پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے مزید ثبوت بے نقاب ….(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)







پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے مزید ثبوت بے نقاب ہو گنے ہیں ،اس ضمن میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی بھی صورت ہو اس میں کہیں نہ کہیں بھارت ملوث ہوتا ہے اور اس حوالے سے بھارت کی کارروائیاں دشمن ملک سے بھی آگے جاچکی ہیں۔
محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) پنجاب کے ایڈیشنل آئی جی عمران محمود کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہا ہے جو کہ ایک ایسا رجحان ہے جس میں ہم ہر روز نئی صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہا ہے جہاں پاکستان کے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت صحافیوں اور ہر مکتبہ فکر نے قربانیاں دی ہیں اور اس کا شکار رہا ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی بھی صورت ہو اس میں کہیں نہ کہیں بھارت ملوث ہے اور اس حوالے سے بھارت کی کارروائیاں کسی دشمن ملک سے بھی آگے جاچکی ہیں۔
وزیر داخلہ کا کہا ہے کہ بھارت کشمیر میں اپنے بدترین ظلم کو چھپانے کے لیے ایسا کر رہا ہے اور اس ظلم کا جواز پیش کرنے کے لیے نئے بہانے تلاش کرکے بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرتا ہے اور پاکستان میں ہر قسم کی دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کا بیان ہی کافی ہے کہ بھارت کسی نہ کسی طرح پاکستان میں ہر دہشت گردی میں ملوث ہے۔
جس انداز میں بھارت کو دنیا کے سامنے بے نقاب ہونا چاہیے وہ ہم نہیں کر پائے مگر کچھ حد تک کامیابی ملی ہے۔ جوہر ٹاؤن میں ہونے والے بم دھماکے میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے ہیں جو عالمی براداری کو دیے جائیں گے۔
پاکستان کی داخلی سیکیورٹی کا مسئلہ ہے اس لیے اس پر آج سے کارروائی شروع کر رہے ہیں جس کے بعد سیکریٹری خارجہ اس معاملے پر بات کریں گے جبکہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بھی اقوام متحدہ کے اجلاس میں یہ معاملہ اٹھائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو اس معاملے سے آگاہ کیا جائے گا اور بھارت کو بھرپور طریقے سے بے نقاب کیا جائے گا کیونکہ ثبوتوں سے واضح ہے کہ صرف ایک کارروائی کرنے کے لیے بھارت کی طرف سے اتنی بڑی رقم بھیجی گئی۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ لاہور میں جہاں دھماکا ہوا حافظ سعید کا گھر نزدیک تھا اور قیاس کیا جارہا ہے کہ ان کا گھر ہدف تھا، مگر پولیس کی موجودگی کی وجہ سے گاڑی وہاں نہیں پہنچ سکی۔
انکا کہنا تھا کہ افغانستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ ہر اس شخص، تنظیم اور جماعت کی مدد کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوتی ہے جو پاکستان کے خلاف کام کریں۔
وفاقی وزیرکا کہنا ہے کہ افغان طالبان اس بات کی یقین دہانی کراتے رہے ہیں کہ افغان اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے نہیں دیں گے اور ہم بھی چاہتے ہیں کہ تحریک طالبان افغانستان کے ہمارے ساتھ اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ جو عزائم ہیں وہ ان کی پاسداری کریں اور کسی بھی تنظیم کو دہشت گردی کی کارروائیوں کی اجازت نہ دیں۔
اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پنجاب عمران محمود کا کہنا تھا کہ 23 جون 2021 کو صبح گیارہ بجکر نو منٹ پر لاہور میں جوہر ٹاؤن کے ای بلاک میں ایک گاڑی کے اندر بم دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں 3 شہری جاں بحق اور دو اہلکاروں سمیت 22 شہری زخمی ہوئے تھے۔
ایڈیشنل آئی جی کا کہنا تھا کہ آج تک کسی بھی دہشت گرد جماعت نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی مگر انسداد دہشت گردی پولیس نے اس کا مقدمہ درج کرکے 60 گھنٹوں کے اندر اس معاملہ تک رسائی حاصل کی تھی اور پہلے 24 گھنٹوں میں 3 دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جوہر ٹاؤن میں گھر کے سامنے گاڑی کھڑی کرنے والے ملزم کی شناخت عید گل کے نام سے ہوئی تھی جس کے ساتھ ان کی اہلیہ عائشہ گل کو بھی گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ دھماکے کے لیے مواد تیار کرتے وقت خاتون نے کچھ وڈیوز بنائی تھیں۔
ان کا کہنا تھا عید گل کی گرفتاری کے بعد مزکزی ملزم سمیع الحق نامی شخص کی شناخت ہوئی مگر گرفتاری سے بچا ہوا تھا، تاہم تفتیش کے بعد پتا چلا کہ یہ شخص 2012 سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے کام کرتا تھا اور پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ گرفتار نہ ہونے کی صورت میں عدالت سے مرکزی ملزم سمیع الحق کی گرفتار ی کے لیے انٹرپول کے ذریعے ریڈ وارنٹس جاری کیے گئے تھے جس کے بعد خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ یہ شخص پاکستان آنے والا ہے، اسی طرح پاکستان میں داخل ہوتے وقت اس کو 24 اپریل 2022 کو اپنے ایک ساتھی عزیز اختر کے ہمراہ بلوچستان سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد اس شخص سے مختلف ممالک کی بھاری مقدار میں کرنسیاں بھی برآمد کی گئی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کے بعد پتا چلا کہ دہشت گرد کارروائی کا اہم کھلاڑی نوید اختر ہے جو جرمانے کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے ایک ملک میں جیل میں قید تھا جس سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ہینڈلر نے رابطہ کیا اور پاکستان کے خلاف بھارت کے لیے کام کرنے پر جرمانہ ادا کرنے کی شرط رکھی اور اسی طرح اس شخص نے رہائی حاصل کرنے کے لیے حامی بھر لی۔
جیل سے رہائی کے بعد یہ شخص پاکستان پہنچا جس نے جوہر ٹاؤن میں دھماکے کے لیے جاسوسی کی تھی، مگر بعد ازاں اس کو یہ پتا نہیں تھا کہ عذیر اختر اور سمیع الحق کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب سمیع الحق کو گرفتار کیا گیا تو اس نے کہا کہ وہ 10 مئی کو لاہور میں نوید اختر سے ملاقات کرنے جا رہا ہے اور اسی طرح مقررہ وقت پر نوید اختر کو ملاقات کے لیے طے کی گئی جگہ سے گرفتار کیا گیا اور گاڑیاں بھی برآمد کی گئیں جو مزید دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال کے لیے خریدی گئی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کے بعد پتا چلا کہ سمیع الحق کا ’را‘ کے مختلف ہینڈلرز کے ساتھ رابطہ تھا اور پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے بھارت نے مختلف ذرائع سے 8 لاکھ 75 ہزار ڈالرز کی رقم بھیجی تھی۔گرفتار ہونے والے پیٹر پال ڈیوڈ، سجاد حسین، عید گل اور ضیا کو عدالت سے تین، تین بار سزائے موت ہو چکی ہے جبکہ عائشہ گل کو 5 سال کی سزا ہو چکی ہے جبکہ سمیع الحق، نوید اختر اور عذیر اختر کا مقدمہ زیر سماعت ہے
۔دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث سنجے کمار تواری، وسیم حیدر خان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں اور ان کا بھارتی پاسپورٹ بھی سامنے آیا ہے جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ’را‘ ملوث ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث دیگر مرکزی کرداروں کی گرفتاری کے لیے بھی ریڈ وارنٹ لینے کی کوششیں جاری ہیں اور جلد حاصل کیے جائیں گے۔دھماکے میں ملوث دہشت گرد بھارتی شہری اور ’را‘ کے ایجنٹ ہیں اور بھارت سے ہی ان کے پاسپورٹ جاری ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس وہ ثبوت آگئے ہیں جن سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہ چیز واضح ہوگئی ہے کہ اس میں بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ہاتھ ہے اور اب ہم اس قابل ہوگئے ہیں کہ اس کا چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر سکیں۔
قارئین کرام ؛
یہ تو وہ حقائق ہیں جو وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) پنجاب کے ایڈیشنل آئی جی عمران محمود بتائیں کہ کس طرح پاکستان میں دہشت گردی میںہر جگہ بھارت ملوث ہوتا ہے اور اس حوالے سے راقم الحروف نے انہی سطور میں اصغر علی مبارک کے کالم” اندر کی بات” میں تفصیلات بیان کی تھیں جس کے مطابق ”حافظ سعید کو قتل کرنےکا بھارتی منصوبہ خود بھارتی میڈیا نے بے نقاب کر کے پاکستانی موقف کو درست ثابت کر دیا ہے کہ مودی سرکار پاکستان میں دہشت گردی کروارہی ہے قبل ازیں بلوچستان میں دہشت گردانہ کاروائیوں اور کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے ثبوت پاکستان عالمی برادری کو ڈوزئرمیں پیش کر چکا ہے واضح رہے کہ بھارت نے حافظ سعید کو 2008 میں ملک کی تجارتی شہہ رگ کہلانے والے ممبئی شہر پر شدت پسند حملوں کا ‘ماسٹر مائنڈ’ قرار دیا تھا اور بھارت کی طرف سے اکثر اوقات تعلقات کی بحالی کو ممبئی حملوں کے ملزمان کو سزا دینے کے ساتھ مشروط کیا جاتا رہا”حال ہی میں بھارتی میڈیا نے ہی پاکستان میں “بھارتی دہشتگردی” کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے جس میں بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کا اعتراف کیا گیا ہے اور منصوبہ بندی کے حوالے سے حیران کن انکشافات کئے گئے ہیں۔ بھارت کے اپنے میڈیا نے پاکستان میں بھارتی ایجنسیوں کے زریعے کی جانے والی دہشت گردی کا بھانڈا پھوڑا ہے۔اس حوالے سے بھارتی نیوز چینل ”آج تک“ نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کو قتل کرنے کا پلان تفصیل سے بیان کیا”خیال رہے کہ جون 2021 میں لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں واقع حافظ سعید کے گھر کے قریب ایک کار بم دھماکے میں پولیس اہلکار سمیت تین افراد ہلاک اور کم از کم 24 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ دہشت گردی کے اس واقعے کی ابتدائی معلوماتی رپورٹ میں کہا گیاتھا کہ ”دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دھماکے کی جگہ پر گہرا گڑھا پڑگیا تھا، گھروں کے اندر اور باہر گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔“ پاکستان نے دہشت گردی کی اس کارروائی کا الزام بھارت پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”یہ بھارت کی جانب سے ملک میں دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔“اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان نے بھی اپنی ایک ٹویٹ میں اس کا الزام بھارت پر عائد کیا تھا اور اس وقت کے قومی سلامتی کے مشیر نے بھی ایک بریفنگ کے دوران اس حملے کی ذمہ داری باقاعدہ بھارت پر عائد کی تھی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملے کے الزام میں پانچ لوگوں کو گرفتار کیا جن میں سے چار کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ۔”عموماً بھارت کسی بھی پاکستانی بیان پر بڑی مستعدی اور برق رفتاری سے جواب دیتا ہے، لیکن اس حملے کے بعد بھارت کا بیان چار دن کے طویل وقفے کے بعد آیا اور بھارت کی جانب سے پاکستانی بیانیے کو ”پروپیگنڈہ“ قرار دیا گیا۔ لیکن اب بھارتی میڈیا نے ہی بھارتی وزارت خارجہ کے سابقہ بیان کو جھٹلا دیا” ۔ ”بھارتی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حافظ سعید کو قتل کرنے کے اس بھارتی پلان پر عملدرآمد میں ڈیڑھ سال کا وقت لگا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 2020 میں دبئی میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کی ایک میٹنگ ہوئی جس کا مقصد حافظ سعید کو ان کے گھر میں قتل کرنے کی منصوبہ بندی تھی ۔
”جوہر ٹاؤن میں واقع حافظ سعید کے گھر تک پہنچنا کسی باہر والے کیلئے تقریباً ناممکن تھا۔“
اس مقصد کیلئے دبئی کی جیلوں میں بند ایسے افراد کی تلاش شروع ہوئی جو ہلکے مقدمات میں سزا کاٹ رہے تھے، جن کا پاکستان میں کوئی کرمنل ریکارڈ بھی نہ تھا۔اس مقصد میں
دوران تلاش محمد نوید اختر خان نامی ایک شخص کو چنا گیا جس سے جیل میں بھارتی خفیہ ایجنسی کی ٹیم نے ملاقات کی۔ حافظ سعید پر قاتلانہ حملے کی پلاننگ کرنے والی ٹیم کے ممبر نے خود کو پاکستانی ظاہر کیا اور کچھ ملاقاتوں کے بعد نوید کو جیل سے چھڑا لیا گیا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ نوید کو احسان تلے دبا کر اس شخص نے موقع دیکھا اور نوید کو پاکستان جانے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہاں وہ اپنا بزنس اس شخص کے ساتھ پارٹنر شپ میں شروع کرے۔ ڈیل کے مطابق بزنس میں ”آپریشن سعید“ میں شامل اس شخص کی حصہ داری 75 فیصد اور نوید کا حصہ 25 فیصد تھا۔ نوید کو پاکستان پہنچنے پر خاص طور پر لاہور کے جوہر ٹاؤن میں گھر اور دفتر لینے کی ہدایت کی گئی۔ یہ گھر تھا ”مکان نمبر 123“ جو حافظ سعید کے گھر ”ای 116“ سے سات گھر چھوڑ کر واقع تھا”۔نوید نے ہدایت کے مطابق کنسٹرکشن کا بزنس شروع کیا اور اسے کہا گیا ہے کہ حساب کتاب دیکھنے کیلئے کچھ لوگ گھر اور دفتر آئیں گے اور وہاں ٹھہریں گے بھی۔ اس تمام واقعے کے دوران نوید اب تک اصل پلان سے ناواقف تھا۔”گھر لینے کے بعد نوید نے علاقے کی ایک تفصیلی ویڈیو بھی بھیجی جس میں راستوں کا تفصیل سے ذکر موجود تھا”۔
”نوید کا بزنس جاری تھا کہ اس دوران علاقے کی ایک چھ منزلہ عمارت کی مرمت کا کام اسے ملا، یہ عمارت خالی تھی اور اسے تیار ہونے میں کافی وقت تھا”، پلاننگ کے دوسرے حصے کو انجام دینے کیلئے یہ بہترین جگہ تھی”۔ڈیل کے مطابق کچھ لوگ حساب کتاب کیلئے نوید کے پاس آتے اور اس کے پاس رہتے، پر وہ ان کی اصلیت سے ناواقف تھا۔ اس دوران نوید کو ایک ٹویوٹا کار خریدنے کو کہا گیا، اس نے کار خرید لی اور اسی گاڑی میں جوہر ٹاؤن آنے جانے لگا۔ جس سے آپریشن میں شامل بھارتی ٹیم کو راستوں اور پولیس ناکوں کا اندازہ ہوا۔اس کے بعد نوید سے کہا گیا کہ جیسی کار اس کے پاس ہے ویسی ہی ایک اور کار خریدے، اب دونوں گاڑیاں اسی عمارت میں پارک تھیں، سیکیورٹی گارڈ اور پولیس اب نوید کی کار کو پہچانتے تھے اور وہ اب بھارتی خفیہ ایجنسی کے پلان کے مطابق بنا کسی روک ٹوک کے علاقے میں آیا جایا کرتا تھا۔ دوسری جانب خالی عمارت میں کھڑی دوسری گاڑی کو ”کار بم“ بنانے کی تیاری کی جاتی ہے اور اس میں 300 کلو بارود بھرا جاتا ہے، یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جو حساب کتاب دیکھنے کے بہانے وہاں پہنچائے گئے تھے۔ پلان تھا کہ گاڑی کو سیدھا حافظ سعید کے گھر سے ٹکرایا جائے گا۔ یہ ایک خودکش حملہ تھا جس کیلئے ایک جان دینے والے کی بھی ضرورت تھی۔اس کیلئے” آپریشن سعید” میں شامل ایک ٹیم نے افغانستان کے ایک کیمپ سے رابطہ کیا جو خود کش حملہ آور تیار کرتا ہے اور جنہیں خریدا بھی جاسکتا ہے۔
ایسے ہی ایک خودکش حملہ آور کو خرید کر جوہر ٹاؤن میں نوید کے گھر پہنچا دیا گیا۔ نوید اب بھی تمام کارروائی سے لاعلم تھا۔یکن اب وقت آچکا تھا کہ نوید کو اصلیت بتائی جائے، کیونکہ اصلیت بتائے بنا آپریشن کو آگے بڑھانا ناممکن تھا۔ لیکن کیا نوید پر بھروسہ کیا جاسکتا تھا؟
نوید کے ہینڈلر نے کہانی رچی کہ 26/11 ممبئی حملے میں ہلاک ہونے والا ایک خاندان ایک اسرائیلی بزنس مین کا تھا اور وہ بزنس مین حافظ سعید کو مارنے کے بدلے کروڑوں روپے دینے کو تیار ہے۔
خیال رہے کہ بھارت آج بھی الزام عائد کرتا ہے کہ ممبئی میں ہونے والے تاج ہوٹل حملے میں جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کا ہاتھ ہے۔
پہلے تو نوید گھبرایا لیکن پھر ڈیل دس کروڑ پاکستانی روپے اور اسے فیملی سمیت ترکی منتقل کئے جانے پر طے ہوگئی۔لیکن قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ بھارتی میڈیا کے مطابق مئی 2021 میں نوید کا ہینڈلر کورونا کے باعث ہلاک ہوگیا، جس کے بعد پورا آپریشن خطرے میں پڑگیا، ہینڈلر کی موت کے بعد مسئلہ پیدا ہوا کہ نوید سے بات اب کون کرے۔
نوید کو فون پر اس ہینڈلر کی موت کی اطلاع دی گئی اور ایک اور شخص نے خود کو اس کا باس ظاہر کرکے آگے کی بات چیت شروع کی، لیکن شاید نوید کو اب شک ہوگیا تھا اور وہ انجان شخص کے ساتھ مزید اس ڈیل پر کاربند نہیں رہنا چاہتا تھا۔
بات نہ بنی تو نوید کو دھمکی دی گئی کے اس کے بھیجے نقشے، ویڈیوز اور دیگر ثبوت پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کو بھیج دئے جائیں گے۔
نوید گھبرا گیا، اس کا ایک رشتہ دار پولیس میں تھا جسے اس نے ساری بات بتا دی، وہ پولیس اہلکار نوید کو لے کر حافظ سعید کے گھر گیا اور انہیں ساری بات بتائی، لیکن حافظ سعید نے اسے مذاق سمجھا اور نوید کو کالونی چھوڑنے کا کہا۔
کورونا سے ہوئی اس موت اور نوید کے پیچھے ہٹنے سے حالات یکسر تبدیل ہوگئے تھے، اب حافظ سعید کی جان کے درپے ”آپریشن سعید“ پر کاربند بھارتی خفیہ ایجنسی کی ٹیم کی رائے دو حصوں میں بٹ چکی تھی۔
ایک گروہ نے تجویز دی کہ آپریشن ٹال دیا جائے جبکہ دوسرے گروہ کا کہنا تھا کہ اب آپریشن کو ٹالنا خطرناک ہوگا۔
اس کے بعد طے ہوا کہ آپریشن ہوگا لیکن کچھ تبدیلی کے ساتھ۔ دوسری جانب نوید کے انکشاف کے بعد حافظ سعید کے گھر کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ۔ اب گھر تک پہنچنا ناممکن تھا، تو طے کیا گیا کہ گاڑی کو سوسائٹی کے دروازے سے ٹکرا دیا جائے گا اور امید لگائی کہ 300 کلو بارود کے دھماکے سے حافظ سعید کے گھر کو بھی نقصان پہنچے گا اور شاید وہ بھی اس حملے میں مارے جائیں۔
23 جون 2021 کی صبح گیارہ بجے حملہ طے کیا گیا، مقررہ وقت پر حملہ ہوا اور اس کا اثر حافظ سعید کے گھر تک ہوا، ان کے گھر کے شیشے ٹوٹ گئے اور عمارت کو بھی نقصان پہنچا، لیکن حافظ سعید مبینہ طور پر گھر میں نہ ہونے کے وجہ سے محفوظ رہے۔دورانِ تحقیقات پولیس نے پیٹر پال ڈیوڈ نامی کار ڈیلر کو گرفتار کیا، جس سے کار خریدی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق پیٹر ٹی ٹی پی سے وابستہ سمیع الحق کا آدمی تھا۔ پیٹر کے بعد سمیع الحق، سجاد شاہ اور ضیاء اللہ نامی اشخاص کو گرفتار کیا گیا، جنہیں انسداد دہشتگردی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی۔
نوید اب بھی حراست میں ہے اور اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔
بھارتی میڈیا کے اس تفصیلی اعتراف کے بعد اب کوئی شک باقی نہیں رہا کہ مودی سرکار کی سرپرستی میں بھارتی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں، اور اس کیلئے معصوم لوگوں کو چارہ بنایا جاتا رہا ہے، کالعدم تنظیموں سے کام کرایا جاتا ہے اور الزام بھی انہیں کے سر دھر کر خود کو مظلوم ظاہر کیا جاتا ہے، جو بھارت کی پرانا ہتھکنڈہ ہے۔تاہم وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے انکشافات کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے سامنے بھارتی دہشتگردی کے مزید ثبوت پیش کرکے مودی سرکار کا مکروہ چہرہ بےنقاب کرے ……




