.پاکستان اور فوج لازم و ملزوم……………..(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)……………………….کچھ روز پہلے پاکستان کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک سوال کے جواب کہاکہ پاکستان کادفاعی بجٹ جی ڈی پی کا تقریبادو فیصد ہے یعنی 1340 ارب اور 1400 ارب روپے کے لگ بھگ ھےجب اس رقم اور اس رقم کے عوض پاک فوج کی کارکردگی اور طاقت کا موازنہ خطے کے چیلنجز اور مدتقابل جائزہ سے کئی ہوشربا حقائق سامنے آئے یہ فوج کا جذبہ ہی ھے کہ ملک وقوم کی دفاع وترقی کیلئے دن رات کوشاں ہے پاکستان کے دفاعی بجٹ میں کوی اضافہ نہیں کیا گیا، دشمن ملک بھارت کا بڑھتا ہوا دفاعی بجٹ افواجِ پاکستان کیلئے ہمشیہ سے چیلنج رہا ہے دِفاعی اخراجات کے حوالے سے بھارت دُنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ بھارت کا دِفاعی بجٹ پاکستان کی نسبت سات گُنا زیادہ ہے بھارت2016ء سے2020ء کے دوران دُنیا کا دوسرا بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک رہا بھارت صرف جدید اسلحہ کی خریداری کے لیے سالانہ لگ بھگ18سے19بلین ڈالر لگاتا ہے جو کہ پاکستان بجٹ کا تقریباََ 2گُنا ہےگزشتہ تین سالوں میں پاک آرمی نے اپنے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں لیا ہے۔اتنے بڑے خطرات کو موجودگی میں جی ڈی پی کا صرف دو فیصد دفاعی بجٹ ہے بھارت کا دفاعی بجٹ 70بلین ڈالر جبکہ پاکستان کا دفاعی بجٹ11بلین ڈالر ہے,بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کی نسبت 7گنا زیادہ ہے۔ بھارت 2016ء سے 2020ء کے دوران دنیا کا دوسرا بڑا اسلحہ درآمدکرنے والا ملک بن گیا ہے۔ بھارت صرف جدید اسلحہ کی خریداری کیلئے سالانہ کم و بیش 18سے 19ارب ڈالرز خرچ کرنے لگا ہے جو کہ پاکستان کے بجٹ سے کم و بیش دوگنا ہے۔پاکستان کا ڈیفنس بجٹ جو پہلے جی ڈی پی کا 2اعشاریہ 6فیصد ہوا کرتا تھا اب اس کا تناسب کم ہو کر 2.2فیصد رہ گیا ہے۔ بھارت کا دفاعی بجٹ 70ارب ڈالر جبکہ پاکستان کا دفاعی بجٹ 11ارب ڈالر ہے۔ بھارت پاکستان کی نسبت اپنے ایک فوجی پر سالانہ 4گنا زیادہ رقم خرچ کرنے لگا ہے۔ پاکستان اپنے ایک فوجی پر سالانہ 13ہزار 4سو ڈالر‘ بھارت 42ہزار ڈالر‘ اپنے فوجی پر سالانہ خرچ کر رہے ہیں۔ سالانہ ڈیفنس اخراجات کے حوالے سے بھارت دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ 2019 / 20میں ملکی معاشی صورتحال کے پیشِ نظر دِفاعی بجٹ منجمد رہا۔ 2020 / 21میں بھی پاک افواج کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو ا۔ رواں مالی سال میں روپے کی قدر میں کمی واقع ہوئی۔جس کے باوجود دِفاعی ضروریات کو دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے پورا کیا گیا 2018ء کے بعدکولیشن سپورٹ فنڈ کی بندش کے باوجود دِفاعی اور سیکورٹی کی ضروریات کو ملکی وسائل سے ہی پورا کیا گیا۔آپریشن ردّالفساد کے اہداف اور دائرہ کار اور دیگر سیکورٹی اُمور میں کوئی کمی نہیں آنے دی گئی۔ پاک فوج اور پاک افواج کے رِفاعی اداروں نے ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مَدمیں 935 بلین روپے سے زائد رقم قومی خزانے میں جمع کرائی۔ مالی سال 23-2022 کے دفاعی بجٹ کی مختص رقم میں مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے کمی ہوئی ہے، دفاعی بجٹ جی ڈی پی کا 2.2 فیصد ہے جو گزشتہ سال 2.8 فیصد تھا۔ پاکستان میں جب بھی بجٹ پیش کیا جاتا ہے تو ہمیشہ دفاعی بجٹ پر بحث شروع ہوتی ہے، دفاعی بجٹ خطرے کی صورتحال، چیلنجز، تعیناتی کی نوعیت اور وسائل کو دیکھتے ہوئے رکھا جاتا ہے، بجٹ میں محدود وسائل کو مد نظر رکھا جاتا ہے، فوج محدود وسائل میں رہتے ہوئے تمام ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے۔ دفاعی بجٹ جی ڈی پی کے شرح سے دیکھیں تو نیچے جا رہا ہے، اس کے باوجود ہم نے اپنی حربی صلاحیتوں میں کمی نہیں آنے دی، اس وقت ہم نے دفاعی بجٹ 100 ارب روپے کم کیا ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔پاکستانی فوج کے دفاعی بجٹ کی مختص رقم میں گزشتہ تین سالوں اضافہ نہیں کیا جارہا جبکہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کا بجٹ پاک فوج کےبجٹ سے بےپناہ زیادہ ہے اس کے برعکس آپ بھارت کا بڑھتا ہوا دفاعی بجٹ دیکھ لیں، بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا ہے جب کہ پاک فوج یوٹیلیٹی کی مد میں اخراجات کو کم کر رہی ہے، دشمن کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے ہمیں ہر وقت تیار رہنا چاہیے، ہمارا ماضی بھی بتاتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ وہاں سے چیلنجز درپیش رہے ہیں۔ اس وقت بھارت کی 13 لاکھ فوج ہے جبکہ ہماری فوج ساڑھے پانچ لاکھ ہے، اس وقت 50 فیصد فوج مشرقی سرحد جبکہ 40 فیصد مغربی سرحد پر تعینات ہے، باقی فوج کنٹونمنٹ اور کبھی داخلی سلامتی پر اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ قدرتی آفات میں مصروف رہتی ہے۔ آرمی چیف نے ہدایت دی ہےکہ مشقوں کو بڑے پیمانوں کے بجائے چھوٹے پیمانے پر کیا جائے، چھوٹی مشقوں سے بچت ہو گی، پاک فوج نے اپنی غیر ضروری نقل و حرکت کم کر دی گئی ہے، افواج میں یوٹیلٹی بلز، ڈیزل، پٹرول کی مد میں بچت کی جا رہی ہے۔آرمی چیف کی ہدایت پر ایک دن ڈرائی ڈے رکھا گیا ہے جب کہ کانفرنس کو آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاک فوج نے گزشتہ سال کورونا کی مد میں جو رقم ملی تھی اس میں سے 6 ارب بچا کر واپس کردیے گئے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ عسکری سازو سامان کی مد میں ملنے والے ساڑھے 3 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروا دیئے ہیں فوجی فاؤنڈیشن نے گزشتہ سال 150 ارب روپے ٹیکس جمع کروایا جب کہ آرمی ویلفیئر ٹرسٹ نے 2.2 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے،پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ مالی سال 23-2022 کے لیے دفاعی بجٹ کی مختص رقم میں مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی جیسے عوامل کی وجہ سے کمی ہوئی ہے، دفاعی بجٹ جی ڈی پی کا 2.2 فیصد ہے جو گزشتہ سال 2.8 فیصد تھا۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا جب بھی بجٹ پیش کیا جاتا ہے تو ہمیشہ دفاعی بجٹ پر بحث شروع ہوتی ہے، دفاعی بجٹ خطرے کی صورتحال، چیلنجز، تعیناتی کی نوعیت اور وسائل کو دیکھتے ہوئے رکھا جاتا ہے، بجٹ میں محدود وسائل کو مد نظر رکھا جاتا ہے، ہم اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے تمام ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں ترجمان پاک فوج کاے کہنا ہےکہ اس کے برعکس آپ بھارت کا بڑھتا ہوا دفاعی بجٹ دیکھ لیں، بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا ہے جب کہ پاک فوج یوٹیلیٹی کی مد میں اخراجات کو کم کر رہی ہے، دشمن کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے ہمیں ہر وقت تیار رہنا چاہیے، ہمارا ماضی بھی بتاتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ وہاں سے چیلنجز درپیش رہے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس وقت بھارت کی 13 لاکھ فوج ہے جبکہ ہماری فوج ساڑھے پانچ لاکھ ہے، اس وقت 50 فیصد فوج مشرقی سرحد جبکہ 40 فیصد مغربی سرحد پر تعینات ہے، باقی فوج کنٹونمنٹ اور کبھی داخلی سلامتی پر اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ قدرتی آفات میں مصروف رہتی ہے۔ 2020 سے پاکستانی افواج نے اپنے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا، مہنگائی کے تناسب سے دفاعی بجٹ کم ہوا ہے، دفاعی بجٹ جی ڈی پی کے شرح سے دیکھیں تو نیچے جا رہا ہے، اس کے باوجود ہم نے اپنی حربی صلاحیتوں میں کمی نہیں آنے دی، اس وقت ہم نے دفاعی بجٹ 100 ارب روپے کم کیا ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔میجر جنرل بابر افتخار نے مزید کہا کہ آرمی چیف نے ہدایت دی ہے مشقوں کو بڑے پیمانوں کے بجائے چھوٹے پیمانے پر کر لیا جائے، چھوٹی مشقوں سے بچت ہو گی، ہم نے اپنی غیر ضروری نقل و حرکت کم کر دی گئی ہے، افواج میں یوٹیلٹی بلز، ڈیزل، پٹرول کی مد میں بچت کی جا رہی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف کی ہدایت پر ایک دن ڈرائی ڈے رکھا گیا ہے جب کہ کانفرنس کو آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔گزشتہ سال کورونا کی مد میں جو رقم ملی تھی اس میں سے 6 ارب بچا کر واپس کردیے گئے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ عسکری سازو سامان کی مد میں ملنے والے ساڑھے 3 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروا دیئے ہیں۔واضع رہے کہ بھارت کا ڈیفنس بجٹ 70ارب ڈالر اور پاکستان کا دفاعی بجٹ 11ارب ڈالر ہے۔
2018 ء کے بعد کولیشن سپورٹ فنڈ کی بندش ہو گئی مگر دفاعی و سکیورٹی ضروریات کو ملکی وسائل سے ہی پورا کیا جا رہا ہے۔ آپریشن رد الفساد کے اہداف‘ دائرہ کار اور دیگر سکیورٹی امور میں کوئی کمی نہیں آنے دی گئی۔ 2020-21ء میں عسکری ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ 2019-20ء میں ملکی معاشی صورتحال کے پیش نظر دفاعی بجٹ منجمد رہا۔ پاکستان کے دفاعی بجٹ میں تاحال کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ دشمن کی طرف سے لاحق خطرات کے ادراک‘ درپیش چیلنجوں اور پاکستان آرمی کی ڈیپلائمنٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے دفاعی بجٹ کا جائزہ لینا ہو گا۔
دشمن ملک بھارت کا بڑھتا ہوا دفاعی بجٹ افواج پاکستان کیلئے ہمیشہ سے چیلنج رہا ہے لیکن اسکے باوجود ہمیشہ افواج پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔پچھلے3 سالوں میں آرمی نے اپنے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں لیا ہے۔ اتنے بڑے خطرات کی موجودگی میں مجموعی قومی پیداوار کا صرف 2.2فیصد دفاعی بجٹ ہے۔پاکستان کا ڈیفنس بجٹ جو پہلے جی ڈی پی کا 2اعشاریہ 6فیصد ہوا کرتا تھا اب اس کا تناسب کم ہو کر 2.2فیصد رہ گیا ہے۔ بھارت کا دفاعی بجٹ 70ارب ڈالر جبکہ پاکستان کا دفاعی بجٹ 11ارب ڈالر ہے۔ بھارت پاکستان کی نسبت اپنے ایک فوجی پر سالانہ 4گنا زیادہ رقم خرچ کرنے لگا ہےبھارت 42ہزار ڈالراپنے فوجی پر سالانہ خرچ کر رہے ہیں۔ بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کی نسبت 7گنا زیادہ ہے۔ بھارت 2016ء سے 2020ء کے دوران دنیا کا دوسرا بڑا اسلحہ درآمدکرنے والا ملک بن گیا ہے۔ بھارت صرف جدید اسلحہ کی خریداری کیلئے سالانہ کم و بیش 18سے 19ارب ڈالرز خرچ کرنے لگا ہے جو کہ پاکستان کے بجٹ سے کم و بیش دوگنا ہے۔ بھارت کی حکومت نے اس برس کے اپنے سالانہ بجٹ میں ملک کے دفاعی اخراجات میں 10 فیصد سے زیادہ کا اضافہ کیا ہے۔ یہ حکومت کے مجموعی اخراجات کا تقریباً 13 فیصد ہے۔بیرونی ممالک سے جنگی ساز و سامان خریدنے میں عالمی سطح پر بھارت اس وقت اول نمبر پر ہے اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اسے کے دفاعی اخراجات میں مزید اضافے کا امکان ہے۔اس برس حکومت نے دفاعی اخراجات کے لیے دو لاکھ 74 ہزار کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ اس میں سے 68400 کروڑ روپے ساز و سامان خریدنے کے لیے ہیں۔’ھارت کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ جنگی ہتھیار خریدنے والے ملکوں میں ہوتا ہے اور آئندہ برسوں میں فوج کی جدیدکاری کے لیے بڑے پیمانے پر ہتھیار اور ساز و سامان خریدنے کا منصوبہ ہے۔ سالانہ دِفاعی اخراجات کے حوالے سے بھارت دُنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ بھارت کا دِفاعی بجٹ پاکستان کی نسبت سات گُنا زیادہ ہے بھارت2016ء سے2020ء کے دوران دُنیا کا دوسرا بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک رہا بھارت صرف جدید اسلحہ کی خریداری کے لیے سالانہ لگ بھگ18سے19بلین ڈالر لگاتا ہے جو کہ پاکستان بجٹ کا تقریباََ 2گُنا ہے








