عدم اعتماد مسترد کیے جانے کے بعد سیاسی بحران سپریم کورٹ کا ازخودنوٹس۔۔۔۔(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک) ۔تحریک عدم اعتماد کو بغیر ووٹنگ کے مسترد کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ازخود نوٹس لے لیاچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ریاستی عہدیداروں کو کسی بھی ماورائے آئین اقدام سے روک دیا۔چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے معاملے پر سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔سپریم کورٹ بار اور سیاسی جماعتوں کو ازخود نوٹس میں فریق بنانے کا حکم دے دیا اور کہا کہ ججز تمام صورتحال سے آگاہ ہیں لہٰذا مزید سماعت کل کی جائے گی۔چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ سیاسی جماعتیں پر امن رہیں، کوئی ماورائے آئین اقدام نہ اٹھا یا جائےقوم ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلاہے جبکہ ملکی معیشیت کابیڑہ غرق ہوچکا ہےپاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے نجی ٹی وی سے بات چیت میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جو کچھ ہوا ادارے کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔واضح رہے کہ تحریک عدم اعتماد کے موقع پر قومی اسمبلی کے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریکِ عدم اعتماد کی قرار داد مسترد کر دی۔ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے متحدہ اپوزیشن کی تحریکِ عدم اعتماد کو آئین کے خلاف قرار دے دیا۔اس کے فوراً بعد ہی وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے براہ راست خطاب کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ صدر مملکت کو اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھیج دی ہے، قوم نئے انتخابات کی تیاری کرے۔دوسری جانب وزیر اعظم کی سمری موصول ہونے کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسمبلی تحلیل کر دی ہے اس کےبعد اپوزیشن نے شور شرابہ شروع کرکےقومی اسمبلی کی کارروائی خود چلانا شروع کردی,اپوزیشن نے کارروائی ماننے سے انکارکردیا,اپوزیشن نے پینل آف چیئرمین سردار ایاز صادق کی زیرصدارت اجلا س شروع کردیا۔سردار ایاز صادق نے سپیکر قومی اسمبلی کی کرسی سنبھال لی۔تحریک عدم اعتماد کے حق میں 195 ووٹ پڑے,ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد مسترد کیے جانے کے بعد اپوزیشن لیڈر وصدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران نیازی کی سوچ ہے کہ نہ کھیلوں گا نہ کھیلنے دوں گا۔شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حرکت کے خلاف عدالت جا رہے ہیں، پوری اپوزیشن کو غدار قرار دیا گیا اور اسپیکر نے عجلت میں تحریک کو رد کر دیا۔ان کا کہنا ہے کہ عمران نیازی ملک میں جمہوریت کو لپیٹ دینا چاہتے ہیں، ملک میں خلا پیدا ہو چکا،ڈپٹی اسپیکر نے آئین کی دھجیاں اڑا دیں، غیر آئینی اور غیر قانونی کام کیا, پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عدم اعتماد کے معاملے پر کہا کہ ہمارے پاس اکثریت ہے، ہم وزیراعظم کو عدم اعتماد میں شکست دلوائیں گے۔ آخری موقع پر اسپییکر نے غیر آئینی کام کیا، پاکستان کا آئین تڑوایا گیا, وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہاکہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں بھی پیر کو توڑ دینی چاہئیںمیں تو ایمرجنسی کی خواہش رکھتا تھا میری بات نہیں مانی گئی، یہ زبردست کام ہوا ہے، عمران خان کو اتنے ووٹ ملیں گے کہ لوٹے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کاکہنا ہےکہ اسپیکر کا فیصلہ حتمی ہے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیاجا سکتا۔ ڈپٹی اسپیکر نے جرات سے یہ فیصلہ کیا ، اسپیکر کا اختیار اس ضمن میں لامحدود ہے اور اسپیکر کا فیصلہ حتمی ہے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیاجا سکتا۔ پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اسمبلی توڑنے کا اختیار آرٹیکل 58 کے تحت وزیراعظم کا ہے ، ملک میں 90 دن کے اندر انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ مارشل لاء کا کیوں خطرہ ہے ؟ سب کچھ آئین کے مطابق ہو رہاہے۔: ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی جانب سے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو مسترد کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ازخود نوٹس لے لیا ہے, رجسٹرار سپریم کورٹ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے ملک میں پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال پر ازخود نوٹس لے لیا ہے۔اپوزیشن کی جانب سے آج قومی اسمبلی میں ہونے والی کارروائی کے خلاف پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کی صدر کو بھیجی گئی سمری کو بھی سائیڈ لائن کیا جائے، اسپیکر کو اجلاس بلا کر اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا پراسس مکمل کرنے کا حکم اسمبلی کی کارروائی کالعدم قرار دی جائے۔ اپوزیشن کی درخواست میں یہ بھی کہا گیاکہ وزیراعظم کو تحریک عدم اعتماد کے پراسس کو روکنے کے لیے کسی بھی قسم کا اقدام اٹھانے سے روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےوزیر اعظم عمران کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کی ہے، تاہم وزیراعظم عمران خان آئین کے آرٹیکل 224کے تحت اپنے عہدے پر برقرار رہ کر نگران حکومت کے قیام تک خدمات انجام دیتے رہیں گے۔آئین کے آرٹیکل 69 کے تحت قومی اسمبلی کی کارروئی کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیاجاسکتا زرائع کے مطابق سازش میں ملوث کرداروں کے خلاف بھی کارراوئی کا امکان ھے۔ 1973 کے آئین میں شامل آرٹیکل 6 ریاست اور آئین سے غداری میں ملوث افراد کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی تھی، 18ویں ترمیم کے تحت اس میں مزید تبدیلی کر کے آرٹیکل 2۔6 الف کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کے تحت آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی میں ملوث افراد کو سپریم کورٹ سمیت کوئی بھی عدالت معاف نہیں کر سکتی ۔لہٰذا آئینی طور پر مستقبل میں کسی بھی مارشل لا کا راستہ بند کر دیا گیا ہےجنرل ضیاء نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے وزیراعظم کے اختیارات صدر کو منتقل کیے،صدر کو آرٹیکل58-2(b) کے ذریعے اسمبلی کو اپنی صوابدید پر توڑنے کا اختیار دیا گیا ۔یہ اختیار جنرل ضیاء الحق نے وزیر اعظم محمد خان جونیجو صدر غلام اسحٰق خان نے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں کو ختم کرتے وقت استعمال کیا اس کا چوتھی مرتبہ استعمال صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے خاتمے کے وقت کیا،اٹھارہویں ترمیم نے بعض اہم امور میں صدر کو وزیراعظم کی تجویز کا پابند بنادیا ہے۔ وہ مسلح افواج کے سربراہوں کا تقرر ہو یا صوبوں کے گورنروں کا ، یہ فیصلے بظاہر صدر کے نام سے جاری ہوتے ہیں لیکن صدر از خود یہ فیصلے نہیں کرتا بلکہ وہ وزیراعظم کے مشورے کا پابند ہے ،وہ وزیراعظم جو پارلیمان کا منتخب کردہ سربراہ ِ حکومت ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم پاکستان کی سیاسی تاریخ کاایک اہم سنگ میل ہے، پاکستان صدارتی نظام سے پارلیمانی نظام میں دوبارہ داخل ہوا،پاکستانی آئین میں اٹھارویں ترمیم 8 اپریل 2010 کو قومی اسمبلی پاکستان جب کہ 15اپریل 2010ء کو سینیٹ آف پاکستان نے پاس کی۔ اس وقت آصف علی زرداری پاکستان کے صدر تھے۔ جنہوں نے 19اپریل 2010 میں ایوان صدر میں منعقدہ ایک تقریب میں اس دستاویز پر دستخط کر کے اسے آئین کا حصہ بنادیا۔اٹھارویں ترمیم نے صدر کے پاس موجود تمام ایکزیکٹو اختیارات پارلیمان کو دے دیے، چونکہ وزیر اعظم قائدِ ایوان ہوتا ہےلہٰذا زیادہ اختیارات وزیر اعظم کے پاس آئے۔ اس کے علاوہ پاکستان وفاق سے زیادہ تر اختیارات لے کر صوبوں کو دیے گئے۔ اس ترمیم کے ذریعے فوجی آمر جنرل ضیاالحق کے دور کی گئی ترامیم کو تقریباً ختم کر دیا گیا ہے، جنرل ضیا کے دور میں 8ویں ترمیم کے تحت 1973 کے وفاقی آئین میں 90 سے زیادہ آرٹیکلز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔