,نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کی تقرری پر پی ٹی آئی کا احتجاج کا اعلان
اصغر علی مبارک ……الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پنجاب حمزہ شہباز کی جانب سے نامزد کردہ محسن رضا نقوی کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب تعینات کرتے ہوئے باضابطہ نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے دوسری جانب مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہیٰ نے محسن رضا نقوی کا بطور نگراں وزیراعلیٰ پنجاب تقرر سپریم کورٹ میں چلینج کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو مسترد کردیا۔ پرویز الہیٰ اور پی ٹی آئی کی جانب سے یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اپوزیشن لیڈر پنجاب حمزہ شہباز کی جانب سے نامزد کردہ محسن رضا نقوی کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب تعینات کرنے کے نوٹی فکیشن جاری کرنے کے فوری بعد کیا گیا۔ قبل ازیں اس سے قبل نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی دوطرفہ پارلیمانی کمیٹی مقررہ وقت میں کسی نام پر اتفاق رائے میں ناکام رہی تھی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے آج ہونے والے اجلاس میں نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب کیا۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں کمیشن سیکریٹریٹ میں الیکشن کمیشن کے ارکان کا خصوصی اجلاس ہوا، اجلاس میں الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا کے رکن اکرام اللہ خان، سندھ کے رکن نثار درانی، بلوچستان کے رکن شاہ محمد جتوئی اور پنجاب کے رکن بابر حسن بھروانہ نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں سیکریٹری الیکشن کمیشن سمیت 15 افسران کو شریک ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔سیکریٹری عمر حمید، اسپیشل سیکریٹری ظفر اقبال حسین نے بریفنگ دی، ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمن منظور اختر، ڈائریکٹر جنرل ثنا اللہ، ڈی جی لا محمد ارشد کو بھی مشاورتی اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا۔اجلاس سے قبل متعلقہ شعبوں کے ڈی جیز اور ایڈیشن ڈی جیز کو بھی اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی گئی تھی، اجلاس میں آئینی اور قانونی معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ محسن رضا نقوی کو آئین کے آرٹیکل 224(اے)(تھری) کے تحت نگران وزیر اعلیٰ کا تقرر کیا گیا۔جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے مکمل غور و خوض کے بعد محسن رضا نقوی کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب مقرر کیا اور اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب کو خط بھی لکھ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سے عہدے کا حلف لیں۔پرویز الہٰی نے سردار احمد نواز سکھیرا اور نوید اکرم چیمہ کے نام تجویز کیے تھے جبکہ حمزہ شہباز نے نگراں وزیر اعلیٰ کے لیے محسن نقوی اور احد چیمہ کے ناموں کی توثیق کی تھی۔ الیکشن کمیشن پاکستان کی جانب سے پنجاب کے مقررہ کردہ نگران وزیر اعلیٰ محسن رضا نقوی ایک نجی میڈیا ہاؤس کے مالک ہیں اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔ اس سے قبل سربراہ الیکشن کمیشن سکندر سلطان راجا کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن ارکان کے درمیان غیر رسمی بات چیت سے قبل اس معاملے کے بارے میں فیصلے پر اتفاق رائے کی راہ ہموار کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کے ایک سینئر عہدیدار نے وضاحت دی تھی کہ الیکشن کمیشن اس حوالے سے ایک روز پہلے اجلاس منعقد نہیں کرسکا کیونکہ اسے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی جانب سے باضابطہ طور پر 4 نامزد افراد کے نام ہفتہ کو ہی موصول ہوئے تھے۔ عہدیدار الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ ’الیکشن کمیشن یقیناً اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گا اور پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کے لیے آج نام کا اعلان کرے گا‘۔ توقع کی جارہی تھی کہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں جائے گا کیونکہ رہنما مسلم لیگ (ق) اور پی ٹی آئی کے اتحادی چوہدری پرویز الہٰی نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ اگر پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے نامزد کردہ افراد میں سے الیکشن کمیشن کی جانب سے کسی ’متنازع شخص‘ کو منتخب کیا گیا تو وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔ واضح رہے کہ پنجاب میں نگران وزیر اعلیٰ کے تقرر کا معاملہ گزشتہ ہفتے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد نامزد امیدواروں پر صوبائی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مسلسل تناؤ اور عدم اتفاق کے سبب غیر معمولی تاخیر کا شکار ہوگیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ محسن نقوی کی بطور نگران وزیر اعلیٰ تعیناتی آئین کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اس کو قانونی طور پر چیلنج بھی کرے گی اور اس کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج بھی کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں فیصلے پر الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے کبھی مایوس نہیں اور ہمیشہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے ذیلی ادارے کے طور پر فیصلے سنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے روز سے کہا جارہا ہے کہ محسن نقوی کو وزیراعلٰی پنجاب بنایا جائے گا، انہیں یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ یا تو الیکشن ہونے ہی نہ دیے جائیں یا پھر ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ پی ٹی آئی کا راستہ روکا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم محسن نقوی کے تقرر کو عدالتوں میں چیلنج کریں گے لیکن سچی بات یہ ہے کہ اداروں پر سے عوام کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے اور اٹھ ہی چکا ہے ، اب عوام کو ایک فیصلہ کن تحریک کے لیے سڑکوں پر آنا ہوگا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کی قیادت اور سربراہی میں پاکستان کے عوام اس کے فیصلے خود کریں گے، ہم بند کمروں میں ہونے والی ان سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ محسن نقوی ہوں یا ان کے لگائے گئے دگیر پروردہ ہوں، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، یہ کٹھ پتلیاں ہیں اور کٹھ پتلیاں اس وقت تک ہی تماشہ لگا سکتی ہیں جب تک کہ ان کو نچانے والے لوگ موجود ہیں۔ پاکستان کے عوام ایک سمندر کی طرح نکلیں گے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی جانب سے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے تجویز کردہ 2 نام پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد گورنر پنجاب نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کو خط لکھ کر متفقہ امیدوار لانے کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی استدعا کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حمزہ شہباز کی جانب سے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ تحلیل شدہ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے میں نے سابق وزیر اعلیٰ کے بھیجے گئے ناموں سے اتفاق نہ کرتے ہوئے 2 نام تجویز کیے ہیں۔ حمزہ شہباز کی جانب سے نگراں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے سید محسن رضا نقوی اور احد خان چیمہ کے نام تجویز کیے گئے۔ مسلم لیگ (ن) کی زیرقیادت وفاقی حکومت نے پارٹی کے انتہائی قریبی سمجھے جانے والے امیدواروں کو نامزد کر کے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے ان ناموں کو ’انتہائی متنازع‘ قرار دیا ہے۔ سابق بیوروکریٹ احد چیمہ اس وقت وزیراعظم کے معاون خصوصی ہیں اور انہیں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے آشیانہ ہاؤسنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیسز کا سامنا ہے، دوسری جانب محسن نقوی ایک میڈیا ہاؤس کے مالک ہیں اور پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیئر رہنما نے بتایا کہ ’احد چیمہ وزیر اعظم شہباز شریف کے نامزد امیدوار ہیں اور محسن نقوی آصف زرداری کے نامزد کردہ امیدوار ہیں‘۔ انہوں نے اس اقدام کو نگران وزیر اعلیٰ کی تعیناتی پر تعطل برقرار رکھنے کے لیے وفاقی حکومت کی حکمت عملی قرار دیا تاکہ دونوں فریقین (پرویز الہٰی اور حمزہ شہباز) کے نامزد امیدواروں کے نام بالآخر الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیے جائیں جو ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’اس بات کا قوی امکان ہے کہ الیکشن کمیشن حمزہ شہباز کے نامزد کردہ امیدواروں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے گا جو صوبے میں انتخابات میں تاخیر میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’وفاقی حکومت نے اپنے وفاداروں کو نامزد کرکے یہ کوشش کی ہے کہ نگران سیٹ اپ کے ذریعے پنجاب میں اپنی حکمرانی کو یقینی بنائی جائے‘۔ دریں اثنا گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کو خط لکھا کہ وہ نگران وزیراعلیٰ کی تعیناتی کے لیے آئین کے آرٹیکل 224 اے-2 کے تحت طریقہ کار پر عمل کریں کیونکہ پرویز الہیٰ اور حمزہ شہباز کے درمیان کسی ایک امیدوار پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی کو اب 6 رکنی کمیٹی تشکیل دینی ہوگی جس میں 3، 3 ارکان صوبائی اسمبلی شامل ہوں گے جو کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) اور اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ ہوں گے۔ کمیٹی کے پاس پرویز الہٰی اور حمزہ شہباز کے نامزد کردہ ناموں پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے 3 روز کا وقت ہوگا، اس کے باوجود اتفاق رائے نہ پیدا ہونے کی صورت میں عبوری وزیراعلیٰ کی تعیناتی کا معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جائے گا جس کا قوی امکان موجود ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کو مسلم لیگ (ن) کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی نام نہیں دیا گیا لیکن احد چیمہ اور محسن نقوی کے نام ایک مذاق لگتے ہیں، احد چیمہ نیب کیسز میں مطلوب رہ چکے ہیں اور محسن نقوی کے بارے میں تو بات ہی نہ کریں، امید ہے اس بات میں کوئی حقیقت نہ ہو کہ یہ نام مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نامزد کیے گئے ہیں‘۔ رہنما مسلم لیگ (ق) مونس الہٰی نے کہا کہ محسن نقوی خود کو آصف علی زرداری کا بیٹا، شہباز شریف کا پارٹنر اور گجرات کے چوہدریوں کا رشتہ دار کہتے ہیں۔قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے تین نام تجویز کردیے ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ عمران خان نے نگراں وزیر اعلیٰ کے لیے احمد نواز سکھیرا، سابق وزیر صحت نصیر خان اور سابق چیف سیکریٹری ناصر سعید کھوسہ کے نام تجویز کیے ہیں،
اہم ناصر سعید کھوسہ نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، انہوں نے اس سے قبل 2018 میں بھی پی ٹی آئی کی اسی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔







