کور کمانڈرز کانفرنس میں نیوکلیئر اثاثوں سے متعلق سیکیورٹی انتظامات پر اعتماد سے قوم کا مورال بلند …………………………….۔(کالم :ا ندر کی بات۔ ۔۔ کالم نگار؛ اصغر علی مبارک۔۔۔۔)۔…………………..پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں کورکمانڈر کانفرنس کے شرکا نے کہا ہے کہ پاک افواج وطن کا دفاع کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں،ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں جی ایچ کیو میں کورکمانڈر کانفرنس ہوئی، آئی ایس پی آر کے مطابق کورکمانڈر کانفرنس میں ملکی اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔کانفرنس میں سیلابی صورتحال میں پاک فوج کے سول انتظامیہ کے ساتھ تعاون کوسراہا گیا، جبکہ شرکا نے نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے متعلق سیکیورٹی انتظامات پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔کانفرنس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک افواج وطن کا دفاع کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں، ایٹمی اثاثوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتے ہیں۔ کورکمانڈر کانفرنس شرکا کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موثر نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام ہے پاکستان ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ذمہ دار ملک ہے ، ملک کے اسٹراٹیجک اثاثوں کا جامع نظام ہے۔ امریکی ادارے نیوکلیئر تھریٹ انسٹی ایٹو کی رپورٹ کے مطابق دیگر ممالک کےمقابلے میں پاکستان نے سیکیورٹی اینڈ کنٹرول کٹیگری میں خود کو بہت زیادہ بہتر بنایا ھےسب سے زیادہ موثر اقدامات پر پاکستان کی درجہ بندی میں 7 سات پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا ہے پاکستان نے مثبت پلس 25 پوائنٹس حاصل کیے ہیں جبکہ گلوبل دارمز کٹیگری میں پاکستان کا پلس درجہ بڑھا ہے این ٹی آئی انڈیکس کے مطابق ایٹمی اثاثوں کے تحفظ میں پاکستان کا 19 واں جبکہ بھارت کا 20 واں نمبر ہے جبکہ تنصیبات کے تحفظ میں 47 میں سے پاکستان کا نمبر 33 واں اور انڈیا کا 38 واں نمبر ہے 41 کے مقابلے میں پاکستان نے 47 پوائنٹس حاصل کیے ہیں جبکہ تنصیبات کے تحفظ میں بھی بھارت کے 53 پوائنٹس ہیں جبکہ پاکستان نے 58 اسکور کیے ہیں۔ اس طرح ایٹمی اثاثوں کے تحفظ سے متعلق پاکستان کے اقدامات نے بھارت کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ امریکا میں پاکستان کے سفیر نے اپنی ٹوئٹ میں رپورٹ کا خیرمقدم کیانیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو ایک غیر منافع بخش، غیر جانبدار عالمی سیکورٹی تنظیم ہے جو انسانیت کو خطرے میں ڈالنے والے جوہری اور حیاتیاتی خطرات کو کم کرنے پر مرکوز ہےجوہری، حیاتیاتی، اور ریڈیولاجیکل تباہی کو روکنے کے لیے دیرپا، نظامی تبدیلی پیدا کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں، ایٹمی اثاثوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ علاقائی کشیدگی، جوہری ہتھیاروں اور انہیں بنانے کے لیے مواد کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور سائبر جیسی نئی ٹیکنالوجیز کا مطلب ہے کہ جوہری ہتھیار یا ڈیوائس کے استعمال کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ ایک ہی وقت میں، تیزی سے پیچیدہ عالمی سلامتی کے خطرات کو سنبھالنے کی حکومتوں کی صلاحیت ختم ہو رہی ہے۔ جوہری امور پر کام کرنے والے امریکی تھنک ٹینک ’نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو‘ کے 2020 نیوکلیئر سکیورٹی انڈیکس میں جوہری مواد کے حوالے سے سب سے زیادہ بہتری پاکستان کی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ میں مختلف ممالک کو تین حوالے سے جانچا گیا ہے جن میں ایک کلوگرام سے زیادہ وزنی جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کے ہتھیاروں کی حفاظت پر درجہ بندی، ایک کلوگرام سے کم وزن کے ہتھیار رکھنے والے 153 ممالک کی جوہری مواد کی چوری روکنے کی عالمی کاوشوں پر درجہ بندی اور 46 ممالک کی جوہری تنصیبات کو سبوتاژ کرنے سے روکنے کے اقدامات پر درجہ بندی شامل ہیں۔ تین میں سے دو درجہ بندیوں میں پاکستان کی مجموعہ کارکردگی ہمسایہ ملک بھارت سے بہتر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ تیسری کیٹیگیری میں پاکستان کا شمار اس لیے نہیں کیوں کہ پاکستان کو ایک کلو سے زیادہ وزن والے ہتھیار کی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔ جوہری مواد کی حفاظت کی مجموعی رینگنگ میں پاکستان بھارت سے ایک درجہ اوپر ہے۔ جوہری تنصیبات کے سبوتاژ ہونے کے اقدامات روکنے کی درجہ بندی میں پاکستان بھارت سے پانچ درجہ بہتر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے تنصیبات پر موجود سکیورٹی اور سائبر سکیورٹی کے لیے نئے طریقہ کار اپنائے ہیں اور اندرونی خطرے کو روکنے کے لیے بہتر اقدامات کیے ہیں۔ انڈیکس کی مجموعی رینکنگ میں پاکستان نے سات مثبت پوائنٹ حاصل کیے جس سے پاکستان کی رینکنگ بہت ہوئی۔ انڈیکس کے مطابق تنصیبات کی سکیورٹی پر گذشتہ سالوں میں نئے قواعد کی وجہ سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری آ رہی ہے۔

2014 میں سکیورٹی کیٹیگری میں پاکستان کو آٹھ مثبت پوائنٹ ملے، 2016 میں مثبت دو اور 2018 میں چھ مثبت پوائنٹ ملے۔

رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ 2012 سے اس رینکنگ کا اجرا کیا گیا ہے اور تب سے کسی ملک کی سکیورٹی اور کنٹرول کی کیٹیگری میں دوسرے ملکوں کے مقابلے میں پاکستان کی اتنے پوائنٹس کے ساتھ بہتر ریکارڈ دوسرے نمبر پر ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف چار ممالک ایسے ہیں جو اپے ہتھیاروں میں اضافہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان ممالک میں پاکستان، بھارت، برطانیہ اور شمالی کوریا ہیں۔ امریکی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم پر پراعتماد ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے امریکی صدر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے جوہری اثاثے بالکل محفوط اور عالمی قوانین کے عین مطابق ہیں، ہمارے جوہری اثاثے اپنے ملک کی سالمیت کے لیے ہیں ناکہ کسی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے۔ پاکستان سے متعلق صدر جوبائیڈن کے مؤفف پر اظہار خیال کرتے ہوئے ترجمان امریکی دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ صدر جوبائیڈن سمجھتے ہیں کہ محفوظ اور خوشحال پاکستان امریکی مفادات کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ طویل عرصے سے جاری تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، امریکا ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم پر پراعتماد ہے۔امریکی صدر کے متنازع بیان کے بعد میڈیا پر شدید پاکستانی ردعمل رہا،امریکی صدر نے کہا تھا کہ پاکستان خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے جس کے پاس بغیر کسی ہم آہنگی کے جوہری ہتھیار ہیں۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے متعلق امریکی صدر کے بیان کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟امریکی صدر جو بائیڈن کے ریمارکس کے بعد، کیا پاکستان کو دوبارہ چارج شیٹ کیا جا رہا ہے؟ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں پاکستان شاید ‘دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے’ جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ‘غیر منظم’ ہیں۔ اس بیان پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اس وقت اس تبصرے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور کیا اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ کیا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ایک پیج پر ہونے کے بجائے دو مختلف صفحات پر ہیں؟اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری نظر آ رہی ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اکتوبر کے اوائل میں واشنگٹن کا دورہ کیا جہاں انہوں نے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن سے ملاقات کی۔ واضح رہے کہ ستمبر 2013 میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سندڈن کے لیک کیے گئے خفیہ دستاویزات اور امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی ’بلیک بجٹ‘ نامی دستاویزات کے اقتباسات شائع کیے تھے۔واشنگٹن پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی انٹیلیجنس کی پوری توجہ ایک طرف اگر القاعدہ اور شمالی کوریا پر ہے تو دوسری جانب اتنی ہی توجہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ملک پاکستان پر ہے۔خفیہ دستاویزات میں ان کی ایک رپورٹ ہے جس میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ان کا کہنا ہے ’پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی سکیورٹی اور اس سے جڑے دیگر مواد کے بارے معلومات میں کمی ہونا ۔۔۔ انٹیلیجنس کی خامی ہے۔‘دستاویزات کے مطابق امریکہ کی انٹیلیجنس ایجنسیاں پاکستان پر دو اہم شعبوں میں توجہ دے رہی ہے: ایک ہے انسداد دہشت گردی اور دوسرا ہے جوہری ہتھیاروں کا عدم پھیلاؤ۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس ایجنسیاں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو لے کر دو ممکنہ صورتحال سے فکر مند ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر دہشت گرد حملہ کریں جیسے انہوں نے 2009 میں فوج کے ہیڈکوارٹر جی ایچ کی پر حملہ کیا تھا۔ دوسرا خدشہ جو کہ پہلے سے بھی بڑا خدشہ ہے یہ ہے کہ دہشت گرد پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس میں اثر و رسوخ بڑھا لیں اور اس پوزیشن میں آ جائیں کہ وہ یا تو ایٹمی حملہ کر دیں یا پھر ایٹمی ہتھیار سمگل کر سکیں۔پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے امریکی رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پا کستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ اور بہترین کمانڈر اور کنٹرول سسٹم کے تحت ہیں۔آرمی اسٹریٹجک فورس کمانڈ (اے ایس ایف سی) خطے میں پائیدار امن و تحفظ اور وطن کے خلاف کسی بھی بیرونی جارحیت کو روکنے کی ضامن اور ذمہ دار ہے۔ عام فہم زبان میں یہ فورسز پاکستان کی ایٹمی ہتھیاروں کی حامل افواج کہلاتی ہیں۔ اس کے پاس موجود ہتھیاروں میں میزائل ڈیلیوری سسٹم، بغیر پائلٹ کے ہوائی جہاز اور ایٹمی ہتھیار ہوتے ہیں۔ پاک افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرکے دنیا کو اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا اور دیگر ملکوں کی افواج کے لیے ایک اعلیٰ مثال قائم کیا۔ اس وقت آرمی کی قیادت جنرل قمر جاوید باجوہ کررہے ہیں جو 10ویں آرمی چیف ہیں۔ یہ افواج 6 لاکھ سے زائد افسران اور جوانوں پر مشتمل ہے، جبکہ اتنی ہی تعداد میں ریزرو افواج بھی موجود ہیں جنہیں جنگ کی صورت میں کسی بھی وقت طلب کیا جاسکتا ہے۔مئی 1998ء میں پاکستان نے ایٹمی طاقت بن کر ملکی دفاع میں ایک اہم سنگ میل عبور کیا تھا۔ چاغی کے پہاڑوں میں پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے ایٹمی تجربے نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا تھا۔ ایٹمی طاقت بننے کے ساتھ ہی پاکستان نے جوائنٹ چیف آف اسٹاف کی سربراہی میں اسٹریٹجک کمانڈ قائم کی اور پھر پاک آرمی، بحریہ اور فضائیہ نے بھی اپنی اپنی سطح پر بھی یہی کام کیا۔پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کے ایک سال کے اندر ہی پاک بھارت کارگل جنگ ہوئی جس میں اس بات کا احساس پیدا ہوا کہ پاکستان بحریہ کو بھی ایٹمی جنگی کمانڈ قائم کرنا ہوگی۔ مگر تمام تر کوششوں کے باوجود یہ کمانڈ سال 2012ء میں قائم ہوسکی جس کی قیادت وائس ایڈمرل کے پاس ہے۔ یہ شعبہ پاکستان نیوی ہیڈ کوارٹر میں قائم ہے۔ اس حوالے سے پاکستان نیوی نے ایٹمی جنگ میں سیکنڈ اسٹرائیک کا نظریہ پیش کیا جس کے تحت اگر کوئی ملک پاکستان پر حملہ کرے تو نیوی فوری طور پر جوابی حملہ کرسکتی ہےاے ایف اسٹریٹجک کمانڈ فورس ایئر ہیڈ کوارٹر اسلام اباد میں قائم ہے جو براہِ راست ایئر چیف، صدرِ مملکت اور وزیرِاعظم پاکستان کو رپورٹ کرتی ہے۔ 80ء کی دہائی میں چیف آف ایئر اسٹاف جنرل انور شمیم نے فیصلہ کیا کہ ایک ایسی مشترکہ کمانڈ قائم کی جائے جو پاکستان کے کیمیائی اثاثوں اور تنصیبات کی حفاظت کرسکے۔ اس فیصلے کی بنیادی وجہ 1981ء میں اسرائیل کی جانب سے عراقی ایٹمی تنصیبات کے تباہ کیا جانا تھا۔ 1998ء میں اسی کمانڈ نے ایٹمی سازو سامان کو راولپنڈی سے چاغی تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیا تھا۔ملکی جغرافیہ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم چلتا ہے کہ پاکستان کی تقریباً 7 ہزار کلومیٹر طویل زمینی سرحد بھارت، چین، افغانستان اور ایران سے ملتی ہیں، جن میں سنگلاخ اور برف پوش پہاڑ، میدان، صحرا، دریا، دلدلی زمین شامل ہیں۔ لہٰذا ہر علاقے کی مخصوص ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے فوج کو تعینات کیا جاتا ہے، اس کو حربی آلات فراہم کیے جاتے ہیں اور افسران و جوانوں کو تربیت فراہم کی جاتی ہےدیکھا جائے تو مسلح افواج پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کے لئے مامور ہیں اور کور کمانڈر کانفرنس میں اس عزم کا اظہار پوری قوم کی آواز ہے جس اتنا ضرور کہوں گا بہت شکریہ پاکستان آرمی زندہ باد پاکستان پائیندہ باد