مشرق وسطیٰ کشیدگی: پاکستان میں بامقصد مذاکرات شرو عMiddle East Tensions: Meaningful Talks Begin in Pakistanتنشهای خاورمیانه: مذاکرات معنادار در پاکستان آغاز شد
,,,(اصغر علی مبارک),,,

,,,(Asghar Ali Mubarak),,,









,,,(اصغر علی مبارک),,,
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا کہنا ہے کہ خطے اور دنیا بھرمیں امن واستحکام کےلیے مذاکرات ضروری ہیں,امریکا اور ایران کی رضامندی کی صورت میں مذاکرات کی میزبانی کرنا پاکستان کے لیے باعث فخر ہے, پاکستان جاری بحران کے خاتمےکے لیے بامقصد مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے, وزیراعظم پاکستان نے ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں، بالخصوص شہری تنصیبات پر ہونے والے تازہ حملوں کی شدید مذمت کی ہےاور مشکل حالات میں ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیاہے۔وزیراعظم شہبازشریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک ہفتے کے دوران دوسرا ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہےجس میں جاری حالیہ کشیدگی کو کم کرنے سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاہے۔ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہےکہ وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان گفتگو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی، دونوں رہنماؤں کا خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔شہباز شریف نے 1900 سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے لیے دعا کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔وزیراعظم نے ایرانی صدر کو اپنی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے امریکا، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں سے آگاہ کیا، جن کا مقصد امن مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے امن اقدام کی بھرپور حمایت کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اجتماعی کوششوں سے کشیدگی کے خاتمے کی کوئی مؤثر راہ نکلے گی۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم کی مخلصانہ سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ایران کے خلاف اسرائیلی اقدامات کے حوالے سے اپنا مؤقف بیان کیااور مذاکرات اور ثالثی کے لیے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس ضمن میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے ایرانی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کا بیان اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پرشیئرکیاہے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کے صدر عباس عراقچی اور امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف کو ٹیگ کیا تھا۔ خیال رہےکہ وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ٹیلیفونک گفتگو میں خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کا تعمیری کردار جاری رکھنے پر اتفاق کیاگیاتھا۔اس حوالے سے ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا تھا اگر فریقین راضی ہیں تو پاکستان ثالثی کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ دوسری طرف نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان میں سعودی عرب، ترکیے اور مصر کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کی تصدیق کر دی ہے۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا سعودی عرب، ترکیے اور مصر کے وزرائے خارجہ اسلام آباد میں ملیں گے، تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ وزیراعظم شہبازشریف سے بھی ملاقات کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری ملاقات ترکیے میں طے تھی، مصروفیات کی وجہ سے میں نے بھائیوں کو اسلام آباد ملنے کی دعوت دی، ایمانداری اور نیک نیتی سے تنازع ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور تمام دوست ممالک بھی بھرپور تعاون کررہے ہیں۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا ایران سے بات چیت جاری ہے، مذاکرات کے باعث میڈیا پر بات کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ امریکا نے جنگ بندی کے لیے پاکستان کے ذریعے ایران کو 15 نکاتی فارمولہ پیش کیا جس کی ایران نے تصدیق کی ہے،اور پھر ایران نے پاکستان ہی کے ذریعے اپنا جواب امریکا تک پہنچایاہے، وائٹ ہاؤس نے ایران جنگ کے معاملے پر امریکی صدر ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ٹیلی فون بات چیت کی تصدیق کی ہے، مغربی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے جنوبی ایشیا وِٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر کے ممکنہ دورہِ اسلام آباد کے بارے میں سوال کے جواب میں ترجمان وائٹ ہاوس کیرولین لیوٹ نے کہا کہ یہ حساس سفارتی بات چیت ہے اور امریکا اس معاملے پر میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔ کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا بدلتے ہوئے حالات میں میٹنگز کے بارے میں قیاس آرائی کو اُس وقت تک حتمی نہیں سمجھنا چاہیے جب تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے باضابطہ اعلان نہیں ہو جاتا۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکا نے پاکستان کے ذریعے 15 نکات ایران کو پہنچا دیے ہیں۔ خیال رہے کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہےکہ فیلڈ مارشل آرمی چیف عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ٹرمپ سے بات چیت کی ہے۔ برطانوی اخبار نے لکھا ہےکہ پاکستان خود کو ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مرکزی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے اور سینئر پاکستانی حکام ایرانی عہدے داروں اور وٹکوف اور جیراڈ کشنر کے درمیان بیک چینلز رابطے کروا رہے ہیں۔ برطانوی اخبار کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان اپنی عسکری قیادت کے ایران کے ساتھ تعلقات اور ٹرمپ کے ساتھ خوشگوار روابط کو استعمال کر رہا ہے۔ دوسری جانب اس حوالے سے بتایا گیا ہےکہ اتوار کو فیلڈ مارشل آرمی چیف عاصم منیر نےامریکی صدر ٹرمپ سے بات چیت کی جب کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے گفتگو کی۔ اخبار کے مطابق شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان یہ بات چیت تقریباً اسی وقت ہوئی جب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یہ اعلان کیا کہ وہ ایران کے بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی کو مؤخر کر رہے ہیں کیونکہ تہران کے ساتھ بہت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہورہی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی آگ ہولناک صورتحال اختیار کر گئی ہے، نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کے مشورے کے باوجود اسرائیل نے ایران کے ایٹمی مراکز، بجلی گھروں اور اسٹیل فیکٹریوں کو نشانہ بنا ڈالا ہے۔
ایرانی حکام نے بتایا کہ اسرائیلی فضائیہ نے یزد میں واقع یورینیم پروسیسنگ پلانٹ، بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریبی علاقوں اور خونداب ہیوی واٹر کمپلیکس پر بمباری کی۔ایرانی ایٹمی توانائی ادارے نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فی الحال کوئی جانی نقصان یا ریڈی ایشن کا اخراج نہیں ہوا، اس کے علاوہ خوزستان اور اصفہان میں دو بڑی اسٹیل فیکٹریاں اور ایک سویلین بجلی گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہےکہ نیتن یاہو نے امریکی عوام کی جانوں اور ٹیکس پر جوا کھیلا ہے اور وہ یہ جوا بری طرح ہار گئے ہیں، نیتن یاہو اب یقینی بنارہے ہیں کہ اس ہار کا خمیازہ امریکی عوام بھگتے۔انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے یہ حملے امریکہ کے ساتھ رابطے سے کیے ہیں اور اب اسرائیل کو ان جرائم کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ اب یہ جنگ حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ایرانی عوام کے خلاف تصور کی جا رہی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر مجید موسوی نے اعلان کیا ہے کہ “اب آنکھ کے بدلے آنکھ نہیں ہوگا۔پاسدارانِ انقلاب نے ایک ہنگامی ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے امریکی اور اسرائیلی کمپنیوں سے وابستہ تمام ملازمین کو فوری طور پر کام چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے، جس سے بڑے جوابی حملے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہےکہ امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے کے کچھ ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، علاقائی ممالک کی جانب سے کچھ تجاویز سامنے آئی ہیں تاہم ان تمام تجاویز اور درخواستوں کا رخ واشنگٹن کی طرف موڑنا چاہیے، ہمارا جواب واضح ہےکہ ہم وہ فریق نہیں جس نے یہ جنگ شروع کی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکا منتظرہےکہ مذاکرات میں ایران کی نمائندگی کون کرےگا؟ لیکن ہم ایران میں زمینی فوج اتارے بغیر اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ جی سیون وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران میں فوجی مقاصد پانے کے باوجود بھی آبنائے ہرمز کھلی رکھنا ایک ‘فوری چیلنج’ بن سکتا ہے۔ امریکا جنگ ختم ہونے کے بعد آبنائےہرمز کھلی رکھنے پر بین الاقوامی تعاون حاصل کرے گا، خدشہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے لیے ٹول سسٹم قائم کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز بند کرنا خطرناک ہے، ضروری ہے کہ دنیا کے پاس ایک منصوبہ موجود ہو، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہماری فوج نےبہترین کام کیا، ایران ڈیل چاہتا ہے، ایران کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے، ہم مذاکرات کررہے ہیں اور اس کا کوئی نتیجہ بھی نکلےگا۔ دریں اثنا، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے بوشہر جوہری پاور پلانٹ کے قریب نئے حملے کی اطلاع دی ہے، بوشہر جوہری پاور پلانٹ کے قریب 10 دنوں میں تیسرا حملہ کیا گیا ہے، ایران کے مطابق آپریٹنگ ری ایکٹر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا نہ تابکاری ہوئی، اور حملے کے بعد پلانٹ کی صورت حال معمول کے مطابق ہے، تاہم آئی اے ای اے کے ڈی جی رافیل گروسی نے جوہری پلانٹ کے قریب کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ری ایکٹر کو نقصان پہنچا تو یہ بڑے تابکاری حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ایرانی میڈیا نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا ہے کہ تہران میں واقع یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں نشانہ بنایا گیا اسرائیلی و امریکی حملوں کے دوران تہران یونیورسٹی بھی متاثر ہوئی ہے، اسرائیلی فوج نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے امریکا کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں کے تحت تہران پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔ یاد رہے کہ یونیورسٹی کے شعبۂ الیکٹریکل انجینئرنگ کے ایک فیکلٹی رکن سعید شمکدری 23 مارچ کو اس وقت شہید ہو گئے تھے جب ان کے گھر کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ تہران کے مغرب میں کرج کے علاقے میں دھماکے ہوئے ہیں، کازنجان میں رہائشی عمارت پر بھی حملہ کیا گیا، رہائشی عمارت پر فضائی حملے میں 5 شہری شہید، 7 زخمی ہوئے۔ کی گئی، شہید محلاتی قبرستان، دارآباد، نوبنیاد میں دھماکے ہوئے، مہرآباد ایئرپورٹ کے قریب بھی دھماکے سنے گئے ہیں،بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی نے جوہری تنصیبات پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر زوردیا ہے۔سی جی ٹی این کو انٹرویو میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعہ میں شامل تمام فریق دیرپا حل کی تلاش میں مذاکرات کی طرف واپس آئیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جوہری تنصیبات پر حملے ناقابل قبول ہیں۔رافیل ماریانو گروسی نے کہا کہ جوہری پاور پلانٹ پر کبھی بھی حملہ نہیں کیا جانا چاہیے، یا اس کی جسمانی سالمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔اس دوران چین نے ایران میں بچیوں کے پرائمری سکول پر امریکی و اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی اخلاقیات اور ضمیر سے ماورا اقدام قرار دیا ہے ۔چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (سی جی ٹی این )کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب میں چینی مندوب جیا گائیڈ نے کہا کہ یہ حملہ “انسانی اخلاقیات اور ضمیر کی حد سے تجاوز ، انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزی اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے مشرق وسطیٰ میں تنازعات کو بڑھاوا دیا ہے ۔ چینی مندوب نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ تمام ممالک کی علاقائی سالمیت کا احترام کریں۔واضح رہے کہ ایران نے شجرہ طیبہ نامی بچیوں کے پرائمری سکول پر حملے پر بحث کے لیے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ہنگامی اجلاس میں بحث کا مطالبہ کیا تھا۔ رواں ماہ کے آغاز میں ہونے والے اس حملے میں 175 سے زیادہ بچے اور اساتذہ مارے گئے تھے۔ امریکی فوج اور اسرائیل نے ابھی تک اس حملے کی اپنی الگ الگ تحقیقات مکمل نہیں کی ہیں ۔ایک مذاکرے میں پاکستانی سیاستدان مشاہد حسین سید اور اسرائیلی جنرل اور قومی سلامتی کے مشیر کے مابین اس وقت سخت بحث ہوئی جب مشاہد حسین نے یہ کہہ دیا کہ کارروائی کے پیچھے اصل منصوبہ گریٹر اسرائیل ہے۔مذاکرےمیں۔1945 ڈاٹ کام کے سینئر سکیورٹی ایڈیٹر اور کتاب ’’شیڈو وار: ایران کی برتری کی جدوجہد‘‘ کے مصنف بھی شامل تھے۔ مشاہد حسین نے کہا کہ ایران کو برتری حاصل ہے،یہ نیتن یاہوکی جنگ ہے جس میں وہ ٹرمپ کو گھسیٹ لایا ہے،وہ فولادی ضمانتیں چاہتا ہے،حقائق وہ ہیں جو ٹرمپ اور نیتن یا ہونے سوچے بھی نہیں ہونگے،چوتھے ہفتے میں بھی ایران پوری قوت سے ڈٹا ہوا ہے،ٹرمپ امن کی بھیک مانگ رہا ہے،شاید ایپسٹین فائلز کی وجہ سے ٹرمپ نیتن یا ہو کے پاس پھنس چکے،سابق اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیریاکوف امیڈرو نے کہا کہ حالات نارمل ہیں، توقع سے کم انٹرسیپٹراستعمال کیے، ہدف میزائل پروگرام اور نیوکلیئر پروگرام تباہ کرنا ہے،امریکی مصنف اور سینئر نیشنل سکیورٹی ایڈیٹربرانڈن وائیخرٹ نے بتایا کہ اسرائیل اپنے ایرو انٹرسیپٹرختم ہونے سے محض چند دن کے فاصلے پر ہے، ایرانی دھیرے دھیرے تھکارہے ہیں،العربیہ ٹی وی کے پروگرام کی خاتون میزبان نے اپنے طویل انٹرو کے بعد صورتحال کا تازہ ترین پس منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ۔ ایران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھیجے گئے ٹرمپ کے 15 نکاتی امن منصوبے کو مسترد کر دیا ہے، اور ایرانی حکام نے آج ہی ایران کے پریس ٹی وی کو بتایا ہے کہ ایران کے پاس بھی پانچ شرائط ہیں جن کے تحت وہ جنگ ختم کرنے پر آمادہ ہوگا۔ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کی بین الاقوامی تسلیم کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں۔العربیہ ٹی وی انگش پر ہونے والے مذاکرے میں یاکوف امیڈرو نے کہا کہ اسرائیلی نقطہ نظر سے آبنائے ہرمز میں خودمختاری کا مسئلہ بنیادی موضوع نہیں ہے۔ اگر امریکی اس پر رضامند ہو جاتے ہیں تو مجھے نہیں لگتا کہ اسرائیل اس پر اعلانیہ کوئی اعتراض کرے گا۔ یہ… یہ بہت بے وقوفانہ بات ہے، لیکن خیر، یہی چیز ایرانی چاہ رہے ہیں۔ اور اگر امریکہ مان جاتا ہے، تو اسرائیل اس مذاکرات کا حصہ نہیں۔۔اسرائیل کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران سے افزودہ یورینیم نکلوایا جائے، میزائل کی تیاری رکوائی جائے، اور ایران اس بات کی ضمانت دے کہ وہ دوبارہ کبھی نہ میزائل پروگرام میں واپس آئے گا نہ جوہری منصوبے میں، اور نہ ہی اسرائیل کے گرد اپنے پراکسی گروہوں کو فنڈ کرے گا جیسا کہ پچھلے 45 برسوں سے کرتا آیا ہے:سینیٹر مشاہد حسینے اس موقع پر کہا کہ: اس وقت دونوں فریق زیادہ سے زیادہ مطالبات پیش کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو 15 نکات ٹرمپ نے بھیجے ہیں وہ بھی ایسی ہی چیزیں ہیں جنہیں وہ خود جانتے ہیں کہ ایران قبول نہیں کرے گا، کیونکہ وہ ایسی شرائط مانگ رہے ہیں جن کا ابتدائی ایجنڈے میں ذکر تک نہیں تھا۔شروع میں تو سارا معاملہ ایران کے جوہری پروگرام کے گرد تھا، مگر جب ایران نے کہا کہ وہ بم نہیں بنا رہا تو ہر روز نیا مطالبہ لے آئے۔۔لہٰذا ایران نے بھی پھر اپنی طرف سے سخت شرائط رکھ دیں۔میری رائے میں حالات تب ہی متوازن ہوں گے جب سنجیدہ مذاکرات شروع ہوں گے۔ایران سمجھتا ہے کہ فی الحال اسے برتری حاصل ہے، کیونکہ وہ آبنائے ہرمز کا گلا دبا کر بیٹھا ہے، اور یہ بھی کہ امریکہ و اسرائیل پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا— کیونکہ یہ بنیادی طور پر نتن یاہو کی جنگ ہے جس میں ٹرمپ کو گھسیٹا گیا ہے۔اور ایران سمجھتا ہے کہ اسے دو مرتبہ دھوکہ دیا گیا — جون 2025 میں اور اب 28 فروری کو۔اس لیے وہ ایسے فولادی ضمانتیں چاہتے ہیں جن سے پتا چلے کہ یہ صرف جنگ بندی نہیں، بلکہ دیرپا اور جامع امن معاہدہ ہوگا۔اس موقع پر برانڈن وائیخرٹ: نے شریک گفتگو ہوتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے میرا خیال ہے کہ نہ صرف وہ ایسا سمجھتے ہیں بلکہ یہ درست بھی ہے۔انہوں نے ایک شاندار حکمت عملی دکھائی ہے — امریکہ، اسرائیل اور عرب ریاستوں کو اتنا تھکا دینا کہ ان کے ذخائر ختم ہو جائیں اور امریکہ داخلی سیاسی و معاشی دباؤ کے تحت گھٹنے ٹیک دے۔ میں خود امریکہ میں رہتا ہوں — حالات واقعی خراب ہو رہے ہیں۔برطانوی ادارہ رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ، جس کے صدر نے تین ہفتے پہلے مجھے ’’احمق‘‘ کہا تھا، اب وہی وہ باتیں تصدیق کر رہے ہیں جو میں نے کہی تھیں:اسرائیل محض چند دنوں کے فاصلے پر ہے اپنے ایرو انٹرسیپٹرز ختم کر دینے سے۔اور امریکہ نے بھی اپنے تھاد ذخائر کا 40 فیصد استعمال کر لیا ہے، اور صرف تین ہفتے کا اسٹاک باقی ہے۔اگر جنگ کی رفتار بڑھی تو یہ مزید جلد ختم ہو جائیں گے۔ایرانی حکمت عملی — ’دھیرے دھیرے تھکا دینا‘ — شروع سے یہی تھی، اور ہم نے ان کے میزائل ذخائر کو قلیل اور کم سمجھا تھا، جس کی قیمت اب ادا کر رہے ہیں۔اور میرا خیال ہے کہ نہ ٹرمپ، نہ ایران، نہ اسرائیل — کوئی بھی سنجیدہ مذاکرات کے موڈ میں نہیں۔ ہےلہٰذا ہم مزید خطرناک سطح پر جا رہے ہیں — اور شاید امریکہ کو آبنائے ہرمز میں ’’گیلی پولی‘‘ جیسا منظر دوبارہ دیکھنا پڑے۔یہ اچھا انجام نہیں ہوگا۔یاکوف امیڈرو: کا موقف تھا کہ یہ سراسر جھوٹی خبر ہے۔ میرے علم کے مطابق، اسرائیل مکمل طور پر اسی منصوبے پر چل رہا ہے جو پہلے سے بنایا گیا تھا۔ ہم نے توقع سے بھی کم انٹرسیپٹر استعمال کیے ہیں، کیونکہ ایرانی اتنے میزائل داغ ہی نہیں سکے جتنے ہم نے اندازہ لگائے تھے۔ہم نے کم استعمال کیے ہیں، جبکہ منصوبے میں زیادہ ضرورت تصور کی گئی تھی۔ برانڈن: رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کہہ رہا ہے۔ یاکوف: اچھا ادارہ ہے — لیکن اسرائیل کے بارے میں ان کے پاس اچھی معلومات نہیں ہوتیں۔میں وہ آدمی ہوں جو جنگی منصوبے کے اعداد و شمار جانتا ہے۔ہم چھ ہفتے تک مزید جنگ جاری رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ایران 100–200 میزائل روزانہ داغنے کا منصوبہ رکھتا تھا، مگر وہ صرف 15 کے قریب داغ پائے ہیں۔سینیٹر مشاہد حسین: نے اس موقع پر کہا کہ رائے سب رکھ سکتے ہیں، مگر حقائق اپنی جگہ ہوتے ہیں۔کبھی ٹرمپ یا نتن یاہو نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ایران چوتھے ہفتے میں بھی پوری قوت سے ڈٹا رہے گا، یا اسرائیل کے انتہائی حساس سائیٹس کے قریب تک ضرب لگا سکے گا، یا آبنائے ہرمز کو اتنی کامیابی سے بند رکھے گا۔’’منصوبہ A‘‘ یہ تھا کہ 24 گھنٹوں میں ایران کی قیادت کو ختم کر کے پورا نظام گرا دیا جائے۔ یہ سب ناکام ہوا۔اسی لیے اب وہ پریشان ہیں، اور ٹرمپ الجھن میں ہیں، مطالبات بدل رہے ہیں۔نتن یاہو صرف دکھاوا کر رہے ہیں، حقیقت میں وہ پھنس چکے ہیں۔ ایران مضبوطی سے کھڑا ہے — اس لیے ٹرمپ امن کی بھیک مانگ رہے ہیں۔یاکوف: کا کہنا تھا کہ ہر روز اور ہر رات 600 امریکی اور اسرائیلی طیارے ایران پر بمباری کر رہے ہیں۔اگر یہی برتری ہے تو ایران واقعی ’’کامیاب‘‘ ہے۔برانڈن: نے کہا کہویتنام میں ہم نے 5.39 ملین س sorties کیے تھے — مگر جنگ پھر بھی ہار گئے تھے۔ فضائی قوت کوئی جادو نہیں۔یاکوف نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ویتنام میں 10 فیصد بم اپنے ہدف پر لگے تھے۔آج 90 فیصد ہدف پر لگتے ہیں۔یہ زمین آسمان کا فرق ہے۔لہٰذا ویتنام سے موازنہ درست نہیں۔ برانڈن وائخَرٹ: نے اس موقع پر سوال کیا کہ پھر ہم نے کیوں نہیں دیکھا کہ ایرانیوں کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے پر مجبور کیا گیا ہو۔ کیوں امریکہ میں معاشی حالات اتنی تیزی سے گرتے جا رہے ہیں۔ کیوں امریکہ میں سیاسی صورتحال اتنی تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ میں اسے کسی طرح بھی کامیابی نہیں سمجھتا کیونکہ جنگ دراصل سیاست کا تسلسل ہوتی ہے دوسرے ذرائع کے ذریعے۔ میں واقعی نہیں سمجھتا کہ کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ سب کچھ منصوبے کے مطابق ہو رہا ہے ۔یاکوف امیڈرور کا کہنا تھا کہ: یقیناً آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ وہاں کیا ہو رہا امریکا کے بارے میں اپنا فیصلہ ٹرمپ کریں گے۔ میں اسرائیل کے بارے میں بات کر سکتا ہوں۔ اسرائیل میں معیشت جاری ہے۔ آہ… اسرائیل میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل کا شیئر مارکیٹ دنیا کی پانچ بہترین شیئر مارکیٹوں میں سے ایک ہے ۔ تمام اسرائیلی حکومت کے پیچھے متحد ہیں جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اپوزیشن کے سربراہ یائر لیپڈ نے دی اکانومسٹ میں اس بارے میں لکھا کہ تمام اسرائیلی حکومت کے پیچھے ہیں۔ سو میں امریکہ کا تجزیہ نہیں کر سکتا۔ میں بہت عاجزی سے کہتا ہوں کہ مجھے اسرائیل کے تمام حقائق بھی نہیں معلوم۔ ہمیں سیاسی نظام میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔ ہم نے ابھی تک کوئی معاشی دباؤ محسوس نہیں کیا۔ یہ آ سکتا ہے۔ انٹرسیپٹرز کی تعداد سے باہر نہیں ہوئے جن کی ہمیں ضرورت ہے جنگ کو کم از کم مزید چھ ہفتے جاری رکھنے کے لیے۔ اس کے بعد کیا ہو گا، میں نہیں جانتا لیکن کم از کم چھ ہفتے۔ برانڈن وائخَرٹ کے استفسار پرکہ چھ ہفتوں میں کیا ہو گا جب یہ جنگ ختم نہیں ہو گی؟ کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ یہ جنگ جلد ختم ہونے والی ہے۔یاکوف امیڈرور: کا کہنا تھا کہ میں نہیں جانتا۔۔ ہمارے پاس ایک منصوبہ ہے، اہداف کی تعداد کے ساتھ کہ ہر دن ایران میں کیا تباہ کیا جائے گا اور ہم یہ کام آہستہ آہستہ لیکن یقینی طور پر کر رہے ہیں۔ اور ہم وہ سب کچھ تباہ کر رہے ہیں جسے ہم ضروری سمجھتے ہیں تاکہ ایران کی صلاحیت کو کم سے کم کیا جا سکے کہ وہ مستقبل میں اسرائیل پر حملہ کرے یا جوہری وار ہیڈ یا طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا کوئی نیا منصوبہ بنائے۔ اور ہم تیار ہیں کہ جاری رکھیں۔ ہماری نظر میں اگر یہ جنگ جاری رہتی ہے اور جنگ بندی نہیں ہوتی تو بھی ٹھیک ہے کیونکہ ہمارے پاس فہرست ہے کہ کیا تباہ کیا جانا چاہیے۔ اگر ہم سب کچھ اپنی نظر میں تباہ کر چکے تو ہم جنگ ختم کر سکتے ہیں۔ یہ ہماری نظر ہے۔ ہم ایرانیوں سے کچھ نہیں چاہتے سوائے اس کے کہ وہ اسرائیل پر حملہ نہ کریں۔سینیٹر مشاہد حسین: ایران میں رجیم چینج کے حوالے سے ٹرمپ کے دعوے پر کہا کہ یہ وہی پرانی کہانی ہے امریکی جنرل کی جس نے لنڈن جانسن سے کہا تھا: ’’جناب صدر، میرا خیال ہے ہمیں صرف اعلان کر دینا چاہیے کہ ہم جنگ جیت چکے ہیں اور ویت نام سے نکل جانا چاہیے۔‘‘ میرا خیال ہے ٹرمپ جانتے ہیں کہ وہ نیتن یاہو کے ہاتھوں پھنس گئے ہیں، شاید ایپسٹین فائلز کی بلیک میلنگ یا اس قسم کی کسی چیز کی وجہ سے، اور وہ ایران کے دلدل سے نکلنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں احساس ہو چکا ہے کہ جتنا یہ جنگ چلے گی، اتنا سیاسی طور پر ٹرمپ کے لیے تباہ کن ہو گی، جیسا کہ برینڈن نے درست کہا۔ اور میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ ایک ’فیس سیونگ‘ راستہ ڈھونڈ رہے ہیں اور وہ خطے کے کئی ممالک سے کہہ رہے ہیں کہ کوئی سیف ایکزٹ کا انتظام کریں — اور انہیں یہی چاہیے۔ ورنہ انہوں نے اہداف بدل دیے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا “مجتبٰی کامی” کبھی قابل قبول نہیں ہو گا۔ ایرانیوں نے وہ سب کر لیا جو وہ چاہتے تھے — اپنی شرائط پر۔ وہ فیصلہ کر رہے ہیں کہ کب حملہ کرنا ہے اور کس کو آبنائے ہرمز میں روکنا ہے۔ پورا خطہ تناؤ میں ہے۔ تیل کی قیمتوں کو سخت دھچکا لگا ہے۔ مارکیٹیں خراب حالت میں ہیں۔ شپنگ، سفر، تجارت، سیاحت — سب بکھری ہوئی ہیں جیسا کہ کہتے ہیں۔ تو میرا خیال ہے کہ جنگ نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دنیا کے بیشتر حصے کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ اور ایرانی ڈرائیونگ سیٹ پر ہیں اور بڑے کامیابی سے کھیل رہے ہیں، میں کہوں گا۔یاکوف امیڈرور نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ:اگر ’کھیل چلانا‘ کا مطلب یہ ہے کہ ہر روز ہزاروں طیارے آپ کی تنصیبات پر بمباری کریں اور آپ کا صنعتی ڈھانچہ تباہ کر دیں، تو یقیناً یہ ایرانیوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔… سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ:لیکن ایرانی جواب دے رہے ہیں۔ اسرائیل — میرا مطلب ہے — پچھلے تین ہفتوں سے زیادہ تر اسرائیلی اپنے بیڈ رومز میں نہیں سوئے۔ وہ پناہ گاہوں میں سوتے رہے ہیں۔یاکوف امیڈرور: نے دعوی کیا کہ میں تل ابیب میں رہتا ہوں۔ وہ 15 اسرائیلیوں کو قتل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ بس اتنا۔ 15 اسرائیلی۔ اس سے کم… نہیں،Middle East Tensions: Meaningful Talks Begin in Pakistan
,,,(Asghar Ali Mubarak),,,
Prime Minister Shehbaz Sharif emphasized the necessity of dialogue for regional and global peace, expressing Pakistan’s readiness to host talks between the US and Iran. He condemned Israel’s ongoing attacks on Iran, particularly those targeting civilian infrastructure, and reaffirmed Pakistan’s solidarity with the Iranian people. In his second call with Iranian President Masoud Peshmerga within a week, both leaders discussed de-escalation efforts and the importance of collective action for peace. Prime Minister Sharif also updated President Peshmerga on Pakistan’s diplomatic outreach to the US, Gulf, and Islamic countries to foster a conducive environment for negotiations. President Peshmerga acknowledged Pakistan’s diplomatic efforts and stressed the need for confidence-building measures. Prime Minister Sharif assured continued support for regional stability. Meanwhile, US President Donald Trump shared Prime Minister Sharif’s statement on social media, tagging relevant leaders. The Pakistani Foreign Office reiterated Pakistan’s willingness to mediate if all parties agree. Deputy Prime Minister Ishaq Dar confirmed that the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey, and Egypt will meet in Islamabad and with Prime Minister Sharif, highlighting ongoing cooperation among friendly nations. Talks with Iran are ongoing, and officials are refraining from media commentary during this sensitive period. Reports indicate that the US has presented a 15-point ceasefire proposal to Iran through Pakistan, with Iran responding via the same channel. The White House confirmed a call between President Trump and Field Marshal Asim Munir regarding the Iran conflict. According to international media, Pakistan is positioning itself as a central mediator, leveraging its relationships with both Iran and the US. Recent discussions between Pakistani and Iranian leaders coincided with President Trump’s announcement to postpone action against Iran’s power plants, citing positive diplomatic progress. Despite these efforts, the conflict has intensified, with Israel targeting Iranian nuclear facilities, power plants, and steel factories.
Iranian officials said that the Israeli air force bombed the uranium processing plant in Yazd, areas near the Bushehr nuclear power plant, and the Khondab heavy water complex. Iran’s Atomic Energy Organization confirmed the attacks, claiming that there were no casualties or radiation releases at the moment. In addition, two large steel factories in Khuzestan and Isfahan, and a civilian power plant were also targeted. Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi, while confirming the Israeli attacks, said that Netanyahu has gambled on the lives and taxes of the American people, and he has lost this gamble badly. Netanyahu is now ensuring that the American people bear the consequences of this loss. He made it clear that Israel carried out these attacks in coordination with the United States, and now Israel will have to pay a heavy price for these crimes. Now this war is not being perceived against the government but against the Iranian people. Majid Mousavi, commander of the Iranian Revolutionary Guard Corps, has announced that “an eye for an eye will no longer be an eye.” The Revolutionary Guards have issued an emergency directive ordering all employees of American and Israeli companies to leave work immediately, raising fears of a major counterattack. On the other hand, the Iranian Foreign Ministry says that the purpose of US President Trump’s statements is to reduce energy prices and gain time to implement his military plans. The statement said that some countries in the region are taking steps to reduce tensions, and some proposals have come from regional countries, but all these proposals and requests should be directed to Washington. Our answer is clear that we are not the party that started this war. US Secretary of State Marco Rubio says that the US is waiting to see who will represent Iran in the negotiations. But we can achieve our goals without deploying ground troops in Iran. Speaking to the media after meeting with the G7 foreign ministers, Marco Rubio said that keeping the Strait of Hormuz open, even if military objectives are achieved in Iran, could become an ‘immediate challenge’. The US will seek international cooperation to keep the Strait of Hormuz open after the war is over. There are fears that Iran may decide to establish a toll system for the Strait of Hormuz. Closing the Strait of Hormuz is dangerous; it is important that the world has a plan. The US president said that our military did its best, Iran wants a deal, the process of talks with Iran is ongoing, we are negotiating, and there will be some results. Meanwhile, the International Atomic Energy Agency has said that Iran has reported a new attack near the Bushehr nuclear power plant, the third attack in 10 days near the Bushehr nuclear power plant, according to Iran, there was no damage to the operating reactor or radiation, and the situation at the plant is normal after the attack, however, IAEA DG Rafael Grossi has expressed concern about the operations near the nuclear plant and said that if the reactor is damaged, it could cause a major radiation accident. Iranian media reported on Saturday The daily reported that the University of Science and Technology in Tehran was targeted in US and Israeli attacks. Tehran University has also been affected during the Israeli and American attacks. The Israeli army had earlier announced that it had launched a new wave of attacks on Tehran under joint operations with the US. It should be noted that Saeed Shamkadri, a faculty member of the university’s electrical engineering department, was martyred on March 23 when his house was targeted in an attack by the US and Israel. Explosions have occurred in the Karaj area west of Tehran, a residential building was also attacked in Kazanjan, 5 civilians were martyred, and 7 were injured in an airstrike on a residential building. Explosions were heard in Shaheed Mahlati Cemetery, Darabad, and Naubaniad. Explosions were also heard near Mehrabad Airport.The head of the International Atomic Energy Agency (IAEA), Rafael Mariano Grossi, has called for the resumption of negotiations between the warring parties in the Middle East, calling attacks on nuclear facilities unacceptable. In an interview with CGTN, the Director General of the International Atomic Energy Agency, Rafael Mariano Grossi, said that all parties involved in the Middle East conflict should return to negotiations in search of a lasting solution. He also stressed that attacks on nuclear facilities are unacceptable. Rafael Mariano Grossi said that a nuclear power plant should never be attacked or its physical integrity compromised. Meanwhile, China has condemned the US and Israeli attack on a girls’ primary school in Iran, calling it an act that goes beyond human morality and conscience. According to a report by China Global Television Network (CGTN), Chinese delegate Jia Gui said in his address to the UN Human Rights Council meeting that the attack “exceeds human morality and conscience, the biggest violation of human rights and a clear violation of international humanitarian law.” He added that the US and Israel have escalated conflicts in the Middle East. The Chinese delegate urged both countries to respect the territorial integrity of all countries. It should be noted that Iran had requested an emergency meeting of the UN Human Rights Council in Geneva to discuss the attack on the Shajara Tayyiba girls’ primary school. The meeting was held earlier this month. More than 175 children and teachers were killed in the attack. The US military and Israel have not yet completed their separate investigations into the attack.In a discussion, a heated argument broke out between Pakistani politician Mushahid Hussain Syed and an Israeli general and national security adviser when Mushahid Hussain said that the real plan behind the operation was Greater Israel. The discussion also included 1945.com’s senior security editor and author of the book “Shadow War: Iran’s Struggle for Supremacy.” Mushahid Hussein said that Iran has the upper hand, this is Netanyahu’s war in which he has dragged Trump, he wants ironclad guarantees, the facts are what Trump and Netanyahu would not have thought, Iran is still holding out with full force in the fourth week, Trump is begging for peace, perhaps Trump has stuck with Netanyahu because of the Epstein files, former Israeli National Security Advisor Yaakov Amidro said that the situation is normal, fewer interceptors have been used than expected, the goal is to destroy the missile program and nuclear program, American author and senior national security editor Brandon Weichert said that Israel is just a few days away from the end of its Aero interceptors, the Iranians are gradually getting tired, the female host of the Al-Arabiya TV program, after her long intro, gave the latest background of the situation and said that. Iran has rejected Trump’s 15-point peace plan sent through Pakistani mediators, and Iranian officials told Iran’s Press TV today that Iran also has five conditions under which it would be willing to end the war. In response to a question about international recognition of Iran’s sovereignty over the Strait of Hormuz, Yaakov Amidro said in an interview on Al-Arabiya TV English that, from the Israeli point of view, the issue of sovereignty over the Strait of Hormuz is not a fundamental issue. If the Americans agree to it, I don’t think Israel will object to it publicly. This… This is very foolish, but well, that’s what the Iranians want. And if the US agrees, Israel is not part of these negotiations. The most important thing for Israel is to remove enriched uranium from Iran, stop missile development, and for Iran to guarantee that it will never return to the missile program or the nuclear program, nor will it fund its proxy groups around Israel as it has done for the past 45 years. Senator Mushahid Hosseini said on this occasion: At this time, both sides are making more and more demands. Obviously, the 15 points that Trump has sent are also things that he himself knows Iran will not accept, because he is asking for conditions that were not even mentioned in the initial agenda. In the beginning, the whole issue was around Iran’s nuclear program, but when Iran said that it was not making a bomb, they came up with new demands every day. So Iran also put forward tough conditions on its side. In my opinion, the situation will only be balanced when serious negotiations begin. Iran believes that it currently has the upper hand because it is strangling the Strait of Hormuz, and also that the United States and Israel cannot be trusted, because this is basically Netanyahu’s war that Trump has been dragged into. And Iran believes that it has been betrayed twice—in June 2025 and now on February 28. So they want ironclad guarantees that this is not just a ceasefire, but a lasting and comprehensive peace agreement. On this occasion, Brandon Weichert, co-speaker He said, “Unfortunately, I think not only do they think so, but it is also true. They have shown a brilliant strategy — to tire the United States, Israel, and the Arab states so much that their reserves are exhausted and the United States bows to internal political and economic pressure.” I live in the US myself — things are really getting worse. The British organization Royal United Services Institute, whose president called me an “idiot” three weeks ago, is now confirming the same things I said: Israel is just days away from eliminating its Aero interceptors. The US has also used up 40 percent of its THAAD stockpile, and only has three weeks of stock left. If the war accelerates, they will run out even faster. That was the Iranian strategy from the beginning — “gradual exhaustion” —, and we underestimated their missile stockpile, for which we are now paying the price. And I think neither Trump, nor Iran, nor Israel, nor anyone is in the mood for serious negotiations. So we are moving to a more dangerous level — and perhaps the US will have to see another “Gallipoli” in the Strait of Hormuz. That would not end well. Yaakov Amidro: The position was that this is completely fake news. To my knowledge, Israel is following the same plan that was already in place. We used fewer interceptors than we expected, because the Iranians didn’t fire as many missiles as we had anticipated. We used fewer, while the plan called for more. Brandon: The Royal United Services Institute is saying that. Yaakov: It’s a good institution — but they don’t have good information about Israel. I’m the guy who knows the war plan figures. We have the full capacity to continue the war for another six weeks. Iran was planning to fire 100–200 missiles a day, but they only fired about 15.Senator Mushahid Hussein said on this occasion that everyone can have opinions, but the facts are in their place. Never would Trump or Netanyahu have imagined that Iran would continue to be strong in the fourth week, or that it would be able to strike close to Israel’s most sensitive sites, or that it would be able to close the Strait of Hormuz so successfully. “Plan A” was to eliminate Iran’s leadership and overthrow the entire system in 24 hours. It all failed. That’s why they are worried now, and Trump is confused; the demands are changing. Netanyahu is only pretending; in reality, he is stuck. Iran is standing strong — that’s why Trump is begging for peace. Yaakov said that 600 American and Israeli planes are bombing Iran every day and every night. If this is the advantage, then Iran is truly “successful.” Brandon said that we flew 5.39 million sorties in Vietnam — but we still lost the war. Air power is not magic. Yaakov disagreed with him and said that in Vietnam, 10% of the bombs hit their targets. Today, 90% hit their targets. This is a world of difference. So the comparison with Vietnam is not correct. Brandon Weichert: At this point, he asked why, then, we did not see the Iranians being forced to lift the blockade of the Strait of Hormuz. Why is the economic situation in America deteriorating so rapidly? Why is the political situation in America deteriorating so rapidly? I do not consider it a success in any way because war is actually a continuation of politics through other means. I really do not understand how anyone can say that everything is going according to plan. Yaakov Amidarov said: Of course, you know better than me what is happening there. Trump will make his decision about America. I can talk about Israel. The economy in Israel is going on. Ah… Investment in Israel is growing. The Israeli stock market is one of the five best stock markets in the world. All Israelis are united behind the government. As you know, opposition leader Yair Lapid wrote in The Economist that all Israelis are behind the government. So I can’t analyze the United States. I humbly say that I don’t know all the facts about Israel either. We don’t have any problems in the political system. We haven’t felt any economic pressure yet. It could come. We haven’t run out of the number of interceptors that we need to keep the war going for at least another six weeks. What happens after that, I don’t know, but at least six weeks. When Brandon Weichert asked, “What will happen in six weeks when this war doesn’t end?” Because I don’t think this war is going to end anytime soon. Yaakov Amidror: I don’t know. We have a plan, with a number of targets to destroy in Iran every day, and we are doing it slowly but surely. And we are destroying everything that we think is necessary to minimize Iran’s ability to attack Israel in the future or to develop a new nuclear warhead or a long-range missile. And we are prepared to continue. In our view, if this war continues and there is no ceasefire, that is fine because we have a list of what needs to be destroyed. If we have destroyed everything in our view, we can end the war. That is our view. We don’t want anything from the Iranians except that they don’t attack Israel. Senator Mushahid Hossein: On Trump’s claim of regime change in Iran, he said that it’s the same old story of the American general who said to Lyndon Johnson, “Mr. President, I think we should just declare that we won the war and get out of Vietnam.” I think Trump knows that he’s trapped by Netanyahu, maybe because of the blackmail of the Epstein files or something like that, and he wants to get out of the Iran quagmire because he realizes that the longer this war goes on, the more politically disastrous it will be for Trump, as Brandon rightly said. And I feel that he’s looking for a ‘face-saving’ way, and he’s asking many countries in the region to arrange a safe exit — and that’s what they should do. Otherwise, they’ve changed their targets. He said “Mujtaba Kami” will never be acceptable. The Iranians have done everything they wanted — on their own terms. They are deciding when to attack and who to block in the Strait of Hormuz. The whole region is in a state of tension. Oil prices have taken a hit. Markets are in a bad state. Shipping, travel, trade, tourism — all are shattered, as they say. So I think the war has destabilized not only the Middle East but much of the world. And the Iranians are in the driving seat and playing it very successfully, I would say. Yaakov Amidarov disagreed: If ‘playing the game’ means having thousands of planes bomb your facilities every day and destroying your industrial infrastructure, then of course that is a great success for the Iranians.… Senator Mushahid Hussein said: But the Iranians are responding. Israel — I mean — most Israelis have not slept in their bedrooms for the past three weeks. They have been sleeping in shelters. Yaakov Amidarov: I claimed to live in Tel Aviv. They managed to kill 15 Israelis. That’s it. 15 Israelis. Less than that… no,تنشهای خاورمیانه: مذاکرات معنادار در پاکستان آغاز شد
,,,(اصغر علی مبارک),,,
نخست وزیر پاکستان، شهباز شریف، میگوید که مذاکرات برای صلح و ثبات در منطقه و سراسر جهان ضروری است. در صورت توافق آمریکا و ایران، میزبانی مذاکرات برای پاکستان مایه افتخار است. پاکستان آماده میزبانی مذاکرات معنادار برای پایان دادن به بحران جاری است. نخست وزیر پاکستان حملات مداوم اسرائیل به ایران، به ویژه حملات اخیر به تأسیسات غیرنظامی را به شدت محکوم کرده و همبستگی و حمایت کامل پاکستان از مردم ایران در شرایط دشوار را ابراز کرده است. این دومین مکالمه تلفنی بین نخست وزیر شهباز شریف و رئیس جمهور ایران، مسعود پیشمرگه، در یک هفته بود که در آن مذاکرات مفصلی در مورد کاهش تنش جاری انجام شد. در بیانیه منتشر شده توسط کاخ نخست وزیر آمده است که مکالمه بین نخست وزیر شهباز شریف و رئیس جمهور ایران بیش از یک ساعت طول کشید. دو رهبر در مورد تلاشها برای کاهش تنشها و برقراری صلح در منطقه بحث و گفتگو کردند. شهباز شریف با ابراز تاسف و اندوه عمیق از دست دادن بیش از ۱۹۰۰ جان باخته، برای درگذشتگان دعا کرد و برای بهبودی سریع مجروحان دعا نمود. نخست وزیر، رئیس جمهور ایران را از تماسهای دیپلماتیک مداوم بین خود، معاون نخست وزیر اسحاق دار و فیلد مارشال سید عاصم منیر با ایالات متحده، کشورهای برادر خلیج فارس و اسلامی که هدف آنها ایجاد فضایی مساعد برای مذاکرات صلح است، مطلع ساخت. او به حمایت قوی پاکستان از ابتکار صلح اشاره کرد و ابراز امیدواری کرد که تلاشهای جمعی به راهی مؤثر برای کاهش تنشها منجر شود. مسعود پیشمرگه، رئیس جمهور ایران، از تلاشهای دیپلماتیک صادقانه نخست وزیر قدردانی کرد و موضع خود را در مورد اقدامات اسرائیل علیه ایران بیان کرد. او بر لزوم اعتمادسازی برای مذاکرات و میانجیگری تأکید کرد و نقش مثبت پاکستان را در این زمینه ستود. نخست وزیر از رئیس جمهور ایران تشکر کرد و اطمینان داد که پاکستان به نقش سازنده خود در ارتقای صلح و ثبات در منطقه ادامه خواهد داد. در همین حال، دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، بیانیه نخست وزیر پاکستان، شهباز شریف، را در حساب کاربری خود در رسانههای اجتماعی به اشتراک گذاشت. نخست وزیر شهباز شریف در بیانیه خود از دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، عباس عراقچی، رئیس جمهور ایران و استیو ویتکاف، مذاکره کننده آمریکایی، نام برد. شایان ذکر است که در گفتگوی تلفنی بین نخست وزیر شهباز شریف و مسعود پشکیان، رئیس جمهور ایران، توافق شد که نقش سازنده پاکستان در برقراری صلح در منطقه ادامه یابد. در همین راستا، سخنگوی وزارت امور خارجه پاکستان گفت که در صورت توافق طرفین، پاکستان آماده میزبانی میانجیگری است. از سوی دیگر، اسحاق دار، معاون نخست وزیر و وزیر امور خارجه، میزبانی وزرای امور خارجه عربستان سعودی، ترکیه و مصر در پاکستان را تأیید کرده است. اسحاق دار گفت که وزرای امور خارجه عربستان سعودی، ترکیه و مصر در اسلام آباد دیدار خواهند کرد و وزرای امور خارجه سه کشور نیز با نخست وزیر شهباز شریف دیدار خواهند کرد. وی گفت که جلسه ما در ترکیه برنامه ریزی شده بود، به دلیل برنامه های فشرده، من از برادران دعوت کردم تا در اسلام آباد دیدار کنند، ما در تلاش هستیم تا با صداقت و حسن نیت به درگیری پایان دهیم و همه کشورهای دوست نیز کاملاً همکاری می کنند. اسحاق دار گفت که مذاکرات با ایران ادامه دارد و به دلیل همین مذاکرات، آنها از صحبت با رسانهها اجتناب میکنند. لازم به ذکر است که پیش از این، اخباری مبنی بر ارائه فرمول ۱۵ مادهای آمریکا به ایران از طریق پاکستان برای آتشبس منتشر شده بود که ایران آن را تأیید کرده است و سپس ایران پاسخ خود را از طریق پاکستان به آمریکا منتقل کرده است. کاخ سفید گفتگوی تلفنی رئیس جمهور آمریکا، ترامپ، با فیلد مارشال عاصم منیر در مورد جنگ ایران را تأیید کرده است. به گزارش این خبرگزاری غربی، کارولین لوت، سخنگوی کاخ سفید، در پاسخ به سوالی در مورد سفر احتمالی ویتکوف، نماینده ویژه رئیس جمهور آمریکا در امور آسیای جنوبی و جرد کوشنر، داماد رئیس جمهور ترامپ، به اسلام آباد، گفت که این یک گفتگوی دیپلماتیک حساس است و آمریکا از طریق رسانهها در مورد این موضوع مذاکره نخواهد کرد. کارولین لاوت گفت که در شرایط متغیر، گمانهزنیها در مورد جلسات نباید تا زمان اعلام رسمی توسط کاخ سفید نهایی تلقی شود. به گفته رسانههای آمریکایی، ایالات متحده ۱۵ ماده را از طریق پاکستان به ایران منتقل کرده است. لازم به ذکر است که روزنامه بریتانیایی فایننشال تایمز مدعی شده است که عاصم منیر، فرمانده ارتشبد، روز یکشنبه با رئیس جمهور آمریکا، ترامپ، صحبت کرده است. این روزنامه بریتانیایی نوشت که پاکستان خود را به عنوان میانجی اصلی برای پایان دادن به جنگ علیه ایران معرفی میکند و مقامات ارشد پاکستانی در حال ایجاد تماسهای پشت پرده بین مقامات ایرانی و ویتکوف و جارد کوشنر هستند. به گفته این روزنامه بریتانیایی، پاکستان از روابط رهبری نظامی خود با ایران و روابط صمیمانه با ترامپ برای پایان دادن به جنگ استفاده میکند. از سوی دیگر، گزارش شده است که روز یکشنبه، عاصم منیر، فرمانده ارتشبد، با رئیس جمهور آمریکا، ترامپ، و شهباز شریف، نخست وزیر، با رئیس جمهور ایران صحبت کردهاند. به گفته این روزنامه، مکالمه بین شهباز شریف و رئیس جمهور ایران تقریباً همان زمانی انجام شد که ترامپ در پلتفرم رسانههای اجتماعی خود اعلام کرد که تهدید خود برای نابودی نیروگاههای ایران را به تعویق میاندازد زیرا مذاکرات بسیار مثبت و سازندهای با تهران در حال انجام است.جنگ خاورمیانه به سطح وحشتناکی رسیده است، علیرغم توصیه دونالد ترامپ، رئیس جمهور تازه منتخب آمریکا مبنی بر عدم حمله به تأسیسات انرژی ایران، اسرائیل تأسیسات هستهای، نیروگاهها و کارخانههای فولاد ایران را هدف قرار داده است.
مقامات ایرانی اعلام کردند که نیروی هوایی اسرائیل کارخانه فرآوری اورانیوم در یزد، مناطق نزدیک نیروگاه هستهای بوشهر و مجتمع آب سنگین خنداب را بمباران کرده است. سازمان انرژی اتمی ایران این حملات را تأیید کرد و ادعا کرد که در حال حاضر هیچ تلفات جانی یا انتشار تشعشعات رادیواکتیوی وجود نداشته است. علاوه بر این، دو کارخانه بزرگ فولاد در خوزستان و اصفهان و یک نیروگاه غیرنظامی نیز هدف قرار گرفتند. عباس عراقچی، وزیر امور خارجه ایران، ضمن تأیید حملات اسرائیل، گفت که نتانیاهو روی جان و مالیات مردم آمریکا قمار کرده و این قمار را به شدت باخته است. نتانیاهو اکنون اطمینان میدهد که مردم آمریکا عواقب این باخت را متحمل میشوند. او روشن کرد که اسرائیل این حملات را با هماهنگی ایالات متحده انجام داده است و اکنون اسرائیل باید بهای سنگینی برای این جنایات بپردازد. اکنون این جنگ نه علیه دولت، بلکه علیه مردم ایران تلقی میشود. مجید موسوی، فرمانده سپاه پاسداران انقلاب اسلامی ایران، اعلام کرده است که «چشم در برابر چشم، دیگر چشم نخواهد بود». سپاه پاسداران با صدور دستورالعملی اضطراری به همه کارمندان شرکتهای آمریکایی و اسرائیلی دستور داده است که فوراً محل کار خود را ترک کنند و این امر نگرانیها را از یک حمله متقابل بزرگ افزایش داده است. از سوی دیگر، وزارت امور خارجه ایران میگوید که هدف از اظهارات ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، کاهش قیمت انرژی و کسب زمان برای اجرای برنامههای نظامی اوست. در این بیانیه آمده است که برخی از کشورهای منطقه در حال برداشتن گامهایی برای کاهش تنشها هستند، برخی پیشنهادها از کشورهای منطقه ارائه شده است، اما همه این پیشنهادها و درخواستها باید به واشنگتن ارسال شود، پاسخ ما روشن است که ما طرفی نیستیم که این جنگ را آغاز کرده است. مارکو روبیو، وزیر امور خارجه آمریکا، میگوید که ایالات متحده منتظر است ببیند چه کسی نماینده ایران در مذاکرات خواهد بود؟ اما ما میتوانیم بدون استقرار نیروهای زمینی در ایران به اهداف خود برسیم. مارکو روبیو پس از دیدار با وزرای امور خارجه گروه ۷ در گفتگو با رسانهها گفت که باز نگه داشتن تنگه هرمز حتی اگر اهداف نظامی در ایران محقق شود، میتواند به یک «چالش فوری» تبدیل شود. ایالات متحده پس از پایان جنگ، برای باز نگه داشتن تنگه هرمز به دنبال همکاری بینالمللی خواهد بود. این نگرانی وجود دارد که ایران ممکن است تصمیم به ایجاد یک سیستم عوارض برای تنگه هرمز بگیرد. بستن تنگه هرمز خطرناک است، مهم است که جهان برنامهای داشته باشد، رئیس جمهور آمریکا گفت که ارتش ما تمام تلاش خود را کرده است، ایران خواهان توافق است، روند مذاکرات با ایران ادامه دارد، ما در حال مذاکره هستیم و نتایجی حاصل خواهد شد. در همین حال، آژانس بینالمللی انرژی اتمی اعلام کرده است که ایران حمله جدیدی را در نزدیکی نیروگاه هستهای بوشهر گزارش کرده است، سومین حمله در 10 روز گذشته در نزدیکی نیروگاه هستهای بوشهر. به گفته ایران، هیچ آسیبی به راکتور فعال یا تشعشعات وارد نشده است و وضعیت نیروگاه پس از حمله عادی است. با این حال، رافائل گروسی، مدیرکل آژانس بینالمللی انرژی اتمی، نگرانی خود را در مورد عملیات در نزدیکی نیروگاه هستهای ابراز کرده و گفته است که اگر راکتور آسیب ببیند، میتواند باعث یک حادثه بزرگ تشعشعات شود. رسانههای ایران روز شنبه گزارش دادند که دانشگاه علم و صنعت تهران در حملات ایالات متحده و اسرائیل هدف قرار گرفته است. دانشگاه تهران نیز در جریان حملات اسرائیل و آمریکا آسیب دیده است. ارتش اسرائیل پیش از این اعلام کرده بود که موج جدیدی از حملات به تهران را تحت عملیات مشترک با آمریکا آغاز کرده است. لازم به ذکر است که سعید شمقدری، عضو هیئت علمی دانشکده مهندسی برق دانشگاه، در تاریخ ۲۳ مارس هنگامی که خانهاش در حمله آمریکا و اسرائیل هدف قرار گرفت، به شهادت رسید. انفجارهایی در منطقه کرج در غرب تهران رخ داده است، یک ساختمان مسکونی نیز در کازانجان مورد حمله قرار گرفته است، ۵ غیرنظامی در حمله هوایی به یک ساختمان مسکونی شهید و ۷ نفر زخمی شدهاند. صدای انفجارهایی در گورستان شهید محلاتی، دارآباد و نوبانیاد شنیده شده است. همچنین صدای انفجارهایی در نزدیکی فرودگاه مهرآباد شنیده شده است.رافائل ماریانو گروسی، رئیس آژانس بینالمللی انرژی اتمی ، خواستار از سرگیری مذاکرات بین طرفهای متخاصم در خاورمیانه شده و حملات به تأسیسات هستهای را غیرقابل قبول خوانده است. رافائل ماریانو گروسی، مدیرکل آژانس بینالمللی انرژی اتمی، در مصاحبهای با گفت که همه طرفهای درگیر در درگیری خاورمیانه باید برای یافتن یک راه حل پایدار به مذاکرات بازگردند. او همچنین تأکید کرد که حملات به تأسیسات هستهای غیرقابل قبول است. رافائل ماریانو گروسی گفت که هرگز نباید به یک نیروگاه هستهای حمله شود یا تمامیت فیزیکی آن هرگز نباید به خطر بیفتد. در همین حال، چین حمله آمریکا و اسرائیل به یک مدرسه ابتدایی دخترانه در ایران را محکوم کرده و آن را عملی فراتر از اخلاق و وجدان انسانی خوانده است. طبق گزارش شبکه تلویزیونی جهانی چین ، جیا گوی، نماینده چین، در سخنرانی خود در جلسه شورای حقوق بشر سازمان ملل گفت که این حمله «فراتر از اخلاق و وجدان انسانی، بزرگترین نقض حقوق بشر و نقض آشکار قوانین بشردوستانه بینالمللی است.» وی افزود که آمریکا و اسرائیل درگیریها در خاورمیانه را تشدید کردهاند. نماینده چین از هر دو کشور خواست که به تمامیت ارضی همه کشورها احترام بگذارند. لازم به ذکر است که ایران درخواست تشکیل جلسه اضطراری شورای حقوق بشر سازمان ملل متحد در ژنو برای بحث در مورد حمله به دبستان دخترانه شجره طیبه را داده بود. این جلسه اوایل این ماه برگزار شد. بیش از ۱۷۵ کودک و معلم در این حمله کشته شدند. ارتش آمریکا و اسرائیل هنوز تحقیقات جداگانه خود را در مورد این حمله تکمیل نکردهاند.در یک بحث، مشاهد حسین سید، سیاستمدار پاکستانی، و یک ژنرال و مشاور امنیت ملی اسرائیل، زمانی که مشاهد حسین گفت که طرح واقعی پشت این عملیات، اسرائیل بزرگ است، مشاجره شدیدی درگرفت. این بحث همچنین شامل سردبیر ارشد امنیتی 1945.com و نویسنده کتاب “جنگ سایه: مبارزه ایران برای برتری” بود. مشاهد حسین گفت که ایران دست بالا را دارد، این جنگ نتانیاهو است که او ترامپ را به آن کشانده است، او تضمینهای محکم میخواهد، واقعیتها چیزی است که ترامپ و نتانیاهو فکرش را هم نمیکردند، ایران هنوز در هفته چهارم با تمام قوا مقاومت میکند، ترامپ التماس صلح میکند، شاید ترامپ به خاطر پروندههای اپستین به نتانیاهو چسبیده است، یاکوف آمیدرو، مشاور سابق امنیت ملی اسرائیل، گفت که وضعیت عادی است، از تعداد کمتری از رهگیریها نسبت به حد انتظار استفاده شده است، هدف نابودی برنامه موشکی و برنامه هستهای است، برندون ویچرت، نویسنده آمریکایی و سردبیر ارشد امنیت ملی، گفت که اسرائیل تنها چند روز تا پایان رهگیریهای هوایی خود فاصله دارد، ایرانیها به تدریج خسته میشوند، مجری زن برنامه تلویزیونی العربیه، پس از مقدمه طولانی خود، آخرین پیشینه وضعیت را ارائه داد و گفت که. ایران طرح صلح ۱۵ مادهای ترامپ را که از طریق میانجیگران پاکستانی ارسال شده بود، رد کرده است و مقامات ایرانی امروز به پرس تیوی ایران گفتند که ایران همچنین پنج شرط دارد که تحت آنها حاضر به پایان جنگ خواهد بود. یاکوف آمیدرو در پاسخ به سوالی در مورد به رسمیت شناختن بینالمللی حاکمیت ایران بر تنگه هرمز، در مصاحبهای با تلویزیون العربیه انگلیسی گفت که از دیدگاه اسرائیل، موضوع حاکمیت بر تنگه هرمز یک مسئله اساسی نیست. اگر آمریکاییها با آن موافقت کنند، فکر نمیکنم اسرائیل علناً به آن اعتراض کند. این… این خیلی احمقانه است، اما خب، این چیزی است که ایرانیها میخواهند. و اگر آمریکا موافقت کند، اسرائیل بخشی از این مذاکرات نیست. مهمترین چیز برای اسرائیل این است که اورانیوم غنیشده را از ایران خارج کند، توسعه موشکی را متوقف کند و ایران تضمین کند که هرگز به برنامه موشکی یا برنامه هستهای برنگردد و همچنین گروههای نیابتی خود را در اطراف اسرائیل مانند ۴۵ سال گذشته تأمین مالی نکند. سناتور مشاهد حسینی در این مورد گفت: در حال حاضر، هر دو طرف خواستههای بیشتری را مطرح میکنند. بدیهی است که ۱۵ نکتهای که ترامپ ارسال کرده است، چیزهایی هستند که خودش میداند ایران آنها را نخواهد پذیرفت، زیرا او شرایطی را درخواست میکند که حتی در دستور کار اولیه ذکر نشده بودند. در ابتدا، کل مسئله حول برنامه هستهای ایران بود، اما وقتی ایران گفت که بمب نمیسازد، هر روز خواستههای جدیدی مطرح میکرد. بنابراین ایران نیز شرایط سختی را از جانب خود مطرح کرد. به نظر من، اوضاع تنها زمانی متعادل خواهد شد که مذاکرات جدی آغاز شود. ایران معتقد است که در حال حاضر دست بالا را دارد، زیرا تنگه هرمز را مسدود کرده است و همچنین به ایالات متحده و اسرائیل نمیتوان اعتماد کرد – زیرا این اساساً جنگ نتانیاهو است که ترامپ به آن کشیده شده است. و ایران معتقد است که دو بار به آن خیانت شده است – در ژوئن 2025 و اکنون در 28 فوریه. بنابراین آنها تضمینهای محکمی میخواهند که این فقط یک آتشبس نیست، بلکه یک توافق صلح پایدار و جامع است. در این مورد، براندون وایچرت: سخنگوی مشترک او گفت: “متأسفانه، من فکر میکنم آنها نه تنها اینطور فکر میکنند، بلکه این درست است. آنها یک استراتژی درخشان نشان دادهاند – تا ایالات متحده، اسرائیل و کشورهای عربی را آنقدر خسته کنند که ذخایر آنها تمام شود و ایالات متحده در برابر فشارهای سیاسی و اقتصادی داخلی تسلیم شود.” من خودم در آمریکا زندگی میکنم – اوضاع واقعاً بدتر میشود. سازمان بریتانیایی «موسسه خدمات متحد سلطنتی» که رئیسش سه هفته پیش من را «احمق» خطاب کرد، اکنون همان چیزهایی را که گفتم تأیید میکند: اسرائیل فقط چند روز با از بین بردن رهگیرهای هوایی خود فاصله دارد. و ایالات متحده همچنین 40 درصد از ذخایر THAAD خود را مصرف کرده است و فقط سه هفته موجودی دارد. اگر جنگ تسریع شود، آنها حتی سریعتر تمام میشوند. این استراتژی ایران از ابتدا بود – «خستگی تدریجی» – و ما ذخایر موشکی آنها را دست کم گرفتیم، که اکنون بهای آن را میپردازیم. و من فکر میکنم نه ترامپ، نه ایران و نه اسرائیل – هیچ کس حال و حوصله مذاکرات جدی را ندارد. بنابراین ما به سطح خطرناکتری در حال حرکت هستیم – و شاید ایالات متحده مجبور شود شاهد یک «گالیپولی» دیگر در تنگه هرمز باشد. این پایان خوبی نخواهد داشت. یاکوف امیدرو: موضع این بود که این خبر کاملاً جعلی است. تا آنجا که من میدانم، اسرائیل همان طرحی را که از قبل در دست اجرا بود، دنبال میکند. ما از تعداد کمتری از موشکهای رهگیر نسبت به آنچه انتظار داشتیم استفاده کردیم، زیرا ایرانیها به اندازهای که پیشبینی کرده بودیم موشک شلیک نکردند. ما از تعداد کمتری استفاده کردیم، در حالی که طرح، تعداد بیشتری را طلب میکرد. برندون: موسسه خدمات متحد سلطنتی این را میگوید. یاکوف: این موسسه خوبی است – اما آنها اطلاعات خوبی در مورد اسرائیل ندارند. من کسی هستم که ارقام طرح جنگ را میدانم. ما ظرفیت کامل ادامه جنگ را برای شش هفته دیگر داریم. ایران قصد داشت روزانه ۱۰۰ تا ۲۰۰ موشک شلیک کند، اما آنها فقط حدود ۱۵ موشک شلیک کردند.سناتور مشاهد حسین در این مراسم گفت که هر کسی میتواند نظراتی داشته باشد، اما واقعیتها سر جای خود هستند. ترامپ یا نتانیاهو هرگز تصور نمیکردند که ایران در هفته چهارم همچنان قوی باشد، یا بتواند به حساسترین سایتهای اسرائیل حمله کند، یا بتواند تنگه هرمز را با این موفقیت ببندد. «نقشه الف» حذف رهبری ایران و سرنگونی کل سیستم در 24 ساعت بود. همه اینها شکست خورد. به همین دلیل است که آنها اکنون نگران هستند و ترامپ گیج شده است، خواستهها در حال تغییر است. نتانیاهو فقط وانمود میکند، در واقع او گیر کرده است. ایران قوی ایستاده است – به همین دلیل است که ترامپ برای صلح التماس میکند. یاکوف: گفت که 600 هواپیمای آمریکایی و اسرائیلی هر روز و هر شب ایران را بمباران میکنند. اگر این مزیت است، پس ایران واقعاً «موفق» است. براندون: گفت که ما 5.39 میلیون سورتی پرواز در ویتنام انجام دادیم – اما باز هم جنگ را باختیم. قدرت هوایی جادو نیست. یاکوف با او مخالفت کرد و گفت که در ویتنام 10٪ بمبها به اهداف خود اصابت کردند. امروز ۹۰٪ به اهداف خود رسیدند. این یک دنیا تفاوت است. بنابراین مقایسه با ویتنام درست نیست. برندون وایچرت: در این مرحله، او پرسید که چرا ما شاهد نبودیم که ایرانیها مجبور به برداشتن محاصره تنگه هرمز شوند. چرا وضعیت اقتصادی در آمریکا به سرعت رو به وخامت است؟ چرا وضعیت سیاسی در آمریکا به سرعت رو به وخامت است؟ من به هیچ وجه آن را موفقیت نمیدانم زیرا جنگ در واقع ادامه سیاست از طریق ابزارهای دیگر است. من واقعاً نمیفهمم که چگونه کسی میتواند بگوید که همه چیز طبق برنامه پیش میرود. یاکوف امیداروف گفت: البته شما بهتر از من میدانید که در آنجا چه اتفاقی میافتد. ترامپ تصمیم خود را در مورد آمریکا خواهد گرفت. من میتوانم در مورد اسرائیل صحبت کنم. اقتصاد در اسرائیل در جریان است. آه… سرمایهگذاری در اسرائیل در حال رشد است. بازار سهام اسرائیل یکی از پنج بازار سهام برتر جهان است. همه اسرائیلیها پشت سر دولت متحد هستند. همانطور که میدانید، یائیر لاپید، رهبر مخالفان، در اکونومیست نوشت که همه اسرائیلیها پشت سر دولت هستند. بنابراین من نمیتوانم ایالات متحده را تجزیه و تحلیل کنم. فروتنانه میگویم که من هم از تمام حقایق مربوط به اسرائیل خبر ندارم. ما هیچ مشکلی در نظام سیاسی نداریم. هنوز هیچ فشار اقتصادی احساس نکردهایم. ممکن است [این اتفاق] بیفتد. تعداد موشکهای رهگیر مورد نیاز برای ادامه جنگ حداقل برای شش هفته دیگر تمام نشده است. نمیدانم بعد از آن چه اتفاقی میافتد، اما حداقل شش هفته. وقتی برندون وایچرت پرسید: «شش هفته دیگر که این جنگ تمام نشود چه اتفاقی خواهد افتاد؟» چون فکر نمیکنم این جنگ به این زودیها تمام شود. یاکوف امیدرور: نمیدانم. ما برنامهای داریم، با تعدادی هدف برای نابودی در ایران در هر روز، و ما این کار را به آرامی اما مطمئناً انجام میدهیم. و ما هر چیزی را که فکر میکنیم برای به حداقل رساندن توانایی ایران برای حمله به اسرائیل در آینده یا توسعه یک کلاهک هستهای جدید یا یک موشک دوربرد لازم است، نابود میکنیم. و ما آمادهایم که ادامه دهیم. از نظر ما، اگر این جنگ ادامه یابد و آتشبس برقرار نشود، اشکالی ندارد زیرا ما فهرستی از آنچه باید نابود شود، داریم. اگر از نظر خودمان همه چیز را نابود کرده باشیم، میتوانیم به جنگ پایان دهیم. این نظر ماست. ما از ایرانیها چیزی نمیخواهیم جز اینکه به اسرائیل حمله نکنند. سناتور مشاهد حسین: در مورد ادعای ترامپ مبنی بر تغییر رژیم در ایران، او گفت که این همان داستان قدیمی ژنرال آمریکایی است که به لیندون جانسون گفت: “آقای رئیس جمهور، من فکر میکنم ما باید اعلام کنیم که در جنگ پیروز شدیم و از ویتنام خارج شویم.” من فکر میکنم ترامپ میداند که توسط نتانیاهو به دام افتاده است، شاید به دلیل باجگیری پروندههای اپستین یا چیزی شبیه به آن، و او میخواهد از باتلاق ایران خارج شود زیرا او متوجه شده است که هر چه این جنگ بیشتر طول بکشد، همانطور که براندون به درستی گفت، از نظر سیاسی برای ترامپ فاجعهبارتر خواهد بود. و من احساس میکنم که او به دنبال راهی برای “حفظ آبرو” است و از بسیاری از کشورهای منطقه میخواهد که یک خروج امن ترتیب دهند – و این کاری است که آنها باید انجام دهند. در غیر این صورت، آنها اهداف خود را تغییر دادهاند. او گفت “مجتبی کامی” هرگز قابل قبول نخواهد بود. ایرانیها هر کاری که میخواستند انجام دادهاند – به میل خودشان. آنها تصمیم میگیرند چه زمانی حمله کنند و چه کسی را در تنگه هرمز مسدود کنند. کل منطقه در وضعیت تنش است. قیمت نفت ضربه خورده است. بازارها در وضعیت بدی هستند. همانطور که میگویند، کشتیرانی، سفر، تجارت، گردشگری – همه چیز از هم پاشیده است. بنابراین من فکر میکنم جنگ نه تنها خاورمیانه، بلکه بخش بزرگی از جهان را بیثبات کرده است. و به نظر من ایرانیها در حال هدایت آن هستند و آن را بسیار موفق بازی میکنند. یاکوف امیداروف مخالف بود: اگر «بازی کردن» به معنای بمباران روزانه هزاران هواپیما توسط تأسیسات شما و نابودی زیرساختهای صنعتی شما باشد، مطمئناً این یک موفقیت بزرگ برای ایرانیها است… سناتور مشاهد حسین گفت: اما ایرانیها در حال پاسخ دادن هستند. اسرائیل – منظورم این است که – اکثر اسرائیلیها سه هفته گذشته در اتاق خواب خود نخوابیدهاند. آنها در پناهگاهها خوابیدهاند. یاکوف امیداروف: من ادعا کردم که در تلآویو زندگی میکنم. آنها موفق شدند 15 اسرائیلی را بکشند. همین. 15 اسرائیلی. کمتر از آن… نه،



