پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں کالعدم بی ایل اے کا دہشتگرد گلزار امام گرفتار ………..
کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک..)…
.پاکستانی سیکورٹی فورسز نے کالعدم بلوچ نیشنل آرمی کے بانی اور انتہائی مطلوب دہشتگرد گلزار امام کو گرفتار کرلیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس آپریشن میں ہائی ویلیو ٹارگٹ گلزار امام عرف شمبے کو گرفتار کیا، گلزار امام عسکریت پسند کالعدم تنظیم بلوچ نیشنل آرمی کا بانی اور رہنما ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بی این اے، بلوچ ریپبلکن آرمی اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے انضمام سے وجود میں آئی تھی، بلوچ نیشنل آرمی پنجگور اور نوشکی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ بلوچ نیشنل آرمی پاکستان میں درجنوں دہشتگرد حملوں کی ذمہ دار ہے، گلزار امام 2018 تک بلوچ ریپبلکن آرمی میں براہمداغ بگٹی کا نائب بھی رہا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق گلزارامام بلوچ راجی آجوئی سانگرکی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا رہا، وہ بلوچ راجی آجوئی سانگرکا آپریشنل سربراہ بھی رہا،گلزار امام کے افغانستان اور بھارت کے دورے بھی ریکارڈ پر ہیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ گلزارامام کو مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ ایک کامیاب آپریشن کے بعد گرفتار کیا گیا، اس کی گرفتاری بی این اے اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے لیے بڑا دھچکا ہے، اس کے دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ روابط کی چھان بین کی جارہی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس آپریشن میں ہائی ویلیو ٹارگٹ دہشتگرد گلزار امام عرف شمبے کو گرفتار کیا، گلزار امام دہشتگرد کالعدم تنظیم بلوچ نیشنل آرمی کا بانی رہنما ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ برس پاکستان میں سرگرم کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کی جانب سے نومبر میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا بلوچستان میں کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں نے بھی سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اچانک اضافہ کر دیا تھا ۔
بلوچستان کے آٹھ اضلاع میں 25 دسمبر کوایک ہی دن میں نو بم دھماکوں سمیت سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر فائرنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے تھے۔صرف کوئٹہ میں چھ گھنٹے کے دوران دستی بم دھماکوں کے چھ واقعات رونما ہوئے جن میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی ہوئے تھے۔ کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے بیشتر حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ گذشتہ برس 2022 کے آغاز سے ہی بلوچستان میں کالعدم بلوچ علیحدگی پسندتنظیموں کے حملوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا جس میں سیکیورٹی فورسز کو خصوصی طور پر ہدف بنایا گیا تھا۔ محکمۂ داخلہ بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں گزشتہ سال دہشت گردی کے واقعات میں 11 فی صد اضافہ ہواتھا ۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ سال دہشت گردی کے 290 واقعات میں 125 افراد ہلاک اور 417 زخمی ہوئےتھے۔
یاد رہے کہ مبینہ طورپرگذشتہ برس 23 نومبر 2022 کو ’ہائی پروفائل عسکریت پسند تنظیم بلوچ نیشنل آرمی کے بانی سربراہ گلزار امام عرف شمبے کو گرفتار کرنےکا دعوی کیا گیا تھا۔ سال 2021 نومبر میں بلوچستان میں دہشتگرد تنظیم بلوچ نیشنل آرمی نے مبینہ طورپر دعویٰ کیا تھا کہ ان کے سربراہ گلزار امام حکومت پاکستان کی حراست میں ہیں۔ اس وقت پاکستان کے ایک اہلکار کا دعویٰ تھا کہ گلزار امام کو ترکی سے حراست میں لے کر پاکستان کے حوالے کیا گیا تھا۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق گلزار امام ایک سخت گیر عسکریت پسند ہونے کے ساتھ ساتھ کالعدم تنظیم بلوچ نیشنل آرمی (بی این اے) کے بانی اور رہنما بھی رہے ہیں جو بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی (یو بی اے) کے انضمام کے بعد وجود میں آئی تھی۔بی این اے، پنجگور اور نوشکی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں (لیویز) کی تنصیبات پر حملوں سمیت پاکستان میں درجنوں پرتشدد دہشت گرد حملوں کی ذمہ دار ہے۔
دہشتگرد گلزار امام 2018 تک بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) میں براہمداغ بگٹی کے نائب بھی رہے۔ دہشتگرد گلزار امام بلوچ راجی آجوئی سانگر (براس) کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے اور اس کے آپریشنل سربراہ رہے۔ دہشتگرد گلزار امام کے افغانستان اور انڈیا کے دورے بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں اور دشمن ملک کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ساتھ ان کے روابط کی مزید چھان بین کی جا رہی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق انھیں ایسی معلومات ملی ہیں جن کے مطابق دشمن ملک کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے ریاست پاکستان اور اس کے قومی مفادات کے خلاف کام کرنے کے لیے اُن کا استحصال کرنے کی بھی کوشش کی۔بتایا گیا ہے کہ کئی مہینوں تک مختلف علاقوں میں انتہائی احتیاط سے کی گئی منصوبہ بندی کے بعد انھیں گرفتار کیا گیا ۔ دہشتگرد گلزار امام شمبے کی گرفتاری بی این اے کے ساتھ ساتھ دیگر عسکریت پسند گروپوں کے لیے ایک سنگین دھچکا ہے، جو بلوچستان میں امن کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مبنیہ طورپربلوچ نیشنل آرمی نے گلزار امام کی گرفتاری کی اطلاع گذشتہ سال ایک اعلامیے میں جاری کی تھی، جس میں کہا گیا کہ کچھ عرصہ قبل گلزار امام لاپتہ ہو گئے تھے، مبینہ طورپر دہشتگرد گلزار امام کا تعلق بلوچستان کے علاقے پنجگور پروم سے ہے۔ اُنھوں نے سنہ 2003 میں طلبہ سیاست میں قدم رکھا اس وقت وہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن یعنی بی ایس او امان گروپ میں تھے اور جب سنہ 2006 میں بی ایس او کے تمام دھڑوں کا انضمام ہوا اور بی ایس او آزاد کا قیام عمل میں آیا تو وہ بی ایس او پنجگور ریجن کے صدر منتخب ہوئے۔
دہشتگرد گلزار کے بھائی ناصر امام بھی دہشتگرد تنظیم مجید بریگیڈ میں رہے ہیں۔ پنجگور میں گذشتہ برس ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے میں وہ ہلاک ہوئے تھے۔ بی ایس او کے خلاف جب حکومت پاکستان نے کریک ڈاؤن شروع کیا تو دہشتگرد گلزار امام پہاڑوں پر چلے گئے اور اُنھوں نے بلوچ ریپبلکن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور اس کے کمانڈر بن گئے۔ مبینہ طورپر اداروں کا دعویٰ ہے کہ بی آر اے کے سربراہ براہمداغ بگٹی ہیں اور نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد یہ عسکریت پسند تنظیم قائم کی گئی تھی۔ بی ایس او آزاد کے سابق مرکزی رہنما پردھان بلوچ کا کہنا ہے کہ جب استاد اسلم اچھو اور بشیر زیب نے مری سرداروں سے لاتعلق ہو کر بلوچ لبریشن آرمی پر اپنی گرفت مضبوط کی اور مقامی فیصلے لیے، تو اس سے متاثر ہو کر گلزار امام نے بلوچ ریپبلکن آرمی میں پہلے اپنا دھڑا بنایا تھا اس کے بعد بلوچ نیشنلسٹ آرمی یعنی بی این اے کا قیام عمل میں لائے۔پاکستان میں عسکریت پسندی کے رجحانات پر کام کرنے والے ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا نے نومبر 2022 میں برٹش نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے گلزار امام کی گرفتاری کو حکومت پاکستان کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا تھا۔ بقول عامر رانا کے، بی آر اے اور یو بی اے کے دھڑوں کے ساتھ مل کر گلزار امام نے بلوچستان نیشنل آرمی کی بنیاد رکھی اور اس کی کارروائیوں کا دائرہ کار لاہور اور جنوبی پنجاب تک پھیلا دیا تھا۔ ان کے مطابق ’گلزار امام بلوچستان کے نوجوانوں بالخصوص بی ایس او آزاد میں کافی مقبول رہے ہیں۔‘انکا کہناتھا کہ طالبان افغانستان سے اب بلوچ عسکریت پسندوں کو نکال رہے ہیں، اب ان کے پاس دو آپشنز ہیں یا تو ایران چلے جائیں یا پاکستان میں رہیں تاہم ایران کی شرائط بہت سخت ہیں۔برطانیہ میں موجود اسلامک تھیالوجی آف کاؤنٹر ٹیررازم کے ڈائریکٹر فاران جعفری نے نومبر 2022 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ کامیابی اور پیشرفت تو ہے لیکن اسے کوئی غیر معمولی کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اُن کے مطابق ’گلزار امام نے اپنے وفاداروں کے ساتھ یہ گروپ بنایا جس نے بعض کارروائیاں بھی کیں لیکن یہ کوئی بڑا گروپ نہیں۔‘’بلوچ عسکریت پسند تحریک اس وقت بنیادی سطح تک ہے، اگر دو چار کمانڈر اٹھا لیے جائیں یا اُنھیں مار دیا جائے تو اس پر کوئی فرق نہیں پڑتا، جیسے اسلم عرف اچھو کو جب ہلاک کیا گیا تو اس کو بڑی پیشرفت قرار دیا گیا لیکن ہم نے دیکھا کہ اس سے کوئی خاطر خواہ فرق نہیں آیا۔ ہو سکتا ہے جو عکسریت پسند ہیں، ان کا کچھ وقتی طور پر مورال کم ہوا ہو لیکن بعد میں وہ ایک نئی ہمت و قوت سے نظر آتے ہیں۔‘ یاد رہے کہ مبینہ طورپرگذشتہ برس پاکستان کے ادارے غیر سرکاری طور پر گلزار امام کی گرفتاری کی تصدیق کرتے رہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی بعض افراد بشمول صحافی اس کا تذکرہ کرتےرہے لیکن باضابطہ گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی تھی۔ طریقہ کار کے مطابق پاکستان کے کئی ادارے تحقیقات کرتے ہیں،اس کے بعد ہی اُنھیں پولیس یا سی ٹی ڈی کے حوالے کیا جاتا ہے یاد رہے کہ 3 جولائی 2019 کو صوبہ بلوچستان کے دو مختلف علاقوں، نوشکی اور پنجگور میں ایف سی کے دفاتر پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کے نتیجے میں کم از کم چار فوجی شہید ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں دہشتگرد تنظیم کے 15 حملہ آور مارے گئے تھے۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ‘دہشت گردوں کے حملوں کو بروقت کارروائی کر کے ناکام بنایا گیا تھا۔‘حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے جاری کیے گئے پیغام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تنظیم کے مجید بریگیڈ نے یہ حملے کیے ۔ یاد رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے ) پہلی مرتبہ 1970 کی دہائی کے اوائل میں وجود میں آئی تھی جب سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پہلے دور حکومت میں بلوچستان میں ریاست پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت شروع کی گئی تھی۔ تاہم فوجی آمر ضیاالحق کی جانب سے اقتدار پر قبضے کے نتیجے میں بلوچ قوم پرست رہنماﺅں سے مذاکرات کے نتیجے میں مسلح بغاوت کے خاتمے کے بعد بی ایل اے بھی پس منظر میں چلی گئی۔ پھر سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس نواز مری کے قتل کے الزام میں قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری کی گرفتاری کے بعد سنہ 2000 سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سرکاری تنصیات اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان حملوں میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ ان کا دائرہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پھیل گیا۔ ان حملوں میں سے زیادہ تر کی ذمہ داری بی ایل اے کی جانب سے قبول کی جاتی رہی۔ سنہ 2006 میں حکومتِ پاکستان نے بلوچ لبریشن آرمی کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا اور حکام کی جانب سے نواب خیر بخش مری کے بیٹے نوابزادہ بالاچ مری کو بی ایل اے کا سربراہ قرار دیا جاتا رہا۔ نومبر 2007 میں بالاچ مری کی ہلاکت کی خبر آئی اور کالعدم بی ایل اے کی جانب سے کہا گیا کہ وہ افغانستان کی سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز سے ایک جھڑپ میں مارے گئے۔ بالاچ مری کی ہلاکت کے بعد برطانیہ میں مقیم ان کے بھائی نوابزادہ حیربیار مری کو بی ایل اے کا سربراہ قرار دیا جانے لگا تاہم نوابزادہ حیربیار کی جانب سے سربراہی کے دعووں کو سختی کے ساتھ مسترد کیا جاتا رہا۔ نوابزادہ بالاچ مری کی ہلاکت کے بعد بی ایل اے کی قیادت میں جو نام ابھر کر سامنے آیا وہ اسلم بلوچ تھا۔ ان کا شمار تنظیم کے مرکزی کمانڈروں میں کیا جانے لگا۔ اسلم بلوچ کے سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں زخمی ہونے کے بعد علاج کی غرض سے انڈیا جانے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ صحت مند ہونے کے بعد اسلم بلوچ بلوچستان اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں مقیم رہےاسلم بلوچ کے دور میں ہی بی ایل اے میں ان کے زیر اثر گروپ کی جانب سے خود کش حملے بھی شروع کر دیے گئے جن کو تنظیم کی جانب سے فدائی حملے قرار دیا جاتا رہا۔ یہ تنظیم چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی بھی مخالفت کرتی رہی ہے اور اس نے اپنی کارروائیوں میں پاکستان میں چینی اہداف کو نشانہ بنایا ۔بی ایل اے کی جانب سے اگست 2018 میں سب سے پہلے جس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی وہ خود اسلم بلوچ کے بیٹے نے ضلع چاغی کے ہیڈکوارٹر دالبندین کے قریب کیا تھا۔ اس حملے میں سیندک منصوبے پر کام کرنے والے افراد کی جس بس کو نشانہ بنایا گیا تھا اس پر چینی انجینیئر بھی سوار تھے۔ اس کے بعد کالعدم بی ایل اے نے نومبر 2018 میں کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ حملہ تین خود کش حملہ آوروں نے کیا تھا۔اس حملے کے بعد ہی قندھار کے علاقے عینو مینہ میں ایک مبینہ خودکش حملے میں اسلم اچھو کی ہلاکت کی خبر آئی,قیادت میں تبدیلی کے باوجود تنظیم کی جانب سے ’فدائی‘ سکواڈ کی کارروائیوں کا سلسلہ رکا نہیں اور سال 2019 مئی میں گوادر میں پرل کانٹینیٹل ہوٹل پر بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کے ارکان نے ایسا ہی ایک حملہ کیا تھا۔
مجید بریگیڈ مجید بلوچ نامی شدت پسند کے نام پر تشکیل دیا گیا جنھوں نے 1970 کی دہائی میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر دستی بم سے حملے کی کوشش کی تھی۔نومبر 2017 میں بلوچ لبریشن آرمی ’بلوچ راجی آجوئی سنگر‘ یا براس نامی بلوچ شدت پسند تنظیموں کے ایک اتحاد کا بھی حصہ بنی تھی۔ اس اتحاد میں بی ایل اے کے علاوہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچستان ریپبلکن گارڈز نامی تنظیمیں بھی شامل تھیں, دسمبر 2018 کو تمپ میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کے علاوہ تربت اور پنجگور کے درمیان فورسز پر حملے اور اورماڑہ کے علاقے کوسٹل ہائی وے پر بسوں سے اتار کر بحریہ کے اہلکاروں کے قتل کی کارروائیاں شامل ہیں,یاد رہے کہ 3 جولائی 2019 کوامریکہ نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو عالمی دہشت گرد تنظیم قراردیا تھا ۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ‘بی ایل اے ایک مسلح علیحدگی پسند گروہ ہے جو پاکستان میں واقع بلوچ اکثریتی علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور عام لوگوں کو نشانہ بناتا ہے۔’
محکمہ خارجہ کے بیان میں بی ایل اے کی ’دہشتگردانہ‘ کارروائیوں کے حوالے بھی دیے گئے اور کہا گیا تھا کہ یہ تنظیم اگست 2018 میں بلوچستان میں چینی انجینئیرز پر حملے، نومبر 2018 میں کراچی میں چینی قونصلیٹ اور مئی 2019 میں گوادر میں ہوٹل (پرل کانٹیننٹل) پر حملوں کی ذمہ دار رہی ہے۔عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے بعد امریکہ میں موجود اس تنظیم کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں منجمد کر دی گئی اور خاص طور پر امریکی عوام کو پابند کیا گیا کہ وہ اس تنظیم سے کسی طرح کا لین دین نہ کریں۔ محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ پابندی کا مقصد ایسی تنظیموں اور افراد کو الگ تھلگ کرنا اور انھیں امریکہ کے معاشی نظام تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ بی ایل اے نے ماضی قریب میں پاکستان میں ‘کافی دہشت گردانہ کارروائیاں کی ہیں۔’ وزات خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ امریکہ کا یہ اقدام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ بی ایل اے کے کام کرنے کے مواقع کم ہوئے ہیں۔پاکستان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ‘یہ اہم ہے کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے، اس کے منتظم، مالی مدد کرنے والے، بیرونی سپانسرز اور ایسے اقدامات کی ستائش کرنے والوں کو جواب دہ کیا جائے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ پاکستانی وزارتِ داخلہ کے مطابق پاکستان میں کالعدم قرار دی گئی 70 جماعتوں میں سے 15 علیحدگی پسند جماعتیں ہیں۔حکام کے مطابق یہ تنظیمیں ریاستِ پاکستان سے علیحدگی کے لیے مسلح جدوجہد میں ملوث رہی ہیں یا ہیں۔‘ان میں سے 13 علیحدگی پسند جماعتوں کا تعلق صوبہ بلوچستان سے ہے۔ صوبہ بلوچستان میں بلوچستان لبریشن آرمی علیحدگی پسندوں کی پہلی جماعت تھی جسے سنہ 2006 میں پاکستان نے کالعدم قرار دیا تھا۔اس کے بعد پانچ علیحدگی پسند جماعتوں کو سنہ 2010، پانچ کو سنہ 2012، جبکہ دو کو سنہ 2013 میں کالعدم قرار دیا گیاسیکیورٹی ماہرین کاکہنا ہے کہ گذشتہ برس بلوچستان کی شورش کا جائزہ لیا جائے تو بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں اپنی حکمتِ عملی میں منظم اورتجربہ کارظاہر ہورہی ہیں۔ محقق عبدالباسط کے مطابق بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں “گن اینڈ بم” دھماکوں کی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کے کمپیوں پرحملے کررہی ہیں۔ گذشتہ برس بی ایل اے کی جانب سے ہرنائی اورزیارت میں سیکیوریٹی اہلکاروں کویرغمال بناکراپنے قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ بلوچ علیحدگی پسند گروہ اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے بلوچستان سے باہر بھی حملے کرتے ہیں جس کے لیے انہوں نے لاہورکے انارکلی بازار اور جامعہ کراچی میں چینی اساتذہ کی گاڑی پر خودکش حملے کی مثال دی۔