AAM News — Asghar Ali Mubarak
  • Home
  • Latest
  • Pakistan
  • World
  • Politics
  • Diplomacy
  • Defence
  • Sports
  • Health

Loading content…

AAM News — Asghar Ali Mubarak

Asghar Ali Mubarak (AAM News) is an independent Pakistani bilingual digital news platform providing factual and timely news in English and Urdu across Pakistan, politics, sports, economy, diplomacy, defence, health, education, science and technology, and other public affairs.

News

  • Pakistan
  • World
  • Politics
  • Diplomacy
  • Defence
  • Sports
  • Health
  • Science & Technology
  • Opinion
  • Latest News
  • All Categories

About & Contact

  • About AAM News
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • Terms of Use
  • Cookie Policy
  • YouTube Videos

Developed By

Website developed by Zulqarnain Basher at YFC Solution.

Digital products, websites and software solutions

© 2026 Asghar Ali Mubarak — AAM News. All rights reserved.

  1. Home
  2. politics
  3. کرکٹ ورلڈکپ؛ ٹرمپ کارڈ قرار دیئے جانے والےشاداب خان پاکستان ٹیم میں شامل۔۔۔۔۔۔۔۔رپورٹ :اصغر علی مبارک سے شاداب خان پاکستانی کرکٹر کووزیراعظم عمران خان ورلڈکپ 2019 کیلئےپاکستانی ٹیم کا ٹرمپ کارڈ قرار دے چکے ہیں عمران خان کی کرکٹ کے حوالے سے ھر پیشن گوئی درست ثابت ھوئی۔ورلڈکپ کے لیے ٹیم اعلان ھوا تو اس میں شاداب خان کا نام شامل تھالیکن اچانک ایک خبر نے سوالیہ نشان رکھ چھوڑا کہ شاداب شاید ھی کبھی ٹیم کا دوبارہ حصہ بن سکیں۔راقم الحروف سکول لیول سے اپنے علاقےڈھوک حسو راولپنڈی میں ریلوے گراونڈ پرکاونٹی کرکٹ کلب کا حصہ رھےبعدازاں ریلوے ٹیم کی نمائندگی کی جس میں مہدی۔شاہ۔جاوید اختر۔نئیر بشیر۔ماجد محمود۔ارشد گتاوا۔جاوید خان۔ناصر اقبال۔محمد فاروق۔منیر گارنر۔مقصوداحمد ۔سعید خان ۔سجاد احمداور نصیر احمد وغیرہ استاد صدیق کے کلب سےکھیلتے تھے ان باتوں کا تذکرہ کرنا اس لیے ضروری تھا کہ نصیر احمد وہ پلیئر تھے جنہوں نے شاداب خان جیسا ھیرا تراشہ ھے ہے جو قومی ٹیم کے لیے کھیلتا ہے۔ ورلڈکپ سکواڈ کا حصہ بننے والے شاداب خان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں انہوں نے اپنی شاندار کارکردگی سے چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم کی فائنل میں فتح میں اہم کردار ادا کیا اور اس طرح کی کارکردگی ورلڈکپ میں دیکھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔شاداب خان کا کرکٹ کیرئیر کیسے شروع ہوا اور ان کوکس نے دریافت کیایہ ایک ایسا سوال ہے جس سے متعلق پاکستان ہی نہیں بلکہ کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے سب ہی لوگ جاننا چاہتے تھے۔ شاداب خان کو دریافت ڈھوک(منگٹال) مٹکال راولپنڈی سے عالمی سطح پر پہنچنےوالےنصیر احمد نے کی۔ ان کے ابتدائی کیرئیر کی اھم باتیں پہلے کوچ نصیر احمد کی زبانی منظر عام پر آچکی ہیں جو اس سے قبل کسی کو معلوم نہ تھی۔ شاداب خان کے ابتدائی کوچ نصیر احمد بتاتے ہیں کہ 2010 میں میانوالی سے شاداب خان کی فیملی راولپنڈی کےایک پسماندہ علاقے ڈھوک( منگٹال)مٹکال راولپنڈی منتقل ہوئی، اس وقت شاداب12 سال کا ایک بچہ تھا، شاداب نے صدیق اکبر میموریل کلب کے ساتھ ریلوے گراؤنڈ پر پریکٹس شروع کی۔ ابتدا میں شاداب ٹینس گیند سے میڈیم فاسٹ بولنگ کیا کرتا تھا، کلب کے صدر و کپتان سجاد احمد نے اس کی رہنمائی شروع کی اور لیگ اسپن کرنے کا مشورہ دیا، شاداب خان بہت محنتی تھا اور نیٹ پریکٹس کے لیے ہمیشہ سب سے پہلے آتا،نصیر احمد بھی اس دوران کوچنگ کرتے ہوئے اپنے تجربات سے آگاہ کرتے رھے یہاں ایک بات تذکرہ کرناضروری استادصدیق اکبر خود بھی مایہ ناز سپن باولر تھے اس علاقے سے انٹر نیشنل کرکٹر محمد اکرم۔محمد نواز اور دیگر نے پہچان بنائی۔ شاداب نے انڈر سولہ اور انڈر انیس کرکٹ بھی کھیلی اور صلاحیتوں کا لوہا منوا کر آگے بڑھتا رہا، میں انگلینڈ چلا گیا تھا مگر جب بھی پاکستان جاتا شاداب کی مدد کرنے میں خوشی محسوس کرتا۔چند برس پہلے ریس کورس گراؤنڈ پر بھی اس کے ساتھ کوچنگ سیشنز کیے، اس دوران اسے فرنٹ فٹ کی وجہ سے سائیڈ اسٹرین کا مسئلہ ہوا جسے حل کرایاگیا جس سے فٹنس ٹھیک ہو گئی، پی ایس ایل کے دوران ویوین رچرڈز سے ملاقات ھوئی، جس میں بتایاگیا کہشاداب خان اچھا بیٹسمین بھی ہے اور جلداس شعبے میں بھی صلاحیتوں کا لوہا منوا لے گا، فیلڈنگ سے تو پہلے ہی اس نے سب کو متاثر کر دیا تھا۔چیمپئنز ٹرافی کے دوران شاداب سے ملاقات کے لیے برمنگھم گیا شاداب نے کہا کہ فائنل ضرور کھیلیں گے اور جیتیں گے اور پھر ٹرافی جیتنے کے بعد آپ سے پھر ملاقات ہو ئی‘‘ اور شاداب نے اپنا کہا درست ثابت کیا اس با پھر شاداب خان ورلڈکپ ٹرافی اٹھانے کی نوید سنا رھاھے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کےمایہ ناز لیگ اسپنر شاداب خان کےسو فیصد فٹ ہونے کےبعد ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ بن گئے لندن روانگی سے قبل خصوصی انٹرویو میں انہوں نے سینئر سپورٹس جرنلسٹ اصغر علی مبارک کو بتایا کہ وہ قوم کی دعاؤں سے ورلڈ کپ کا حصہ بنے ہیں قوم سے اپیل ھےکہ ورلڈکپ میں ٹیم کی کامیابی کےلیے دعائیں کرے راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں ملاقات کے دوران بتایا کہ دو روز قبل ان کے خون کے نمونے لئے گئے تھے جن میں ہیپاٹائٹس کا وائرس نہیں پایا گیا۔ اب جمعرات 16 مئی کو برطانیہ کے لیے روانہ ہورھے ھیں اور 20 مئی کو برسٹل میں قومی ٹیم کا حصہ بن جائیں گے۔شاداب خان کا کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ سے دوری ایک تکلیف دہ اور مشکل مرحلہ تھا لیکن اللہ تعالٰی کی ذات سے مایوس نہیں تھااور پوری امید تھی کہ مکمل فٹ ہوکر دوبارہ پاکستان ٹیم کا حصہ بنوں گا۔ واضع رھے کہ شاداب خان کو عین اس وقت ہیپاٹائٹس کے وائرس کا خون میں موجودگی کا انکشاف ہوا تھا جب ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں فٹنس ٹیسٹ کے دوران ان کا میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا ۔ اس دوران مزید انکشاف ہوا کہ انہوں نے دانت میں تکلیف کے بعد ایک دندان ساز سے علاج کرایا اور اس کے آلات کی وجہ سے ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا ہوئے۔ شاداب خان کی طرح ٹیم میں شمولیت پر پاکستانی ٹیم مینجمنٹ بہت مسرور ھے کیونکہ لیگ اسپنر کو وزیر اعظم عمران خان نے ٹرمپ کارڈ قرار دیا تھا اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کی اس کہے کو پرفارمنس سے درست ثابت کردیں گے ۔لیگ اسپنر کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ سے دوری ایک مشکل مرحلہ تھا لیکن پوری امید تھی کہ فٹ ہوکر پاکستان ٹیم کو دستیاب ہو جاؤں گا،انہوں نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کی وجہ سے میگا ایونٹس کی اہمیت کو سمجھتا ہوں، ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم کیلیے عمدہ پرفارم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔ قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے بھی شاداب خان کی دستیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے، جبکہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہاکہ اسپنر کی واپسی سے ٹیم متوازن ہوجائے گی،نوجوان کرکٹرز کی موجودگی میں ڈریسنگ روم اور میدان میں ٹیم کا ماحول پُرجوش ہوجاتا ہے،امید ہے کہ ورلڈکپ سے قبل شاداب مکمل طور پر میچ فٹنس حاصل کرلیں گے۔فٹنس کے سوال پر شاداب کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے موسم سے جلد ھم آہنگی حاصل کرلوں گاانگلش کنڈیشن کا مجھے اندازہ ہے کیونکہ میں وہاں کاونٹی کرکٹ کھیلتا رھا ھوں اور مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ شاداب خان بیرون مللک ایک کامیاب پلیئر کی حثیت سے ایک پہچان رکھتے ہیں نیوزی لینڈ کی سرزمین پر جہاں پاکستان کے ٹاپ آرڈر اور مڈل آرڈر مستند بلے باز نہ چل سکے، وہاں پاکستان کے لیگ سپنر شاداب خان نے ون ڈے میچز میں مشکل وقت میں دو نصف سنچریاں بنا کر ثابت کر دیا کہ وہ گیند کرنے کے ساتھ ساتھ وقت پڑنے پر بیٹنگ کرنے کی بھی مہارت رکھتے ہیں۔یو اے ای میں بھی سری لنکا کیخلاف شاداب خان نے اپنی شاندار بیٹنگ سے میچ جتوایا ۔ ان کی بیٹنگ صلاحیتیوں پر سب کی نظریں تھیں اور اس میچ کے بعد میچ ریفری نے ان کا ڈوپ ٹیسٹ لینے کیلئے بھی کہا لیکن وہ منفی آیا۔نیوزی لینڈ کیخلاف پہلے ون ڈے ویلنگٹن میں بھی انہوں نے28 رنز بنائے۔ نیلسن کے ون ڈے میں کہ جہاں پاکستان کی ٹاپ اور مڈل آرڈر بیٹنگ پویلین لوٹ چکی تھی۔ حسن علی اور شاداب خان نے کیوی باﺅلرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور سکور کو فائٹنگ ٹارگٹ تک پہنچا دیا۔شاداب خان نے وکٹ کے چاروں طرف منجھے ہوئے بلے باز کی طرح شارٹس کھیلے اور قیمتی 52 رنز بنائے جس میں ایک چھکا اور تین چوکے شامل تھے۔ویلنگٹن کے آخری ون ڈے میں بھی وہ کیوی باﺅلر ز کے آگے ایک مرتبہ پھر ڈٹ گئے اور نصف سنچری بنائی جہاں ٹاپ آرڈر مکمل طور پر ناکام ہو چکی تھی۔ شاداب خان نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے بھرپور مزاحمت دکھائی اور وکٹ پر حارث سہیل کا ساتھ دیا۔ان کی اس استقامت کی تعریف کرتے ھوئے نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کو کہنا پڑا کہ پاکستان کے لوئر آرڈر کے کم بیک سے پریشان ہیں۔بیٹنگ کے ساتھ ساتھ باﺅلنگ میں بھی شاداب نے اپنا حصہ ڈالا۔ چوتھے ون ڈے میں انہوں نے سب سے اچھی باﺅلنگ کرائی اور تین وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے تاہم ٹی ٹوئنٹی میچز میں انہوں نے اپنی نپی تلی باﺅلنگ کے ذریعے کیوی بلے بازوں کو باندھ کر رکھا۔ تیسرے ٹی ٹونٹی میں اگر میچ کا ٹرننگ پوائنٹ کہا جائے تو وہ عامر یامین اور شاداب خان کی عمدہ اور نپی تلی باﺅلنگ تھی جس کی وجہ سے نیوزی لینڈ کی فی اوور رن ریٹ میں اضافہ ہوا اور اس اہم سپیل میں ہی شاداب خان نے مارٹن گپٹل اور کچن کی وکٹیں نکالی جس کی وجہ سے پاکستان میچ میں واپس آیا۔ اسی میچ وننگ کارکردگی کی وجہ سے شاداب خان تیسرے ٹی ٹونٹی میں مین آف دی میچ ٹھہرے۔نیوزی لینڈ کے ٹور کے دوران شاداب خان ایک اچھے آل راﺅنڈر کے روپ میں سامنے آئے۔ ان میں بے پناہ اعتماد ہے، یہ اعتماد نہ صرف باﺅلنگ اور بیٹنگ میں نظر آتا ہے بلکہ وہ فیلڈر بھی اچھے ہیں۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں محمد عامر کی گیند پر بھارتی بلے باز ویرات کوہلی کا پوائنٹ پر شاندار کیچ لے کر انڈین بیٹنگ کی کمر توڑ دی تھی۔ انہوں نے نیوزی لینڈ ٹور میں ناقابل یقین کیچ پکڑے۔ فہیم اشرف کی گیند پر کیوی کپتان کین ولیمسن کا بیک ورڈ پوائنٹ پر جونٹی روڈز کی طرح ڈائیو لگا کر کیچ پکڑا۔ اس کیچ کوبہترین کیچ قرار دیا جاتا ہے۔ اپنی بہترین فیلڈنگ کی وجہ اپنے ابتدائی دور کی بہترین گھاس والی گراﺅنڈ کو قرار دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ بہترین گراﺅنڈ تھی جیسے انٹرنیشنل گراﺅنڈز ہوتی ہیں جس کی وجہ سے فیلڈنگ کرنے میں مزہ آتا تھا اور ڈائیو کر کے گیند پکڑنا ایک مشغلہ تھا۔ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے بھی ان کی آل راﺅنڈ کارکردگی کی تعریف کی۔ ان کا کہنا ھے کہ شاداب خان کی بیٹنگ میں دن بدن بہتری آ رہی ہے۔ شین وارن کو دیکھ کر سپن باﺅلنگ کی طرف آنیوالے میانوالی کے اس نوجوان کو ان کے بڑے بھائی آفتاب نے بہت سپورٹ کیا لیکن فیملی والے ان کا کرکٹ کھیلنا پسند نہیں کرتے تھے۔ کئی بار انہیں گھر سے باہر رہنا پڑا۔ابتدائی کرکٹ میانوالی میں اپنے آبائی گاﺅں ہی میں کھیلی، پھر فیملی راولپنڈی آ گئی۔ اور پھر پنڈی ریجن کی طرف سے کھیلتے رہےکوچ صبیح اظہر سے بھی انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔یہ بات درست ہے کہ پاکستانی ٹیم کو اچھے آل راﺅنڈرز کی بہت ضرورت ہے اور شاداب خان اچھے آل راؤنڈر میں ڈھل چکے ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے تاہم وہ ٹیم میں بطور باولر رھنا پسند کرتے ہیں ان کا ماننا ھے کہ دعاوں سے اس مقام پر ھوں اور قوم سے اپیل کرونگا ٹیم کی ورلڈکپ 2019ء میں کامیابی کیلئے دعائیں کرتے رھیں۔ھم اپنی پرفارمنس سے قوم کومایوس نہیں کریں گے پاکستان کی ٹیم انشاء اللہ قوم امیدوں پر پورا اترے گی۔۔۔۔۔
  • politics

کرکٹ ورلڈکپ؛ ٹرمپ کارڈ قرار دیئے جانے والےشاداب خان پاکستان ٹیم میں شامل۔۔۔۔۔۔۔۔رپورٹ :اصغر علی مبارک سے شاداب خان پاکستانی کرکٹر کووزیراعظم عمران خان ورلڈکپ 2019 کیلئےپاکستانی ٹیم کا ٹرمپ کارڈ قرار دے چکے ہیں عمران خان کی کرکٹ کے حوالے سے ھر پیشن گوئی درست ثابت ھوئی۔ورلڈکپ کے لیے ٹیم اعلان ھوا تو اس میں شاداب خان کا نام شامل تھالیکن اچانک ایک خبر نے سوالیہ نشان رکھ چھوڑا کہ شاداب شاید ھی کبھی ٹیم کا دوبارہ حصہ بن سکیں۔راقم الحروف سکول لیول سے اپنے علاقےڈھوک حسو راولپنڈی میں ریلوے گراونڈ پرکاونٹی کرکٹ کلب کا حصہ رھےبعدازاں ریلوے ٹیم کی نمائندگی کی جس میں مہدی۔شاہ۔جاوید اختر۔نئیر بشیر۔ماجد محمود۔ارشد گتاوا۔جاوید خان۔ناصر اقبال۔محمد فاروق۔منیر گارنر۔مقصوداحمد ۔سعید خان ۔سجاد احمداور نصیر احمد وغیرہ استاد صدیق کے کلب سےکھیلتے تھے ان باتوں کا تذکرہ کرنا اس لیے ضروری تھا کہ نصیر احمد وہ پلیئر تھے جنہوں نے شاداب خان جیسا ھیرا تراشہ ھے ہے جو قومی ٹیم کے لیے کھیلتا ہے۔ ورلڈکپ سکواڈ کا حصہ بننے والے شاداب خان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں انہوں نے اپنی شاندار کارکردگی سے چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم کی فائنل میں فتح میں اہم کردار ادا کیا اور اس طرح کی کارکردگی ورلڈکپ میں دیکھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔شاداب خان کا کرکٹ کیرئیر کیسے شروع ہوا اور ان کوکس نے دریافت کیایہ ایک ایسا سوال ہے جس سے متعلق پاکستان ہی نہیں بلکہ کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے سب ہی لوگ جاننا چاہتے تھے۔ شاداب خان کو دریافت ڈھوک(منگٹال) مٹکال راولپنڈی سے عالمی سطح پر پہنچنےوالےنصیر احمد نے کی۔ ان کے ابتدائی کیرئیر کی اھم باتیں پہلے کوچ نصیر احمد کی زبانی منظر عام پر آچکی ہیں جو اس سے قبل کسی کو معلوم نہ تھی۔ شاداب خان کے ابتدائی کوچ نصیر احمد بتاتے ہیں کہ 2010 میں میانوالی سے شاداب خان کی فیملی راولپنڈی کےایک پسماندہ علاقے ڈھوک( منگٹال)مٹکال راولپنڈی منتقل ہوئی، اس وقت شاداب12 سال کا ایک بچہ تھا، شاداب نے صدیق اکبر میموریل کلب کے ساتھ ریلوے گراؤنڈ پر پریکٹس شروع کی۔ ابتدا میں شاداب ٹینس گیند سے میڈیم فاسٹ بولنگ کیا کرتا تھا، کلب کے صدر و کپتان سجاد احمد نے اس کی رہنمائی شروع کی اور لیگ اسپن کرنے کا مشورہ دیا، شاداب خان بہت محنتی تھا اور نیٹ پریکٹس کے لیے ہمیشہ سب سے پہلے آتا،نصیر احمد بھی اس دوران کوچنگ کرتے ہوئے اپنے تجربات سے آگاہ کرتے رھے یہاں ایک بات تذکرہ کرناضروری استادصدیق اکبر خود بھی مایہ ناز سپن باولر تھے اس علاقے سے انٹر نیشنل کرکٹر محمد اکرم۔محمد نواز اور دیگر نے پہچان بنائی۔ شاداب نے انڈر سولہ اور انڈر انیس کرکٹ بھی کھیلی اور صلاحیتوں کا لوہا منوا کر آگے بڑھتا رہا، میں انگلینڈ چلا گیا تھا مگر جب بھی پاکستان جاتا شاداب کی مدد کرنے میں خوشی محسوس کرتا۔چند برس پہلے ریس کورس گراؤنڈ پر بھی اس کے ساتھ کوچنگ سیشنز کیے، اس دوران اسے فرنٹ فٹ کی وجہ سے سائیڈ اسٹرین کا مسئلہ ہوا جسے حل کرایاگیا جس سے فٹنس ٹھیک ہو گئی، پی ایس ایل کے دوران ویوین رچرڈز سے ملاقات ھوئی، جس میں بتایاگیا کہشاداب خان اچھا بیٹسمین بھی ہے اور جلداس شعبے میں بھی صلاحیتوں کا لوہا منوا لے گا، فیلڈنگ سے تو پہلے ہی اس نے سب کو متاثر کر دیا تھا۔چیمپئنز ٹرافی کے دوران شاداب سے ملاقات کے لیے برمنگھم گیا شاداب نے کہا کہ فائنل ضرور کھیلیں گے اور جیتیں گے اور پھر ٹرافی جیتنے کے بعد آپ سے پھر ملاقات ہو ئی‘‘ اور شاداب نے اپنا کہا درست ثابت کیا اس با پھر شاداب خان ورلڈکپ ٹرافی اٹھانے کی نوید سنا رھاھے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کےمایہ ناز لیگ اسپنر شاداب خان کےسو فیصد فٹ ہونے کےبعد ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ بن گئے لندن روانگی سے قبل خصوصی انٹرویو میں انہوں نے سینئر سپورٹس جرنلسٹ اصغر علی مبارک کو بتایا کہ وہ قوم کی دعاؤں سے ورلڈ کپ کا حصہ بنے ہیں قوم سے اپیل ھےکہ ورلڈکپ میں ٹیم کی کامیابی کےلیے دعائیں کرے راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں ملاقات کے دوران بتایا کہ دو روز قبل ان کے خون کے نمونے لئے گئے تھے جن میں ہیپاٹائٹس کا وائرس نہیں پایا گیا۔ اب جمعرات 16 مئی کو برطانیہ کے لیے روانہ ہورھے ھیں اور 20 مئی کو برسٹل میں قومی ٹیم کا حصہ بن جائیں گے۔شاداب خان کا کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ سے دوری ایک تکلیف دہ اور مشکل مرحلہ تھا لیکن اللہ تعالٰی کی ذات سے مایوس نہیں تھااور پوری امید تھی کہ مکمل فٹ ہوکر دوبارہ پاکستان ٹیم کا حصہ بنوں گا۔ واضع رھے کہ شاداب خان کو عین اس وقت ہیپاٹائٹس کے وائرس کا خون میں موجودگی کا انکشاف ہوا تھا جب ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں فٹنس ٹیسٹ کے دوران ان کا میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا ۔ اس دوران مزید انکشاف ہوا کہ انہوں نے دانت میں تکلیف کے بعد ایک دندان ساز سے علاج کرایا اور اس کے آلات کی وجہ سے ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا ہوئے۔ شاداب خان کی طرح ٹیم میں شمولیت پر پاکستانی ٹیم مینجمنٹ بہت مسرور ھے کیونکہ لیگ اسپنر کو وزیر اعظم عمران خان نے ٹرمپ کارڈ قرار دیا تھا اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کی اس کہے کو پرفارمنس سے درست ثابت کردیں گے ۔لیگ اسپنر کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ سے دوری ایک مشکل مرحلہ تھا لیکن پوری امید تھی کہ فٹ ہوکر پاکستان ٹیم کو دستیاب ہو جاؤں گا،انہوں نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کی وجہ سے میگا ایونٹس کی اہمیت کو سمجھتا ہوں، ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم کیلیے عمدہ پرفارم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔ قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے بھی شاداب خان کی دستیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے، جبکہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہاکہ اسپنر کی واپسی سے ٹیم متوازن ہوجائے گی،نوجوان کرکٹرز کی موجودگی میں ڈریسنگ روم اور میدان میں ٹیم کا ماحول پُرجوش ہوجاتا ہے،امید ہے کہ ورلڈکپ سے قبل شاداب مکمل طور پر میچ فٹنس حاصل کرلیں گے۔فٹنس کے سوال پر شاداب کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے موسم سے جلد ھم آہنگی حاصل کرلوں گاانگلش کنڈیشن کا مجھے اندازہ ہے کیونکہ میں وہاں کاونٹی کرکٹ کھیلتا رھا ھوں اور مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ شاداب خان بیرون مللک ایک کامیاب پلیئر کی حثیت سے ایک پہچان رکھتے ہیں نیوزی لینڈ کی سرزمین پر جہاں پاکستان کے ٹاپ آرڈر اور مڈل آرڈر مستند بلے باز نہ چل سکے، وہاں پاکستان کے لیگ سپنر شاداب خان نے ون ڈے میچز میں مشکل وقت میں دو نصف سنچریاں بنا کر ثابت کر دیا کہ وہ گیند کرنے کے ساتھ ساتھ وقت پڑنے پر بیٹنگ کرنے کی بھی مہارت رکھتے ہیں۔یو اے ای میں بھی سری لنکا کیخلاف شاداب خان نے اپنی شاندار بیٹنگ سے میچ جتوایا ۔ ان کی بیٹنگ صلاحیتیوں پر سب کی نظریں تھیں اور اس میچ کے بعد میچ ریفری نے ان کا ڈوپ ٹیسٹ لینے کیلئے بھی کہا لیکن وہ منفی آیا۔نیوزی لینڈ کیخلاف پہلے ون ڈے ویلنگٹن میں بھی انہوں نے28 رنز بنائے۔ نیلسن کے ون ڈے میں کہ جہاں پاکستان کی ٹاپ اور مڈل آرڈر بیٹنگ پویلین لوٹ چکی تھی۔ حسن علی اور شاداب خان نے کیوی باﺅلرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور سکور کو فائٹنگ ٹارگٹ تک پہنچا دیا۔شاداب خان نے وکٹ کے چاروں طرف منجھے ہوئے بلے باز کی طرح شارٹس کھیلے اور قیمتی 52 رنز بنائے جس میں ایک چھکا اور تین چوکے شامل تھے۔ویلنگٹن کے آخری ون ڈے میں بھی وہ کیوی باﺅلر ز کے آگے ایک مرتبہ پھر ڈٹ گئے اور نصف سنچری بنائی جہاں ٹاپ آرڈر مکمل طور پر ناکام ہو چکی تھی۔ شاداب خان نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے بھرپور مزاحمت دکھائی اور وکٹ پر حارث سہیل کا ساتھ دیا۔ان کی اس استقامت کی تعریف کرتے ھوئے نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کو کہنا پڑا کہ پاکستان کے لوئر آرڈر کے کم بیک سے پریشان ہیں۔بیٹنگ کے ساتھ ساتھ باﺅلنگ میں بھی شاداب نے اپنا حصہ ڈالا۔ چوتھے ون ڈے میں انہوں نے سب سے اچھی باﺅلنگ کرائی اور تین وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے تاہم ٹی ٹوئنٹی میچز میں انہوں نے اپنی نپی تلی باﺅلنگ کے ذریعے کیوی بلے بازوں کو باندھ کر رکھا۔ تیسرے ٹی ٹونٹی میں اگر میچ کا ٹرننگ پوائنٹ کہا جائے تو وہ عامر یامین اور شاداب خان کی عمدہ اور نپی تلی باﺅلنگ تھی جس کی وجہ سے نیوزی لینڈ کی فی اوور رن ریٹ میں اضافہ ہوا اور اس اہم سپیل میں ہی شاداب خان نے مارٹن گپٹل اور کچن کی وکٹیں نکالی جس کی وجہ سے پاکستان میچ میں واپس آیا۔ اسی میچ وننگ کارکردگی کی وجہ سے شاداب خان تیسرے ٹی ٹونٹی میں مین آف دی میچ ٹھہرے۔نیوزی لینڈ کے ٹور کے دوران شاداب خان ایک اچھے آل راﺅنڈر کے روپ میں سامنے آئے۔ ان میں بے پناہ اعتماد ہے، یہ اعتماد نہ صرف باﺅلنگ اور بیٹنگ میں نظر آتا ہے بلکہ وہ فیلڈر بھی اچھے ہیں۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں محمد عامر کی گیند پر بھارتی بلے باز ویرات کوہلی کا پوائنٹ پر شاندار کیچ لے کر انڈین بیٹنگ کی کمر توڑ دی تھی۔ انہوں نے نیوزی لینڈ ٹور میں ناقابل یقین کیچ پکڑے۔ فہیم اشرف کی گیند پر کیوی کپتان کین ولیمسن کا بیک ورڈ پوائنٹ پر جونٹی روڈز کی طرح ڈائیو لگا کر کیچ پکڑا۔ اس کیچ کوبہترین کیچ قرار دیا جاتا ہے۔ اپنی بہترین فیلڈنگ کی وجہ اپنے ابتدائی دور کی بہترین گھاس والی گراﺅنڈ کو قرار دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ بہترین گراﺅنڈ تھی جیسے انٹرنیشنل گراﺅنڈز ہوتی ہیں جس کی وجہ سے فیلڈنگ کرنے میں مزہ آتا تھا اور ڈائیو کر کے گیند پکڑنا ایک مشغلہ تھا۔ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے بھی ان کی آل راﺅنڈ کارکردگی کی تعریف کی۔ ان کا کہنا ھے کہ شاداب خان کی بیٹنگ میں دن بدن بہتری آ رہی ہے۔ شین وارن کو دیکھ کر سپن باﺅلنگ کی طرف آنیوالے میانوالی کے اس نوجوان کو ان کے بڑے بھائی آفتاب نے بہت سپورٹ کیا لیکن فیملی والے ان کا کرکٹ کھیلنا پسند نہیں کرتے تھے۔ کئی بار انہیں گھر سے باہر رہنا پڑا۔ابتدائی کرکٹ میانوالی میں اپنے آبائی گاﺅں ہی میں کھیلی، پھر فیملی راولپنڈی آ گئی۔ اور پھر پنڈی ریجن کی طرف سے کھیلتے رہےکوچ صبیح اظہر سے بھی انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔یہ بات درست ہے کہ پاکستانی ٹیم کو اچھے آل راﺅنڈرز کی بہت ضرورت ہے اور شاداب خان اچھے آل راؤنڈر میں ڈھل چکے ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے تاہم وہ ٹیم میں بطور باولر رھنا پسند کرتے ہیں ان کا ماننا ھے کہ دعاوں سے اس مقام پر ھوں اور قوم سے اپیل کرونگا ٹیم کی ورلڈکپ 2019ء میں کامیابی کیلئے دعائیں کرتے رھیں۔ھم اپنی پرفارمنس سے قوم کومایوس نہیں کریں گے پاکستان کی ٹیم انشاء اللہ قوم امیدوں پر پورا اترے گی۔۔۔۔۔

Asghar Ali Mubarak portrait

By Asghar Ali Mubarak

Published 15 May 2019 · 1 min read

کرکٹ ورلڈکپ؛ ٹرمپ کارڈ قرار دیئے جانے والےشاداب خان پاکستان ٹیم میں شامل۔۔۔۔۔۔۔۔رپورٹ :اصغر علی مبارک سے  شاداب خان پاکستانی کرکٹر کووزیراعظم عمران خان ورلڈکپ 2019 کیلئےپاکستانی ٹیم کا ٹرمپ کارڈ قرار دے چکے ہیں عمران خان کی کرکٹ کے حوالے سے ھر پیشن گوئی درست ثابت ھوئی۔ورلڈکپ کے لیے ٹیم اعلان ھوا تو اس میں شاداب خان کا نام شامل تھالیکن اچانک ایک خبر نے سوالیہ نشان رکھ چھوڑا کہ شاداب شاید ھی کبھی ٹیم کا دوبارہ حصہ بن سکیں۔راقم الحروف سکول لیول سے اپنے علاقےڈھوک حسو راولپنڈی میں ریلوے گراونڈ پرکاونٹی کرکٹ کلب کا حصہ رھےبعدازاں ریلوے ٹیم کی نمائندگی کی جس میں مہدی۔شاہ۔جاوید اختر۔نئیر بشیر۔ماجد محمود۔ارشد گتاوا۔جاوید خان۔ناصر اقبال۔محمد فاروق۔منیر گارنر۔مقصوداحمد ۔سعید خان ۔سجاد احمداور نصیر احمد وغیرہ استاد صدیق کے کلب سےکھیلتے تھے ان باتوں کا تذکرہ کرنا اس لیے ضروری تھا کہ نصیر احمد وہ پلیئر تھے جنہوں نے شاداب خان جیسا ھیرا تراشہ ھے   ہے جو قومی ٹیم کے لیے کھیلتا ہے۔  ورلڈکپ سکواڈ کا  حصہ بننے والے شاداب خان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں انہوں نے اپنی شاندار کارکردگی سے چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم کی فائنل میں فتح میں اہم کردار ادا کیا اور اس طرح کی کارکردگی ورلڈکپ میں دیکھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔شاداب خان کا کرکٹ کیرئیر کیسے شروع ہوا اور ان کوکس نے دریافت کیایہ ایک ایسا سوال ہے جس سے متعلق پاکستان ہی نہیں بلکہ کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے سب ہی لوگ جاننا چاہتے تھے۔ شاداب خان کو دریافت ڈھوک(منگٹال) مٹکال راولپنڈی سے عالمی سطح پر پہنچنےوالےنصیر احمد نے کی۔ ان کے ابتدائی کیرئیر کی اھم باتیں پہلے کوچ نصیر احمد کی زبانی منظر عام پر آچکی ہیں جو اس سے قبل کسی کو معلوم نہ تھی۔  شاداب خان کے ابتدائی کوچ نصیر احمد بتاتے ہیں کہ 2010 میں میانوالی سے شاداب خان کی فیملی راولپنڈی کےایک پسماندہ علاقے ڈھوک( منگٹال)مٹکال راولپنڈی منتقل ہوئی، اس وقت شاداب12 سال کا ایک بچہ تھا، شاداب نے صدیق اکبر میموریل کلب کے ساتھ ریلوے گراؤنڈ پر پریکٹس شروع کی۔ ابتدا میں شاداب ٹینس گیند سے میڈیم فاسٹ بولنگ کیا کرتا تھا، کلب کے صدر و کپتان سجاد احمد نے اس کی رہنمائی شروع کی اور لیگ اسپن کرنے کا مشورہ دیا، شاداب خان بہت محنتی تھا اور نیٹ پریکٹس کے لیے ہمیشہ سب سے پہلے آتا،نصیر احمد بھی اس دوران کوچنگ کرتے ہوئے اپنے تجربات سے آگاہ کرتے رھے یہاں ایک بات تذکرہ کرناضروری استادصدیق اکبر خود بھی مایہ ناز سپن باولر تھے اس علاقے سے انٹر نیشنل کرکٹر محمد اکرم۔محمد نواز اور دیگر نے پہچان بنائی۔ شاداب نے انڈر سولہ اور انڈر انیس کرکٹ بھی کھیلی اور صلاحیتوں کا لوہا منوا کر آگے بڑھتا رہا، میں انگلینڈ چلا گیا تھا مگر جب بھی پاکستان جاتا شاداب کی مدد کرنے میں خوشی محسوس کرتا۔چند برس پہلے  ریس کورس گراؤنڈ پر بھی اس کے ساتھ کوچنگ سیشنز کیے، اس دوران اسے فرنٹ فٹ کی وجہ سے سائیڈ اسٹرین کا مسئلہ ہوا جسے حل کرایاگیا جس سے فٹنس ٹھیک ہو گئی، پی ایس ایل کے دوران  ویوین رچرڈز سے ملاقات ھوئی، جس میں بتایاگیا کہشاداب خان اچھا بیٹسمین بھی ہے اور جلداس شعبے میں بھی صلاحیتوں کا لوہا منوا لے گا، فیلڈنگ سے تو پہلے ہی اس نے سب کو متاثر کر دیا تھا۔چیمپئنز ٹرافی کے دوران شاداب سے ملاقات کے لیے برمنگھم گیا شاداب نے کہا کہ فائنل ضرور کھیلیں گے اور جیتیں گے اور پھر ٹرافی جیتنے کے بعد آپ سے پھر ملاقات ہو ئی‘‘ اور شاداب نے اپنا کہا درست ثابت کیا اس با پھر شاداب خان ورلڈکپ ٹرافی اٹھانے کی نوید سنا رھاھے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کےمایہ ناز لیگ اسپنر شاداب خان کےسو فیصد فٹ ہونے  کےبعد ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ بن گئے لندن روانگی سے قبل خصوصی انٹرویو میں انہوں نے سینئر سپورٹس جرنلسٹ اصغر علی مبارک کو بتایا کہ وہ قوم کی دعاؤں سے ورلڈ کپ کا حصہ بنے ہیں قوم سے اپیل ھےکہ ورلڈکپ میں ٹیم کی کامیابی کےلیے دعائیں کرے راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں ملاقات کے دوران بتایا کہ دو روز قبل ان کے خون کے نمونے لئے گئے تھے جن میں ہیپاٹائٹس کا وائرس نہیں پایا گیا۔ اب جمعرات 16 مئی کو برطانیہ کے لیے روانہ ہورھے ھیں اور 20 مئی کو برسٹل میں قومی ٹیم کا حصہ بن جائیں گے۔شاداب خان کا کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ سے دوری ایک تکلیف دہ اور مشکل مرحلہ تھا لیکن  اللہ تعالٰی کی ذات سے مایوس نہیں تھااور پوری امید تھی کہ مکمل فٹ ہوکر دوبارہ پاکستان ٹیم کا حصہ بنوں گا۔  واضع رھے کہ شاداب خان کو عین اس وقت ہیپاٹائٹس کے وائرس کا خون میں موجودگی کا انکشاف ہوا تھا جب ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں فٹنس ٹیسٹ کے دوران ان کا میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا ۔  اس دوران مزید انکشاف ہوا کہ انہوں نے دانت میں تکلیف کے بعد ایک دندان ساز سے علاج کرایا اور اس کے آلات کی وجہ سے ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا ہوئے۔ شاداب خان کی  طرح  ٹیم میں  شمولیت پر  پاکستانی ٹیم مینجمنٹ  بہت مسرور ھے کیونکہ لیگ اسپنر کو وزیر اعظم عمران خان نے ٹرمپ کارڈ قرار دیا تھا اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کی اس کہے کو پرفارمنس سے درست ثابت کردیں گے ۔لیگ اسپنر کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ سے دوری ایک مشکل مرحلہ تھا لیکن پوری امید تھی کہ فٹ ہوکر پاکستان ٹیم کو دستیاب ہو جاؤں گا،انہوں نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کی وجہ سے میگا ایونٹس کی اہمیت کو سمجھتا ہوں، ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم کیلیے عمدہ پرفارم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔ قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے  بھی شاداب خان کی دستیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے، جبکہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہاکہ اسپنر کی واپسی سے ٹیم متوازن ہوجائے گی،نوجوان کرکٹرز کی موجودگی میں ڈریسنگ روم اور میدان میں ٹیم کا ماحول پُرجوش ہوجاتا ہے،امید ہے کہ ورلڈکپ سے قبل شاداب مکمل طور پر میچ فٹنس حاصل کرلیں گے۔فٹنس کے سوال پر شاداب کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے موسم سے جلد ھم آہنگی حاصل کرلوں گاانگلش کنڈیشن کا مجھے اندازہ ہے کیونکہ میں وہاں کاونٹی کرکٹ کھیلتا رھا ھوں اور مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ شاداب خان بیرون مللک ایک کامیاب پلیئر کی حثیت سے ایک پہچان رکھتے ہیں نیوزی لینڈ کی سرزمین پر جہاں پاکستان کے ٹاپ آرڈر اور مڈل آرڈر مستند بلے باز نہ چل سکے، وہاں پاکستان کے لیگ سپنر شاداب خان نے ون ڈے میچز میں مشکل وقت میں دو نصف سنچریاں بنا کر ثابت کر دیا کہ وہ گیند کرنے کے ساتھ ساتھ وقت پڑنے پر بیٹنگ کرنے کی بھی مہارت رکھتے ہیں۔یو اے ای میں بھی سری لنکا کیخلاف شاداب خان نے اپنی شاندار بیٹنگ سے میچ جتوایا ۔ ان کی بیٹنگ صلاحیتیوں پر سب کی نظریں تھیں اور اس میچ کے بعد میچ ریفری نے ان کا ڈوپ ٹیسٹ لینے کیلئے بھی کہا لیکن وہ منفی آیا۔نیوزی لینڈ کیخلاف پہلے ون ڈے ویلنگٹن میں بھی انہوں نے28 رنز بنائے۔ نیلسن کے ون ڈے میں کہ جہاں پاکستان کی ٹاپ اور مڈل آرڈر بیٹنگ پویلین لوٹ چکی تھی۔ حسن علی اور شاداب خان نے کیوی باﺅلرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور سکور کو فائٹنگ ٹارگٹ تک پہنچا دیا۔شاداب خان نے وکٹ کے چاروں طرف منجھے ہوئے بلے باز کی طرح شارٹس کھیلے اور قیمتی 52 رنز بنائے جس میں ایک چھکا اور تین چوکے شامل تھے۔ویلنگٹن کے آخری ون ڈے میں بھی وہ کیوی باﺅلر ز کے آگے ایک مرتبہ پھر ڈٹ گئے اور نصف سنچری بنائی جہاں ٹاپ آرڈر مکمل طور پر ناکام ہو چکی تھی۔ شاداب خان نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے بھرپور مزاحمت دکھائی اور وکٹ پر حارث سہیل کا ساتھ دیا۔ان کی اس استقامت کی تعریف کرتے ھوئے نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کو کہنا پڑا کہ  پاکستان کے لوئر آرڈر کے کم بیک سے پریشان ہیں۔بیٹنگ کے ساتھ ساتھ باﺅلنگ میں بھی شاداب نے اپنا حصہ ڈالا۔ چوتھے ون ڈے میں انہوں نے سب سے اچھی باﺅلنگ کرائی اور تین وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے تاہم ٹی ٹوئنٹی میچز میں انہوں نے اپنی نپی تلی باﺅلنگ کے ذریعے کیوی بلے بازوں کو باندھ کر رکھا۔ تیسرے ٹی ٹونٹی میں اگر میچ کا ٹرننگ پوائنٹ کہا جائے تو وہ عامر یامین اور شاداب خان کی عمدہ اور نپی تلی باﺅلنگ تھی جس کی وجہ سے نیوزی لینڈ کی فی اوور رن ریٹ میں اضافہ ہوا اور اس اہم سپیل میں ہی شاداب خان نے مارٹن گپٹل اور کچن کی وکٹیں نکالی جس کی وجہ سے پاکستان میچ میں واپس آیا۔ اسی میچ وننگ کارکردگی کی وجہ سے شاداب خان تیسرے ٹی ٹونٹی میں مین آف دی میچ ٹھہرے۔نیوزی لینڈ کے ٹور کے دوران شاداب خان ایک اچھے آل راﺅنڈر کے روپ میں سامنے آئے۔ ان میں بے پناہ اعتماد ہے، یہ اعتماد نہ صرف باﺅلنگ اور بیٹنگ میں نظر آتا ہے بلکہ وہ فیلڈر بھی اچھے ہیں۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں محمد عامر کی گیند پر بھارتی بلے باز ویرات کوہلی کا پوائنٹ پر شاندار کیچ لے کر انڈین بیٹنگ کی کمر توڑ دی تھی۔ انہوں نے نیوزی لینڈ ٹور میں ناقابل یقین کیچ پکڑے۔ فہیم اشرف کی گیند پر کیوی کپتان کین ولیمسن کا بیک ورڈ پوائنٹ پر جونٹی روڈز کی طرح ڈائیو لگا کر کیچ پکڑا۔ اس کیچ کوبہترین کیچ قرار دیا جاتا ہے۔ اپنی بہترین فیلڈنگ کی وجہ اپنے ابتدائی دور کی بہترین گھاس والی گراﺅنڈ کو قرار دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ بہترین گراﺅنڈ تھی جیسے انٹرنیشنل گراﺅنڈز ہوتی ہیں جس کی وجہ سے فیلڈنگ کرنے میں مزہ آتا تھا اور ڈائیو کر کے گیند پکڑنا ایک مشغلہ تھا۔ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے بھی ان کی آل راﺅنڈ کارکردگی کی تعریف کی۔ ان کا کہنا ھے کہ شاداب خان کی بیٹنگ میں دن بدن بہتری آ رہی ہے۔ شین وارن کو دیکھ کر سپن باﺅلنگ کی طرف آنیوالے میانوالی کے اس نوجوان کو ان کے بڑے بھائی آفتاب نے بہت سپورٹ کیا لیکن فیملی والے ان کا کرکٹ کھیلنا پسند نہیں کرتے تھے۔ کئی بار انہیں گھر سے باہر رہنا پڑا۔ابتدائی کرکٹ میانوالی میں اپنے آبائی گاﺅں ہی میں کھیلی، پھر فیملی راولپنڈی آ گئی۔ اور پھر پنڈی ریجن کی طرف سے کھیلتے رہےکوچ صبیح اظہر سے بھی انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔یہ بات درست ہے کہ پاکستانی ٹیم کو اچھے آل راﺅنڈرز کی بہت ضرورت ہے اور شاداب خان اچھے آل راؤنڈر میں ڈھل چکے ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے تاہم وہ ٹیم میں بطور باولر رھنا پسند کرتے ہیں ان کا ماننا ھے کہ دعاوں سے اس مقام پر ھوں اور قوم سے اپیل کرونگا  ٹیم کی ورلڈکپ 2019ء میں کامیابی کیلئے دعائیں کرتے رھیں۔ھم اپنی پرفارمنس سے قوم کومایوس نہیں کریں گے پاکستان کی ٹیم انشاء اللہ قوم امیدوں پر پورا اترے گی۔۔۔۔۔

Share

  • Facebook
  • X
  • LinkedIn
  • WhatsApp
  • Telegram
  • Reddit
  • Pinterest
  • email
  • Blogger

Related News

More reports from the same coverage area.

چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور”سچائی کا کوریڈور”منفی پروپیگنڈے کا مؤثر توڑ

News

چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور”سچائی کا کوریڈور”منفی پروپیگنڈے کا مؤثر توڑ

چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور”سچائی کا کوریڈور”منفی پروپیگنڈے کا مؤثر توڑ (اصغر علی مبارک )پاک چین اقتصادی راہداری (

30 Oct 2026 · Updated 30 Oct 2026

“China-Pakistan Information Corridor: A ‘Corridor of Truth’ – An Effective Counter to Negative Propaganda”

News

“China-Pakistan Information Corridor: A ‘Corridor of Truth’ – An Effective Counter to Negative Propaganda”

“China-Pakistan Information Corridor: A ‘Corridor of Truth’ – An Effective Counter to Negative Propaganda” (Asghar Ali M…

30 Oct 2026 · Updated 30 Oct 2026

پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال;انفارمیشن کوریڈور کا آغاز

News

پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال;انفارمیشن کوریڈور کا آغاز

پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال;انفارمیشن کوریڈور کا آغاز ..(اصغر علی مبارک)پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کے…

28 Oct 2026

AdvertisementSlice 'n' Story pizza restaurant — open location in Google Maps
AdvertisementYFC Solution professional websites and digital services

Latest News

  • چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور”سچائی کا کوریڈور”منفی پروپیگنڈے کا مؤثر توڑ
    چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور”سچائی کا کوریڈور”منفی پروپیگنڈے کا مؤثر توڑ

    30 Oct 2026

  • “China-Pakistan Information Corridor: A ‘Corridor of Truth’ – An Effective Counter to Negative Propaganda”
    “China-Pakistan Information Corridor: A ‘Corridor of Truth’ – An Effective Counter to Negative Propaganda”

    30 Oct 2026

  • پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال;انفارمیشن کوریڈور کا آغاز
    پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال;انفارمیشن کوریڈور کا آغاز

    28 Oct 2026

  • 75 Years of Pakistan-China Diplomatic Relations: Launch of the Information Corridor
    75 Years of Pakistan-China Diplomatic Relations: Launch of the Information Corridor

    28 Oct 2026

  • آغاشورش کشمیری کی 51 ویں برسی؛ 28 اکتوبر کو نیشنل پریس کلب میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا جائے گا
    آغاشورش کشمیری کی 51 ویں برسی؛ 28 اکتوبر کو نیشنل پریس کلب میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا جائے گا

    26 Oct 2026

Categories

  • Breaking News306
  • pakistan277
  • world111
  • politics3321
  • diplomacy155
  • Defence126
  • health17
  • sports127
  • Science & Technology43
  • Environment13
  • Law & Justice53
  • Culture46
  • Entertainment52
  • Opinion54
View all sections

Editor's Picks

  • چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور”سچائی کا کوریڈور”منفی پروپیگنڈے کا مؤثر توڑ
  • “China-Pakistan Information Corridor: A ‘Corridor of Truth’ – An Effective Counter to Negative Propaganda”
  • پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال;انفارمیشن کوریڈور کا آغاز
  • 75 Years of Pakistan-China Diplomatic Relations: Launch of the Information Corridor
  • Tri-Nation ODI Series: Pakistan Defeats England by One Wicket; Shadab Khan Scores a Century

About the Author

Asghar Ali Mubarak portrait

Asghar Ali Mubarak

Asghar Ali Mubarak is a bilingual journalist covering politics, sports, diplomacy, and current affairs.

About & Contact