’ناقابل برداشت‘: فوج، آرمی چیف کےخلاف مہم پر وزیراعظم کا اظہار مذمت……..اصغر علی مبارک ………..وزیراعظم شہباز شریف نے فوج اور پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کے خلاف بیرون ملک مہم کو ’غلیظ‘ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور بیرون ملک پاکستانیوں سے حصہ نہ بننے کا مطالبہ کردیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’پی ٹی آئی عمران نیازی کی ایما پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی کردار کشی کے لیے نفرت انگیز مہم چلا رہی ہے جس کی سختی سے مذمت کرنے کی ضرورت ہے۔‘
پیر کو ایک ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’یہ آدمی نیازی طاقت کے حصول، ہماری مسلح افواج اور اس کی قیادت کی کردار کشی اور ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے پستی کی انتہا پر پہنچ رہا ہے۔‘
اس سے قبل وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف نے فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف بیرون ملک غلیظ مہم کی شدید مذمت کی ہے۔‘بیان کے مطابق ’آرمی چیف کے خلاف مہم ناقابل برداشت اور اداروں کے خلاف سازش کا تسلسل ہے۔ بیرون ملک محب وطن پاکستانی فارن فنڈڈ مہم کے خلاف آواز بلند کریں۔‘زہریلی سیاست کو بیرون ملک پاکستانیوں کے ذریعے پھیلا رہے ہیں۔ بیرون ملک پاکستانی اس سازش کا حصہ نہ بنیں۔ عمران خان اداروں اور ان کے سربراہوں کو اپنی گندی سیاست میں گھسیٹ کر آئین شکنی کر رہے ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’وزیر داخلہ ملک کے اندر اداروں کے خلاف غلیظ مہم چلانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں۔ پاکستان میں افراتفری، فساد اور بغاوت کو ہوا دینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے

پاک فوج، یہ نام سنتے ہی ہر محب وطن کے دل میں عزت و محبت کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بنا کسی دنیاوی مفاد کے ہمارے دفاع کی خاطر جسم کو جھلسا دینے والی گرمی اور لہو کو جما دینے والی سردی میں اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر اپنے فرض کی اداٸیگی میں ہمہ وقت سرگرم عمل رہتے ہیں۔ ملک کی محبت ہر محبت سے بڑھ کر ان کے دلوں میں رچی بسی ہوتی ہے۔ نہ ہی اپنوں سے الفت اور نہ ہی زندگی کی چاہت ان کو اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ کرتی ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسا کون سا جذبہ ہے کہ یوں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کے پاک افواج کے جوان دشمن کے سامنے ہر لمحہ سینہ تانے کھڑے ہوتے ہیں فضا میں بھی، زمین پر بھی اور سمندر میں بھی۔ جان بھلا کس کو پیاری نہیں ہوتی۔ سرحدوں کی حفاظت تو کئی ملکوں کی افواج کرتی ہیں لیکن73 سالوں کے مختصر عرصے میں دنیا کی منظم ترین، انتہاٸی طاقت ور اور بے پناہ نڈر فوج کا اعزاز ہماری پاک فوج کو حاصل ہے۔ حب الوطنی کے جذبے سے بڑھ کر ہمارے دین اسلام میں سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کے لیے اور شہادت کا رتبہ پانے والوں کے لیے جو بشارتیں ہیں وہ ہی اس بہادری و شجاعت کی اصل وجہ ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے:محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ شرحبیل بن سمط کے پاس سے گزرے۔ وہ اپنے مرابط(سرحد پر پاسبانی کی جگہ) میں تھے۔ ان پر وہاں رہنا گراں گزر رہا تھا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا:

‘ابن سمط! کیا میں حدیث تمہیں بیان نہ کروں جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟
انہوں نے کہا: کیوں نہیں،حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوٸے سنا: ‘ اللہ کی راہ میں ایک دن کی پاسبانی ایک ماہ روزے رکھنے اور تہجد پڑھنے سے افضل ہے۔ آپ نے افضل کے بجائے کبھی خیر(بہتر ہے) کا لفظ کہا اور جو شخص اس حالت میں وفات پاگیا۔ وہ عذاب قبر سے محفوظ رہے گا اور قیامت تک اس کا عمل بڑھایا جاٸے گا’۔ ( صحیح مسلم)

اس ہی طرح اور کٸی انعامات ہیں(جسے نا کسی آنکھ نے دیکھا نا ہی کسی کان نے سنا) جو مسلم ملکوں کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے مسلم فوجیوں کو اس قدر باہمت اور بےباک بنائے رکھتے ہیں۔ بیرونی جارحیت سے نمٹنے کے لیے پاک فوج سرحدوں کی بخوبی حفاظت کرتی ہے جس سے دشمنوں کے دلوں پر رعب قائم رہتا ہے۔ پاک فوج اپنے لہو سے ہماری آزادی کے چراغ کو روشن کیے ہوئے ہے۔ کسی کی مجال نہیں جو ہمارے ملک کی طرف میلی نگاہ سے دیکھے۔ اس کی وجہ ہی پاک فوج کی دی گٸی قربانیاں ہیں۔ استحکام پاکستان میں افواج پاکستان کا کردار دیکھنا ہو تو 1965ٕٕ کی جنگ اس کی بہترین مثال ہے۔ آج جب یہ موقع ملا ہے کہ اس موضوع پر لکھ کر افواج پاکستان کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے تو مجھے ڈر ہے کہ میرا مضمون میرے الفاظ اس عنوان کا حق ادا کرپائیں گے کہ نہیں؟پاک فضاٸیہ، اس کے بے شمار کارنامے ہیں لیکن یہ ایک واقعہ جو پچھلے سال پیش آیا وہ ہر پاکستانی کے لیے فخر کا باعث ہے۔ بھارت نے 14 فروری 2019 کو جموں کشمیر کے علاقے پلوامہ میں خود کش حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ جس پر پاکستانی طیاروں نے کاروایی کرتے ہوئے دو بھارتی طیارے مار گرائے۔
‘جو لوگ اللہ کے راستے میں جان دے دیں انکو مردہ مت کہو، وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں انکی حیات کا شعور نہیں ہے’۔(سورة البقرہ آیت 154)
اس آیت کریمہ سے شہادت کے رتبے پد فائز ہونے والوں کی فضیلت کا بخوبی انداز لگایا جاسکتا ہے۔۔
ہر ملک کی فوج کا بنیادی مقصد اپنے ملک کا بیرونی جارحیت سے دفاع کرنا ہوتا ہے جو صرف سرحدوں پر ہوتی ہے۔پاک آرمی کی اگر بات کی جائے تو ہمارے ملک میں بدقسمتی یا پھر خوش قسمتی سے( اس کا فیصلہ آپ کو کرنا ہے) پاک فوج ایک ایسا ادارہ بن گیا ہے جو نہ صرف بیرونی بلکہ اندرونی جارحیت و خطرات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ موجودہ دور جو کہ ففتھ جنریشن وار جس کو انفارمیشن وار فیئر بھی کہا جاتا ہے جس میں ملک میں غلط فہمیاں پھیلاٸی جاتی ہیں۔حکومت اور فوج کے بارے میں عوام کے دلوں میں نفرت پھیلائی جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں ملک توڑ پھوڑ کا شکار ہوتا ہے۔ ملک میں افرا تفری پھیلتی ہے۔ ملک میں سول وار شروع ہو جاتی ہے۔ جس سے دشمن ممالک کو ایک خستہ اور نرم ہدف مل جاتا ہے۔ پاک فوج پچھلی دو دہائیوں سے ایسے حالات سے نمٹتی آرہی ہے اور اپنی وفاداری سے عوام کے سامنے سرخرو ہو کر وطن کی فضا کو پرسکون بنائے ہوئے ہے۔ ہر ملک میں آفات کی روک تھام کے ادارے اور ریسکیو کے ادارے ہوتے ہیں۔ ہر ادارہ اپنی ذمہ داری اٹھانے کا پابند ہوتا ہے۔ فوج صرف سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے۔ کہیں آگ لگ جاتی ہے یا سیلاب آجاتا ہے، زلزلہ آتا ہے، سونامی آتا ہے، ملکی صورت حال خراب ہوجاتی ہے، کہیں پر احتجاج ہوتا ہے، کہیں پر اغوا برائے تاوان کا معاملہ ہوجاتا ہے یا کوئی دہشت گردی کا معاملہ وقوع پذیر ہوجائے تو دیگر ممالک میں مختلف ادارے اور پولیس کے مخصوص دستے ہوتے ہیں جو ان جیسے دیگر مساٸل سے نمٹتے ہیں۔ ہمارے ملک میں زلزلہ آجاٸے تو آفات کی روک تھام کا ادارہ جس کی ذمہ داری ہے ان حالات سے نمٹنا، ان کے پاس فنڈز نہیں ہوتے یا پھر ان کے فنڈز کھالیے جاتے ہیں یا پھر ان کے پاس سازو سامان کی شدید قلت ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے پاک فوج کو ملک کی خاطر اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ 2005 کے زلزلے کے بعد فوج کا کردار دیکھا جاسکتا ہے۔ سیلاب آجائے تو فوج کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ کہیں کوٸی فلاحی کام ہونا ہوتا ہے فوج کو آگے کردیا جاتا ہے۔ فوج ان حالات کو جلد کنٹرول کرکے ملک میں پھیلے انتشار کو باآسانی روک دیتی ہے۔ مشکل ترین جگہوں پر جیسے پہاڑی علاقوں میں سڑکوں اور پلوں کا جو تعمیراتی کام ہوتا ہے وہ فوج کا ادارہ ‘فرنٹیٸر ورکس آرگنائزیشن’ کرتا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے جو موٹر وے بنایا تھا وہ بھی اب یہ ادارہ ہی چلا رہا ہے۔ ملک کی معیثیت کے لیے سی پیک کے لیے جتنا کام پاک فوج نے کیا ہے اتنا کسی نے بھی نہیں کیا۔ اس پراجیکٹ کو کامیاب بنانے میں پاک فوج کا کردار سب سے اہم ہے۔ پاک فوج کے ہر جوان و افسر کے خون میں یہ بات رچ بس گئی ہے کہ یہ سارے کام ان کی جاب کا حصہ ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ ان کے وہ احسانات ہیں کہ جن کا بدلہ ہم نہیں اتار سکتے۔ اگر فوج ایسے کڑے وقت میں ملک کی اندرونی حالت کو نظر انداز کردے تو ملک افراتفری و توڑ پھوڑ کا شکار ہو کر دنیا میں مذاق بن کر عالمی سطح پر غیر مستحکم ممالک کی فہرست میں شامل ہوجائے۔پاک فوج نے وطن عزیز کا کردار بلند کرنے کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ نائن الیون کے بعد جب پاکستان کا نام بطور دہشت گرد ملک استعمال کیا جارہا تھا اس وقت پاک فوج نے ہی اقوام عالم کو باور کرایا کہ عالمی امن کے لیے پاکستان ہر قسم کی کوششوں کا حصہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دشمن عناصر جو پاکستان کو اندرونی طور پہ کمزور کرنے کے درپے تھے جس کا ثبوت ہماری تاریخ کا سب سے دلخراش واقعہ 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پشاور میں پیش آیا۔ جو سفاکیت کی بدترین مثال ہے جس کا ذکر بھی آنکھوں میں آنسو لے آتا ہے۔ پاک فوج نے دشمن عناصر کا خاتمہ کرنے کے لیے ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے دہشت گردوں کا قلع قمع کیا۔ اس کے علاوہ عالمی امن کی خاطر اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے دستے فراہم کرنے والی افواج میں پاک فوج کا دنیا بھر میں تیسرا نمبر ہے۔ افریقی ممالک، کانگو وغیرہ جیسے بدامنی سے بھرپور خطوں میں پاک فوج امن کی بحالی کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ کسی ملک کی پوزیشن دنیا میں کس حد تک مضبوط ہے اس کا اندازہ اس ملک کی فوج کو ملنے والے اعزازات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ اقوام متحدہ کے سب سے زیادہ میڈلز پاکستانی فوج نے حاصل کیے ہیں۔ذہنی و اعصابی اعتبار سے پاک فوج کو دیکھا جائے تو اس لحاظ سے بھی ہماری فوج سب سے آگے ہے۔ دنیا کی کون سی فوج ہے جو انتہائی مشکل و خطرناک جنگی حالات کے بعد ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتی۔ شدید ذہنی دباؤ میں آکر بھارت جیسا ملک جس کی فوج خود کو بادشاہ سمجھتے ہوئے پاکستان کو شکست دینے کی ناکام کوششيں کرتی رہتی ہے۔ اس فوج کے افراد بھی ذہنی دباٶ کا شکار ہو کر خودکشی کرتے ہیں۔ امریکا جو خود کو وقت کا فرعون سمجھ بیٹھا ہے اس کی فوج میں بھی خودکشی کرنا عام ہے۔ پاک فوج اللہ کے کرم سے ایسی فوج ہے کہ جس کے سپاہی اپنی جانوں کو اللہ کی امانت سمجھتے ہویے اس کو یوں خود سے ختم نہیں کرتے بلکہ دشمن کے سامنے ڈٹ کر، سینے پہ گولی کھا کر، شہادت کا رتبہ حاصل کرکے اپنے رب کے سامنے سرخرو ہونا پسند کرتے ہیں۔ یہ ہی وہ ایمانی قوت ہے جس سے پاک فوج کو قوت ملتی ہے اور وہ ملک کو استحکام بخشتی ہے۔
۔

افواج پاکستان کو برا بھلا کہنے والوں سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کے مطابق پاک فوج اپنا فرض صحیح طریقے سے ادا نہیں کر رہی تو آپ پاک فوج میں جا کر بھرتی ہوجاٸیں جب آپ کے سینے پہ آکر گولی لگے گی یا بم آپ کے جسم کے پرخچے اڑا دے گا تب آپ فوجیوں کی قربانیوں کا احساس کرپاٸیں گے یا ایسا کریں اپنے جوان بیٹوں کو فوج میں بھرتی کروادیجیے۔ جب آپ کے بچے شہید ہو کر لہو لہو ہو کر آپ کے سامنے آٸیں گے تب شاید آپ سمجھ سکیں گے پاک فوج کیا کرتی ہے اور ملک کی ترقی میں اس کی کیا اہمیت ہے۔ پاکستان کے استحکام کے لیے افواج پاکستان کا کیا کردار ہے میرے لکھے گٸے الفاظوں سے بڑھ کر ہے۔ اس کا اندازہ پاک افواج کے شہداء کے یتیم بچوں کے معصوم چہروں کو دیکھ کر، جوانی میں بیوگی کی ردا اوڑھ لینے والی میری بہنوں کی خاموش سسکیوں کو سن کر، صبر کا گھونٹ پیتے ان جوانوں کے ماں باپ کی سرخ آنکھوں پر نظر ڈال کر لگایا جاسکتا ہے۔ ہم چاہے ان کی قدر نا کریں مگر اللہ پاک ان کی بہت قدر کرنے والا ہے۔ اللہ رب العزت ہمارے پیارے ملک اور پاک افواج کی حفاظت فرماٸے۔ آمین