پاک فوج کشمیر کاز کے ساتھ ہمیشہ سے پرعزم …(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)……….. پاک فوج کشمیر کاز کے ساتھ ہمیشہ سے پرعزم رہی ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کی جدوجہد میں مقبوضہ کشمیر کے بہادر کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ 1095 دن کا بدترین محاصرہ اور وحشیانہ مظالم کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ کشمیر کے شہداء کو ان کی عظیم قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ” ہم دنیا کے ضمیر جھنجھوڑنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں” اور کرتے رہیں گے”۔ کشمیریوں کیلئے ہماری غیر متزلزل حمایت جاری رہے گی”۔ یوم یکجتی کشمیر پر پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ”بھارتی افواج کی کارروائیاں مقبوضہ کشمیر میں بہادر کشمیریوں کے حوصلوں اور قربانی دینے کی روح کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں” اپنے پیغام میں 5 فروری 2020کو ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ ظلم کے خلاف کوششوں کی حمایت کرتے رہیں گے۔ پائیدار امن ابھی تک ایک خواہش سے زیادہ کچھ نہیں۔فوج کے سپہ سالار کا کہنا تھا کہ پاک فوج ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور استعداد رکھتی ہے لیکن امن کی خواہش اور بھارت کے ہاتھوں کشمیریوں کے نقصان کے پیش نظر صبروتحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی افواج ایل او سی پر اشتعال انگیزیاں کررہی ہیں اور جان بوجھ کر آزاد کشمیر کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر اور جارحیت مسلط کیے ہوئے ہے اور ہمارے جوانوں اور شہریوں کی لازوال قربانیاں جدوجہد آزادی کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔کشمیریوں کے حقوق غصب کرکے طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا جا رہا ہے اور وادی کو جیل میں تبدیل کرکے لاکھوں کشمیریوں کو قید کردیا گیا ہے۔کشمیری اقوام متحدہ سے اپنا حق خودارادیت مانگ رہے ہیں۔ مرد، خواتین، بوڑھے، بچے اور بیمار حق خود ارادیت کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ بھارتی جبر و استبداد کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرنے والے کشمیری بہن بھائیوں کو سلام اور اس جدودجہد میں کشمیری اکیلے نہیں بلکہ ہم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔”چار ستمبر 2021 کو وزیراعظم آزاد کشمیر سے ملاقات میں بھی بھارتی یکطرفہ غیرقانونی اقدامات پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو یقین دہانی کرائی کہ پاک فوج کشمیر کاز کے ساتھ پرعزم کھڑی ہے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاک فوج کشمیری عوام کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی 26 مئی 2022 کو پاک فوج نے کشمیری رہنما یاسین ملک کو من گھڑت الزامات میں سزا سنائے جانے کی شدید مذمت کی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان من گھڑت الزامات میں ملک کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کی شدید مذمت کرتا ہےاس میں مزید کہا گیا کہ اس طرح کے جابرانہ ہتھکنڈوں سے کشمیری عوام کے غیر قانونی بھارتی قبضے کے خلاف ان کی منصفانہ جدوجہد کے جذبے کو پست نہیں کیا جا سکتا۔ پاک فوج کے ترجمان نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ بھی کیاتھا,اس سے قبل ایک بھارتی عدالت نے معروف کشمیری رہنما یاسین کو دہشت گردی کی فنڈنگ کے جعلی مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ خیال رہے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جابرانہ تسلط کے تین برس مکمل ہونے پر 5 اگست کو دنیا بھر میں کشمیروں سے اظہار یکجہتی کے لیے یوم استحصال منایا گیا ، اس دن کو منانے کا مقصد کشمیریوں کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام، بھارتی تسلط کے خلاف جدوجہد میں مصروف کشمیری عوام کے ساتھ ہیں اور یہ کہ ان کی سیاسی’سفارتی اور اخلاقی سطح پرحمایت ہر قیمت پرجاری رکھی جائے گی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق کشمیر ایک تصفیہ طلب مسئلہ ہے۔ بھارتی حکمران کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور وہ پاک بھارت مذاکرات میں تنازعہ کشمیر کو ایک طرف رکھنا چاہتے ہیں۔ بھارت کی روایتی سرکاری پالیسی رہی ہے کہ پاک بھارت تعلقات کو مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط نہیں کیا جانا چاہئے۔ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اور جذبہ حریت کو فوجی قوت کے ذریعے دبانا اور کشمیریوں کی جدوجہد کوکمزور کرنے کے لئے پاکستان کو اندرونی مسائل میں الجھا دینا چاہتا ہے۔ ان علاقوں میں بڑی تعداد میں معصوم شہری بھارتی جارحیت کا شکار ہوچکے ہیں، بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدہ تعلقات سے جنوبی ایشیا کا پورا خطہ متاثر ہوا ہے۔ عالمی طاقتوں نے بھارت اور پاکستان کے مابین ماضی میں کشیدگی اور فوجی تصادم کو روکنے کے لئے ہر ممکن طریقے استعمال کئے بھارت نے آج پورے خطے کے امن کو دائو پر لگا دیا ہے اور اس نے پاکستان میں دہشت گردی کی آگ لگا رکھی ہے لیکن اس ساری صورتحال کے باوجود پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی ایجنسیز نے اپنی بہترین حکمت عملی کے نتیجے میں بھارت سمیت تمام دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا ہے۔ بھارت لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر 2003ء میں طے پانے والی جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کرکے آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کی شہری آبادی کو بلاجواز فائرنگ کا نشانہ بنارہا ہے پاکستان نے کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی ہمیشہ بھرپور حمایت کی ہے، پاکستان کا یہ اصولی مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر، کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ پاکستان نے کشمیریوں کے حقِ آزادی کے لئے ہر بین الاقوامی فورم پر بھرپور وکالت کی ہے جبکہ بھارت نے کشمیر پر جبری تسلط جما رکھا ہے۔ پاکستان میں ماضی سے اب تک حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود مسئلہ کشمیر پر پوری قوم کا مؤقف یکساں رہا ہے پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اورکشمیر کے بغیر پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں غیر محفوظ اور نامکمل ہیں۔ کشمیر کے تمام دریائوں کا رُخ بھی پاکستان کی جانب ہے جبکہ کشمیر اور پاکستان کے لوگ یکساں دینی وابستگی بھی رکھتے ہیں۔ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ہے اور ان کا یہ فرمانا ہے کہ کوئی خوددار ملک اورقوم یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ وہ اپنی شہ رگ دشمن کے حوالے کردے۔ قابض افواج اور مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے بھارتی حکومت کے احکامات پر حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند قائدین اور سرگرم رہنمائوں کو بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے ذریعے من گھڑت مقدمات کے تحت گرفتار کیا اور وہ اس وقت نئی دہلی سمیت کئی جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 2014ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان اور کشمیر کے بارے میں سخت گیر پالیسی اختیار کرلی ہے جو ایک منظم منصوبہ کا حصہ ہے۔ بھارت نے ماضی میں نائن الیون کے واقعات کی آڑ میں پاکستان کے خلاف جس پالیسی کو اختیار کیا اس کے انتہائی منفی نتائج نے اس وقت بھی پورے خطے کو متاثر کررکھا ہے۔ پاکستان میں بھارتی دہشت گردی سے پورے خطے کا امن متاثر ہوا ہے، ان حالات میں پاکستان اپنے دفاع سے کسی بھی صورت غافل نہیں رہ سکتا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 2014ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان اور کشمیر کے بارے میں سخت گیر پالیسی اختیار کرلی ہے جو ایک منظم منصوبہ کا حصہ ہے۔ بھارت نے ماضی میں نائن الیون کے واقعات کی آڑ میں پاکستان کے خلاف جس پالیسی کو اختیار کیا اس کے انتہائی منفی نتائج نے اس وقت بھی پورے خطے کو متاثر کررکھا ہے۔ پاکستان میں بھارتی دہشت گردی سے پورے خطے کا امن متاثر ہوا ہے، ان حالات میں پاکستان اپنے دفاع سے کسی بھی صورت غافل نہیں رہ سکتا۔ 5 اگست 2019 سے دسمبر 2021 تک انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں جون 2022 تک98 ماورائے عدالت قتل, 515 کشمیری شہید ,33 خواتین بیوہ , 82 بچے یتیم , 2,172 لوگ زخمی ہوئے۔17,139 افراد کو گرفتار کیا گیا۔1,058 املاک کو نقصان پہنچا, انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جنوری 2021 سے دسمبر 2021 تک 210 کشمیری شہید,17 خواتین بیوہ 44بچے یتیم,487 لوگ زخمی,2,716 افراد گرفتار,67املاک کو نقصان پہنچا,1989 سے محصور کشمیریوں کے خلاف بھارتی جرائم کےتحت 96,046 کشمیری شہید ,22,940 کشمیری زخمی,11,246 خواتین کی عصمت دری,107,855بچے یتیم,110,451مکانات اور انفراسٹرکچر تباہ 8,652 اجتماعی قبریں برآمد ہوئی ہیں,2014 سے کشمیریوں کے خلاف پیلٹ گنز کا استعمال کرکے120کشمیری شہید ,15,500شدید زخمی ہوگے,ڈومیسائل 5 اگست 2019 سے جاری ہوئے۔ مقبوضہ علاقے میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ریفرنڈم کے نتائج کو تبدیل کرنے کے مقصد سے کشمیریوں کو ان کے آبائی وطن میں اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں 3.4 ملین سے زائد جعلی ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں۔ 2014 سے حراست میں تشدد سے اب تک 30,000 سے زائد افراد کو بدترین قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ تشدد کی تکنیکوں میں واٹر بورڈنگ، جبری فاقہ کشی، نیند کی کمی اور لاشوں کو جلانا شامل ہے۔ڈریکونین قوانین میں خصوصی قوانین نے ایسے ڈھانچے بنائے ہیں, جو قانون کے معمول کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں، جوابدہی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور ریاست کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متاثرین کے علاج کے حق کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔چھ کا لے قوانین 1. جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ;2. دہشت گردی اور خلل ڈالنے والی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ; 3. آرمڈ فورسز (جے اینڈ کے) سپیشل پاورز ایکٹ; 4. جموں و کشمیر ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ; 5. دہشت گردی کی روک تھام کا ایکٹ;6. غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ترمیمی ایکٹ مقبوضہ کشمیر میں لاگو ہیں۔ جولائی 2016ء میں برہان وانی کی بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک کارروائی کے دوران شہادت کے بعد کشمیر میں تحریک انتفادہ نے ایک نیا رخ اختیار کیا اور لوگ قابض بھارتی سامراج کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، انہوں نے بھارتی تسلط کے خلاف بھرپور ردعمل کا اظہار کیا جس نے کشمیر کی تحریک آزادی میں ایک نئی جان ڈال دی۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں سیکڑوں لوگوں کو شہید کیا گیا بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور یک طرفہ اقدامات کے 3 سال مکمل ہونے پر یورپی پارلیمنٹ کے ارکان نے مقبوضہ وادی میں بھارتی بربریت پر آواز بلند کردی ہے، ۔یورپی پارلیمنٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یورپی کمیشن کے اعلیٰ حکام کو خط لکھ دیا ہے۔ خط میں یورپی پارلیمنٹ کے اراکین نے مقبوضہ وادی کی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں آرٹیکل تین سو ستر اے کی منسوخی کے بعد انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیاں جاری ہیں , بھارتی افواج مقضوبہ وادی میں بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں، بھارتی حکام کارکنوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کیلئے آواز اٹھانے والوں کو گرفتار کررہے ہیں۔ مطالبہ کیا گیا کہ یورپی قائدین عالمی قوانین کے تحت اپنی ذمےداریاں پوری کریں اور ہمارے تحفظات کو بھارتی حکومت تک پہنچائیں ہ کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے مکمل احترام کی ضمانت دی جائے، کشمیریوں کے خلاف تشدد، بدسلوکی اور امتیازی سلوک کو فوری طور پر بند کرایا جائے۔ یوم استحصال کشمیر پر پاکستان نے کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کےعزم کا اعادہ کیا ہے، اور مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے بھارتی اقدامات ناقابل قبول قرار دیے۔ ۔5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف مقبوضہ وادی میں ہڑتال رہی جب کہ ملک بھر میں یوم استحصال پر مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے سیمینارز اور کانفرنسز منعقد کی گئیں ,کشمیریوں کے جذبہ آزادی کی حمایت اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف بڑے پیمانے پر ریلیوں کا انعقاد کیا گیا یوم استحصال کشمیر کے موقع پر صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بھارت کے 5 اگست کے اقدامات سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں، بھارت جموں و کشمیر میں زمینوں پر قبضے اور غیر کشمیریوں کی آباد کاری جیسے اقدامات کر رہا ہے۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ہم کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنے کے ہر طرح کے بھارتی حربے اور انتہائی ظلم و جارحیت کے سامنے کشمیریوں کی یکے بعد دیگرے تین نسلوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا حتمی فیصلہ کشمیر ی عوام کی مرضی کے مطابق آزاد اور غیر جانبدارانہ اور اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ قابض افواج کا انتہائی ظلم وجبر کشمیریوں کے جذبہ حریت کو نہیں توڑ سکا۔ کشمیریوں، پاکستان اور عالمی برادری نےبھارتی اقدامات کو مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تنازع کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے نفاذ ہی سے ممکن ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی جدوجہد میں ان کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑا رہے گا۔ ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہ بنانے اور اس دیرینہ تنازع کے پرامن حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر بھارت سے آزادی کے لیے لازوال جدوجہد پر کشمیریوں کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہادر کشمیریوں کو سلام ہے جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف آہنی عزم کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے پیغام میں کہا کہ جب تک کشمیریوں کو آزادی نہیں مل جاتی ایک بھی پاکستانی چین سے نہیں بیٹھے گا،بھارت نے 370 اور 35 اے میں تبدیلی کر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پامال کیا ہے، اور خطے کے امن و استحکام کو تباہی کی جانب دھکیل دیا ہے۔بلاول نے کہا 3 سال سے مقبوضہ وادی کے عوام آزادی اظہار، پر امن اجتماع سمیت تمام بنیادی حقوق سے محروم ہیں، اقوام متحدہ اپنے چارٹر پر عمل درآمد سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ استصواب رائے کے اپنے قانونی حق کے حصول کے لیے کشمیریوں نے نسل در نسل عظیم قربانیاں دی ہیں۔ بھارت نے کشمیریوں کے عزم آزادی کو کچلنے کے لیے پورے خطہ کشمیر کو عقوبت خانے میں تبدیل کررکھا ہے۔ ہم تمام کشمیری شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی بھارتی اقدامات سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی عالمی سطح پر مسلمہ متنازع حیثیت تبدیل نہیں ہوئی۔ غیرقانونی اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی واضح قراردادوں، چوتھے جنیوا کنونشن سمیت عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں وزیراعظم نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ او آئی سی سمیت عالمی برادی نے بھارت سے 5 اگست 2019ء کے اقدامات واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، بھارت ان عالمی مطالبات پر عمل کرے۔ او آئی سی سمیت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے غیر جانبدار مبصرین کو بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر جانے کی اجازت دے ۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و ترقی کے لیے جموں کشمیر کے تنازع کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق منصفانہ حل کرنا ہوگا ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے حق کے حصول تک پاکستان کشمیریوں کی ہر ممکن مدد کرتا رہے گا۔ وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس خان نے مقبوضہ وادی میں یوم سیاہ اور پاکستان میں یوم استحصال کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019ء کو ایک ایسا قدم کیا جو نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف تھا بلکہ بھارت کے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے حوالے سے کیے گئے وعدہ کے خلاف تھا۔ بھارتی اقدامات کا مقصد مقبوضہ وادی میں غیر ریاستی باشندوں کو آباد کر کے کشمیریوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے جب کہ کشمیر ناقابل تقسیم خطہ ہے۔ اس کا فیصلہ کشمیری عوام کریں گے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔بیس کیمپ کی حکومت اور عوام اپنے مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ ہیں ۔ دونوں جانب کے کشمیریوں کی آواز صرف پاکستان ہے ۔ یوم استحصال کی مناسبت سے پاکستان سمیت خصوصاً دارالحکومت اسلام آباد میں شاہراہوں اور عمارتوں پر بڑے بینرز آویزاں کیے گئے جس میں کشمیری بھائیوں کی بھرپور حمایت اور بھارتی غیر قانونی اقدامات کے خلاف نعرے درج تھےمقبوضہ وادی میں آج تمام کشمیری جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے بھرپور ہڑتال جاری کی گئی بھارت کو واضح پیغام دیا گیا کہ کشمیری اپنی زمین پر جبری اور غیر قانونی تسلط کو کسی قیمت پر تسلیم نہیں کریں گے۔5 اگست 2019ء کو بھارت کی مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرتے ہوئے علاقے کا فوجی محاصرہ کرلیا تھا۔ اور متنازع اقدامات کے خلاف مزاحمت روکنے کے لیے ریاستی طاقت کا غیر انسانی استعمال کیا گیا تھا۔ مقبوضہ وادی میں احتجاج روکنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں اضافی نفری تعینات کرتے ہوئے مقبوضہ وادی کے داخلی و خارجی راستے سیل کردیے گئے تھے۔بھارت آج بھی ظلم و جبر، قابض فوج کے ہاتھوں تشدد و گرفتاریوں اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس کے مقابلے میں ہزاروں کشمیری اپنی جانیں قربان کرکے آج بھی اپنا جذبہ آزادی زندہ رکھے ہوئے ہیں، جو بھارتی استبداد کے باوجود ماند نہیں پڑا۔مقبوضہ وادی کا بچہ بچہ، بزرگ، خواتین و جوان ہر قیمت پر بھارت سے آزادی کے خواہاں ہیں۔..مسئلہ کشمیر بھی برطانوی استعمار کا پیدا کردہ ہے ہنودو یہود لابی کی آشیر باد کے ساتھ کشمیری مسلمانوں کا حقِ خود ارادیت سلب کر کے انہیں مستقل غلام بنانے کی راہ پر گامزن ہیں.تین سال قبل آج ہی کے دن یعنی 5 اگست 2019ء کو مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کر کے اسے انڈین یونین میں ضم کر لیا ہے کشمیریوں کے ممکنہ رد عمل سے بچنے کے لئے مودی سرکار نے یہاں سیکیورٹی فورسز کی تعداد 9 لاکھ تک بڑھا دی یہاں تین سال سے کرفیو جیسی صورتحال ہے۔لاک ڈاؤن پوری عسکری ریاستی قوت کے ساتھ نافذ العمل ہے کمیونیکیشن کے ذرائع بھی مفلوج کر دیئے گئے ہیں ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور ابلاغ کے دیگر ذرائع کا گلہ گھونٹا جا چکا ہےبھارت سرکار کے نظریاتی حامی کشمیری لیڈروں پر بھی عرصہ حیات بند کیا جا چکا ہے کشمیری عوام 1947ء سے بالعموم اور 1988 ء سے بالخصوص آزادی کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں جو دراصل ‘تحریک تکمیلِ پاکستان’ ہے۔ کشمیریوں نے بھارتی تسلط سے آزادی کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ بھارتی قابض افواج نے حالیہ عرصے کے دوران مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کی ہیں۔ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر میں اب تک بڑی تعداد میں نہتے مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بڑے پیمانے پر تعیناتی اور کالے قوانین کا نفاذ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا باعث بن رہا ہے۔ مودی سرکار کی مسلمان کش پالیسی ہی نہیں بلکہ اقدامات کے باعث کشمیری مسلمان یک زبان ہو چکے ہیں اور ان کا ایک ہی نعرہ ہے آزادی اور پاکستان، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ویسے تو طویل عرصہ ہو چکا ہے لیکن تحریک الحاق پاکستان کی جدوجہد کو 75 سال گزر چکے ہیں۔تقریباً اتنا ہی عرصہ فلسطینی مسلمانوں کی تحریک آزادی کو ہو چکا ہے تحریک آزادی نے 5 اگست 2019ء میں ایک نیا ٹرن لیا ہے بلکہ یوں کہئے کہ مودی سرکار نے بھارتی سیکیولر ازم کا نقاب الٹ کر دنیا کو اسکا اصلی چہرہ دکھا دیا ہے۔ ہندوستان کبھی بھی جمہوری اور سیکیولر ریاست نہیں تھا وہ ایک ہندو، بلکہ معتصب ہندو ریاست تھا اور مودی نے اصلی چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر کر دیا ہے کشمیری مسلمان تو 1947ء میں تقسیم ہند سے پہلے بھی غلامی کی زندگی ختم کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے تھےقیامِ پاکستان کی تحریک نے انہیں کامیابی و کامرنی کی جدوجہد کا یقین دلایا۔ حتیٰ کہ 1947ء میں تقسیم ہند پلان کے تحت کشمیر پاکستان کا حصہ بننے جا رہا ہے لیکن کانگریسی حکمرانوں نے سازش کے تحت مسئلہ کشمیر پیدا کیا۔ آزادی کشمیر کی تحریک تحریک الحاق پاکستان میں بدل گئی۔ 2019ء میں اس تحریک میں ایک نئی جان پڑ گئی ہے اب تو ہندوستان میں بھی عدل پسند اور لبرل عناصر مسلمانوں کے ساتھ ان کے حقوق کی بازیابی کے لئے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے مابین چار جنگیں ہوچکی ہیں 1947 کی ہند پاک جنگ 1947ء کی پاک ہند پاک جنگ، جسے پہلی کشمیر جنگ بھی کہا جاتا ہے، اکتوبر 1947 میں شروع ہوا۔ ہزاروں قبائلی جنگجوؤں نے، پاکستانی فوج کی مدد سے، کشمیر میں داخل ہوکر حملہ کیا اور ریاست کے کچھ حصوں پر قبضہ کیا، جس کے نتیجے میں بھارتکی طرف سے فوجی امداد کے لیے مہاراجا کشمیر سے الحاق کا ایک آلہ تیار ہوا۔دستخط کرنے تھے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 22 اپریل 1948 کو قرارداد 47 منظور کی۔ اس کے بعد، اس وقت کے محاذوں کو آہستہ آہستہ مستحکم کر دیا گیا، جسے اب لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے۔ یکم جنوری 1949 کی رات 23:59 بجے باضابطہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ ۔ ایٹمی پاکستان اور ہماری عظیم مسلح افواج تحریک الحاق پاکستان کی ضامن ہیں۔ ان شاء اللہ کشمیر بنے گا پاکستان۔













