وزیر اعظم پاکستان سے پولیو کے خاتمہ کیلئے پرعزم………..
..اصغر علی مبارک ……..
وزیر اعظم پاکستان سے پولیو کے خاتمہ کیلئے پرعزم………..
..اصغر علی مبارک ……….وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے رواں برس کی پہلی ملک گیر انسداد پولیو مہم کا آغاز کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مشترکہ کاوشوں سے اس وبا پر جلد مکمل طور پر قابو پالیا جائے گا۔ دنیا میں پاکستان ، نائجیریا اور افغانستان چند ایسے ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس آج بھی موجود ہے اور اس نے بچوں کی صحت اور تندرستی کو مسلسل خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ 1994 سے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کا پروگرام ملک میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے سرگرمِ عمل ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہونے والی کوششوں کی وجہ سے ہی یہ ممکن ہوا ہے کہ آج پاکستان میں پولیو کے کیسز کی تعداد میں 99 فی صد تک کمی واقع ہوچکی ہے جبکہ پاکستان میں 1990 کی دہائی کے اوائل میں پولیو کیسز کی تعداد 20,000 تھی۔ یاد رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران وزیرستان میں پولیو کے 20 کیسز سامنے آچکے ہیں، تاہم یہ وبا پھیلی نہیں اور اس کو وہیں تک محدود کرلیا گیا ہے ۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کا پروگرام گذشتہ 25 سالوں سے بچوں کو معذوری کا شکار کرنے والے پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے سرگرمِ عمل ہے۔ اس پروگرام کا ہراول دستہ 339,521 پولیو ورکرز ہیں ۔ مثالی افرادی قوت کے علاوہ اس پروگرام کو دنیا کے سب سے بڑے نگرانی کے نظام کی خدمات حاصل ہیں اور معلومات کے حصول اور تجزیے کا اعلیٰ معیار کا نیٹ ورک، جدید ترین لیبارٹریز، وبائی امراض کے بہترین ماہرین اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں پبلک ہیلتھ کے نمایاں ماہرین بھی اس پروگرام کا حصہ ہیں۔پولیو ایک انتہائی متعدی اور وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو عام طور پر پانچ سال تک کے بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ پولیو کا وائرس ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوسکتا ہے اور یہ پاخانے کے یا منہ کے راستے سے پھیلتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پولیو وائرس آلودہ پانی یا خوراک کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔ جسم میں داخل ہونے کے بعد وائرس انسانی آنتوں میں پھلنا پھولنا شروع کردیتا ہے جہاں سے یہ اعصابی نظام پر حملہ آور ہوکر فالج کا باعث بنتا ہے۔
پولیو کی ابتدائی طور پر ظاہر ہونے والی علامات میں بخار، شدید تھکاوٹ ، سر درد، متلی یا قے ، گردن کا اکڑ جانا اور اعصابی درد شامل ہیں۔ چند کیسز میں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پولیو وائرس اعصابی نظام پر حملہ ہوکر فالج کی وجہ بنتا ہے اور پولیو وائرس کے حملے سے ہونے والا فالج مستقل ہوتا ہے۔ پولیو کا کوئی علاج نہیں۔ اس سے بچاؤ کا واحد راستہ پولیو ویکسین یعنی پولیو سے بچاؤ کے قطروں کا استعمال ہے۔ سال بھر کے دوران ، پاکستان میں پولیو کے خاتمے کا پروگرام پولیو کے خاتمے کی اعلیٰ معیار کی مہمات کا انعقاد کرتا ہے جن کا مقصد قومی سطح پر پانچ سے کم عمر کے ہر بچے تک رسائی ممکن بنانا ہوتا ہے۔ ان مہمات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ملک بھر میں 339,521 پولیو ورکرز کام کرتے ہیں ۔ یہ ورکرز ہر گھر تک پہنچ کر اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ پاکستان کے ہر بچے کو اس پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جاچکے ہیں جو انہیں پولیو کا شکار ہوکر معذوری سے بچا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ، پولیو کے خاتمے کا پروگرام حساس ترین نگرانی ، پولیو وائرس کی سراغ رسانی اور جوابی عمل جیسی سرگرمیوں کی مدد سے پولیو وائرس کے انتقال اور پھیلاؤ کے عمل پر کڑی نظر رکھتا ہے اور ملک بھر میں اس کے پھیلنے کے عمل کو روکتا ہے۔ اس کے علاوہ ابلاغ عامہ اور سوشل موبلائزیشن کی مدد سے پولیو کی بیماری کے خلاف ویکسین کے استعمال کی حوصلہ افزائی کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔
اسلام آباد میں انسداد پولیو مہم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اب بھی دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو کے کیسز موجود ہیں، چند برس قطل وہ وقت بھی آیا تھا جب نواز شریف کے دورِ حکومت میں پاکستان میں پولیو کا مکمل خاتمہ ہوچکا تھا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں اس مہم میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر اس عظیم مقصد کے لیے قربانیاں دیں، تاریخ میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ”مجھے یقین ہے کہ تمام صوبائی حکومتیں وفاقی حکومتوں کے ساتھ مل کر پوری تندہی سے اس وبا کا مقابلہ کرکے ہمیشہ کے لیے دفن کردیں گی”۔ وزیر اعظم کہنا تھا کہ دوبارہ پولیو کیسز سامنے آنے پر یقیناً پورے پاکستان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، انسداد پولیو مہم میں ہمارے ساتھ بل گیٹس فاؤنڈیشن، عالمی ادارہ صحت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز تعاون کررہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ’چند روز قبل میری بل گیٹس سے بات ہوئی تھی اور وہ انسداد پولیو مہم میں پاکستان کے ساتھ تعاون کے لیے پُرعزم ہیں، میں عالمی اداروں سمیت ہمارے ہیلتھ ورکز کا شکر گزار ہوں جو پوری تندہی کے ساتھ اپنے فرض کی ادائیگی کررہے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ اللہ کرے آپ کے کاوشوں سے پولیو کی وبا ہمیشہ کے لیے اس ملک سے چلی جائے اور دوبارہ کبھی اس کو واپس آنے کی ہمت نہ ہو۔
وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ وزارت صحت، صوبائی حکومتیں، تمام اسٹیک ہولڈرز اور افواج پاکستان کی مشترکہ کاوشوں سے ہم ان شا اللہ پوری طرح اور بہت جلد پولیو پر قابو پالیں گے۔خیال رہے کہ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹرای پی آئی کی ویب سائٹ پر جاری کردہ معلومات کے مطابق 1988 میں جب پولیو کے خاتمے کے عالمی اقدام کا آغاز ہوا تو اس وقت پولیو ہر روز 1,000 بچوں کو مفلوج کررہا تھا۔ اس وقت سے آج تک، پولیو کے کیسز میں 99 فی صد تک کمی لائی جاچکی ہے اور 2.5 بلین بچوں میں ویکسین کے ذریعے پولیو کے خلاف کامیاب مدافعت پیدا کی گئی ہے۔ یہ سب 200 ممالک اور 20 ملین رضا کاروں کے تعاون اور 11 بلین امریکی ڈالرز کا کثیر سرمایہ خرچ کرنے سے ممکن ہوا ہے۔ اس وقت صرف دنیا کے تین ممالک ایسے ہیں جہاں پولیو وائرس کی منتقلی کے عمل پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ یہ ممالک پاکستان، افغانستان اور نائجیریا ہیں۔پولیو وائرس کے خلاف جدوجہد کے دوران وائلڈ پولیو وائرس 1 کی بعض صورتوں کے خاتمے میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر پولیو کا آخری ٹائپ ٹو کیس 1999 میں سامنے آیا تھا اور اس کے خاتمے کا اعلان 2015 میں کیا گیا تھا۔ اسی دوران نومبر 2012 میں ٹائپ تھری کیس منظرِ عام پر آیا۔ ان تمام کامیابیوں کے باوجود، پولیو کے آخری ایک فی صد کیسز سے نمٹنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ اس سلسلے میں موجود مشکلات میں مختلف ممالک میں تنازعات، سیاسی عدم استحکام، دسترس سے دور آبادی اور ناکافی انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ ہر ملک میں ایک الگ قسم کا مسئلہ ہے جس کے لئے مقامی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
2013 میں پولیو کے خاتمے کے عالمی اقدام (جی پی ای آئی) نے دنیا کو پولیو سے پاک کرنے کے ایک جامع اور محنت طلب منصوبے کا آغاز کیا۔ یہ دنیا کو پولیو سے پاک کرنے کے لئے ایک منظم منصوبہ ہے جو اس کے ہر پہلو کا احاطہ کرتے ہوئے ان ناگزیر اقدامات کی نشان دہی کرتا ہے جو ان ممالک میں اٹھانا ضروری ہیں جو پولیو وائرس کی آخری پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں تاکہ دنیا کو پولیو سے مکمل طور پر پاک کیا جاسکے۔بیسویں صدی کے اوائل میں پولیو صنعتی ممالک میں ایک ایسی بیماری کا نام تھا جس سے لوگ سب سے زیادہ خوف زدہ تھے۔ پولیو ہر سال لاکھوں بچوں کو معذور اور اپاہج بنارہا تھا۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں پولیو کی موثر ویکسین کے متعارف ہونے کے بعد پولیو پر قابو پانا ممکن ہوا اور اس کے خاتمے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے سے صنعتی ممالک میں اس بیماری کا مکمل خاتمہ کردیا گیا۔
ترقی یافتہ ممالک کے برعکس ترقی پذیر ممالک میں پولیو کو ایک اہم مسئلہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا۔ 1970 کی دہائی میں لیمنس سروے سے معلوم ہوا کہ پولیو کی بیماری ترقی پذیر ممالک میں بھی موجود ہے۔ نتیجتاً، 1970 کی دہائی میں ہی بیماریوں کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کے لئے قومی ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ معمول کی ویکسینیشن کا آغاز کیا گیا تاکہ بہت سے ترقی پذیر ممالک میں بھی اس بیماری پر قابو پایا جاسکے۔1988 میں جب سے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی نے اس بیماری کا مکمل خاتمہ کرنے کا عزم کیا ہے پولیو کے خلاف عالمگیر جدوجہد کے آغاز کے بعد بہت مثالی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ جب 1988 میں پولیو کے خاتمے کے اقدام کا آغاز ہوا، پولیو دنیا بھر میں 350,000 بچوں کو ہر سال اپاہج بنا رہا تھا۔ اس وقت دنیا میں پولیو کا 99 فی صد تک خاتمہ کیا جاچکا ہے۔




یہ کامیابی 200 ممالک میں 2.5 بلین بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کے لئے 11 بلین امریکی ڈالرز خرچ کرکے حاصل ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیو کے خاتمے کے عالمی اقدام کی وجہ سے آج ایک کروڑ کے قریب ایسے بچے اپنے پاؤں پر چل رہے ہیں جو اقدام کی عدم موجودگی کی صورت میں آج پولیو کا شکار ہوکر معذوری کی زندگی گذار رہے ہوتے۔پولیو کی بنیادی وجہ انسانی خوراک کی نالی کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والا وائرس ہے جیسے عام طور پر پولیو وائرس کہتے ہیں۔ یہ وائرس انسانی فضلے اور منہ کے راستے سے پھیلتا ہے۔ پولیو وائرس منہ کے راستے سے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے اور انتڑیوں میں پھلنا پھولنا شروع کردیتا ہے۔ اس وائرس سے متاثر لوگ اس وائرس کو ماحول میں خارج کردیتے ہیں جہاں یہ کئی ہفتوں تک رہ سکتا ہے اور خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں صفائی کا خاص انتظام نہ ہو وہاں گلی محلے اور علاقے میں بھی پھیل سکتا ہے۔ پولیو کا یہ وائرس پولیو مےلٹس کسی بھی عمر کے انسان کو متاثر کرسکتا ہے لیکن یہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو نہ صرف مفلوج کرسکتا ہے بلکہ ان کی موت کا بھی باعث بن سکتا ہے۔اس لیے پولیو کے قطرے لازمی پلانے ضروری ہیں ،









