وزیر اعظم کا گندم ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم ….اصغر علی مبارک ……….وزیر اعظم نے گندم ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے کیونکہ گزشتہ تین ماہ کے دوران گندم کی قیمتوں میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے حکومت یہ اجناس رعایتی نرخوں پر مقرر کردہ پوائنٹس کے ذریعے غریبوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہو گئی ہے لیکن قابل ستائش اقدام کے بھی چند مقامات پر برے نتائج دیکھنے کو ملے جہاں کئی مراکز پر عوام میں ہاتھا پائی ہوئی کیونکہ لوگ گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنے کے بعد بھی گندم کا تھیلا حاصل کرنے میں ناکام رہے اور اس دوران ایک دو واقعات میں ہلاکتوں کی اطلاع بھی موصول ہوئی۔خیال رہے کہ سبسڈی پر آٹا فراہم کرنے والی دکانوں کے سامنے مجبور مردوں اور عورتوں کا ہجوم ملک میں غذائی اجناس کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی جھلک پیش کرتا ہے۔ میرپورخاص میں حال ہی میں آ ٹے کے حصول کے لیے قطار میں لگنے والا چھ بچوں کا باپ بھگدڑ مچ جانے کے باعث اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ ملک ضروریاتِ زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے لوگوں کو مفلسی کی طرف دکھیل دیا ہے۔ یہ صورتحال نہایت گھمبیرہے جبکہ معاشی سطح پربھی جلد کسی قسم کی بہتری کے امکانات بھی نظر نہیں آرہے ہیں ۔ اور خدشہ ہے کہ حالات اس سے بھی زیادہ بدتر ہوسکتے ہیں جبکہ ہمارے میڈیا اینکرز سب اچھا ہے کی خبر دے رہے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے گندم کے ذخیرے کی قلت کے تاثر کو بھی رد کرتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کےعزم کااظہار کیا ہے وزیر اعظم شہباز شریف نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک کے پاس گندم کا وافر ذخیرہ ہے اور صوبوں کو اپنے ذخائر کے ساتھ ساتھ پاسکو(پاکستان ایگریکلچر سپلائیز اینڈ اسٹوریج کارپوریشن) کے پاس موجود ذخائر کو استعمال کرنا چاہیے تاکہ فلور ملوں کو اجناس کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ گندم کے بحران پر اجلاس کے دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم کسی کو گندم کے آٹے کی مصنوعی قلت اور منافع خوری میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔تندور مالکان نے روٹی اور نان کی قیمتوں میں 5 سے 10 روپے کا اضافہ کر دیا ہے جس سے ان کی قیمتیں بالترتیب 25 اور 30 روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ تاہم وزیراعظم نے اجلاس میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران حکومت کے سخت اقدامات کی بدولت 40 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 1000 روپے کی کمی ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکام کو گندم کے آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے، حکومت ان جرائم میں ملوث افراد کو مثالی سزا دے گی۔ ان کہنا تھا کہ کہ رواں ماہ کے آخر تک کم از کم 10 لاکھ ٹن درآمدی گندم منڈی پہنچ جائے گی، اس کے علاوہ تقریباً اتنی ہی مقدار رواں ہفتے کے شروع میں بندرگاہ پر بھی پہنچ جائے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تھریشنگ سیزن کے اختتام تک 14 لاکھ ٹن کیری فارورڈ گندم کا ذخیرہ موجود تھا جو اگلے سیزن تک قوم کی ضرورت کو پورا کرے گا۔دریں اثنا، پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے پی ڈی ایم کی زیر قیادت مخلوط حکومت کو گندم کے آٹے کے بحران کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے مئی میں سرکاری ذخیرے سے گندم کی جلد از جلد ریلیز کا غلط حکم دیا تھا جس کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں مندی پیدا ہوئی۔ حل ہی میں مالی بدحالی اور کمر توڑ مہنگائی کے اس بدترین دور میں وزارتِ خزانہ کی جانب سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک اشتہار چلوایا گیا۔ اس اشتہار میں ہمیں یہ یقین دلانے کی کوشش کی گئی کہ ملک کی معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے۔ یہ اشتہار دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچا لیا گیا ہے اور معیشت مستحکم ہورہی ہے۔لگتا ہے جیسے ہمارے حکمران بدترین معاشی بحران کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں یا پھر وہ اعداد و شمار کا وہی فرسودہ کھیل کھیل رہے ہیں۔ اگر حکومت یہ سوچ رہی ہے کہ وہ غلط اعداد و شمار دکھا کر اپنا کھویا ہوا سیاسی سرمایہ واپس حاصل کرسکتی ہے تو یہ اس حکومت کی بہت بڑی بھول ثابت ہوگی۔حکومتی دعوے حقیقت سے بہت دُور نظرآتے ہیں۔ خیال ریے کہ تاحال ابھی تک نہ تو پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے باہر آیا ھے اور نہ ہی پاکستان کی معاشی بحالی کے کوئی امکانات ظاہر ھوئےہیں۔ خطرہ تاحال موجود ھے اس کے ساتھ ہی پاکستانی روپے کی قدر میں استحکام کا دعویٰ کرکےقوم کے ساتھ سنگین مذاق کیا جا رہا ہے۔ اس دعوے سے وزارت خزانہ کے زمہ داروں کا ڈالر کی قیمت مصنوعی طور پر کم کرنے کے جنون کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ قارئین محترم ؛ یاد رہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ پیکج کی اگلی قسط کے لیے مذاکرات بھی اسی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں جبکہ مذاکرات کا اگلا دور پہلے ہی کئی ماہ سے تاخیر کا شکار چلا آرہا ہے۔ایسے میں بےپر کی اڑائی جارہی ہیں۔کہ سب اچھا ہے سیاسی عدم استحکام سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل مندی کا رحجان ھے رہی سہی کسر بجلی، گیس بلوں میں اضافہ نےپوری کردی ھے۔
علاوہ ازیں بڑھتے ہوئی ٹیکس ریونیو کی شرح اور کم ہوتی سبسڈیز جیسے اقدامات کے علاوہ روپے کی قدر سے بھی آئی ایم ایف سے مذاکرات کی بحالی کی اہم شرط ہے۔
ملک میں پنجاب اسمبلی توڑنے کی گورنر پنجاب کو بھیجی جانے والی ایڈوائس کے بعد سیاسی صورتحال مزید بگڑنے کا امکان ھے۔ سیاسی وجوہات کی بنا پر ہماری حکومت سخت مگر ضروری اقدامات لینے سے بھی گریزاں نظر آ رہی ہے۔امریکی
ڈالر کی قیمت کو مصنوعی بنیادوں پر کم رکھنے پر سنگین صورتحال نےجنم لیا ہے جبکہ اس سے ڈالر کی بلیک مارکیٹ میں فروخت میں مزید اضافہ ہوا ہے اور ملک میں حوالہ،ھنڈی سسٹم مضبوط ہوا ہے۔ سرکاری اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمتوں میں فرق، بینکنگ چینلز کے ذریعے بھیجے جانے والی ترسیلات میں بڑی کمی کا باعث بنا ہے۔ وزارت خزانہ کے روپے کی قدر کو بہتر کرنے کے اس طریقے سے ملک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔مزید یہ کہ تاحال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ علاوہ ازیں آئی ایم ایف سے قرضے کی نئی قسط بھی التوا کا شکار ہے جس نے دیگر اداروں سے ملنے والے قرض اور دوست ممالک سے ملنے والی رقوم کو متاثر کیا ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر ہمارے زرِمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوچکے ہیں۔ لیکن ہمارے معاشی بقراط و سقراط اب بھی حالات کی سنگینی سے انکاری ہیں۔ وزارت خزانہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ آئی ایم ایف ان کی شرائط کو تسلیم کرسکتا ہے۔ اتحادی حکومت کے لیے ٹیکس شرح بڑھا کر مہنگائی کو بڑھانا بھی کافی مشکل ہوگیا ہے۔ وہ اس حوالے سے شدید مخالفت کا سامنا کررہی ہے۔ بلاشبہ اس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہاھے۔ لیکن حکومت کے پاس یہ کڑوی گولی نگلنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ھے۔
پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج میں مزید تاخیر تباہ کُن ثابت ہوسکتی ہے۔ اب جبکہ ملک پر ڈیفالٹ کا خطرہ تاحال موجود ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیرِاعظم پاکستان کو بلآخر حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوگیا ہے اور انہوں نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔اس ضمن میں انہوں نے دوست ممالک کے سربراہان کے زریعے بھی آئی ایم ایف سے رابطے کیے ہیں لیکن شاید حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کا وعدہ کیے بغیر باضابطہ طور پر مذاکرات کی بحالی کا کوئی امکان موجود نہیں ھے ۔آئی ایم ایف سے مذاکرات سے قبل ہمیں کچھ پیشگی اقدامات بھی لینے ہوں گے جن میں روپے کی قدر میں کمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔
وزیرِاعظم کے اعلان کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم اگلے چند دنوں میں اسلام آباد پہنچ رہی ہے لیکن اس کے آثار نظر نہیں آرہے۔ کیونکہ پاکستان آنے کے بجائے آئی ایم ایف حکام نے حالیہ جنیوا کانفرنس میں وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار سے ملاقات کی لیکن اس ملاقات کے کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آیا ھے ۔اور معاملات جوں کے توں ہیں۔ اس ڈونر کانفرنس میں جہاں ممالک نے لاکھوں سیلاب زدگان کی بحالی اور تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیاھے، وہیں وزیرِاعظم پاکستان کا خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف سے کہنا تھا کہ وہ پاکستان کو مالی قرضہ دینے سے قبل اپنی معاشی اصلاحات کی شرائط کو کم کردیں۔ انکا مزید کہنا تھاکہ پاکستان سیلاب کے تباہ کُن نتائج سے نمٹ رہا ہے، اسے ’سانس لینے کا موقع‘ دیا جائے۔
یہاں اس بات کا امکان موجود ہے کہ پچھلے سال پاکستان کے ایک تہائی حصے کو اپنی لپیٹ میں لینے والے سیلاب کے پیشِ نظر آئی ایم ایف اپنی شرائط میں کچھ نرمی کردے لیکن آئی ایم ایف ملک کی مالی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے اقتصادی اصلاحات کو ملتوی کرنے پر ہرگز رضامند نہیں ہوا ھے۔ حالیہ مہینوں میں ریونیو میں آنے والی کمی نے اہم اقتصادی اصلاحات کو بہت ضروری بنادیا ہے۔یقینی طور پر آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی پاکستان کو درپیش موجودہ معاشی مشکلات سے نکلنے کا حل نہیں ہے لیکن دیگر مالیاتی اداروں سے معاملات طے کرنے کے لیے یہ اہم کردار ادا کرے گی۔ صرف بیرونی قرضوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اندرونی قرضوں کی وجہ سے بھی ملک کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ موجود ھے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے 22 کروڑ عوام طویل عرصے سے مشکلات کا شکار ہیں۔ امیر امیر تر ہوگیاھے جبکہ غریب عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ھمارے ہاں اب تو ریاستی معاملات چلانے کے لیے بھی قرضے لئے جاتے ہیں۔
قارئین محترم؛ تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ہمارا ملک پاکستان مالیاتی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ہم نے متعدد بار خود کو معاشی آئی سی یو میں پایا ہے لیکن ہم بیرونی امداد کی وجہ سے اس سے باہر آتے رہے ہیں۔ ہم اسی امید میں جی رہے ہیں کہ ہمارے بیرونی سہولت کار سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات ہمیں مشکل سے نکال لیں گے۔ یقین ھے کہ ایک بار پھر ہم معاشی بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوجائیں لیکن ہم ایک بار پھر مستقبل میں اس کا شکار ہوسکتے ہیں، کیونکہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ ماضی کی طرح اس بار بھی ہم دوست ممالک کی امداد اور تعاون سے ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل آئیں گے لیکن قرض دینے والی ایجنسیوں اور دوست ممالک کی مدد سے ہمارے دائمی معاشی مسائل دُور نہیں ہوں گے۔ یہ معاشی مسائل اب وقتی پالیسیوں سے حل نہیں ہوں گے۔
جب تک ہم مسائل کو حل کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی نہیں لائیں گے تب تک ہمارا ملک یونہی معاشی مسائل کا سامنا کرتا رہے گا جو ہماری قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔
اقتصادی معاملات کے حوالے سے دوسروں پر انحصار کرنے سے ہم اپنی خودمختاری پر سمجھوتا کرلیتے ہیں۔ اس انتظار میں بیٹھنے کے بجائے کہ بیرونی سہولت کار ہمیں اس مشکل سے نکالیں گے، ہمیں فوری سخت اصلاحات کرنی ہوں گی تاکہ پاکستان کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکے،