پرویز الہٰی کی مخالفت…چوہدری سرور برطرف..عمر سرفراز چیمہ پنجاب کے نئے گورنر مقرر…(رپورٹ:اصغرعلی مبارک) …….پرویز الہٰی کی مخالفت…چوہدری سرور برطرف..عمر سرفراز چیمہ کو پنجاب کا گورنر مقررکردیاگیاہے عمرسرفراز چیمہ سیکرٹری اطلاعات ریےہیںچیف جسٹس لاہور کورٹ گورنرکے عہدے کاحلف لیں گےےذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری سرور وزارتِ اعلیٰ کے منصب کے لیے چوہدری پرویز الہٰی کی مخالفت کر رہے تھے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے ایک بیان میںبتایا کہ نئے گورنر پنجاب کا اعلان بعد میں کیا جائیگا، آئین کے مطابق ڈپٹی اسپیکر قائم مقام گورنر ہوں گے,واضح رہے کہ آج پنجاب کی سیاست کا اہم ترین دن ہے، نئےوزیراعلی پنجاب کے انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی میں آج ووٹنگ ہونے جا رہی ہے۔ووٹنگ صبح 11 بجے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ہو گی۔وزیراعلی پنجاب کے انتخابات کیلئےحکومتی اتحاد کی جانب سے سپیکر چوہدری پرویز الہی کو نامزد کیا ہے جبکہ اپوزیشن اتحاد کے نامزدہ کردہ امیدوار حمزہ شہبازشریف ہیں، دونوں کے درمیان ون ٹو ون مقابلہ ہے۔چوہدری محمد سرور ۔ 5 ستمبر 2018ء کو گورنر کے منصب پر فائز ہوئے۔ 33ویں گورنر پنجاب تھے مسلم لیگ نون کے بر سر اقتدار آنے کے بعد چوہدری سرور کو2013ء میں نواز شریف نے پنجاب کا گورنر لگایا ۔ نواز شریف کو جب پرویز مشرف نے معزول کر کے قید کیا، تو چودھری سرور نے برطانیہ نمائندہ کی حیثیت سے مری میں نواز شریف سے ملاقات کی۔ جلاوطنی کے زمانہ میں نوازشریف اور چودھری سرور کے تعلقات میں اضافہ ہوا۔ اقتدار میں واپس آ کر ان تعلقات کی وجہ سے نواز شریف نے انہیں پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ کی گورنری سے نوازا۔29 جنوری، 2015ء کو انہوں نے گورنر پنجاب، پاکستان کے عہدے سے استعفی دے دیا. واضع رہے کہ تین روز قبل اسلام آباد میں گورنر نے اسپیکر سے بھی ملاقات کی تھی جبکہ وزیر اعظم سے نہ مل سکے ان کی عزیر خار جس کے بعد ان کی باڈی لینگونج سے ظاہر ہورہاتھاکہ وہ مایوس ہیں۔ماضی میں گورنر پنجاب اور اسپیکر پنجاب پرویزالہی کے مابین کشیدگی رہی. بطور گورنر پنجاب ماضی میں چوہدری سرور وزیراعظم کو مشورے دیتے رہے چوہدری محمد سرور نےبانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو خوب سوچ بچار کے بعد فیصلہ کرنے کا مشورہ دیاتھا چوہدری محمد سرورکا مشورہ تھاکہ قائد اعظم کی طرح 10 بار سوچیں پھر فیصلہ کریں، اور جب فیصلہ کر لیں تو پھر اس پر ڈٹ جائیں۔ یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ کسی کو رخصت کیا جاتا ہے تو اس کی عزت نفس کا خیال رکھا جانا چاہیے۔سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو اس طرح رخصت نہیں کرنا چاہیے تھا، وزارت سے اس طرح ہٹانا اچھا اقدام نہیں تھا، کابینہ میں جو فیصلے ہوتے ہیں ان پر قائم رہنا چاہیے۔ چار روز قبل چوہدری پرویز الہٰی کی گورنر پنجاب چوہدری سرور سے ملاقات ہوئی جس میں گورنر پنجاب نے چوہدری پرویز الہٰی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ملاقات پنجاب ہاؤس میں ایک گھنٹہ جاری رہی جس میں مونس الہٰی بھی موجود تھے۔اس موقع پر چوہدری سرور نے کہا کہ آپ کو پنجاب کا وزیراعلی بنانے کے لیے مکمل کوشش کروں گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ترین گروپ کا ایک رکن قومی اسمبلی اور 3 پنجاب اسمبلی کے ارکان بھی موجود تھے۔