پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان راولپنڈی ٹیسٹ میچ ڈرا پاکستانی اوپنرز نے 51 سالہ ریکارڈ توڑتے ہوئے نئی تاریخ رقم کردی۔….۔(۔رپورٹ؛اصغرعلی مبارک سے) .آسٹریلیا کے درمیان راولپنڈی میں کھیلا گیا سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ ڈرا پر ختم ہو گیا اور پاکستانی اوپنرز نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے دوسری اننگز میں سنچریاں اسکور کیں . اس میچ میں بلے بازوں نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے نت نئے ریکارڈز قائم کر دیے۔سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ بلے بازوں کے لیے بہترین بیٹنگ پریکٹس ثابت ہوا اور دونوں ٹیموں کے بلے بازوں نے رنز کے انبار لگا دیے۔پاکستان کے سینئر سپورٹس جرنلسٹ اصغرعلی مبارک کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابقآسٹریلیا کے خلاف میچ کی پہلی اننگز میں 105 رنز کی اوپننگ شراکت قائم کرنے والے پاکستانی اوپنرز عبداللہ شفیق اور امام الحق نے دوسری اننگز میں بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنچریاں اسکور کیں اور 250 رنز سے زائد کی ساجھے داری بنائی۔میچ کی دونوں اننگز میں سنچری شراکت کی بدولت پاکستان کے اوپنرز نے 51 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا۔یہ 51سال میں پہلا موقع ہے کہ آسٹریلین باؤلرز کے خلاف کسی ٹیم نے دونوں اننگز میں سنچری شراکت قائم کی ہے۔اس سے قبل 1971 میں انگلینڈ کے جیفری بائیکاٹ اور جان ایڈرچ نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں محض دوسرا موقع ہے کہ کسی ٹیسٹ میچ میں تین سنچریاں اوپننگ شراکت میں اسکور ہوئی ہوں۔پاکستان کے اوپنرز نے دونوں اننگز میں سنچری شراکت بنائی جبکہ آسٹریلین اوپنرز ڈیوڈ وارنر اور عثمان خواجہ نے بھی 156رنز کی شراکت قائم کی تھی۔اس سے قبل کرکٹ کی تاریخ میں ایسا محض ایک بار 1947 میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں ہوا تھا۔مذکورہ ٹیسٹ میچ میں پاکستان کے پہلی اننگز کے اسکور 476 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ کے جواب میں آسٹریلیا کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 459 رنزب بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔آسٹریلیا کی جانب سے عثمان خواجہ نے 97، ڈیوڈ وارنر نے 68، مارنس لبوشین نے 90 اور اسٹیو اسمتھ نے 78 رنز کی اننگز کھیلی اور یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں محض دوسرا موقع ہے کہ آسٹریلیا کے ابتدائی چار بلے بازوں نے نصف سنچری اسکور کی ہو۔اس سے قبل ایسا محض ایک بار 2008 کے دہلی ٹیسٹ میں ہوا تھا جب میتھیو ہیڈن، سائمن کیٹچ، رکی پونٹنگ اور مائیکل ہسی نے بھارت کے خلاف نصف سنچریاں اسکور کی تھیں۔ اصغرعلی مبارک کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق میچ کے پانچویں اور آخری دن آسٹریلیا نے اپنی پہلی نامکمل اننگز 449 رنز 7کھلاڑی آؤٹ سے دوبارہ شروع کی تو 3.1 اوورز میں صرف 10 رنز کے اضافے سے بقیہ تینوں وکٹیں بھی گنوا بیٹھی۔آسٹریلیا کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 459رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور پاکستان نے پہلی اننگز میں 17رنز کی معمولی برتری حاصل کی۔پاکستان کے لیفٹ آرم اسپنر نعمان علی نے کیریئر کی بہترین باؤلنگ کرواتے ہوئے 6 وکٹیں حاصل کیں، انہوں نے 8 ٹیسٹ میچز میں تیسری بار 5 وکٹیں حاصل کی ہیں۔پاکستانی اوپنرز امام الحق اور عبداللہ شفیق نے پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز کا آغاز بھی پراعتماد انداز میں کیا اور کھانے کے وقفے تک کوئی وکٹ نہ گرنے دی۔دونوں نے بہترین بیٹنگ جاری رکھتے ہوئے سنچری شراکت قائم کرتے ہوئے نصف سنچریوں تک بھی رسائی حاصل کی۔میچ یقینی طور پر ڈرا کی جانب جاتا دیکھ کر آسٹریلیا نے بھی اپنے مرکزی فاسٹ باؤلرز کو تھکانا مناسب نہ سمجھا اور پارٹ ٹائم باؤلرز کو گیند تھما کر اوورز پورے کرنے کی پالیسی اپنائی۔پاکستانی اوپنرز نے بھی ناتجربہ کار اور کمزور باؤلنگ کو تختہ مشق بناتے ہوئے رنز کے ڈھیر لگا دیے اور دونوں نے اپنی اپنی سنچریاں اسکور کیں۔عبداللہ نے کیریئر میں پہلی مرتبہ سنچری اسکور کی جبکہ امام الحق نے پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی سنچری کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔دونوں اوپنرز نے اسکور 252 تک پہنچایا تھا کہ دونوں کپتانوں نے امپائرز سے مشاورت کے بعد میچ کے خاتمے پر اتفاق کیا۔پاکستان کی جانب سے عبداللہ نے 136 اور امام نے 111 رنز کی اننگز کھیلی۔دونوں اننگز میں سنچریاں اسکور کرنے پر امام الحق کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ 12 مارچ سے کراچی میں کھیلا جائے گا جبکہ لاہور کا قذافی اسٹیڈیم میں 21مارچ سے تیسرے ٹیسٹ میچ کی میزبانی کرے گا۔پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین یہ 19 ٹیسٹ میچ تھا جوڈرا ہو گیااب تک دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے ہوئے 66 برس گزرچکے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک ان دونوں کے درمیان کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچوں کی تعداد بھی 67 ہے۔ ان میں سے 21 ٹیسٹ پاکستان کی سرزمین پر، 37 آسٹریلیا میں اور 9 ٹیسٹ نیوٹرل مقامات پر کھیلے گئے۔پاکستان اب تک آسٹریلیا کے خلاف صرف 15 ٹیسٹ جیت سکا ہے۔ ان میں سے 7 ہوم گراونڈ پر، 4 آسٹریلیا اور 4 نیوٹرل مقامات پر کھیلے گئے تھے۔اسی طرح آسٹریلیا نے پاکستان کو 33 میچوں میں شکست دی۔ ان میں سے 3 میچ پاکستان میں، 26 میچ آسٹریلیا میں اور 4 میچ نیوٹرل مقامات پر کھیلے گئے۔ مجموعی طور پر دونوں ممالک کے درمیان 22 ٹیسٹ سیریز کھیلی جاچکی ہیں۔ ان میں سے ایک سیریز 5 میچوں پر مشتمل تھی جبکہ 16 سیریز 3 اور 5 سیریز 2 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل تھیں۔ ان میں سے 13 میں آسٹریلیا اور 6 میں پاکستان فاتح رہا جبکہ 3 سیریز ڈرا ہوئیں۔ اس کے علاوہ 3 مرتبہ دونوں کے درمیان ایک، ایک ٹیسٹ کھیلا گیا جن میں پاکستان نے ایک جیتا اور بقیہ 2 ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوئے۔پاکستان میں سیکیورٹی کے خدشات کے باعث دونوں ممالک 4 مرتبہ نیوٹرل مقامات پر بھی ایک دوسرے کے خلاف کھیل چکے ہیں۔ ان 4 سیریز میں ایک سیریز 4 اور 3 سیریز 2، 2 میچوں پر مشتمل تھیں۔ 3 ٹیسٹ کی واحد سیریز میں آسٹریلیا نے کلین سویپ کیا جبکہ پاکستان نے ایک مرتبہ 2 ٹیسٹ کی سیریز میں وائٹ واش کیا، اور ایک مرتبہ سیریز 0-1 سے جیتی جبکہ تیسری سیریز 1-1 سے برابر ہوئی۔آسٹریلوی ٹیم اپنے ہوم گراونڈ پر پاکستان کو 6 مرتبہ وائٹ واش کرچکی ہے۔ ان میں 3 ٹیسٹ کی 5 سیریز اور 2 ٹیسٹ کی ایک سیریز شامل ہیں جبکہ پاکستان بھی اپنی سرزمین پر آسٹریلیا کے خلاف ایک مرتبہ، 83ء-1982ء میں عمران خان کی قیادت میں کلین سویپ کرچکا ہے۔پاکستان کی سرزمین پر آسٹریلوی ٹیم 24 سال کے طویل عرصہ بعد کرکٹ کھیل رہی ہے۔ آخری مرتبہ وہ یہاں 99ء-1998ء میں آئی تھی، اور 3 ٹیسٹ کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر سے شکست دی تھی,
















