق اور سچ سے باخبر رکھنے میں مصروف عمل ہیں۔سوشل میڈیا ایک ایسی ایجاد ہے جس کی افادیت و نقصانات دونوں ہیں، یہ دو دھاری تلوار ہے۔ حقیقتاً اگر دیکھا جائے تو اس کے نقصانات اس کی افادیت سے زیادہ ہیں، چاہے وہ مذہبی ہوں، جسمانی ہوں یا معاشرتی و سماجی۔ اب یہ استفادہ کرنے والوں پر منحصر ہے کہ وہ اس سے کیسے مستفیض ہوتے ہیں؟ جب کہ حالات و واقعات شاہد ہیں کہ سوشل میڈیا کا جائز استعمال کرنے والے بھی ناجائز چیزوں سے اپنی حفاظت نہیں کرپاتے۔آج سوسائٹی کا کوئی بھی فرد والدین ہو، اولاد ہو، گھر کے بڑے بزرگ ہوں سوشل میڈیا کے اثرات سے بالاتر نہیں. اخلاقیات کا جنازہ نکالنے والے پیراشوٹ صحافیوں کے لیے بھی کوڈ آف کنڈکٹ ہونا چاہئے خیال رہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند سیٹلائٹ ٹی وی چینلز ایسا مواد نشر کر رہے ہیں جو ریاستی اداروں یعنی مسلح افواج اور عدلیہ کو بدنام کرنے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔پیمرا کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہےکہ چینلز کی جانب سے ایسا مواد نشر کرنا اتھارٹی کی جاری کردہ ہدایات، پیمرا الیکٹرانک میڈیا (پروگرامز اینڈ ایڈورٹائزمنٹ) کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی دفعات اور اعلیٰ عدالتوں کے وضع کردہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔پیمرا کا اپنے نوٹس میں کہنا ہے کہ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق اظہار رائے کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے تاہم، اظہار رائے کا یہ حق دین اسلام کی عظمت، پاکستان کی سالمیت، سلامتی، ملک یا اس کے کسی حصے کے دفاع، غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، شائستگی و اخلاقیات، توہین عدالت یا کسی جرم پر اکسانے کے سلسلے میں قانون کی جانب سے عائد کردہ معقول پابندیوں کے تابع ہے۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا مندرجات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینل کے لائسنس دہندگان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے 2018 کے سوموٹو کیس نمبر 28 میں دیے گئے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کریمنل اوریجنل نمبر 270/2019 مورخہ 25-11-2019 میں منظور کیے گئے فیصلے میں بیان کردہ اصولوں پر عمل کریں۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ لائسنس دہندگان پیمرا قوانین کی درج ذیل متعلقہ دفعات کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنائیں جو کہ ذیل میں بیان کیے گئے ہیں۔
پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 200، پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2007 کے مطابق آرڈیننس کے تحت لائسنس یافتہ شخص اتھارٹی کے منظور کردہ پروگراموں اور اشتہارات کے ضابطوں کی تعمیل کرے گا اور اتھارٹی کو اطلاع دیتے ہوئے ادارے کے اندر ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دے گا تاکہ اس آرڈیننس کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔نوٹس میں مزید کہا گیا ہےکہ پیمرا رولز (1) 15 کے تحت براڈکاسٹ میڈیا یا ڈسٹری بیوشن سروس آپریٹر کے ذریعے نشر یا تقسیم کیے جانے والے پروگراموں اور اشتہارات کا مواد آرڈیننس کے سیکشن 20کے قواعد، ضابطہ اخلاق کے شیڈول اے اور لائسنس کی شرائط و ضوابط کے مطابق ہوں گے۔الیکٹرانک میڈیا (پروگرام اور اشتہارات) ضابطہ اخلاق 2015 کی دفعات کے مطابق لائسنس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کوئی ایسا مواد نشر نہ کیا جائے جس میں عدلیہ یا افواج پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی ہو۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ رولز کے مطابق لائسنس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ خبروں، حالات حاضرہ اور ذیلی عدالتی معاملات پر پروگرام معلوماتی انداز میں نشر کیے جاسکتے ہیں، انہیں معروضی طور پر ہینڈل کیا جائے گا اور کوئی ایسا مواد نشر نہ کیا جائے جو عدالت، ٹربیونل یا کسی دوسرے عدالتی یا نیم عدالتی فورم کے فیصلے کو متاثر کرتا ہو۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو مزید ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ نشریات آن ایئر کرنے کے لیے ایک موثر تاخیری نظام وضع کیا جائے اور الیکٹرانک میڈیا (پروگرام اور اشتہارات) کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی شق 17 کے تحت ایک غیر جانبدار اور آزاد ادارتی بورڈ تشکیل دیا جائے۔
پیمرا کا کہنا ہے کہ لائسنس دہندگان اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے پلیٹ فارم کو کوئی بھی ریاستی اداروں کے خلاف کسی بھی طرح سے توہین آمیز ریمارکس کے لیے استعمال نہ کرے۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27، 29، 30 اور 33 کے تحت پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2007 کے مطابق قانونی کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے بکواس کرکے اداروں کو بدنام کر نے پر پیراشوٹ صحافیوں اینکرز پرسن کے خلاف سماجی رابطے کے مختلف پلیٹ فارمز پر مبینہ طور پر ’ریاست مخالف‘ ویڈیوز اور بیانات نشر کرنے پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔مگر بدقسمتی سے اسلام آباد ھائیکورٹ نے روکنے کی ھدایت کی۔










