پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں;بلوچ گلوکار وہاب بگٹی تک پہنچی . ..کالم اندر کی بات….:کالم نگار،اصغر علی مبارک. ……………. پاک فوج کی امدادی ٹیمیں کوک سٹوڈیو سے شہرت پانے والے بلوچ گلوکار وہاب بگٹی تک پہنچ گئیں . پاک فوج کی امدادی ٹیمیں سیلاب سے متاثرہ ’کنا یاری‘ گلوکار عبدالوہاب بگٹی کے ہاں امدادی سامان لے کر پہنچی، کوک سٹوڈیو سے شہرت پانے والے بلوچ گلوکار وہاب بگٹی بھی سیلاب زدگان میں شامل تھےکور کمانڈر بلوچستان جنرل آصف غفور کی ہدایات پر پاک فوج کی جانب سےکوک اسٹوڈیو پر مشہور بلوچی گانا “کناں یاری”گانے والے بلوچ فنکار عبدالوھاب بگٹی کو کیش رقم کی ادائیگی کےساتھ محفوظ مقام پر خاندان سمیت منتقل کردیا گیا. گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر عبدالوھاب بگٹی نے مدد کی اپیل کی تھی.دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بھی گلوکار کو خصوصی معاونت فراہم کرنے کے احکامات جاری کردیے۔ وہاب بگٹی بلوچستان میں ہونے والی حالیہ تیز بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب سے متاثر ہوئے تھے اور ان کا گھر بھی منہدم ہوگیا تھا۔ وہاب بگٹی کی سیلابی پانی میں بچوں کے ہمراہ پھنس جانے کی تصاویر چند دن قبل سب سے پہلے ان کے ساتھ معروف گانے ’کنا یاری‘ میں گلوکاری کرنے والے کیفی خلیل نے شیئر کی تھی۔ کیفی خلیل کے بعد دیگر شوبز شخصیات اور عام افراد نے بھی وہاب بگٹی کی مدد کرنے کی تصاویر شیئر کی تھیں، جس کے بعد ایک روز قبل گلوکار نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا تھا، جنہوں نے انہیں مدد کی پیش کش کی تھی۔ وہاب بگٹی نے میڈیا کو بتایا تھا کہ انہیں پورے پاکستان سے لوگوں نے فون کرکے مدد کی پیش کش کی، جس پر وہ ان کے مشکور ہیں۔انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ وہ گاؤں سے محفوظ مقام پر اپنے دوست کے ہاں منتقل ہو چکے ہیں۔تاہم اب ان تک پاک فوج کی امدادی ٹیمیں بھی پہنچ چکی ہیں۔ جنہوں نے انہیں امدادی سامان فراہم کیا۔ ٹوئٹر پر حسن معین نے پاک فوج کی امدادی ٹیموں کی وہاب بگٹی کے گاؤں پہنچنے اور ان سے ملاقات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ امدادی ٹیمیں کور کمانڈر بلوچستان کی ہدایات پر وہاں پہنچیں۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ پاک فوج کی ٹیم نے وہاب بگٹی کو نقد رقم دینے سمیت انہیں گاؤں کے دیگر افراد کے لیے سامان بھی فراہم کیا جب کہ گلوکار کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔پاک فوج کی ٹیموں کی جانب سے وہاب بگٹی تک پہنچنے کی تصاویر کو دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے بھی شیئر کیا گیا اور لوگوں نے پاک فوج کی ٹیموں کا شکریہ بھی ادا کیا پاک فوج کی ملک بھرمیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں ، حیدرآباد، سانگھڑ، بدین، ٹھٹھہ، جامشورو اور نوشہرو فیروز میں پاک فوج کی ٹیمیں موجود ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے2 ہیلی کاپٹر کراچی سے اندرون سندھ کے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں ، سندھ ،بلوچستان ،خیبرپختونخوا اور پنجاب کے سیلابی علاقوں میں امدادی سامان کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے ۔ کوئٹہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، زیارت، ژوب، لورالائی اور نوشکی میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں ۔ بلوچستان کے علاقے نصیرآباد،لسبیلہ اور دکی میں ریلیف کیمپ قائم کردیئے گئے ہیں جبکہ آرمی اور ایف سی نے بھی متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ قائم کیے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی زوروشورسےجاری ہے ، ہیلی کاپٹرزکی مددسے4پروازیں کرکےامدادی سامان پہنچایاگیا،چترال اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی ریلیف آپریشن جاری ہے ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں کو تیز کرنے کیلئے پاک فوج مزید اقدامات کر رہی ہے۔مزید برآں اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گفتگو میں سیلاب متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف کے لیے پاک فوج کے تعاون اور جذبے کو سراہا۔ آرمی چیف نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ کمانڈر سدرن کمانڈ کو بلوچستان میں امدادی کارروائیوں کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کیں۔آرمی چیف نے پاک فوج کی جانب سے سندھ میں امدادی کارروائیوں میں بھرپورتعاون سے متعلق آگاہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بارشوں کا 30 سال کا ریکارڈ ٹوٹا ہے، بلوچستان اور سندھ میں تباہی و بربادی سے قیامت صغری کا منظر ہے، سینکڑوں پاکستانی سیلاب کے باعث اپنے پیچھے جدائی کا غم چھوڑ گئے ہیں۔وزیر اعظم نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ سیلاب متاثرہ سینکڑوں زخمیوں کی صحتیابی کی دعا کرتے ہیں، بہت بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہیں، مال مویشی، فصلوں، باغات اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومتیں اداروں اور مسلح افواج کے ساتھ دن رات کام کر رہی ہیں، مجموعی طور پر37 اعشاریہ 2 ارب روپے سیلاب زدگان کیلئے دیے جا رہے ہیں.مجموعی طور پر37 اعشاریہ 2 ارب روپے سیلاب زدگان کیلئے دیے جا رہے ہیں، ریسکیو کیلئے میں نے فوری طور پر این ڈی ایم اے کو 5 ارب روپے جاری کرائے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہرجاں بحق فرد کے خاندان کو10 لاکھ روپے دیے جائیں گے، زخمیوں، گھروں کے گرنے اور دیگر نقصانات پر زرتلافی دیا جائے گا، متاثرین کو 25 ہزار روپے نقد کی ادائیگی بڑے پیمانے پر جاری ہے، اس امداد کیلئے 80 ارب روپے سے زائد درکار ہیں انہوں نے کہا کہ کھربوں روپے کے نقصانات کو پورا کرنا ہے، امداد کی کوششوں کے دوران پاک آرمی کے افسران نے جام شہادت نوش کیا، پوری قوم ہاتھ بٹائے تو ہم کئی گنا زیادہ رفتارسے متاثرین کی جلد امداد کرسکیں گے اک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سندھ میں حیدرآباد، سانگھڑ، بدین، ٹھٹھہ، جامشورو، نوشہرو فیروز اور سندھ کے مختلف اضلاع میں ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیاں جاری ہیں۔ بیان کے مطابق کراچی سے فوج کے 2 خصوصی ہیلی کاپٹر اندرون سندھ کے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور امدادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے روانہ کیے گئے۔متاثرہ علاقوں میں راشن تقسیم کیا جا رہا ہے اور متاثرہ افراد کو طبی امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ پنجاب میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں نے ڈی جی خان ضلع کے دور دراز اور ناقابل رسائی علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی سامان کی تقسیم میں سول انتظامیہ کی مدد کی ہے۔ پاک آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹروں نے ڈی جی خان کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے 4 پروازیں کی ہیں جن میں مبارکی، فضلہ کیچ، بستی بزدار شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق خیمے اور راشن سیلاب متاثرین تک پہنچا دیا گیا۔بلوچستان میں فوج اور ایف سی بلوچستان کوئٹہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، زیارت، ژوب، لورالائی اور نوشکی میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔ نصیر آباد، دکی اور لسبیلہ کے علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں فوج اور ایف سی کے میڈیکل کیمپ بھی قائم ہیں۔کے پی کے میں ایف سی کے پی کے دستے چترال اور دیگر سیلاب زدہ علاقوں میں سیلاب سے متعلق امدادی کارروائیوں میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں. آرمی چیف اس عزم اعادہ کرچکے ہیں کہ کہ پاک فوج مشکل وقت میں سیلاب متاثرہ افراد کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ چند روز قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور کمانڈر بلوچستان سے رابطہ کیا، اس دوران آرمی چیف نے بلوچستان میں سیلاب کی صورتحال کے متعلق معلومات حاصل کیں ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے بلوچستان میں خصوصی طور پر بھاری جانی و مالی نقصان ہوا اور مواصلاتی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت کے ریلیف، ریسکیو اور بحالی آپریشن میں فوج سول حکومت کی بھرپور مدد کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے اور ہنگامی بنیادوں پر سول انتظامیہ کی مدد کی جائے.وزیر اعظم نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ سیلاب متاثرہ سینکڑوں زخمیوں کی صحتیابی کی دعا کرتے ہیں، بہت بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہیں، مال مویشی، فصلوں، باغات اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومتیں اداروں اور مسلح افواج کے ساتھ دن رات کام کر رہی ہیں، مجموعی طور پر37 اعشاریہ 2 ارب روپے سیلاب زدگان کیلئے دیے جا رہے ہیں، ریسکیو کیلئے میں نے فوری طور پر این ڈی ایم اے کو 5 ارب روپے جاری کرائے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہرجاں بحق فرد کے خاندان کو10 لاکھ روپے دیے جائیں گے، زخمیوں، گھروں کے گرنے اور دیگر نقصانات پر زرتلافی دیا جائے گا، متاثرین کو 25 ہزار روپے نقد کی ادائیگی بڑے پیمانے پر جاری ہے، اس امداد کیلئے 80 ارب روپے سے زائد درکار ہیں انہوں نے کہا کہ کھربوں روپے کے نقصانات کو پورا کرنا ہے، امداد کی کوششوں کے دوران پاک آرمی کے افسران نے جام شہادت نوش کیا، پوری قوم ہاتھ بٹائے تو ہم کئی گنا زیادہ رفتارسے متاثرین کی جلد امداد کرسکیں گے۔وزیراعظم نے بتایا کہ ایثار و قربانی میں ہماری قوم سب سے آگے ہے، سب تعاون کریں، سیلاب زدگان کی مدد کیلئے قائم فنڈ میں دل کھول کرعطیات جمع کرائیں، آئیں مصیبت زدہ بھائیوں کی انصار مدینہ کی طرح مدد کریں۔ ۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کردی جبکہ وزراتِ خزانہ کو فوری طور پر نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کوفنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سیلابی صورتحال کے پیش نظر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کو ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں صوبائی حکومت کی مدد کرنے کا حکم دیا رکھاہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور کو ہدایت دی کہ وہ ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں صوبائی حکومت کی مدد کریں۔ آرمی چیف نے لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور کو متاثرہ آبادی کی مدد اور اہم مواصلاتی ڈھانچے کی بحالی کے لیے فوج کے وسائل کو بروئے کار لانے کی بھی ہدایت کی ہے.پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق حیدرآباد، سانگھڑ، بدین، ٹھٹھہ، جامشورو اور نوشہرو فیروز میں پاک فوج کی ٹیمیں موجود ہیں۔. ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں کو تیز کرنے کیلئے پاک فوج مزید اقدامات کر رہی ہے۔دو خصوصی آرمی ہیلی کاپٹر کراچی سے اندرون سندھ کے متاثرہ علاقوں میں پہنچا دیئے گئے۔متاثرہ علاقوں میں راشن پیک اور دیگر امدادی سامان بھی تقسیم کیا جا رہا ہے۔










