پاکستان عوامی لیگ کا الیکشن کمیشن سے انتخابات ایک دن میں کرانے کا مطا لبہ …..اصغر علی مبارک …..پاکستان کی سیاسی تاریخ تلخ و شیریں واقعات سے بھری پڑی ہے قائد اعظم محمد علی جناح ،محترمہ فاطمہ جناح ،محترمہ بینظر بھٹو وغیرہ کی سیاسی خدمات کا کوئی مول نہیں تاہم پاکستانی سیاسی تاریخ کا یہ منفرد ریکارڈ ہے کہ راولپنڈی کے تین مختلف حلقوں سے تین وکلا بہن بھائی ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں،مس طاہرہ بانو مبارک ایڈووکیٹ NA 60 مس عظمیٰ مبارک ایڈووکیٹ NA 61 اور عظمت علی مبارک ایڈووکیٹ نےNA 62 سے قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں جنرل نشست پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ،پاکستان عوامی لیگ کےنامزد امیدواران براۓ قومی اسمبلی راولپنڈی نے الیکشن کمیشن کی جانب انتخابات سے متعلق تجاویز پرمطلبہ کیا ہے کہ قومی خزانے کا بوجھ کم کرنے کیلئےقومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک دن کرواۓ جائیں پاکستان عوامی لیگ کےنامزد امیدوار مس طاہرہ بانو مبارک ایڈووکیٹ NA 60 ، مس عظمیٰ مبارک ایڈووکیٹ NA 61 اور عظمت علی مبارک ایڈووکیٹ NA 62 قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں مشترکہ بیان میں انکا کہنا ہے کہ پاکستان میں معشیت کی تباہ حالی میں الگ الگ انتخابات پیسے کا ضیاع ہوگا مس عظمیٰ مبارک ایڈووکیٹ NA 61 کا کہنا تھا کہ ”خود مستعفی ہونے والے تمام سیاست دانوں انتخابی اخراجات وصول کیے جائیں انھوں نے قوم کو ہیجانی کفئیت میں مبتلا کر رکھا ہے” مس طاہرہ بانو مبارک ایڈووکیٹ نامزد امیدوار NA 60 نے کہا کہ ”عوام بے حس سیاستدانوں سے ووٹ کی پرچی سے ضرور حساب لیںگے ” ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمشن کی تجاویز کے مطابق 30 اپریل سے 7 مئی کے درمیان پنجاب میں انتخابات کا انعقاد ہونا ہے، لیکن یہ درست اقدام نہ ہوگا انتخابات کے لئے رمضان المبارک اور عیدالفطر کے تقدس کا خیال بھی رکھا جاۓ ،عظمت علی مبارک ایڈووکیٹ نامزد امیدوار NA 62کا کہا کہ لڑاؤ گھیراؤکی سیاست سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا ،ایک جماعت کی انتخابی مہم شروع ہونے سے لڑائیاں گلی محلے تک پھیل رہی ہیں جس سے امن وامان کی صورت حال متاثر ہونے کا اندیشہ ہے ۔ ،سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 90 روز میں الیکشن کرانے کے فیصلے کے بعد دونوں صوبوں میں انتخابات کی راہ ہموار ہوئی ہے اور اسی تناظر میں انتخابی مہم شروع ہو چکی ہے۔ ، مبارک حویلی سے تعلق رکھنے والے ضلع راولپنڈی کے وکلاء عظمت علی مبارک، مس طاہرہ بانو مبارک ایڈوکیٹ اورمس عظمیٰ مبارک ایڈووکیٹ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کی نومنتخب فنانس سیکریٹری بھی ہیں ،قبل ازیں انکے والد ڈاکٹر مبارک علی اوربھائی اصغر علی مبارک بھی ان حلقوں سے قومی اسمبلی انتخبات میں سات مرتبہ حصہ لے چکے ہیں ،
گو کہ بیشتر سیاسی جماعتوں اور اتحادیوں کے ساتھ تحرک انصاف نے ضمنی الیکشن سے راہ فراراختیار کرتے ہوے ضمنی الیکشن کو رکوانے کی خاطر عدالتوں سے سٹے حاصل کیا منافقت کی انتہا ہے کہ الیکشن، الیکشن کی رٹ لگانے والے خود ضمنی الیکشن رکوانے عدالتوں سے سٹے حاصل کر کے جمہوریت کے چمپین بنے ہوے ہیں ،راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے وکلا بہن بھائی مس طاہرہ بانو مبارک ایڈووکیٹ NA 60 مس عظمیٰ مبارک ایڈووکیٹ NA 61 اور عظمت علی مبارک ایڈووکیٹ NA 62 کی قومی انتخابات میں شرکت اس سیاسی بصیرت کا ثبوت ہےکہ نوجوان نسل قائد اعظم اور علامہ اقبال کے سیاسی افکار اتحاد ، ایمان ،تنظم ،یقین محکم کے تحت عملی سیاست میں موجود ہیں،
ضمنی الیکشن کے ساتھ ہی پاکستان کی تاریخ میں پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز ہو گیا اگر سب سیاست دان ملک سے مخلص ہیں تو مردم شماری کے مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہے تھا
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کی سیاسی جد وجہد میں خواتین کا کردار ہمیشہ سے نمایاں رہا ہے جس کو دیکھتے ہوئے خواتین کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں کو جنرل الیکشن میں پانچ فیصد نشست دینے کا پابند کیا گیا ہے اس مقصد کے لیے پارٹی ہیڈ بیان حلفی الیکشن کو جمع کروانے کا پابند ہے
خیال رہےکہ قومی اسمبلی عوامی مسائل کے حل کرنے کا فورم ہے لیکن قومی اسمبلی میں عوامی مسائل پر بات نہیں کی جاتی، سیاسی اکھاڑہ بننے سے عوامی مسائل میں اضافہ ہوا ہے،
اس لیے اب عوام کو ایسے نمائندے منتخب کرنا ہوں گے جو ان کے مسائل حل کرسکیں۔ ایک تعلیم یافتہ قیادت ہی ممبر قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد عوام کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرسکتی ہے ۔اس مقصد کے تحت پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ چودھری ناصر محمود نے ضلع راولپنڈی کی تینوں نشستوں پر مکمل سپورٹ کرنے کے ساتھ پارٹی ٹکٹ بھی جاری کر دیا ہےقومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب NA 61 راولپنڈی کینٹ سے مس عظمیٰ مبارک ایڈووکیٹ نے بتایا کہ پاکستان عوامی لیگ کا منشور ”چہرے نہیں نظام بدلو ”اور سلوگن ”خود بدلو”سوچ بدلو ”نظام بدلو ”ہے پاکستان عوامی لیگ کا منشورایک تحریری منشور ہے جس میں تحریر ہےکہ ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس میں قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کا نظریہ عملی طور پر نظر آئے ایک ایسا ملک جس میں ظلم و زیادتی نہ ہو ،قتل و غارت نہ ہو ،بد امنی نہ ہو ،نفرت و عداوت نہ ہو ،فرسودہ اور جاہلانہ رسوم نہ ہوں اور نہ ہی دہشتگردی ہو ،ایک ایسا پاکستان جس میں امن ہو ،پیار ہو،انصاف ہواور عوام کا پاکستان ہو،یہی پاکستان عوامی لیگ کا پاکستان ہوگا -ہم انسانوں کے بوئے ظلم و جبر کے ضابطے مٹانا چاہتے ہیں ،جا گیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں ،ظلم کی سرکوبی اور مظلوم کی مدد کرنا چاہتے ہیں،ایک دوسرے پر پر انگلی اٹھانے کی بجاۓ خود کو مثالی بنائیں گے اور تمام اداروں کو اعتماد میں لے کر ملکی ترقی کوبنائیں گے ،منشورکےتحت صدارتی نظام حکومت کوبہتر انداز میں چلانےکیلئےبنیادی نکات میں پارلیمانی نظام سےچھٹکارہ ،ہر عمر اور طبقہ کیلئےمفت ومعیاری صحت،یکساں نصاب اور مفت تعلیم کی فراہمی،گھریلو صنعتوں کا قیام،بلا سود قرضوں کا اجراء،امن و امان اور مستحکم پاکستان کی بنیاد، محنت کش اور مزدور طبقے میں بلاتفریق گھردینا ہے مزید یہ کہ پاکستان عوامی لیگ کا منشور ”چہرے نہیں نظام بدلو ”اور سلوگن ”خود بدلو”سوچ بدلو ”نظام بدلو ”ہے پاکستان عوامی لیگ کا منشورایک تحریری منشور ہے جس میں تحریر ہےکہ ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس میں قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کا نظریہ عملی طور پر نظر آئے ایک ایسا ملک جس میں ظلم و زیادتی نہ ہو ،قتل و غارت نہ ہو ،بد امنی نہ ہو ،نفرت و عداوت نہ ہو ،فرسودہ اور جاہلانہ رسوم نہ ہوں اور نہ ہی دہشتگردی ہو ،ایک ایسا پاکستان جس میں امن ہو ،پیار ہو،انصاف ہواور عوام کا پاکستان ہو،یہی پاکستان عوامی لیگ کا پاکستان ہوگا – انہوں نے بتایا کہ ہم انسانوں کے بوئے ظلم و جبر کے ضابطے مٹانا چاہتے ہیں ،جا گیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں ،ظلم کی سرکوبی اور مظلوم کی مدد کرنا چاہتے ہیں،ایک دوسرے پرانگلی اٹھانے کی بجاۓ خود کو مثالی بنائیں گے اور تمام اداروں کو اعتماد میں لے کر ملکی ترقی کوبنائیں گے ، ،فوری انصاف کیلیے عدلیہ کو خودمختار بنانا ،اقوام عالم کیساتھ برابری کی سطح پر تعلقات ،عوام دوست اور جدید نظامی قانونی ادارے ،سود سے پاک انتہائی شفاف اور سسخت مالیاتی نظام ،دفاعی پالیسیوں میں ضروری تبدیلیاں ،بدلتے موسمی حالات کےپیش نظر موثر اقدامات ،کھیلوں کی صحت مندانہ سہولیات کی فراہمی ،سیاحتی مقامات و نظام سیاحت کیلئے جدید سہولیات ،خواتین کی اہلیت و قابلیت کیمطابق یکساں نمائندگی فراہم کرنا ہے ادھر صدر مملکت عارف علوی نے 30 اپریل بروز اتوار کو پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ صدر مملکت کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق صدر مملکت نے تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کی جانب سے تجویز کردہ تاریخوں پر غور کرنے کے بعد کیاہے قبل ازیں الیکشن کمیشن نے صوبہ پنجاب میں انتخابات کے لیے صدر مملکت کو 30 اپریل سے سات مئی تک کی تاریخیں تجویز کی تھیں۔ صدر مملکت کی طرف سے تاریخ کے انتخاب کے بعد الیکشن کمیشن اپنے آئینی اور قانونی فرائض انجام دینے کے لیے تیار ہے۔
خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کررکھا ہے۔جسٹس شاہد کریم نے پی ٹی آئی کے 43 سابق ایم این ایز کی درخواست پر 43 حلقوں میں ضمنی الیکشن تاحکم ثانی روک دیا ہے۔سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے 43 ایم این ایز کے استعفے منظور کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا،استعفے منظور کرنے کے بارے میں سپیکر کے 22 جنوری اور الیکشن کمیشن کے 25 جنوری کے نوٹیفکیشن چیلنج کیا گیا تھا۔رواں برس 24 جنوری کو قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے مزید 43 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کر لیے تھے۔اس سے قبل 20 جنوری کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے استعفے منظور کیے جانے کے بعد تحریک انصاف کے 35 ارکان کو ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا۔سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے تین مختلف اوقات میں مجموعی طور پر 81 ارکان کے استعفے منظور کیے جا چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین قومی اسمبلی اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے استعفے منظور کیے تھے جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 35 اراکین قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا۔حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں نےبھی ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا متفقہ فیصلہ کیا ہوا ہے۔چند روز قبل روز ایک بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے تحریک انصاف کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ ’فسادی جماعت ضمنی الیکشن لڑے اور اسمبلی میں آجائے۔’فسادی جماعت استعفوں کی منظوری اور کبھی استعفے منظور نہ کرنے کے لیے عدالتوں میں جاتی ہے۔ الیکشن لڑنا تھا، ایوان میں ہی آنا تھا تو اسمبلیاں کیوں توڑیں؟ استعفے کیوں دیے؟‘
ان کا کہنا تھا کہ ’فسادی جماعت چکرا چکی ہے کہ کیا کرے، عدالت جائے، اسمبلی جائے یا الیکشن میں جائے، ملک کو کسی ایک شخص کے انتشار کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے۔‘
دوسری جانب حکومت کی اتحادی عوامی نیشنل پارٹی نے بھی ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ فیصلہ پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کی درخواست پر کیا گیا ہے۔‘
’ملک کی خراب معاشی صورت حال کے باوجود صرف تین ماہ کے لیے الیکشنز پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔‘
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کی تاریخ 16 مارچ اور 19 مارچ مقرر کی ہوئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے بعد خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی مزید 31 نشستوں پر ضمنی الیکشن کا شیڈول تین فروری کو جاری کیا تھا۔ ضمنی انتخابات سے مراد وہ انتخابات ہیں جو عام انتخابات سے پہلے ہو جائے، مثلاً اگر کوئی رُکنِ قومی اسمبلی استعفیٰ دیتا ہے یا اس کی رُکنیت کوئی ختم کرتا ہے تو اس کے بعد اُس کی نشست پر پھر سے انتخاب ہوگا اور امیدوار منتخب ہوگا، ضمنی انتخابات اور عام انتخابات میں فرق یہ ہوتا ہے کہ عام انتخابات میں پورے ملک میں تمام نشستوں پر نئے انتخابات کرائے جاتے ہیں اور نئے سِرے سے ارکان منتخب ہوتے ہیں جبکہ ضمنی انتخابات میں ایک یا ایک سے زائد صرف اُن نشستوں پر انتخابات ہوتے ہیں جن کو کسی نے خالی کیا ہو۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کی مزید 31 نشستوں پر ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری کیا تھا ۔الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی کی 31 نشستوں پر ضمنی الیکشن 19 مارچ بروز اتوار ہونا تھے ۔ کاغذات نامزدگی 10 سے 14 فروری تک جمع کرائےگئےتھے ، کاغذات نامزدگی کے بعد امیدواروں کو انتخابی نشان 2 مارچ کو الاٹ کیے گئے۔
قبل ازیں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 18 فروری تک ہوئی، کاغذات نامزدگی پر اپیلیں 22 فروری تک جمع کرائی گئیں جبکہ الیکشن ٹریبونلز 27 فروری تک اپیلوں پر فیصلے کیے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 5،6،7 لوئر دیر ، این اے 8 مالاکنڈ ، این اے 9 بونیر ، این اے 16 ایبٹ آباد، این اے 19 صوابی، این اے20 مردان، این اے 28 پشاور ، این اے 30 پشاور، این اے 34 کرک، این اے 40 باجوڑ میں ضمنی الیکشن ہونا ہے ۔اس کے علاوہ این اے 42 مہمند، این اے 44 خیبر، این اے 61 راولپنڈی ، این 70 گجرات ، این اے 87 حافظ آباد، این اے 93خوشاب، این اے 96 میانوالی، این اے107 فیصل آباد، این اے 109 فیصل آباد، این اے 135 لاہور، این اے 150 خانیوال، این اے152 خانیوال ، این اے158 ملتان، این اے164 اور این اے 165 وہاڑی میں ضمنی الیکشن ہوگا۔خیال رہے کہ یہ نشستیں تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے بعد خالی ہوئی ہیں۔اس سے قبل الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی 33 خالی نشستوں پر ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری کیا تھاجس کے مطابق قومی اسمبلی کی 33 خالی نشستوں پر ضمنی الیکشن 16 مارچ کو ہوگا جس کے لیے کاغذات نامزدگی 6 سے 8 فروری تک جمع کرائے جائیں گے۔
16 مارچ کو ضمنی الیکشن ان حلقوں میں ہونا تھا الیکشن کمیشن نے این اے 4، این اے 17، این اے 18، این اے 25، این اے 26، این اے 32، این اے 38، این اے 43، این اے 52، این اے 53، این اے 54، این اے 57، این اے 59، این اے 60، این اے 62، این اے 63، این اے 67، این اے 97، این اے 126، این اے 130، این اے 155، این اے 156، این اے 191، این اے 241، این اے 242، این اے 243، این اے 244، این اے 247، این اے 250، این اے 252، این اے 254، این اے 256 اور این اے 265 پر الیکشن کا شیڈول جاری کیا ہوا ہے۔ادھر گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے بعد پشاور ہائی کورٹ نےبھی صوبہ خیبرپختونخوا میں 16 اور 19 مارچ کو ہونے والے ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن شیڈول معطل کردیا ہے ۔ عدالت عالیہ کے جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس سید ارشد علی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پی ٹی آئی اراکین کے استعفوں کی منظوری اور ضمنی الیکشن ملتوی کرنے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ خیال رہے کہ خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی 24 نشستوں پر 16 اور 19 مارچ کو ضمنی انتخابات ہونے تھے۔پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا 16 مارچ کو انتخابات ہورہے ہیں، ہماری استدعا ہے کہ الیکشن کو ملتوی کیا جائے۔یاد رہے ۔پی ٹی آئی ممبران 11 ماہ میں یہ ایک دن بھی پارلیمنٹ نہیں گئے، استعفے دیے اور اس کے بعد اسپیکر کے پاس بھی نہیں گئےالیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ جی پی ٹی آئی کے علاوہ باقی پارٹیوں نے بائیکاٹ کیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پھر تو ویسے بھی یہ متنازع ہوگا۔ضمنی الیکشن وقت اور پیسوں کا ضیاع ہوگا۔ بعدازاں عدالت نے قومی اسمبلی کے نشستوں پر 16 اور 19 مارچ کو ہونے والے ضمنی انتخابات کا الیکشن شیڈول معطل کردیا اور سماعت 7 مارچ تک کے لیے ملتوی کردی۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 3 فروری کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین کے استعفوں سے خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی 31 نشستوں پر ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کیا تھا جس میں 24 نشستیں خیبرپختونخوا کی تھیں۔


















