.وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے نجم سیٹھی کےمستعفی ھونےکے بعد سابق صدر آئ سی سی احسان مانی چیئرمین پی سی بی نامزد کردیا

…….اسلام آباد (رپورٹ :اصغر علی مبارک سے )…………….…..چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نجم سیٹھی نے نئی حکومت کی آمد کے ساتھ ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سابق صدر احسان مانی کو نیا چیئرمین پی سی بی نامزد کردیا ہے۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں نے احسان مانی کو نیا چیئرمین پی سی بی تعینات کردیا ہے، وہ اپنے ساتھ وسیع اور قیمتی تجربہ لائیں گے، احسان مانی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ وہ تین سال تک آئی سی سی میں خزانچی رہے اور پھر 3سال تک آئی سی سی کی سربراہی کی۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی کے لیے آئینی طریقہ کار کے مطابق چلیں گے اور انہیں چیئرمین پی سی بی کے عہدے کے لیے الیکشن لڑنا ہو گا۔اس سے قبل سیٹھی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے استعفے کی ایک نقل شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنا استعفیٰ دینے سے قبل وزیر اعظم کے حلف لینے کا انتظار کر رہا تھا۔سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے عمران خان کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں لکھا کہ مجھے اگست 2017 میں بورڈ آف گورنرز کے دس اراکین نے بالاتفاق 3سال کے لیے چیئرمین پی سی بی منتخب کیا تھا۔ نجم سیٹھی نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ متعدد مواقعوں پر کہہ چکے ہیں پاکستان کرکٹ کے لیے آپ کا ایک مقصد ہے لہٰذا یہ بہتر ہو گا کہ آپ یہ عہدہ سنبھالیں اور ایسی مینجمنٹ کو یہ ذمے داری سونپیں جسے آپ کا مکمل اعتماد اور بھروسہ حاصل ہو۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے وسیع تر مفاد کے آپ کے مقاصد کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے میں چیئرمین پی سی بی اور بورڈ آف گورنر کے رکن کی حیثیت سے مستعفی ہوتا ہوں۔واضح رہے کہ سابق چیئرمین پی سی بی شہریار خان کی جانب سے عہدہ چھوڑنے اور مدت پوری کرنے کے بعد بورڈ آف گورنرز نے گزشتہ سال نجم سیٹھی کو پی سی بی چیئرمین منتخب کیا تھا۔نجم سیٹھی اور ذکا اشرف کے درمیان ایک عرصے ایک عرصے تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے عہدے کے لیے میوزیکل چیئر کا کھیل جاری رہا تھا اور دونوں چیئرمین پی سی بی منتخب ہوتے رہے۔تاہم 2014 میں نواز شریف نے ذکا اشرف کو پی سی بی چیئرمین کے عہدے سے برطرف کرتے ہوئے پیٹرن ان چیف کے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نجم سیٹھی کو چیئرمین بنانے کا اعلان کیا تھا۔عمران خان اور نجم سیٹھی کے اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سابق قائم مقام وزیر اعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی پر انتخابات کے دوران دھاندلی کا الزام عائد کیا۔عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ کہ سیٹھی نے الیکشن میں ’35پنکچر’ لگائے’ اور انہیں اس کے صلے میں چئرمین پی سی بی بنایا گیا۔چیئرمین تحریک انصاف نے بعد میں 35پنکچر کو سیاسی بات قرار دیا لیکن پھر اپنے سابقہ موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ سیٹھی نے الیکشن میں سنگین دھاندلی کی اور 35 نہیں بلکہ 70 پنکچر لگائے۔البتہ سیٹھی کو پی سی بی چیئرمین بنانے کے بعد چند ماہ بعد ہی کرکٹ بورڈ کے آئین کی روشنی میں حکومت نے نجم سیٹھی کو چیئرمین کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے گورننگ باڈی کا رکن بنا دیا تھا اور بعدازاں شہریار خان چیئرمین پی سی بی منتخب ہوئے تھے۔شہریار خان نے گزشتہ سال تک چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں جبکہ نجم سیٹھی نے پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے کام کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔اس عرصے میں نجم سیٹھی نے 2016 میں ملک کی پہلی ٹی20 لیگ ‘پاکستان سپر لیگ’ کا آغاز کیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں بھرپور مقبولیت حاصل کی اور پاکستان کرکٹ ٹیم کو نئے ٹیلنٹ ملنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ٹی20 لیگ ‘پاکستان سپر لیگ پہلے ایڈیشن کی شاندار کامیابی کے بعد لیگ کے اگلے دونوں ایڈیشن پہلے سے زیادہ کامیاب ثابت ہوئے اور پی ایس ایل نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ بنانے کے ساتھ ساتھ قومی ٹیم کو بہترین کھلاڑی فراہم کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔گزشتہ سال شہریار خان کے عہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد بورڈ آف گورنرز کے اراکین نے نجم سیٹھی کو 3سال کے لیے نیا چیئرمین پی سی بی منتخب کیا لیکن ایک سال بعد ہی نئی حکومت کے حلف اٹھانے کے ساتھ ہی سیٹھی نے اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا اور قومی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔،،،،واضح رھے کہ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے11 فروری 2014 دوبارہ منتخب ہونے پر نجم سیٹھی چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) پر الزام عائد کیا ہے کہ انہیں حکمران جماعت کو عام انتخابات میں مدد کرنے پر کرکٹ بورڈ کا یہ اہم ترین عہدہ بطور انعام دیا گیا ۔ نجم سیٹھی سال ٢٠١٣ مئی عام انتخابات کے دوران صوبہ پنجاب کے نگراں وزیراعلیٰ تھے جنہیں سابق وزیراعظم نواز شریف نے چئیرمین کے عہدے پر مقرر کیا تھا۔جبکہ ذکا اشرف کو بطور پی سی بی چئیرمین کے عہدے سے بورڈ کے معاملات مناسب انداز میں نہ دیکھ پانے پر فارغ کردیا گیا تھا۔عمران خان کا اس وقت کہنا تھا کہ نجم سیٹھی کو انتخابات میں دھاندلی کرنے میں مدد کرنے پر پی سی بی چیئرمین مقرر کیا گیا۔ ماضی کے انتخابات ٢٠١٣ میں عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کی 272 نشستوں میں سے 35 پر کامیابی حاصل کی تھی۔پی ٹی آئی نے بعد ازاں قومی اور صوبائی سطح پر مبینہ دھاندلی کے خلاف قانون چارہ جوئی بھی کی ۔ اس وقت پی سی بی چیئرمین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران نے کہا ‘جب الیکشن کمیشن اس پر اپنا فیصلہ سنائے گا تب ہمیں پتہ چلے گا کہ کس نے پنکچر لگائے اور کسے پی سی بی کی چیئرمین شپ تحفے میں دی گئی۔’یہاں ‘پنکچر لگانے’ سے مراد انتخابات میں دھاندلی تھی ۔بعدازاں سیٹھی نے ٹوئٹر پر اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیا پی ٹی آئی ایک فاشسٹ پارٹی ہے؟ماضی میں عمران خان نے نجم سیٹھی کی کرکٹ کی سمجھ پر بھی سوال اٹھائے اور کہا تھا کہ کیا اس عہدے کے لیے ان کے پاس مناسب علم موجود ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی نجم سیٹھی کو نگراں پی سی بی چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔07 اگست 2018 کو پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کے ناراض آفیشلز نے عمران خان سے ملاقات کر کے بورڈ میں پھیلی بدعنوانیوں اور کرپشن کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا۔پی سی بی کے ناراض آفیشلز کے وفد نے تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی اور انہیں عام انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے ریجنل صدر کی قیادت میں عمران خان سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں پی سی بی کے معاملات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور موجودہ پی سی بی چیئرمین نجم سیٹھی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا ۔وفد نے ڈومیسٹک کرکٹ کے سربراہ شکیل شیخ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن، مالی بے ضابطگیاں اور اقربا پروری جیسی بیماریاں پاکستان کرکٹ بورڈ کو دیمک زدہ کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی سی بی میں پھیلی بدعنوانیوں کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ناگزیر ہیں اور وقت کا تقاضا ہے کہ ذمے داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔عمران خان نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے بورڈ میں جاری بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ کرکٹ کے نظام میں پختگی اور بہتری کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد نجم سیٹھی پر شدید دباؤ تھا جسکے بعد گزشتہ روز نجم سیٹھی نے نئی حکومت کی آمد کے ساتھ ہی چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا .وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے نجم سیٹھی کےمستعفی ھونےکے بعد سابق صدر آئ سی سی احسان مانی چیئرمین پی سی بی نامزد کردیا ھے ،