مشکل وقت میں بہترین عوام دوست بجٹ ………. .اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)…………….جن حالات میں پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت نے ایک بہترین بجٹ پیش کیا ہے یہ کسی بڑے کارنامے سے کم نہیں۔یہ درست ہے کہ بجٹ کو ھمیشہ الفاظ کا گورکھ دھندہ قرار دیا جاتاہے مگر جن حالات میں موجودہ حکومت نے باگ دوڑ سنبھالی یہ تاثر دیا جارہاتھاکہ ملک دیوالیہ ہوجائےگا اور یہ کہ حکومت چند روز کی مہمان ھے کہا جارہا ہے کہ یہ آئی ایم ایف کی شرائط پر بجٹ تیار کیا گیا لیکن خوش آئند حقیقت یہ ھے کہ حکومت آئینی مدت پوری کرے گی اتحادی حکومت کی معاشی ٹیم سے گزشتہ روز پوسٹ بجٹ کانفرنس کے بعد راقم الحروف کی وزیر خزانہ وزیر اطلاعات اور دیگر سے ملاقات میں اہم پیش رفت کا انکشاف ہوا راقم الحروف سے مختصر گفتگو میں وزیر اطلاعات محترمہ مریم اورنگزیب کا ماننا تھا کہ مشکل حالات میں یہ بہترین بجٹ ھے ان کا مزید کہناتھاکہ یہ بجٹ پاکستان میں معاشی استحکام کی بنیاد بنے گاعوام دوست بجٹ میں وہ سب کچھ ھے جس کی پاکستان عوام خواہش کررہی تھی۔اس سے میثاق معیشت کےلئے راہ ہموار ہوسکےگی۔کم وقت میں متوازن بجٹ اتحادی حکومت کی معاشی ٹیم کی پروفیشنلزم کا ثبوت ھے اس موقع پر وزیر خزانہ مفتاع اسماعیل کا کہنا تھاکہ کہ ملک کے انتظامی معاملات کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ورنہ معیشت سنبھل نہیں سکے گی۔ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ ہم نے انتہائی مشکل وقت میں بجٹ پیش کیا ہے جب پاکستان ایک مشکل گھڑی میں کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے گزشتہ 30 برسوں میں اس سے زیادہ گھمبیر وقت کبھی نہیں دیکھا جہاں ایک جانب عالمی سطح پر چیلنجز کا سامنا ہے اور دوسری جانب حکومت یا انتظامیہ کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ترقی اور مہنگائی ہمارا ہدف ہے لیکن ہمارا پہلا ہدف مالیاتی استحکام کا حصول اور ملک کو اس راستے سے ہٹانا ہے جہاں عمران خان چھوڑ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دوسرا ہدف اپنے غریب لوگوں کو ریلیف دینا ہے جس کے لیے ہم مشکل فیصلے لے رہے ہیں، حکومت ملک کے معاشی معاملات کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ملک کو سری لنکا جیسی صورتحال کا سامنا نہ ہو۔رواں مالی سال میں حکومت نے بجلی کے محکمے کے لیے 1100 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دی ہے، ہم کنزیومرز کو 100 ارب یونٹ بنا کر پہنچاتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ ہم نے بجلی پر 11 روپے فی یونٹ سبسڈی دی ہے۔ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ سبسڈی کے باوجود بجلی مہنگی ہونے کی وجہ بےانتظامی ہے، بجلے کے ریٹ طے کرنے کے نظام میں سقم ہے، ٹرانسمیشن ڈسٹریبیوشن لاسس ناقابل برداشت حد تک بلند ہیں، بل کلیکشن کا ریٹ بہت کم ہے، گزشتہ 3، 4 برسوں میں اس پر بہت کم کام ہوا ہے، ملکی معیشت اس قدر نقصان کی متحمل نہیں ہوسکتی انہوں نے کہا کہ گیس کے شعبے میں 400 ارب روپے کی سبسڈی رواں مالی سال میں دی گئی ہے، یہ 400 ارب روپے کا نقصان ایک جانب ہے جبکہ دوسری جانب گیس میں 1400 ارب روپے کا سرکولر ڈیٹ ہے، ایس این جی پی ایل نے گزشتہ 2 برسوں میں 200 ارب روپے کا نقصان کیا، 20 ڈالر کی گیس خرید کر 2 ڈالر میں بیچی جائے تو ملک پیسا کہاں سے لائے گا؟وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر ہم نے انڈسٹریز کو گیس دینے کا وعدہ کیا ہے تو یہ بات واضح ہے کہ ہم ان کو گیس ضرور دیں گے اور اگر بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں سستی گیس مل رہی ہوگی تو ہم اپنے لوگوں کو مہنگی گیس نہیں دے سکتے، لیکن ہمیں سبسڈیز اور نقصان کو بھی دیکھنا ہوگا۔مفتاح اسمٰعیل نے بتایا کہ وزیراعظم اکثر کہتے تھے کہ بینکنگ کمپنیز کی طرح آئل مارکیٹنگ کمپنیز پر بھی ٹیکس بڑھا دیں مگر میں ہمیشہ کہتا تھا کہ یہ ممکن نہیں ہے، تاہم ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایس این جی پی ایل ہر سال 2.4 ارب روپے کی گیس ہوا میں اڑا دیتی ہے، اس لیے میں کہا رہا ہوں کہ ملک کے انتظامی معاملات کو ٹھیک کرنا ہوگا ورنہ ملک کی معیشت نہیں چلے گی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت مشکل فیصلوں کے علاوہ اور کوئی چوائس نہیں ہے، یہ بجٹ بھی اس کی کڑی ہے، اس سال کے بجٹ میں 4 کھرب 598 ارب کا خسارہ آرہا ہے، تاریخ کے 4 بڑے بجٹ خسارے عمران خان کے دور حکومت میں ہوئے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جس سال میں چھوڑ کر گیا تھا اس سال ہم نے 1499 ارب روپے قرجوں کی ادائیگی کی مد میں رکھے تھے، اس سال ہم نے قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 3 ہزار 950 ارب روپے کا تخمینہ رکھا ہے، یعنی آپ صرف قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 2500 ارب روپیہ اور دے رہے ہیں، یہ 2 دفاعی بجٹ کے برابر ہوگیا۔مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ ملک میں ہم 7 ہزار 4 ارب روپے ٹیکس جمع کریں گے، نان ٹیکس ریونیو 2 ہزار ارب ہوجائے گا، 4 ہزار ارب روپیہ ہم صوبوں کو دے دیں گے، قرضوں کی ادائیگی میں ہمیں 4 ہزار ارب دینا ہوگا، اس کے بعد صرف ایک ہزار ارب روپے رہ جائیں گے جس میں ہمیں حکومت بھی چلانی ہے، سببسڈیز بھی دینی ہیں اور اس کے بعد گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور اسلام آباد کو بھی پیسے وفاق نے دینے ہیں جوکہ صوبوں کے بجٹ سے دیا جانے چاہیے لیکن وفاق ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ہمیں ملک کو آگے لے کر چلنا ہے، میں اب بھی یقین سے کہتا ہوں کہ اس ملک کے جتنے وسائل ہیں اس کا 5 فیصد بھی استعمال نہیں کیا جارہا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش سے ہم پیچھے رہ گئے ہیں جن سے ہم ماضی مں آگے ہوتے تھے، ہمارے اس نہج پر پہنچنے کی وجہ محض بے انتظامی ہے۔مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ 25 لاکھ دکانداروں کو اس سال ٹیکس نیٹ میں لے کر آئیں گے، ملک کے انتظامی امور میں بہتری نہ لائی گئی تو ملک کا چلنا مشکل ہے، ہم دوسرے ممالک کے پاس جا جا کر مالی امداد مانگ رہے ہوتے ہیں۔قبل ازیں .اسلام آباد میں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ ہم نے انتہائی مشکل وقت میں بجٹ پیش کیا ہے جب پاکستان ایک مشکل گھڑی میں کھڑا ہے۔ اب ہم انتظامی صورتحال پر قابو پائیں گے، میں میڈیا سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ اگر ہم مشکل فیصلے کریں تو ایک ایک چیز پر نہ چلائیں، اگر ہم پیٹرول مہنگا کرتے ہیں تو پیسے میں گھر نہیں لے کر جاتا قومی خزانے میں ہی جمع ہوتے ہیں۔انہوں نے پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں کو بتایا کہ انہیں اور وفاقی کابینہ میں شامل افراد کو مراعات حاصل ہیں لیکن عام آدمی کے لیے ایسا نہیں ہے، اگر سری لنکا جیسا حال ہوا تو قوم اور تاریخ معاف نہیں کرے گی اور ضمیر بھی معاف نہیں کرے گا۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا بجٹ میں کوشش کی ہے کہ امیروں سے زیادہ حصہ لیں اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، خوردنی تیل بہت مہنگا ہوگیا ہے اس لیے آئل سیڈز پر مراعات دے ہیں لیکن اس سال میں ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ تیل کی قیمتیں کم ہوں گی۔مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ ایندھن پر سبسڈی دینا اب کوئی آپشن نہیں رہا کیونکہ اس سے بالآخر سود اور مہنگائی بڑھے گی جس سے قرض لینا مشکل ہو جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ نئے بجٹ میں فاٹا پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا البتہ گزشتہ حکومت نے 2018 میں ٹیکس لگایاگیا تو جو 2021 میں واپس لے لیا گیا۔مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ خسارے کو کم کرنے کے لیے مالیاتی پالیسی کو سخت کیا جائے گا، ہم نے پرسنل انکم ٹیکس کو کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن آئی ایم ایف خوش نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی تازہ ترین تجاویز زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے بنائی گئی ہیں، تاہم ان اقدامات پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی، وزیر اعظم نے کچھ تجاویز کو مسترد بھی کیا ہے اس لیے آئندہ 15 روز میں کچھ تبدیلیاں ہوں گی۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ میں عمران خان کی طرح نہیں کہ پچھلی حکومت پر کیسز کروں، عمران خان نے 4 سال صرف ہم پر کیسز بنانے میں ضائع کیے اور ملک کو اس نہج پر لے آئے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بگاڑ کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ عمران خان اور ان کی ٹیم نااہل تھی بلکہ ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے بہت سے لوگ خورد برد میں ملوث تھے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم سب نے راولپنڈی رنگ روڈ سے متعلق باتیں سن لیں، یہ بھی معلوم ہے کہ 48 روپے کی چینی بیچ کر 96 روپے بولا گیا، سب کے علم میں ہے کس طرح رشوت کو تحائف کی صورت دیا جاتا تھا، اگر میں بھی عمران خان کی طرح سب چھوڑ کر ان لوگوں پر کیسز بنانے میں لگ جاؤں تو میرا کام کون کرے گا۔اس موقع پر ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں لوگوں پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے اور اس حوالے سے بجٹ میں بہت سے اقدامات ہیں۔انہوں نے بجٹ میں مہنگائی کے خلاف کوئی اقدامات نہ ہونے کی شکایات کا ازالہ کرتے ہوئے سوال کیا ’کیا ہم انٹرنیشنل سائیکل کو تبدیل کر سکتے ہیں؟ لیکن ہم نے وہ کیا جو ہمارے اختیار میں تھا، ہم نے اِن ڈائریکٹ ٹیکس نہیں بڑھایا اور نہ ہی زراعت پر ٹیکس لگایا‘۔خیال رہےکہ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے مالی سال 23-2022 کے لیے 95کھرب حجم کا بجٹ پیش کیا۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ قومی مفاد کو اپنے سیاسی مفاد پر ترجیح دی ہے، اس وقت بھی ہماری اولین ترجیح معاشی استحکام ہے، ہماری معشیت کا ایک بنیادی مسئلہ یہ رہا ہے کہ اکثر معاشی ترقی کی شرح 3 اور 4 فیصد کے درمیان رہتی ہے جو ہماری آبادی کی شرح سے مطابقت نہیں رکھتی، اس کے برعکس جب معاشی ترقی کی شرح 5 یا 6 فیصد سے اوپر جاتی ہے تو کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ قابو سے باہر ہوجاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم معیشت کو چلانے کے لیے امیر طبقے کو مراعات دیتے ہیں جس سے درآمدات بڑھ جاتی ہیں جب کہ برآمدات وہیں کھڑی رہتی ہیں۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہمیں نئی سوچ کو اپنانا ہوگا اور ایک قوم کے طور پر اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا، ہمیں معیشت کو چلانے کے لیے کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کو مراعات دینا ہوگی جس سے مقامی پیداوار بڑھے گی اور زراعت کو بھی ترقی ملے گی۔مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ ہمیں غریب کے معاشی حالات کو سنوارنا ہوگا، غریب طبقے کو سہولتیں دینا ہوں گی تاکہ اس کی آمدن بڑھے، جب غریب کی آمدن بڑھتی ہے تو وہ ایسی اشیا خریدتا ہے جو ملک کے اندر تیار ہوتی ہیں، ایسی اشیائے صرف پر خرچ کی گئی رقم سے درآمدات نہیں بڑھتیں، لیکن ملک کے اندر معاشی ترقی کا عمل شروع ہوجاتا ہے، ایسا کرنے سے ہم مستقل بنیادوں پر جامع ترقی کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں معاشی ترقی کی بنیاد رکھنی ہوگی، ایسی مضبوط بنیاد جس پر مستحکم معاشی ترقی کی شاندار عمارت تعمیر ہوسکے اور جو اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم و دائم رہے، ہمیں برآمدات بڑھانے، زراعت، آئی ٹی سیکٹر اور صنعتی برآمدات بڑھانا ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں زرعی شعبے کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا اور اپنی برآمدات کی مسابقت کو بڑھانا ہوگا تاکہ وہ عالمی منڈی دیگر ممالک کی مصنوعات کا مقابلہ کرسکیں، ہمیں کاروبار کرنے کے مواقع کو آسان اور بہتر بنانا ہوگا تاکہ مقامی اور بیرونی سرمایہ کار زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہمیں مشینری اور خام مال کی درآمد کے بعد اس کی ویلیو میں اضافہ کرکے برآمد کرنا ہوگا، اس طرح جتنی درآمدات بڑھیں گی اس سے کہیں زیادہ بر آمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ ہمیں تباہ حال معشیت کو درست راہ پر گامزن کرنے کا مشکل چیلنج درپش ہے، گزشتہ پونے 4 سال کے دوران معاشی عدم استحکام جاری تھا، تاریخی مہنگائی، غیر ملکی زر مبادلہ کی مشکلات، زیادہ لاگت پر بے دریغ قرضوں کا حصول، لوڈ شیڈنگ اور اوپر سے مسائل کا حل نکالنے میں ناکام سابقہ حکومت نے عوام کی زندگیوں کو مشکلات سے دوچار اور شکستہ حال بنادیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ پونے 4 سال کی بد انتظامی کی وجہ سے پاکستان مہنگائی کے حساب سے دنیا کے بڑے ملکوں میں نمبر 3 پر ہے، ساڑھے سات کروڑ لوگ غربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، ان میں دو کروڑ کا اضافہ گزشتہ پونے 4 سال میں ہوا جب کہ اسی دوران ساٹھ لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے، اپنی پونے 4 سال کی مدت میں سابقہ حکومت نے 20ہزار ارب روپے قرض لیا جو لیاقت علی خان اور خواجہ ناظم الدین سے لے کر ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، میاں محمد نواز، شاہد خاقان عباسی اور راجا پرویز اشرف سمیت تمام وزرائے اعظم کی حکومتوں کے 71 سال میں لیے گئے قرضوں کے 80 فیصد کے برابر ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے آمدن سے زیادہ خرچ کیا اور پاکستان کی تاریخ کے 4 بلند ترین خسارے کے بجٹ پیش کیے، ان کا اوسط بجٹ خسارہ 8عشاریہ 6 فیصد کے قریب رہا، اس دوران سالانہ تقریبا 5 ہزار ارب روپے کا قرض بڑھایا گیا اور رواں مالی سال میں پانچ ہزار 100ارب روپے کا خسارہ متوقع ہےان کا کہنا تھا کہ اسی طرح بجلی کا گردشی قرضہ ایک ہزار 62ارب روپے سے بڑھ کر جو ہم مئی 2018 میں چھوڑ کر گئے تھے، اب ڈھائی ہزار ارب روپے کا ہوگیا ہے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار گیس کے شعبے میں گردشی قرضہ دیکھنے میں آیا ہے جو مارچ 22-2021 میں ایک ہزار 400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں مہنگائی کم سے کم کی گئی، مہنگائی کی شرح تقریبا 5 فیصد کے قریب تھی جب کہ افراط زر کی کم سے کم شرح 3.9 ریکارڈ کی گئی، گزشتہ پونے 4 سال کی بد انتظامی کی وجہ سے پاکستان ایک مستقل مہنگائی کی لہر میں ہے کیونکہ گزشتہ وزیراعظم کہتے تھے کہ میں پیاز اور ٹماٹر کے ریٹ دیکھنے نہیں آیا بلکہ ملک کو عظیم بنانے آیا ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ غریب آدمی کی مہنگائی کی چکی میں پیس کر کوئی ملک کیسے عظیم بن سکتا ہے۔ مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھاکہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ عمران خان کی حکومت آتے ہی چینی اور آٹے کی قیمتیں کیوں بڑھ گئیں، 2013 میں چینی کی قیمت 55 روپے فی کلو تھی اور 2018 میں جب ہم گئے تو چینی کی قیمت 53 روپے تھی مگر پھر 2018 کے بعد چینی کی قیمت کو پر لگ گئے اور اس کی قیمت 140 روپے سے تجاوز کر گئی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پھر وزیراعظم شہباز شریف آئے جو چینی کی قیمت 70 روپے فی کلو پر لے آئے، اسی طرح ہم 2018 میں آٹے کی قیمت 35 روپے فی کلو چھوڑ کر گئے جو نئے پاکستان میں بڑھ کر 80 روپے فی کلو تک پہنچ گئی، پھر شہباز شریف نے یوٹیلٹی اسٹورز اور بہت سی دکانوں پر آٹا 40 روپے فی کلو فراہم کرنا شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ جب 2018 میں ہماری حکومت گئی تو پاکستان گندم اور چینی برآمد کر رہا تھا مگر اب ہم دونوں چیزیں درآمد کر رہے ہیں جس کی وجہ سابقہ حکومت کے غلط فیصلے ہیں۔انہوں نے کہا ہمارے ایل این جی کے معاہدوں پر جھوٹے الزامات لگائے گئے جس کی وجہ سے کئی رہنماؤں کو جیل کاٹنا پڑی، سابقہ حکومت نے کورونا کے دوران سستے ترین نرخوں پر معاہدے کرنے کے بجائے مہنگے داموں پر اسپاٹ خریداری کی، اس کی وجہ سے ہمیں مہنگی ایل این جی خریدنا پڑھ رہی ہے۔مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ جب عمران خان کو فروری کے آخر میں لگا کہ ہماری حکومت جارہی ہے تو انہوں نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں جب کہ پاکستان کا خزانہ قرضے پر چل رہا تھا، اس فیصلے سے پاکستان کی معیشت بحران میں پھنس گئی جس کو نکالنے کی کوشش جاری ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے پیش نظر غریب طبقے کو تحفظ دینے کا فیصلہ کیا، 40 ہزار روپے ماہانہ کم آمدنی والے خاندانوں کو 2 ہزار روپے ماہانہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیرخزانہ نے کہا کہ 2013 سے 2018 کے درمیان پاکستانی کرنسی میں استحکام نظر آیا مگر پھر معاشی بد انتظامی کی بنا پر 2018 سے 2022 کے درمیان روپے کی قدر میں کمی واقع ہوئی، روپے کے مقابلے میں ڈالر 115 روپے سے 189 تک پہنچ گیا اور آفر شاکس کی وجہ سے 200 کی حد بھی پار کرگیا، ہم نے کرنسی کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، درآمدات اس وقت 76 ارب ڈالر کی متوقع ہیں، اگلے سال ان میں کمی 70 ارب ڈالر کی سطح پر لائی جائیں گی، برآمدات اس وقت 31 عشاریہ 3 ارب ڈالر ہیں، اگلے مالی سال ان کو 35 ارب ڈالر تک بڑھانے کے اقدامات کیے جائیں گے،انہوں نے کہا کہ اس سال سود کی ادائیگی میں کل 3، 144 ارب روپے ہوں گے جس میں مقامی سود کی ادائیگی 2،770 ارب روپے بیرونی سود کی ادائیگی 373 ارب روپے ہونے کا تخمینہ ہے جب کہ اگلے سال اس مد میں کل ادائیگی 3 ہزار 950 ارب روپے ہونے کا تخمینہ ہے جس میں سے 3ہزار 439 ارب اندرونی اور 511 ارب روپے غیر ملکی قرضوں پر خرچ ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ چائنا پاکستان اقتصادی راہدری پر 9 خصوصی اکنامک زون بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کو کارخانے لگانے کی سہولت فراہم کی جائے گی، گزشتہ حکومت نے اس کام کی رفتار میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور اب تک ایک بھی خصوصی اکنامک زون فعال نہیں ہوسکا۔ان کا کہنا تھا کہ چائنا پاکستان اقتصادی راہدری پر 9 خصوصی اکنامک زون بنائے جائیں گے۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کا اعلان اور ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا دیرینہ مطالبہ منظور کرلیا گیاہےبجٹ ملکی دفاع کیلئے ایک ہزار 523 ارب روپے مختص کیےگیے ہیں۔تاھم سادگی۔قناعت ,کفایت شعاری کی روشن مثال قائم کرتےھوئےمسلسل تیسرے سال بجٹ میں اضافہ نہیں کرایاجبکہ گزشتہ سال ساڑھے تین ارب روپے قومی خزانے میں واپس جمع کرادیئے مسلح افواج نے معیشت کے استحکام کیلئے ایک بار پھر بڑا فیصلہ کرتے ہوئے دستیاب وسائل میں دفاع اور سلامتی یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ھے۔ بلکہ مسلح افواج نے یوٹیلٹی بلز کی مد میں اپنے اخراجات کو مزید محدود کردیئےہیں ۔اس مالی سال بھی مسلح افواج نے کسی اضافی فنڈ کا مطالبہ نہیں کیا، مسلح افواج نے یوٹیلٹی بلز کی مد میں بھی اپنے اخراجات کو مزید محدود کردیا۔مسلح افواج نے ڈیزل اور پیٹرول کی خصوصی بچت کیلئے بھی اقدامات کرلئے، جمعہ کو پوری فوج میں ڈرائی ڈے ہوگا، کوئی سرکاری ٹرانسپورٹ نہیں چلے گی۔مسلح افواج نے بڑی تربیتی مشقوں کے بجائے کنٹونمنٹس کے قریب چھوٹے پیمانے پر ٹریننگ کا فیصلہ کیا ہے، کانفرنسز اور دیگر اہم امور کیلئے آن لائن کام کیا جائے گا جبکہ عسکری ساز و سامان کی خریداری کیلئے مقامی کرنسی کا استعمال ہوگا۔مسلح افواج نے کرونا کی مَد میں الاٹ رقم میں سے 6 ارب روپے بچاکر حکومت کو واپس کئے گئے، عسکری ساز و سامان کیلئے الاٹ رقم سے تقریباَ ساڑھے 3 ارب روپے واپس جمع کرائے گئے۔ رواں سال دفاعی بجٹ قومی بجٹ کا صرف 16 فیصد ہے، ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں پچھلے 5 سال میں 935 ارب روپے جمع کرائے گئے۔ خیال رہے کہ مالی سال 23-2022 میں وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 9 ہزار 502 ارب روپے ہے،جبکہ پروگرامز کیلئے 800 ارب، دفاع کیلئے 1523 ارب، پنشن کی مد میں 530 ارب، ایچ ای سی کیلئے 65 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔