محرم الحرام کے مقدس مہینے میں ملک و قوم کی خاطر پاک فوج کے افسران اور جوانوں کی قربانیاں………. (اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)…….محرم الحرام کے مقدس مہینے میں ملک و قوم کی خاطر پاک فوج کے افسران اور جوانوں نے جان کی قربانیاں دے کر فلسفہ شہادت کی یاد تازہ کردی ھےپاک فوج عسکریہ پاکستان کی سب سے بڑی شاخ ہے۔ اِس کا سب سے بڑا مقصد مُلک کی ارضی سرحدوں کا دِفاع کرنا ہے ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ پاک فوج کا نصب العین ہے. اور سب سے بڑھ کر اپنے ملک و قوم کی مشکل حالات میں مدد کر کے انکی زندگیاں بچانا ھےطن کے لئے پاک فوج کی قربانیاں لازوال ہیں, ھماری آزادی شہداء کے خون کی مرہون منت ہے اور یہی شہداء ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔پاکستان کے قیام اور سلامتی میں پاک فوج کے لاکھوں شہداء کاخون شامل ہے‘ قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاک فوج کے افسران و جوان اپنے ملک وقوم کے تحفظ اور بقاء کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ پاک فوج نے زمانہ امن ھو یا جنگ اپنی جان کی قربانی دے ثابت کیا ھے کہ ان کے نزدیک شہادت سے بڑھ کر اور کوئی مقصد نہیں . یہ اﷲ تعالیٰ کا کرم ہے کہ ہماری بہادر افواجِ پاکستان نے اپنے جذبہ ایمانی سے ہر محاذ پر دشمن کو عبرت ناک شکست سے دور چار کیا اور ہر چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کیا ھے اور پاک فوج کو دنیا کی عظیم فوج بنا دیاھے ہمارے پاک فوج کے افسران ہر اول دستے کے طور پر ہر محاذپر جوانوں کے شانہ بشانہ خدمات دیتے نظر آتے ہیں ملک میں حالیہ طوفانی بارشوں سےمتاثرہ افراد کو ریسکیو کیا اور اپنی ضرورت کا دو یوم کا راشن بھی متاثرین کو عطیہ کرکے اصحاب رسول خدا کی یاد تازہ کردی جس سے جذبہ ایمان تازہ ہوگیاھے ان کوششوں میں مصروف پاک فوج کے ہیلی کاپٹر حادثے میں کور کمانڈر 12کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی اور ڈی جی کوسٹ گارڈ کے علاوہ 4 دیگر جوان اور افسران بھی شہید ہوگئے، حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر ایکریل ہے جو جدید مگر سائز میں چھوٹا ہوتا ہے۔ اس میں ایک وقت میں صرف چھ افراد ہی بیٹھ سکتے ہیں۔ اس سے قبل یہ ہیلی کاپٹر سنہ 2021 میں سیاچن میں بھی گرا تھا۔ یہ حادثہ ٹین این ایل آئی بٹالین ہیڈکوارٹر کے قریب پیش آیا تھا اور جہاز میں سوار دو افسران اور ایک جوان ہلاک ہوئے تھے۔ صدر مملکت عارف علوی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور بلوچستان میں ہیلی کاپٹر حادثے میں فوجی افسران اور جوانوں کی شہادت پر رنج و غم کا اظہار کیا۔ ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے صدر مملکت کو بتایا کہ امدادی سرگرمیوں کے دوران خراب موسم کی وجہ سے حد نگاہ کم ہوئی جس کی وجہ سے ہیلی کاپٹرکو حادثہ پیش آیا۔ آرمی چیف نے بتایا کہ ہیلی کاپٹرکا ملبہ حاصل کرلیا گیا ہے اور تمام فوجی افسران و جوان جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ آرمی چیف سے گفتگو میں صدر مملکت نے شہداء کے جنازے میں بنفسِ نفیس شرکت کرنے اور اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرنےکا بھی ذکرکیا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روزپاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے پیر کی شب بتایا تھا کہ آرمی ایوی ایشن کا یہ ہیلی کاپٹر پیر کی شام اوتھل سے کراچی جاتے ہوئے لاپتہ ہوا تھا۔ ہیلی کاپٹر پانچ بج کر 10 منٹ پر اوتھل کے علاقے سے اڑا اور اس نے چھ بج کر پانچ منٹ پر کراچی پہنچنا تھا تاہم راستے میں اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہو گیا۔ ہیلی کاپٹر کو آخری مرتبہ مقامی لوگوں نے ساکران کے اُوپر سے گزرتے دیکھا تھا۔ ملبہ ساکران میں موسٰی گوٹھ کے قریب ایک پہاڑ کی چوٹی سے ملا، یہ پہاڑ موضع کچھکراڑو میں ہے جسے ’پب جبل‘ کہا جاتا ہے۔ ساکران زیادہ تر پہاڑوں اور میدانی علاقوں پر مشتمل ہیں اور وہاں جنگل بھی ہیں۔ خیال رہے کہ بلوچستان کا ضلع لسبیلہ حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے بُری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ضلعے کے مختلف علاقوں میں سیلابی پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں جہاں انتظامیہ، پاکستانی فوج، ایف سی اور پاکستان نیوی کے اہلکار امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی خود وہاں امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینے پہنچے تھے تاکہ ان میں تیزی لائی جا سکے۔ کور کمانڈر نے پیر کو اوتھل میں ریلیف کی سرگرمیوں سے متعلق اجلاسوں میں شرکت کی تھی اور کراچی روانگی سے پہلے انھوں نے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا تھا۔ ہیلی کاپٹر میں کورکمانڈر 12 کور سمیت 6 افراد سوار تھے اور ہیلی کاپٹر لسبیلہ میں فلڈ ریلیف آپریشن میں مصروف تھا۔ ہیلی کاپٹر میں کورکمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد اور 12 کور کے انجینیئر بریگیڈیئر خالد سوار تھے۔ہیلی کاپٹر میں سوار افراد میں پائلٹ میجر سعید، معاون پائلٹ میجر طلحہ اورکریو میں چیف نائیک مدثر بھی شامل تھے۔ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے افسران کا مختصر تعارف کچھ یوں ہےشہید لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی ملک و ملت کا اثاثہ تھے انہوں نے پاکستان آرمی کے کلیدی عہدوں پر کام کیا، لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کا تعلق 79ویں لانگ کورس سے تھا اور وہ پاکستان آرمی کی سکس آزاد کشمیر رجمنٹ کا حصہ تھے۔ جب موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 10 کور کمانڈ کر رہے تھے، اس وقت لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کے پاس بطور بریگیڈیئر ٹرپل ون بریگیڈ کی کمان تھی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انہیں بہترین کارکردگی پر دو مرتبہ تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے ٹرپل ون بریگیڈ کے کمانڈر کے طور پر بھی فرائض سرانجام دیے۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کی ایک اہم ترین تعیناتی خفیہ ایجنسی ملٹری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کے طور پر تھی۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی مشکل وقت میں آئی جی ایف سی بلوچستان بھی رہے۔ان کا تعلق لاہور سے تھا، انہوں نے 1989 میں آزاد کشمیر رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے سوگواران میں بیوہ، ایک بیٹی اور دو بیٹے چھوڑے ہیں۔ .میجر جنرل امجد حنیف: میجر جنرل امجد حنیف کا تعلق آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ سے تھا اور وہ ڈائریکٹر جنرل کوسٹ گارڈ کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔میجر جنرل امجد حنیف نے 1994 کے دوران آزاد کشمیر رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔میجر جنرل امجد حنیف نے سوگواران میں بیوہ، ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کو چھوڑا ہے۔بریگیڈیئر محمد خالد: کمانڈر انجینئر 12 کور بریگیڈیئر محمد خالد کا تعلق فیصل آباد سے تھا۔انہوں نے 1994 میں 20 انجینئر بٹالین میں کمیشن حاصل کیا تھا۔بریگیڈیئر محمد خالد کے سوگواران میں بیوہ، تین بیٹیاں اور تین بیٹے شامل ہیں۔میجر سعید: پائلٹ میجر سعید کا تعلق لاڑکانہ سے تھا، انہوں نے بیوہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹے کو سوگوار چھوڑا ہے۔میجر طلحہ منان: معاون پائلٹ میجر محمد طلحہ منان نے بیوہ اور دو بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہےچیف نائیک مدثر فیاض: چیف نائیک مدثر فیاض کا تعلق نارووال سے تھا.شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ہیلی کاپٹر کا ملبہ موسٰی گوٹھ سے مل گیا ہے، ہیلی کاپٹر کو حادثہ خراب موسم کے باعث پیش آیا، ہیلی کاپٹر سیلاب زدگان کے ریلیف آپریشنز میں مصروف تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہیلی کاپٹر حادثے میں کور کمانڈر 12کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی اور ڈی جی کوسٹ گارڈ کے علاوہ 4 دیگر جوان اور افسران بھی شہید ہوئے، حادثے سے متعلق مزید تفصیلات تحقیقات کے بعد شیئر کی جائیں گی۔خضدار پولیس نے کور کمانڈر کوئٹہ کے ہیلی کاپٹر کا ملبہ ملنے کی تصدیق کی ہے۔ڈی آئی جی خضدار نے آرمی ایوی ایشن کے گزشتہ روز لاپتا ہونے والے ہیلی کاپٹر کا ملبہ ملنے کی تصدیق کی۔ڈی آئی جی خضدار پرویز عمرانی کا کہنا ہےکہ ہیلی کاپٹر کا ملبہ سسی پنوں مزار کے قریب موسیٰ گوٹھ سے ملا ہے۔ڈی آئی جی کے مطابق ہیلی کاپٹر کا ملبہ کراچی سے 45 کلو میٹر دورعلاقے سے ملا ہے جو موسیٰ گوٹھ کے قریب درے گئی پہاڑی سلسلہ ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز اوتھل سے کراچی جاتے ہوئے پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہوگیا تھا.ہیلی کاپٹر میں کور کمانڈر 12 کور سمیت 6 افراد سوار تھے اور ہیلی کاپٹر سے فلڈ ریلیف آپریشن کا معائنہ کررہے تھے۔ ہیلی کاپٹر کا ائیر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور ہیلی کاپٹر لسبیلہ میں فلڈ ریلیف آپریشن میں مصروف تھا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں فوج اور ایف سی کی فلڈ ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں، پاک فوج کے جوان طبی امدادکی فراہمی اور مواصلاتی رابطے بحال کرنے میں مصروف عمل ہیں پاک فووج کی ایمرجنسی ریسپانڈ ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں متاثرین میں مسلسل خوراک اورطبی سہولیات فراہم کر رہی ہیں. وفاقی وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ محکمہ ریلوے کے 17سے 22 گریڈ کے تمام افسران ایک روز کی تنخواہ فلڈ ریلیف فنڈ میں جمع کروائیں گے۔ترجمان پاک فوج کا بتانا ہے کہ اٹک، تربیلا، چشمہ،گدو کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، دریائے سندھ کے علاوہ تمام دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں، ورسک کے مقام پر نچلے درجے کا جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق مردان میں سب سے زیادہ 133 ملی میٹر، مہمند میں85 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی ہے، مردان سے پانی نکالنےکی کوششیں جاری ہیں جبکہ مہمندکے مقامی نالوں میں سیلاب کی اطلاع ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی پنجاب میں مٹھاون،کاہا اورسانگھڑ ہل میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے مقامی کمانڈروں نے راجن پور اور ڈی جی خان کا دورہ کیا، سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں اور میڈیکل کیمپ بھی لگائے گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے علاقے جھل مگسی گندھاوا کا مکمل رابطہ بحال کر دیا گیا،گندھاوا اور گردونواح میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، آرمی میڈیکل کیمپ میں 115 مریضوں کا علاج کیا گیا، خضدار ایم ایٹ تاحال بحال نہیں ہو سکی تاہم بحالی کا کام جاری ہے۔شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سی ایم ایچ خضدار اور ایف سی کے فیلڈ میڈیکل کیمپوں میں 145 متاثرہ افراد کا علاج کیا گیا، نصیرآباد میں سیلاب متاثرین میں راشن اور پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق چمن میں باب دوستی مکمل طور پر فعال ہے جبکہ نوشکی میں پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، نوشکی میں 3 مقامات پر تباہ این 40 کی مرمت کرکے ٹریفک بحال کر دی گئی اور لسبیلہ میں صورتحال مستحکم ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ ناکہ، بیلہ، دودر، حب اور گڈانی میں 5 فیلڈ میڈیکل کیمپ طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔آئی ایس پی آر کا بتانا ہے کہ این 25 کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے تاہم پلوں کی مرمت کا کام جاری ہے، حب اور اوتھل میں 1500 کلو راشن اور امدادی اشیا تقسیم کی گئیں جبکہ مسلم باغ اور خزینہ میں فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 200 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق گلگت بلتستان، سکندر آباد کے قریب 2 مٹی کے تودے گرنے کی اطلاع ہے، ایف ڈبلیو او کی جانب سے سڑک کو یکطرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ بلوچستان میں سیلاب سے جاں بحق افرادکی تعداد 149 تک جا پہنچی ہے جب کہ متاثرین تاحال حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔صوبے میں سیلاب اور بارشوں سے ہونے والےحادثات میں 74 افراد زخمی ہوگئے جب کہ 14 ہزار مکانات کو نقصان پہنچا۔صوبے میں سیلاب اور بارشوں سے 16 پل ٹوٹ چکے ہیں اور 670 کلو میٹر پر مشتمل 6 مختلف شاہراہیں شدید متاثر ہوئی ہیں جب کہ 2 لاکھ ایکڑ پر فصلوں کو نقصانات پہنچا ہے۔بلوچستان میں سیلابی پانی اتر گیا لیکن پیچھے تباہی چھوڑ گیا جس سے نظامِ زندگی مفلوج ہو گیا ہےوزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے 142 افراد جاں بحق ہوئے، صوبے میں سیلاب کی تباہ کاریاں ناقابلِ بیان ہیں۔ دن رات مل کر متاثرین کی مدد کے لیے کام کر رہے ہیں، پانی میں پھنسے افراد کو نکالا گیا، متاثرین تک راشن پہنچایا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت وفاقی و صوبائی حکومت اور ادارے امدادی کام کر رہے ہیں، وبائی امراض کی روک تھام کے لیے میڈیکل کیمپ لگائے جا رہے ہیں، ان اقدامات کے باوجود سب اچھا کہنا انصاف نہیں ہو گا، سب اچھا نہیں، خامیاں بھی ہیں، انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے، کیمپ موجود ہیں مگر ان میں کھانے پینے کاسامان موجود نہیں۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ بلوچستان میں سیلاب سے ہزاروں مکانات تباہ ہو گئے، کھڑی فصلوں کو بھی نقصان ہوا، بے شمار سڑکوں اور پلوں کو بھی نقصان پہنچا، پاک فوج اور نیوی کے ہیلی کاپٹر بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں،وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے سر پر دستِ شفقت رکھا جائے، وعدہ کرتا ہوں کہ معاوضے کی رقم بہت جلد متاثرین تک پہنچ جائے گی، امدادی رقوم اگلے چند دنوں میں آپ کے گھروں میں ہوں گی پیسہ حقدار کو نہیں پہنچا تو مجھے آپ کے کٹہرے میں جواب دینا ہو گا، بارش اور سیلاب کے نقصانات کا شفاف تخمینہ لگانا ضروری ہے، این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے نقصانات کا تخمینہ لگائیں گی۔قلعہ سیف اللّٰہ میں سیلاب زدگان کے کیمپ کے حالات جان کر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے افسوس اور ناراضی کا اظہار کیاوزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو دیے جانے والے 20 لاکھ روپے میں سے 10 لاکھ روپے وفاقی حکومت اور 10 لاکھ روپے صوبائی حکومت دے رہی ہے۔پی ڈی ایم اے نے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی رپورٹ جاری کر دی بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خوراک کے 20 ہزار 187 پیکٹس تقسیم کیے گئےمتاثرہ علاقوں میں 13 ہزار 440 خیمے، 8 ہزار 530 کمبل، 7 ہزار 500 واٹر کولر، 9 ہزار 780 مچھر دانیاں بھی تقسیم کی گئیں۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 5 ہزار 40 گیس سلنڈرز اور 1700 پلاسٹک میٹس بھی اب تک تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

















