..مہاراجہ رنجیت سنگھ.;.پنجاب کا ناقابل شکست حکمران…………(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)……….مہاراجہ رنجیت سنگھ.;.پنجاب کا ناقابل شکست حکمران رہاہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 183 ویں برسی کی تقریبات میں شرکت کے لئے بھارت سے 500 کے قر یب سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچے ہیں۔ برِصغیر میں صدیوں سے 3 مذاہب، اسلام، ہندوازم اور سکھ ازم کے پیروکار رہتے ہیں۔ ہندوؤں کی اس خطے میں حکمرانی کی تاریخ کئی ہزار سال پر مشتمل ہے، جبکہ مسلمانوں نے بھی یکے بعد دیگرے حکمرانی کرتے ہوئے ایک ہزار سال سے زائد وقت صرف کیا۔ لیکن ان تینوں میں سکھ واحد ہیں جنہیں صرف ایک بار مکمل طور پر حکمرانی کرنے کاموقع ملا۔ ‘سکھ سلطنت’ کے بانی اور سلطان کا نام مہاراجہ رنجیت سنگھ ہے۔ سکرچکیہ مثل کے سردار مہان سنگھ کا بیٹا رنجیت سنگھ 13 نومبر 1780ء کو صوبہ پنجاب کے شہر گجرانوالہ کے نزدیک پیدا ہوا۔ رنجیت سنگھ  کی تاریخ وفات  27 جون 1839ء ھے مہاراجہ رنجیت سنگھ کو پنجاب میں سکھ سلطنت کا بانی مانا جاتا ھے۔ تقریباً چالیس سالہ دورِ حکومت میں اُس کی فتوحات کے سبب سکھ سلطنت کشمیر سے موجودہ خیبر پختونخوا اور جنوب میں سندھ کی حدود سے مل کر افغانستان تک پہنچ چکی تھیں۔ ۔ کشمیر 1819ء میں سکھ سلطنت میں شامل کیا گیا، اور بقیہ علاقہ تخت کابل ملتان کے تحت 1818ء میں، ڈیرہ ذات 1821ء۔ اٹک میں 1813ء۔ 1820ء میں راولپنڈی، سکھوں کو آہستہ آہستہ سلطنت میں شامل کر لیا گیا۔ اٹھارہویں صدی اور انیسویں صدی کے ابتدائی سالوں میں ہندوستان میں مغل سلطنت بس نام کی ہی تھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے توسط سے برطانوی توسیع کی سرخ لہر پنجاب کی سرحدوں تک تقریباً پورے برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔ پنجاب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ ہزار سالو ں میں پہلے ہندوستانی تھے جنھوں نے ہندوستان کے روایتی فاتحین پشتونوں (افغانوں) کی یلغارپسپا کی۔ غیر ملکی حملہ آوروں کو شکست دیتے اور مقامی علاقوں کو زیرِ نگیں کرتے ان کا راج شمال مغرب میں درّہ خیبر سے مشرق میں دریائے سُتلج تک اور برصغیر پاک و ہند کی شمالی حد سے جنوب کی طرف (عظیم ہندوستانی) صحرائے تھر تک پھیلا ہوا تھا۔ لاہور صدر مقام تھا۔جب 27 جون 1839 کو رنجیت سنگھ کی وفات ہوئی تو لاہور ریاست کا رقبہ دو لاکھ مربع میل سے کچھ زیادہ تھا۔ دولت اور سکھوں، مسلمانوں اور ہندوؤں پر مشتمل تنخواہ دار، منظم اور بھاری معاوضے پر رکھے گئے یورپی جرنیلوں کی تربیت یافتہ فوج پاس تھی۔ تب تک انگریز اور مہاراجہ 25 اپریل 1809 کے معاہدہ امرتسر پر قائم تھے جس کے تحت انگریزوں نے ستمبر 1808 تک فتح کیے گئے علاقوں پر مہاراجہ کی حاکمیت تسلیم کی تھی اور مہاراجہ نے خود کو سُتلج دریا کے دائیں کنارے تک محدود رکھنے کا عہد کیا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی پنجاب پر قبضہ تو چاہتی تھی مگر مناسب وقت کی منتظر تھی۔ ’انیسویں صدی کی دوسری دَہائی میں ہندوستان کی برطانوی حکومت مشرق اور شمال مغرب دونوں طرف توسیع کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ شمال مغرب میں برطانوی مملکت کی توسیع کے لیے 1828 میں (کلکتہ کے بعد) شملہ میں دوسرا دارالحکومت قائم کیا گیا۔ اکتوبر 1831 میں ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ ولیم بینٹک نے روپڑ میں رنجیت سنگھ سے ملاقات کی۔ روپڑ میں ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انگریزوں نے 1832 میں سندھ کے امیروں کے ساتھ جہاز رانی کا تجارتی معاہدہ کیا۔ یہ 1843 میں اس صوبے پر مستقبل کی فتح کا محض ایک بہانہ تھا۔ لاہور سے بمشکل 40 میل کے فاصلے پر واقع فیروز پور کا قصبہ انگریزوں نے رنجیت سنگھ کی حاکمیت میں تسلیم کیا تھا، لیکن تزویراتی اہمیت کی حامل اس جگہ پر انگریزوں نے 1835 میں سردارنی لچھمن کور کی موت پر قبضہ کر لیا اور اسے چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا۔‘رنجیت سنگھ جب تک زندہ رہے، ریاست متحد رہی۔ سکھوں اور انگریزوں کی آخری لڑائی 1849ء میں پاکستانی پنجاب کے تاریخی قصبہ رسول نگر میں لڑی گئی۔ ۔ پنجاب میں اس کا اقتدار 1799ء تا 1849ء تک رہا رسول نگر گوجرانوالہ میں دریائے کے کنارے تاریخی قصبہ ہے ۔ جسے نور محمد چھٹہ نے سترھویں صدی عیسوی میں آباد کیا تھا سکھوں سے آخری لڑا ئی میں بر طا نو ی فو ج کے جنر ل چا ر لس را بر ٹ ، لا ر ڈ کو چ ، ویلیم ہیولاک ، بر یگیڈیئر سی آ رکریٹون 16 آفیسرز ہلاک 64 زخمی اور 14 لاپتہ ہو ئے تھے جن کی عمودی قبریں رسول نگر میں موجود ہیں, ہلا ک ہو ئے 4 جنرل 2 بریگیڈیئر اور 2 کرنل رینک کے آفیسر کی قبر یں علا قہ بھر میں کھڑی قبروں کے نا م سے مشہور ہیں بادشاہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی موت کے بعد، انگریزوں نے اس بڑے علاقے کو بڑی مشکل سے فتح کیا کیونکہ یہ ہندوستان میں انگریزوں کے قبضے میں آنے والی آخری سلطنت تھی، مہا راجا رنجیت سنگھ پنجاب میں سکھ سلطنت کا بانی تھا ۔ پنجاب میں اس کا اقتدار 1799ء تا 1849ء تک رہا ۔ اس نے 1822ء میں دریائے چناب کے کنارے شہر رسول نگر سے 2 کلومیٹر مشرق کی جانب اپنے دور کی خوبصورت ترین بارہ دری تعمیر کی ۔ 25 ایکڑ پر پھلوں کے باغات اور 64 کنال کی چار دیواری کے علاوہ دریائے چناب میں اتر نے کے لیے زیر زمین سر نگ تعمیر کی جس میں اس کے اہل خانہ نہانے کے لیے اترتے تھے ۔ خوبصورت ترین اس بارہ دری کے بارہ دروازے بنائے گئے جو چاروں اطراف سے آنے جانے کے لیے تھے اس بارہ دری سے شہر رسول نگر تک 2کلو میٹر زیر زمین سر نگ بنا ئی گئی جو رنجیت سنگھ کے محل سے خواتین بارہ دری تک آنے کے لیے استعما ل کر تی تھیں ۔ مہا راجا رنجیت سنگھ ہر سا ل 3ما ہ کے لیے اس با ر ہ در ی میں قیا م کر تا تھا۔ ۔راقم الحروف کے آباو اجداد کئی صدیوں اسی سرزمین پر مدفون ہیں اور زمانہ طالب علمی کا ابتدائی عرصہ بھی رسولنگر میں گزرا میرے دادا حکیم نیاز علی کو برطانوی راج میں سند فضیلت عطا ہوئی اور وہ اپنے دور کےنامورطبیب رہے جبکہ نانا نذرعلی نذر ایک مشہور شاعر اور مصورتھے جنکے درجنوں شاگرد نیشنل کونسل آف آرٹس کے استاتذہ رہ چکے ہیں علاوہ ازیں راقم الحروف کے سسرال کے آباو اجداد بھی صدیوں سے یہاں آباد رہ کر ملک و قوم کی خاطر جانیں قربان کرچکے ہیں شہید مظہرعلی مبارک جو میرے حقیقی بھائی تھے سال 2013 میں دھشت گردانہ کارراوئی میں شہید ہوئےتھے آج بھی ہماراآبائی گھر محلہ پٹھانوالہ میں آباد وشاد ھے اور عہد رفتہ کی حسین یادوں کامسکن ھے اس علاقہ کی اعزاداری کا اہتمام بسلسلہ محرم الحرام لائسنسداری نسل درنسل ہمارے خاندان کیلئے اعزازھے اور یہ اعزاز کئی صدیوں پر محیط ھے تاریخ نے یہ بات درست بھی ثابت کی۔ رنجیت سنگھ بلا شرکتِ غیرے اتنے بڑے خطے کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ پایہءِ تخت پر بیٹھ کر انہوں نے ریاست کی حدود کو وسیع کیا، بیرونی حملہ آوروں کی روک تھام کی اور خطے کی ترقی کے لیے اپنی قائدانہ صلاحیتیں صرف کیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مہاراجہ ان چند عالمی حکمرانوں میں شامل ہیں جنہیں کبھی میدانِ جنگ میں شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس جدوجہد میں سکھوں کے کئی ٹولے شامل تھے جن کو مثل کہا جاتا تھا۔ یہ تمام مثلیں منتشر لیکن متحرک تھیں۔ انہی میں سے ایک مثل ‘بھنگی’ تھی، جن کا لاہور شہر اور گرد و نواح کے علاقوں پر قبضہ تھا۔ اہلِ لاہور نے رنجیت سنگھ کو دعوت دی جس کے بعد انہوں نے لاہور فتح کیا جہاں سے ان کی فتوحات کا دائرہ کار وسیع ہوا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پیدائش 13 نومبر 1780ء کو گوجرانوالہ شہر میں ہوئی جبکہ27 جون 1839ء کو لاہور میں انتقال ہوا۔ ان کے والد کا نام سردار مہا سنگھ اور والدہ کا نام راج کور تھا۔ والد بھی سکھوں کی ایک مثل ‘سکرچکیہ’ کے سربراہ تھے جسے ان کے دادا چرت سنگھ نے 18ویں صدی کی ابتدا میں قائم کیا تھا جب وہ انگریزوں کے خلاف برسرِپیکار تھے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب مغلوں کی شاندار سلطنت زوال پذیر ہو رہی تھی۔ دہلی کی مرکزی حیثیت اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی۔ ایرانی حملہ آور نادر شاہ اس خطے کی دولت لوٹ کر واپس جاچکا تھا جبکہ پنجاب پر احمد شاہ ابدالی کے حملے جاری تھے۔مقامی حریت پسندوں کے طور پر سکھ سب سے زیادہ فعال کردار ادا کر رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی حملہ آور کے قدم اس خطے میں جم نہیں رہے تھے کیونکہ سکھ جتھے گوریلا انداز کی لڑائی لڑتے تھے اور حملہ کرنے کے بعد جنگلوں اور پہاڑوں میں چھپ جایا کرتے۔ اس طرزِ جنگ میں انگریزوں سمیت افغانیوں اور پٹھانوں کو ان کا مقابلہ کرنے میں خاصی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔مہاراجہ کو بچپن میں چیچک کی بیماری ہوئی جس سے ان کی ایک آنکھ بیکار ہوگئی لیکن انہوں نے اپنی اس خامی کو بھی خوبی سے بیان کیا۔ وہ کہا کرتے تھے، ’میں اس خطے کے تمام لوگوں کوایک ہی نظر سے دیکھتا ہوں‘۔ اور واقعی ایسا ہی تھا۔ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے بعد یہ دوسرے حکمران تھے جنہوں نے خطے میں امن اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دیا۔ ہرچندکہ کچھ واقعات سننے میں آتے ہیں کہ مہاراجہ کی طرف سے ناانصافی کی گئی لیکن ریکارڈ پر اکثر ایسے واقعات ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ رحم دل، انسان دوست اور سب سے بڑھ کر علاقائی سیاست کا پرچار کرنے والا حاکم تھا۔ مہاراجہ کی خواہش تھی کہ خطے میں پنجاب کی مرکزی حکومت قائم ہو جس میں مقامی ہندو، مسلمان اور سکھ مل کر اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ وہ سکھ ریاست کے بجائے پنجاب کی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ اس ماحول کو قائم رکھنے پر انہیں دانشمندی کی داد دینا پڑتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت مقامی زمینداروں کو ساتھ ملایا، سکھ مثلوں کو اکٹھا کیا اور روایتی طور پر رائج درباری سرگرمیوں سے پرہیز کیا۔ تاج پہننے کے بجائے اپنی مذہبی پگڑی پہنی۔ دربار میں تخت پر بیٹھنے کے بجائے عام انداز میں براجمان ہوئے۔ دربار میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو بطورِ مشیر وزیر اپنے ساتھ رکھا، جس میں لاہور کا فقیر خاندان نمایاں تھا۔ آج بھی اس خاندان کے افراد لاہور میں مقیم ہیں اور ان کا قائم کردہ ‘فقیر خانہ میوزیم’ اس خطے بالخصوص رنجیت سنگھ کے دور کی کہانی کو بہت تفصیل سے بیان کرتا ہے۔رنجیت کے نام کا مطلب ‘میدان جنگ میں فاتح’ ہے اور انہوں نے اپنے عمل سے بھی ثابت کیا کہ وہ اپنے نام کی طرح نڈر، بہادر اور بے خوف جنگجو ہیں اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک بھی۔ 1799ء میں جب مہاراجہ رنجیت سنگھ لاہور پر قابض ہوئے تو اس وقت ان کی عمر صرف 19 سال تھی جبکہ وہ 10 سال کی عمر میں والد کے ہمراہ ایک جنگ میں بھی شریک ہوچکے تھے۔ایسے کئی مزید معرکوں کے بعد وہ مہاراجہ پنجاب بننے میں کامیاب ہوئے۔ دلیری کا یہ عالم تھا کہ پنجاب کے معروف مؤرخ بوٹے شاہ لکھتے ہیں: ‘وہ شاہ زمان کا مقابلہ کرتے ہوئے قلعہءِ لاہور کے مینار پر چڑھ گیا اور اسے للکارا‘۔ کیونکہ ماضی میں ان دونوں کے دادا کے مابین جنگی معرکے ہوئے تھے، لہٰذا اس نے للکار کر اسے کہا ‘چرت سنگھ کا پوتا مقابلہ کرنے آیا ہے، قلعہ سے باہر نکل کر آؤ اور مقابلہ کرو’ مگر شاہ زمان قلعہ سے باہر نہ آیا۔مہاراجہ نے ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی سلطنت کی سرحدیں وسیع کیں۔ اپنے تقریباً 40 سالہ دورِ حکومت میں انہوں نے سکھ سلطنت کو پنجاب سے کشمیر، خیبر اور سندھ تک پہنچا دیا تھا۔ انہوں نے حکمرانی سنبھالنے کے ٹھیک 3 برس بعد امرتسر بھی فتح کرکے اسے اپنی ریاست کاحصہ بنا لیا۔ وہاں سے انہیں جو مالِ غنیمت میسر آیا اس میں بھنگیوں کی مشہور توپ بھی تھی جو آج بھی لاہور میں ایک چوراہے پر نصب ہے۔ انہوں نے خطے میں انگریزوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کے بھی سدباب کیے۔ اپنی فوج میں ہندو اور انگریز افسران بھی شامل کیے اور اپنی فوج کو اس وقت کے جدید طریقے سے لیس کیا جس کی وجہ سے وہ ہر میدان میں فاتح ثابت ہوئی ۔انہوں نے کئی شادیاں بھی اپنے اقتدار کو مزید مضبوط کرنے کی غرض سے کیں۔ ہرچند کہ وہ ان پڑھ تھے، لیکن انہوں نے ہر وہ طریقہ اختیار کیا جس کے ذریعے اپنا راج دیر تک چلایا جاسکتا ہے۔انہوں نے ایک طرف میدانِ جنگ میں اپنی تلوار گرم رکھی تو دوسری طرف عوام کے دل جیتنے کی کوششوں کو بھی جاری رکھا۔ شادیوں کے ذریعے ہندوؤں اور مسلمانوں کی ہمدردیاں بھی حاصل کیں۔ ایک مسلمان طوائف سے شادی کی اور اس کے لیے ایک مسجد بنوائی.
کہا جاتا ہے کہ جب مہاراجہ لاہور پر قابض ہوا، تو اس نے بادشاہی مسجد کو اپنی فوج کے مصرف میں دیا۔ لیکن بعض تاریخی حوالے اس کی نفی کرتے ہیں۔ متعدد حوالوں کے ذریعے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ مہاراجہ نے کبھی مذہبی بنیادوں پر کسی کو نہیں روکا ٹوکا۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور کی فتح کے وقت خوش آمدید کہنے والوں میں مسلمان بھی پیش پیش تھے۔ ہندوؤں کے مندروں کی تعمیرات کے لیے بھی انہوں نے اپنے خزانے کا منہ کھولے رکھا۔مہاراجہ کی اخلاقیات کا یہ عالم تھا کہ جس علاقے پر بھی قبضہ کیا، اس کے سابقہ حکمرانوں کے لیے مناسب اہتمام کیا تاکہ وہ اپنی گزر بسر اچھی کرسکیں۔ وہ واحد حکمران تھے جنہوں نے انگریزوں کی مکاری کو بھانپ لیا، ولندیزیوں اور فرانسیسیوں کے عزائم بھی نظرمیں رکھے اور سب سے برابر تعلقات استوار کیے جس کی وجہ سے اپنی زندگی میں کم از کم انہوں نے کسی کو سکھ سلطنت کے قریب نہ پھٹکنے دیا۔ ان کے انتقال کے بعد سکھ سلطنت 10 سال تک قائم رہی جس میں ایک اہم کردار ان کے خاندان کی عورتوں کا بھی تھا جنہوں نے انگریزوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی۔ مختصراً یہ ہے کہ مہاراجہ کے جانشینوں میں ان کے بعد کھڑک سنگھ، نونہال سنگھ، رانی چاند کور، شیر سنگھ اور دلیپ سنگھ تھے۔ دلیپ سنگھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا وہ بیٹا ہے جسے انگریز اپنے ساتھ انگلستان لے گئے تھے اور وہیں اس کی پرورش ہوئی۔ اس نے ایک بار سکھ سلطنت واپس حاصل کرنے کی ناکام کوشش بھی کی۔ اس کی زندگی پر ہولی وڈ کی فلم ‘دی بلیک پرنس’ کچھ عرصہ پہلے ہی بنی ہےمہاراجہ کے انتقال کے بعد 10 سال کے عرصے میں سکھ خاندان کی آپس میں لڑائیوں، درباری ریشہ دوانیوں، انگریزوں سے سکھوں کی جنگوں اور اغیار کی سازشوں نے 1849ء میں سکھ سلطنت کا خاتمہ کردیا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کو منہ زور گھوڑیاں اور بہادر عورتیں بہت پسند تھیں۔ انہوں نے شاندار نسل کے گھوڑوں اور گھوڑیوں پر سواری کرکے میدانِ جنگ میں شکست و فتح کے فیصلے کیے۔ پہلی سکھ سلطنت قائم کی۔ گوجرانوالہ سے نکل کر لاہور، پھر وہاں سے امرتسر، کشمیر، ملتان، دہلی، لداخ اور پشاور تک اپنی سلطنت کو وسعت دے دی۔ پنجاب کے میدانوں میں ایک ہی جنگجو تھا جس کے گھوڑے دوڑے تو ان کی دھول سے ملک کی سرحدیں پھیلتی گئیں۔ دل اور دماغ کا متوازن استعمال صرف اور صرف مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ہاں تھا۔ ایک دن مہاراجہ سے بیوی نے ان کی بدصورتی کے تناظر میں کہا: ’خدا جب حسن بانٹ رہا تھا تو اس وقت تم کہاں تھے؟‘ تو انہوں نے جواب میں جو کہا وہی برِصغیر کی اصل تاریخ ہے۔ وہ بولے، ‘میں بادشاہت کی تلاش میں گیا ہوا تھا۔’ اگر دیکھا جائے تو آج تک کوئی حکمران اس خطے میں اس بلندی کو نہ چھو سکا جہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے راج کیا۔ وہ پنجاب کے بہادر سپوت تھے۔ تاریخِ پنجاب انہیں کبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔ لاہور میں بادشاہی مسجد کے عقب میں ان کی سمادھی پر زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آج بھی اس خطے میں رہنے والے اس کو چاہتے ہیں۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریب 29 جون گورودوارہ ڈیرہ صاحب میں منعقد ہو گی,سکھ یاتری لاہور سے سپیشل ٹرینوں کے ذریعے ننکانہ صاحب پہنچ گئے جہاں پر 24  جون کو یاتری گورودوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال کا دورہ کرنے کے بعد 26 جون کو لاہور واپس آئیں گے . لاہور سے 27 اور 28 جون کو گورودوارہ کر تارپور صاحب نارووال اور گورودوارہ روہڑی صاحب ایمن آباد کا دورہ کر کے واپس لاہور آئیں گے یاتریوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پہنچ کر بہت خوشی محسوس ہوتی ہے , مذہبی تقریبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کی محبت ہمیں یہاں کھینچ لاتی ہے۔