پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ ; بھارت نواز ٹویٹر ڈرائیوکا اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے کھوج ………….۔۔(کالم :ا ندر کی بات۔۔۔۔ کالم نگار؛ اصغر علی مبارک۔۔۔۔)۔۔…… پاکستان کے خلاف بھارت نواز ٹویٹر ڈرائیوکا اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے کھوج لگایا گیاہے۔ .اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی تنظیم اسٹینفورڈ انٹرنیٹ آبزرویٹری (ایس آئی او) کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پاک فوج کے خلاف نفرت پھیلانے اور پروپیگنڈہ پھیلانے کی وجہ سے اس سال کے شروع میں ہندوستان نواز فوج کے خفیہ ٹویٹر اثر و رسوخ کے آپریشن کو ٹوئٹر نے معطل کر دیا تھا۔ٹویٹر نے انفارمیشن آپریشنز کے 15 ڈیٹا سیٹس کے اشتراک سے اس کی شناخت کی اور اسے آزادانہ تجزیہ کے لیے ٹوئٹر موڈریشن ریسرچ کنسورشیم کے محققین کے ساتھ پلیٹ فارم سے ہٹا دیا۔ ان ڈیٹا سیٹس میں سے ایک میں 1,198 اکاؤنٹس شامل تھے جو پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ ٹویٹ کرتے تھے۔ٹویٹر نے اپنی پلیٹ فارم پر ہیرا پھیری اور اسپام پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر نیٹ ورک کو معطل کیا اور کہا کہ اصل ذمہ دار ملک بھارت ہے۔رپورٹ کے عنوان سے “میرا دل کشمیر سے تعلق رکھتا ہے: ٹویٹر پر بھارتی فوج کے خفیہ اثر و رسوخ کے آپریشن کا تجزیہ” میں کہا گیا ہے کہ نیٹ ورک بنیادی طور پر ہندی اردو اور انگریزی میں ٹویٹ کرتا رہاہے،اکاؤنٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ قابل فخر کشمیری اور بھارتی فوجیوں کے رشتہ دار ہیں۔ ٹویٹس میں بھارتی فوج کی فوجی کامیابیوں اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں خدمات کی فراہمی کی تعریف کی گئی اور چین اور پاکستان کی فوجوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔تحقیق کے مطابق معطل شدہ پرو انڈین اکاؤنٹس نیٹ ورک ٹویٹس میں مستند اور معطل اکاؤنٹس دونوں کو ٹیگ کیا گیا، جن میں علاقائی صحافی، بلوچستان کے سیاست دان، بھارتی فوج اور بھارتی سیاستدان شامل ہیں۔نیٹ ورک میں موجود بہت سے اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا کہ وہ بھارتی ہیں، اکثر بھارتی کشمیری، اور اکثر کہتے ہیں کہ وہ کشمیر میں واقع ہیں۔ ایک نے کہا “فخر بھارتی اور فخر کشمیری۔ میرا دل کشمیر سے، روح بھارت سے اور زندگی انسانیت سے ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت کے حامی اکاؤنٹس نے پاکستان اور چین کے خلاف غلط بیانیے پھیلائے۔ بلوچستان پر خصوصی توجہ کے ساتھ۔ ایک ٹویٹ میں کہا گیا، ’’بلوچستان میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے خلاف اسلام آباد میں طلبہ احتجاج کر رہے ہیں۔‘‘اکاؤنٹس نے پاکستان پر بھارتی فوج کے مظالم کے بے بنیاد دعوے پھیلانے کا الزام لگایا، اور انہوں نے پاکستانی فوجیوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دہشت گردوں کو تحفظ دینے کا الزام لگایا۔ٹویٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان ہندوؤں یا مسلمانوں کے لیے محفوظ نہیں ہے، اور جب COVID-19 کی وبا شروع ہوئی تو پاکستان نے پاکستانی شہریوں کو چین میں چھوڑ دیا۔ٹویٹس میں پاکستان میں خواتین کے حقوق پر بھی تنقید کی گئی۔ ایک معطل شدہ اکاؤنٹ نے ایک ٹویٹ شیئر کی جس میں کہا گیا کہ “پاکستان کے وزیر اعظم نے عصمت دری اور جنسی حملوں میں اضافے کے لیے خواتین کے لباس کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بعد حملہ کیا ہے۔”رپورٹس میں چین مخالف بیانیہ کی تعمیر کا بھی اشتراک کیا گیا ہے، جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح نیٹ ورک نے چینی فوج پر ہندوستانی فوج کے غالب تسلط کو پیش کرنے کی کوشش کی۔نیٹ ورک نے حیرت انگیز طور پر چین اور پاکستان کے درمیان مثبت تعلقات کی مذمت کی۔ ٹویٹس میں چینی حکومت کے مظالم پر آنکھیں بند کرنے پر پاکستان کی مذمت کی گئی۔ انہوں نے پاکستان کو چین کے ساتھ شراکت داری کے مالی فوائد کے لیے بے چین قرار دیا۔اس سے پہلےیورپی گروپ نے غلط معلومات پھیلانے والے ایسے بھارتی نیٹ ورک کو بے نقاب کیا تھاجو سال 2005 سے ایسے ممالک، جن کے دہلی کے ساتھ اختلافات ہوں بالخصوص پاکستان، کو بدنام کرنے کے لیے کام کررہا تھا۔10 دسمبر 2020 یورپی یونین کی ڈِس انفو لیب نے 65 ممالک میں بھارتی مفادات کے لیے کام کرنے والے 265 مربوط جعلی مقامی میڈیا آؤٹ لیٹس کا نیٹ ورک بے نقاب کیا تھا جس میں متعدد مشتبہ تھنک ٹینکس اور این جی اوز بھی شامل تھیں۔بھارتی کرونیکل کے عنوان سے تحقیقات میں ایک اور بھارتی نیٹ ورک بے نقاب ہوا جس کا مقصد بھارت میں پاکستان مخالف (اور چین مخالف) جبکہ بھارت کے حق میں جذبات کو تقویت دینا تھا۔بین الاقوامی سطح پر یہ نیٹ ورک بھارت کی قوت کو مستحکم اور تشخص کو بہتر بنانے کے ساتھ حریف ممالک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے کام کررہا تھا تاکہ بھارت کو یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کی مزید حمایت سے فائدہ حاصل ہو۔اس کام کے لیے نیٹ ورک نے انتقال کر جانے والے انسانی حقوق کے کارکن اور صحافیوں کی جعلی شخصیت کا استعمال کیا اور میڈیا اور پریس کے اداروں مثلاً یورپی یونین آبزرور، دی اکنامسٹ اور وائس آف امریکا کی نقالی کی بھی کوشش کی۔اس کے علاوہ نیٹ ورک نے یورپی پارلیمان کے لیٹر ہیڈ، جعلی نمبروں کے ساتھ اوتار کے تحت رجسٹرڈ ویب سائٹس کا استعمال کیا اقوامِ متحدہ کو جعلی پتے فراہم کیے اور اپنے تھنک ٹینکس کی کتابوں کی اشاعت کے لیے اشاعتی ادارے قائم کیے۔مجموعی طور پر 95 ممالک میں 500 جعلی مقامی میڈیا آؤٹ لیٹس کے نیٹ ورک نے پاکستان (یا چین) کے بارے میں منفی بیانیے کے فروغ میں مدد دی، اس آپریشن میں 116 ممالک اور 9 خطوں کو کور کیا گیا۔تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی بھارتی اسٹیک ہولڈرز، جس کے تھنک ٹینکس، این جی اوز اور سری واستوا گروپ کی کمپنیوں سے تعلقات ہیں وہ جعلی خبروں کے ادارے چلارہے ہیںانہوں نے بقیہ بھارتی نیٹ ورک بشمول جعلی میڈیا آوٹ لیٹس مثلاً ای پی ٹوڈے، ٹائمز آف جینیوا اور نئی دہلی ٹائمز پر پاکستان مخالف مواد کو دوبارہ شائع کیا، زیادہ تر ویب سائٹس ٹوئٹر پر بھی موجود ہیں اس نیٹ ورک کے بے نقاب ہونے کے بعد کچھ ڈومین کو صرف اس لیے غیر رجسٹرڈ کردیا گیا تا کہ انہیں مختلف نام سے دوبارہ پیدا کیا جاسکے مثلاً ای پی ٹوڈے کو ‘ای یو کرونیکل’ کے نام سے رواں برس مئی میں دوبارہ سامنے لایا گیا۔ای پی ٹوڈے اور ای یو کرونیکل کے پسِ پردہ کرداروں نے این جی اوز، تھنک ٹینکس، میڈیا آؤٹ لیٹس، یورپی پارلیمنٹ کے غیر رسمی گروہوں، مذہبی اور امام تنظیموں، غیر واضح اشاعتی اداروں اور معروف شخصیات کے 550 ڈومین نام رجسٹرڈ کروا رکھے تھے۔ان ڈومین کے ناموں کا ایک نہ نظر انداز کیا جانے والا تناسب پاکستان کے ساتھ سائبر وار کے تناظر میں خریدا گیا تا کہ ان ڈومین ناموں کو خرید لیا جائے جو بعد میں پاکستان استعمال کرنا چاہے جبکہ ویب سائٹس بھی بظاہر جعلی صحافی چلا رہے تھے۔محققین نے لکھا کہ تحقیقی نتائج نے ان کے اس یقین کو تقویت دی کہ معلومات کا یہ آپریشن بھارت سے منسلک ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘ہم بھارتی کرونیکل کا تسلسل دیکھ کر تشویش میں پڑ گئے جس نے ہماری پہلی رپورٹ اور وسیع پریس کوریج کے باوجود اپنا 15 سالہ آپریشن جاری رکھا حتیٰ کے حال ہی میں ای یو کرونیکل نامی جعلی یورپی یونین ادارہ بھی شروع کیا۔رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی نے خبریں بنانے کے لیے اس جعلی یورپی میڈیا آؤٹ لیٹ کے مضامین کو بنیاد کے طور پر استعمال کیا۔اس کے علاوہ بھارتی خبررساں ادارے نے جعلی این جی اوز کی چھتری تلے بعض اوقات مشکوک طریقوں کے ساتھ لابی کی کوششوں کو بھی کور کیا۔ای یو کرونیکل کے مضامین کی اے این آئی نیوز پر دوبارہ اشاعت کا مطلب یہ ہے کہ جعلی یورپی میڈیا آؤٹ لیٹ کا مواد زیادہ ناظرین تک پہنچ سکتا ہے۔اس کے علاوہ بھارتی خبررساں ادارے نے جعلی این جی اوز کی چھتری تلے بعض اوقات مشکوک طریقوں کے ساتھ لابی کی کوششوں کو بھی کور کیا۔ای یو کرونیکل کے مضامین کی اے این آئی نیوز پر دوبارہ اشاعت کا مطلب یہ ہے کہ جعلی یورپی میڈیا آؤٹ لیٹ کا مواد زیادہ ناظرین تک پہنچ سکتا ہے۔اس طرح اے این آئی کے مواد کو دوبارہ استعمال کرنے والے بھی کچھ میڈیا آؤٹ لیٹس ای یو کرونیکل کی ترویج کا سبب بنے۔ای یو ڈس انفو لیب نے 13 واقعات کا پتا لگایا جس میں ای یو کرونیل پر رواں برس مئی میں خبروں کے مضامین کے طور پر شائع ہونے والے زیادہ تر پاکستان اور بعض اوقات چین مخالف تبصروں کو اے این آئی نے شائع کیا۔ای یو ڈس انفو لیب کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر الیگزینڈر الفلیپ نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس قسم کی منصوبہ بندی اور ایسے کاموں کو جاری رکھنے کے لیے آپ کو ایک سے زائد چند کمپیوٹرز کی ضرورت ہوتی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ تحقیقی نتائج کو فیصلہ سازوں کو کارروائی کے مطالبے کے طور پر دیکھنا چاہیے تا کہ بین الاقوامی اداروں کے غلط استعمال اور غلط معلومات پھیلانے میں ملوث ان کرداروں پر پابندی لگانے کے لیے متعلقہ فریم ورک نافذ کیا جاسکے۔ غیر سرکاری یورپی گروپ نے بھارتی نیٹ ورک کے زیر انتظام 265 نیوز آؤٹ لیٹس موجود ہونے کا انکشاف کیاتھا۔جس کا مقصد پاکستان کے حوالے سے تنقیدی مواد کے ذریعے یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ پر اثر انداز ہونا تھا۔’ای یو ڈس انفو لیب‘ نامی گروپ کا مقصد یورپی یونین، اس کے اراکین ممالک، اہم اداروں اور اہم روایات کو ہدف بنانے والی غلط معلومات کی منظم مہم کے حوالے سے تحقیق کرناتھا۔۔تحقیقات کے دوران مذکورہ گروپ کے سامنے انکشاف ہوا کہ جعلی ویب سائٹس غیر معمولی پریس ایجنسیوں سے پاکستان کے خلاف مواد، سیاستدانوں اور مشتبہ تھنک ٹینکس کی جانب سے پھیلایا ہوا مواد نقل کر کے چھاپتی ہیں جو بھارتی جیو پولیٹکل مفادات کی حمایت کرتا ہو۔ڈی انفو لیب کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ویب سائٹ نے بہت بڑی تعداد میں ایسی آرٹیکل یا آرا پرمبنی مضامین شائع کیے جو پاکستان میں اقلیتوں سے متعلق تھے۔دنیا بھر میں آزادی صحافت کے فروغ کے لیے کام کرنے والی آزاد تنظیم کی رپورٹ کے مطابق اگست 2017 سے اب تک ٹوئٹر کی ملکی مواد پالیسی کے تحت بھارت میں ایسی لاکھوں ٹوئٹس بلاک کی جاچکی تھیں,جنہوں نے کشمیر پر بات کی۔آج جس دور میں ہم زندہ ہیں اس کو ففتھ جنریشن وار فئیر یا ہائبرڈ وار فئیر کا زمانہ کہا جاتا ہے جس میں جنگ لڑنے کا روایتی طریقہ کار یکسر تبدیل ہوچکا ہے- اب جنگیں میدان جنگ میں لڑنے کی بجائے مخالف ملک پروپیگنڈا ، مس انفارمیشن اور جھوٹی خبریں پھیلا کر اس ملک کی عوام کو نفسیاتی طور پر احساس کمتری کا شکار کر کے ان کے ذہنوں کو ورغلایا جاتا ہے-س جنگ کے سب سے اہم ہتھیاروں میں سوشل میڈیا اور اس کے مختلف آلات اخبارات، ٹی وی، ریڈیو، سفارت کاری اور پراکسیزوارشامل ہیں-جن کے ذریعے جھوٹ پر مبنی زور و شور سے پروپیگنڈا پھیلایا جاتا ہے تاکہ شہریوں کو اپنی ریاست اور بالخصوص افواج کے خلاف بھڑکایا جاسکے اور ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا جاسکے-اس ہائبرڈ وار فئیر کا مقصد مخالف مخصوص ملک کو ناصرف علاقائی اور عالمی سطح پر بدنام کر کے الگ تھلگ کیا جا سکے بلکہ اس کی عوام میں احساس محرومی و کمتری پیدا کر کے اس ملک کی بنیادوں کو اندرونی طور پر کمزور کیا جاسکے- ایسا ملک جو علاقائی اور عالمی سطح پر تنہا ہو جائے اور اس کی عوام مایوسی اور نا امیدی کا شکار ہو چکی ہو تو ایسا ملک دشمن ملک کیلئے ایک تر نوالہ سے کم نہیں ہوتا اور دشمن اس ملک کو کبھی بھی آسانی سے ختم کر سکتا ہے-پاکستان کے ازلی دشمن بھارت (جو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی شکل میں ہندوتوا اور اکھنڈ بھارت کی عملی شکل ہے) نے کبھی پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ اپنے مذموم عزائم کو پورا کرنے کے درپے رہا ہے- بھارت کے اس مکروہ چہرے کو حال ہی میں یورپی یونین کی ڈِس انفو لیب کی رپورٹ نے بے نقاب کیابھارت 2005ء سے 750 جعلی اور فیک ویب سائٹس اور 10 سے زیادہ جعلی این-جی-اوز کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر ایک وسیع عالمی ڈس انفارمیشن منصوبے اور بھارتی مفادات کو فائدہ پہنچانے کیلئے پاکستان مخالف پروپیگنڈا پھیلا رہا تھا جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنا تھا‘‘ 2019ء کو بھی اسی ادارے نے 65 ممالک میں بھارتی مفادات کیلیے کام کرنے والے 265 مربوط جعلی مقامی میڈیا آؤٹ لیٹس کا نیٹ ورک بے نقاب کیا تھا جس میں متعدد مشتبہ تھنک ٹینکس اور این جی اوز بھی شامل تھیں- اس ریسرچ کے مطابق اس نیٹ ورک کا اہم حصہ سری واستوا گروپ ہے جس کی رسائی تقریباً 106 ممالک اور 9خطوں تک ہے-
حالیہ ریسرچ نے بھارت کے اس ڈس انفارمیشن نیٹ ورک کے طریقہ واردات کو بھی بے نقاب کیا ہے کہ کیسے یہ نیٹ ورک مشکوک یا جعلی این جی اوز، 750سے زیادہ جعلی اور فیک نیوز ویب سائٹس، فرضی شناخت اختیار کر کے یا دوسروں کی شناخت کو چرا کر اور حتی کہ فوت شدہ شخصیات کو بھی زندہ دکھا کر اپنے پروپیگنڈا کو پھیلا رہے تھے-بھارت نے امریکہ کی 2001ء میں افغانستان میں جنگ کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام اور دہشت گرد ملک قرار دینے کیلئے بڑے زور و شور سے مس انفارمیشن اور فیک نیوز کے ذریعے پروپیگنڈا پھیلانا شروع کیا اور بد قسمتی سے دنیا کے بڑے بڑے ممالک بھارت سے معاشی مفادات کی وجہ سے اس پراپیگنڈا سے متاثر ہوئے حالانکہ پاکستان ہی وہ ملک تھا جو سب سے زیادہ دہشت گردی کا نشانہ بنا جس میں تقریبا 70ہزار معصوم جانوں کی شہادت اور تقریباً 126ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا- اس دہشتگردی کی جنگ میں افواج پاکستان نے دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن ضرب عضب‘‘ لانچ کیا اور دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی- آج افواج پاکستان کی لاتعداد قربانیوں کی بدولت مملکت خداداد پاکستان امن کا گہوارہ بن چکا ہے-