وزیراعظم شہباز شریف کا سپریم کورٹ کے فیصلہ کوعدل و انصاف کا قتل قرار کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک..)…وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کوعدل و انصاف کا قتل قراردیا ہے, یہ یاد رہے کہ .پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی ہونے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کرانے کا حکم دے دیا ہے,
دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ تاریخ کی ستم ظریقی ہے کہ 4 اپریل کو ذوالفقار بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا اور آج ہی کے دن الیکشن کے حوالے سے جو پچھلے 72 گھنٹوں میں کارروائیاں ہوئیں، آج ایک مرتبہ پھر 4 تاریخ کو عدل و انصاف کا قتل ہوا۔ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جیسا کہ وزیر قانون نے فرمایا کہ آج کابینہ میں فیصلہ ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے عدالت قتل کا جو ریفرنس 12 سال سے پڑا ہے، اس پر عمل ہونا چاہیے اور اس حوالے سے فل کورٹ بیٹھے اور فیصلہ کرے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پوری دنیا سمجھتی ہے کہ یہ 1973 کے متفقہ آئین کے بانیوں میں شامل ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینا ایک عدالتی قتل تھا، ملک کو 1973 کا متفقہ آئین دینا پاکستان کی تاریخی خدمت تھی جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اگر میں غط نہیں تو فیصلہ کرنے والے ایک جج نے بھی بعد میں اپنی یادداشت میں اس بارے میں اعتراف کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسا تاریخ کا جبر ہے کہ آج 4 اپریل ہے جب کہ اسی تاریخ تو ذوالفقار بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا اور آج ہی کے دن الیکشن کے حوالے سے جو پچھلے 72 گھنٹوں میں کارروائیاں ہوئیں، آج پھر ایک مرتبہ 4 تاریخ کو عدل و انصاف کا قتل ہواہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔اس موقع پر وزیراعظم نے اسپیکر سے اپیل کی کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لیے ایوان میں کرائی جائے جس پر مولانا اسعد محمود نے سابق ویزراعظم کے لیے دعا کرائی۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی اجلاس میں کہا کہ ایک ضدی شخص کی انا کی تسکین کے لیے دو اسمبلییاں توڑی گئیں، اس اقدام کا مقصد ملک میں سیاسی تقسیم کی داغ بیل ڈالنا تھا۔اس سے قبل وفاقی وزیر قانون نے کہا تھا کہ 3 رکنی بینچ کے فیصلے پر دکھ اور افسوس کا اظہار ہی کرسکتا ہوں، اس کی وجہ سے ملک میں جاری سیاسی و آئینی بحران اور زیادہ سنگین ہوگا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے فیصلہ جاری ہونے کے بعد رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سیاسی جماعتوں، بار کونلسز اور سول سوسائٹی کے مطالبے کے باوجود یہ فیصلہ سنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 3 رکنی بینچ کے فیصلے پر دکھ اور افسوس کا اظہار ہی کرسکتا ہوں، اس کی وجہ سے ملک میں جاری سیاسی و آئینی بحران اور زیادہ سنگین ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ بھی بنادیا گیا ہے جس میں جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر علی نقوی، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اظہر رضوی شامل ہیں، یہ پیس رفت اٹارنی جنرل کے دلائل اور پارلمیان میں ہمارے مؤقف کی دلیل ہے، قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ دیا تھا کہ جب تک فل کورٹ میٹنگ نہیں ہوتی اور 184 (3) کے حوالے سے رولز نہیں بن جاتے اس وقت تک ازخود نوٹس کے کیسز پر سماعت نہ کی جائے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت ہوا جہاں وزیر قانون پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی ہونے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے حوالے سے اظہار خیال کر رہے تھے جب کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی ایوان زیریں میں موجود تھے۔قبل ازیں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی ہونے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کرانے کا حکم دے دیامنگل کو سپریم کورٹ کی جانب سے دن 12 بج کر 33 منٹ پر اعلان کیا گیا کہ الیکشن التوا سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ وکلاء اور صحافی دوڑے دوڑے سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں پہنچے۔ کمرہ عدالت میں عدالتی عملہ ہنگامی بنیادوں پر تیاری کرتا سنائی دیا۔
تین رکنی بینچ 12 بج کر 44 منٹ پر کمرہ عدالت میں پہنچا۔ چیف جسٹس نے کمرہ عدالت کا طائرانہ جائزہ لیا۔ ایک کونے میں بیٹھے صحافیوں کی جانب دیکھا اور قرآن کی آیت پڑھ کر فیصلہ سنانا شروع کر دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ آئین الیکشن کمیشن کو 90 دن سے آگے جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ عدالت نے 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 22 مارچ کو غیر آئینی حکم جاری کیا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کا 30 اپریل کو پنجاب میں انتخابات کا شیڈول ترمیم کے ساتھ بحال کردیا۔
سپریم کورٹ نے حکومت کو 10 اپریل تک فنڈز مہیا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کی نگراں حکومت، چیف سیکرٹری اور آئی جی 10 اپریل تک الیکشن کی سکیورٹی کا مکمل پلان پیش کریں۔ وفاقی حکومت کو 21 ارب جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر وفاقی اور نگراں حکومت نے الیکشن کمیشن کی معاونت نہ کی تو کمیشن سپریم کورٹ کو آگاہ کرے۔
سپریم کورٹ کے حکم میں کہا گیا ہے کہ ’عدالت میں دیگرمعاملات کوبھی اٹھایا گیا۔ عدالتی کارروائی چلانے سے دو ججز نےمعذرت کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جو فیصلہ کیا، اس کا ہمارے بینچ پر کوئی اثر نہیں۔ خیبرپختونخوا میں الیکشن کا معاملہ الگ سے دیکھا جائے گا۔عدالت کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔‘اس فیصلے سے سپریم کورٹ کے بینچ سے ججوں کی بینچ سے علیحدگی، اختلافی نوٹس اور ان پر تفصیلی فیصلے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کی روشنی میں اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر کے دلائل کو سامنے رکھیں تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت اب بھی انتخابات کی طرف نہیں جانا چاہتی۔ ایسے میں ان کے پاس آپشنز کیا ہیں؟
اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی اور قانونی ماہر محسن شاہ نواز رانجھا نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’عدالت کا فیصلہ ابھی آیا ہے۔ اس میں بہت سے مراحل ابھی باقی ہیں۔ ایک تو ہم نظرثانی میں جائیں گے۔ اس دوران 184(3) کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی پر اگر دستخط ہو جاتے ہیں تو حکومت کے پاس اپیل کا حق بھی آ جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ہم عدلیہ سے لڑ رہے ہیں بلکہ عدلیہ کے اندر سے جو آوازیں اٹھ رہی ہیں وہ ہمارے حق میں ہیں اور ہمارے موقف کی تائید ہیں۔ اس لیے ہم عدلیہ سے لڑیں گے نہیں بلکہ عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔‘ دوسری جانب وفاقی کابینہ نےوزیر قانون اور اٹارنی جنرل کو ہدایات دی ہیں کہ وہ اس فیصلے کے قانونی پہلوؤں اور اس کے خلاف سپریم کورٹ میں مزید قانونی چارہ جوئی کے حوالے سے مشاورت کریں۔
اس کے بعد حکومت اتحاد کے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بلایا جائے جو اس فیصلے کے خلاف لائحہ عمل کی منظوری دے گا۔
اس معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’آج آئین کی فتح ہے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ایسا ماحول بنایا جائے کہ شفاف انتخابات کا انعقاد ہوسکے۔ پنجاب میں انتخابات کرائے جائیں اور اس سے اگلے انتخابات کے لیے بات چیت کی جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ آج کے فیصلے کے بعد حکومت کے پاس انتخابات کرانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔
تحریک انصاف کے وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ ’اس فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے والے جلد اڈیالہ جیل میں ہوں گے۔ پاکستان کے کسی عہدیدار کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد سے انکار کرے۔‘
آئینی ماہر اکرام چودھری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے آئین کے مطابق فیصلہ دیا ہے جس پر عملدرآمد میں ہی ملکی بقا اور استحکام کا راستہ موجود ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے فل کورٹ تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام معاملات درست کرنے کا کہا ہے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ’فیصلے پر دکھ اور افسوس کا اظہار ہی کر سکتا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آج کے فیصلے سے سیاسی اور آئینی بحران مزید سنگین ہو گا۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سیاسی جماعتوں اور بار کونسل کے مطالبات پر غور نہیں کیا۔آج ہی جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے فیصلے پر چھ رکنی بینچ بنا دیا گیا جس کی سربراہی جسٹس اعجازالاحسن کریں گے۔
’جسٹس قاضی قاضی فائز عیسیٰ کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا اور انہوں نے روکا تھا کہ جب تک فل کورٹ کی میٹنگ ہوتی نہیں اور 184 تین کے حوالے سے رولز نہیں بنتے یا اس پر قانون سازی نہیں ہوتی اور ازخود نوٹس کے مقدمات یا سپریم کورٹ کے اوریجنل جیورسڈکشن کے مقدمات ہیں، ان پر سماعت نہ کی جائے تو تین رکنی بین کے فیصلے کو رد کر دیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ابہام دور کرنے کے لیے فل کورٹ بنا دیا جاتا۔
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں تقسیم کا تاثر ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے سربراہ کو چاہیے تھا کہ فل کورٹ بناتے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکومت کی استدعا کو مسترد کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم ترین دن ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں جو دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوتے اور دباؤ میں نہیں آتے۔
انہوں نے کارکنان کو 14 مئی کو ہونے والے انتخابات کی تیاری کرنے کا پیغام دیاقانونی ماہرین نے سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کے پنجاب اسمبلی کے انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے نئی تاریخ کے حکم پر کہا ہے کہ حکومت اس پر عمل درآمد کرنے کی پابند ہے۔پاکستان بار کونسل کے رہنما امجد شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات کے بارے میں سپریم کورٹ نے اس طرف گئی کہ ان کے پاس تاریخ دینے کا اختیار ہے لیکن اس کی توسیع کا اختیار نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر وہ اتھارٹی جس کے پاس تاریخ دینے کارروائی کرنے کا اختیار ہے تو اس کے پاس توسیع کا اختیار بھی ہے جو اس کو جنرل کلاز دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا آج کا جو فیصلہ ہے جو سب پر لازم ہے لیکن افسوس اس بات پر کہ فل کورٹ تشکیل دیا جاتا تو اتنا تنازع نہیں بنتا اور مجھے اس فیصلے پر عمل درآمد ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی بڑی ذمہ داری تھی وہ اپنے ادارے کو کسی تنازع میں نہیں ڈالتے اور پاکستان بار کونسل نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ فل کورٹ بنا دیں۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے سمانیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین جہاں سپریم کورٹ کو اختیار دیتا ہے وہی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ ہے اور الیکشن کمیشن بھی ایک آئینی ادارہ ہے، جس میں بغیر کسی دباؤ آزادانہ انتخابات کرانا ہے، اس دباؤ میں چاہے سپریم کورٹ کا ہو یا کسی فرد کا ہو لیکن الیکشن کمیشن پابند ہے کسی کا دباؤ قبول نہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ فخرالدین ابراہیم جی نےسپریم کورٹ سے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن آپ کے ماتحت نہیں بلکہ آزاد ادارہ ہے۔فیصلہ آئینی ہے اور اس میں کوئی غیرآئینی بات نہیں ہے لیکن سپریم کورٹ نے حکومت کا استدلال نہیں مانا کہ ایسے حالات ہوں تو آرٹیکل 254 کا سہارا لیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 258 کے تحت الیکشن منصوبہ تبدیلی کے الیکشن کمیشن کے اختیار کو بھی تسلیم نہیں کیا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اس ایکٹ کے تحت انتخابات کی تاریخ تبدیل کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے حکومت کی نگران حکومت، مردم شماری اور حلقہ بندیوں سے متعلق دیے گئے دلائل تسلیم نہیں کیے لیکن سپریم کورٹ اپنے اندر موجود مسائل ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھا رہی ہے۔ یکم مارچ کے فیصلے کے حوالے سے سب سے بڑا تنازع ہے کہ جو 4/3 کا تھا یا ¾ کا تھا لیکن سپریم کورٹ نے صرف اتنا کہا کہ وہ قابل عمل نہیں ہے اور قانون کے اندر اس کی اہمیت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے نہیں ہوتا کیونکہ جن جج صاحبان نے وہ فیصلہ دیا تھا وہ بھی کسی کالج کے قانون کے طالب علم نہیں بلکہ ان کی اپنی ایک حیثیت ہے، وہ ہائی کورٹ سے سفر طے کر سپریم کورٹ تک آئے، ان کی صلاحیت پر کوئی سوال نہیں ہے صرف سپریم کورٹ کے اندر جو اختلاف ہے اور چیف جسٹس کسی جج صاحب کو اپنے ساتھ بٹھانا پسند نہیں کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے میں اگر کوئی کہہ رہا ہے کہ چیف جسٹس صاحب جسٹس کارنیلیئس کے رستے پر چل رہے ہیں تو مجھے وہ جسٹس سجاد علی شاہ کے رستے پر چلتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔یہ فیصلہ حکومت پر لاگو ہے اور اس پر عمل درآمد کی پابند ہے لیکن سوال یہ ہے کیا حکومت اس پر عمل درآمد کرے گی، کیا یہی ارادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جو قانون منظور کیا ہے وہ ابھی تک مکمل قانون نہیں بنا ہے کیونکہ اس کو صدرمملکت کی توثیق نہیں ملی ہے، 20 دن کے بعد حکومت کے پاس 184 تھری کے تحت مقدمے پر اپیل کا اختیار آجائے گا۔ اپیل کے اندر اگر 5 رکنی بینچ ہے یا 3رکنی بینچ ہوگا تو اپیل میں 5 رکنی بینچ ہوگا اور اس میں یہ 5 رکنی بینچ نہیں بیٹھا ہوگا جبکہ نظرثانی کا حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں یہی جج صاحبان سنیں گے جنہوں نے پہلے فیصلہ دیا ہے تو لہٰذا حکومت کو مزید 20 دنوں کا انتظار کرنا پڑے گا۔

وکیل عبدالمعیز جعفری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئینی بحران واپس، جہاں سے چلے تھے واپس وہاں آ گئے۔خیال رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی ہونے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات کا شیڈول بحال کرتے ہوئے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کی تاریح دے دی۔