پاکستانی ٹیم کی ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے کی امید برقرار،،یونس خان کے بھارتی کھلاڑی اظہر الدین سے براے راست رابطے نے شکوک و شبہات کو جنم دے دیا،
کالم اندر کی بات ،،سینئرپاکستانی صحافی اصغر علی مبارک کے قلم سے
پاکستانی ٹیم کی حالیہ کامیابی کے بعد سیریز برابر کرنے کے بعد بھی پاکستانی ٹیم کی ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے کی امید برقرار ہے، پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ کی نمبرون ٹیم بننے کے لئے فی الحال بھارت اور آسٹریلیا کی سیریز کاانتظار کرناپڑے گا اگر بھارت ویسٹ انڈیز کے خلاف اور آسٹریلیا جاری کولمبو ٹیسٹ میں فتح حاصل نہیں کرتا تو پاکستان ٹاپ رینکنگ میں پہنچ جائے گا ۔ پاکستان نے انگلینڈ ہی ہوم فتوحات کا تسلسل بھی اوول ٹیسٹ میچ میں فتح کے بعد روک دیا ، گزشتہ چھ سیریز میں انگلینڈ نے تین بار ایشز ، دو مرتبہ بھارت اور ایک مرتبہ پاکستان کو شکست دی تھی ، اوول کا گراؤنڈ پاکستان کی کامیابیوں کے لئے ایک اہم گراؤنڈ بن گیا ہے، یہاں پر پاکستان نے پانچ میچز جیتے جبکہ دو میں اسے شکست ہوئی، پاکستان اور انگلینڈ کے مابین کھیلے جانے والی چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز2-2سے برابر رہی تاہم اوول کے میدان کی فتح برسوں پاکستانی شائقین کی دلوں میں رہے گی دریں اثنایونس خان کے برملا اظھار کے بعد کہ انکو بھارتی کھلاڑیاظہر الدین نی اوول ٹیسٹ میچ سی قبل تلے فون کیا تھا اور انسے بات چیت بھی ہوئی تھی اظہر الدین پر ماضی میں میچ فکسنگ سکینڈل میں ملوث ہونے پر تا حیات پابندی لگا دی گی تھی ایسے میچ فکسنگ سکینڈل میں ملوث پلیئر سی براے راست رابطے نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ھے ،حالانکہ پاکستانی میڈیا ڈائریکٹ فون کسی پلیئر کو نہی کر سکتا ،اور میچ کے بعد میڈیا منیجر کی موجودگہی میں ھی بات چیت کی جا سکتی ہے،اس وقت بھی سولہ رکنی ٹیم کے ساتھ سترہ آفیشل ھیں جب کہ پاکستانی پلیئرز کو شوشل میڈیا استعمال کی پابندی ھے ،معتبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی بروقت مداخلت کے باعث پاکستانی کرکٹ ایک ممکنہ سیکنڈل سے بچ گئ یھے ۔ اطلاعات تھیں کہایک فلاحی تنظیم فلاحی کاموں کی آڑ میں سٹے بازوں کے زرییے پاکستانی کرکٹرز کو اپنے جال میں پھنساکر ان کے خلاف سٹنگ آپریشن کرواسکتے ہیں۔ پی سی بی کے سینئر افسران نے تصدیق کی ہے کہ پی سی بی کی ٹور مینجمنٹ کمیٹی نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں کو انگلینڈ کے دورے کے دوران کسی سے بھی ملاقات کی اجازت دے رکھی ھے ۔ صورتحال اس وقت گھمبھیر ہوگئی، جب نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور بدانتظامی کی کی وجہ سے پی سی بی نے فوری طور پرٹور مینجمنٹ کمیٹی کو متنبہ کیا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ پاکستانی کھلاڑی ا سکینڈل میں پھنس سکتے ہیں۔ مانچسٹر ٹیسٹ کے دوران پی سی بی کےذمداروں کے علم میں آیا کہ کرفیو کی پابندی کے باوجود کچھ سینئر کھلاڑی اپنے کمروں سے غائب پاے جاتے ھیں ، لیکن ان کھلاڑیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ منیجر انتخاب عالم نے کھلاڑیوں کو تین تقریبات میں شرکت کی اجازت دی، اور کچھ کھلاڑیوں نے تقریبات میں شرکت کا معاوضہ بھی وصولکر لیا تھا ،۔ ان تقریبات میں شرکت کھلاڑیوں کی فوٹیج ٹی وی چینلز پر بھی دکھائی گئی، جبکہ پی سی بی کے اپنے قواعد کے مطابق رات کو کھلاڑیوں کو اپنے کمروں تک محدود رہنا چاہیےتھا ۔یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مانچسٹر کے ایک ڈنر میں ایک ایسابڑا سٹے باز بھی شریک تھا، جس کے ماضی میں بوکیز سے رابطے رہے ہیں، آئی سی سی کی شکایات پر برطانوی حکام جو مسلسل نگرانی کر رہنے تھے ، پی سی بی کی ایک انکوائری رپورٹ کے مطابق شاہد آفریدی فاﺅنڈیشن کے ایک عشائیے کے ٹکٹ اس وعدے کے ساتھ فروخت کیےتھے کہ پاکستانی ٹیسٹ پلیئرز سے ملاقات کا بھی بھرپور موقع ملے گا۔ اس تقریب سے شاہد آفریدی فاﺅنڈیشن نے ہزاروں پونڈ اکٹھے کیےھیں وازے رھے کہ یہ ڈنر اوول ٹیسٹ کے دوران تیرہ اگست کو ہوا تھا، مگر عین موقع پرپاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو شاہد آفریدی فاﺅنڈیشن ڈنر میں شرکت سے روک دیا ، جس نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ھے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈکے حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈنر میں شامل بعض افراد کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنے غلط مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ھیں یہ بھی معلوم ھوا ھے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نےڈسپلن خلاف ورزی کرنے والے پلیئرز کے بارے میں ٹور مینجمنٹ کمیٹی سے رپورٹ طلب کر لی ھے ،،،،خصوصی رپورٹ و کالم اندر کی بات ،،سینئرپاکستانی صحافی اصغر علی مبارک کے قلم سے



