متاثرین سیلاب کیلئے کلائمیٹ ریزیلنٹ پاکستان ڈونرز کانفرنس جنیوا کا انعقاد……….
… اصغر علی مبارک ……….متاثرین سیلاب کیلئے کلائمیٹ ریزیلنٹ پاکستان ڈونرز کانفرنس آج 9 جنوری سے جنیوا میں منعقد ہورہی ہے وزیر اعظم 9 جنوری 2023 کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ساتھ مل کر پاکستان کی تعمیر نو اور بحالی میں شراکت کے موضوع پر عالمی کانفرنس کی میزبانی کریں گے۔ وزیر اعظم شہباز شریف ’ریزیلینٹ پاکستان‘ عالمی کانفرنس میں سیلاب متاثرین کا کیس دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کے وفد وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن اور وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کےساتھ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا پہنچ گئے ہیں ۔
اس موقع پر دنیا کی توجہ پاکستان کی جانب مبذول کروانے کیلئے دفتر خارجہ پاکستان نے خصوصی نغمہ “آو ہم کچھ ایسا کریں”تیار کیا ہے جسے پاکستان کی فارن سروس کے افسر شکیل اصغر ملک نے لکھا، کمپوز کیا اور گایا ہے۔ خصوصی نغمہ “آو ہم کچھ ایسا کریں” کا عنوان ‘انسانیت کے اعمال’، ہے ،جسے پاکستان میں حالیہ سیلاب کے متاثرین کے لیے وقف کیا گیا ہے اور اس میں فنڈز دینے کے جذبے کی اپیل کی گئی اور مشکل میں پڑنے والوں کی مدد کے لیے اخلاقی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ،جس کو نامور موسیقیکار میوزک استاد مجاہد حسین کی نگرانی میں ڈیزائن اور ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان اس کانفرنس میں تعمیر نو اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عالمی تعاون اور طویل المدتی شراکت داری کی اہمیت پر زور دے گا۔

اس ڈونرز کانفرنس کا مقصد 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد عوام اور حکومت کی مدد کے لیے حکومتی نمائندوں، سرکاری اور نجی شعبوں کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی کو اکٹھا کرنا ہے۔
اس حوالے سے ترجمان آئی ایم ایف نے بتایا کہ ’منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف کرسٹالینا جارجیوا نے 6 جنوری کو وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ فون پر سیرحاصل گفتگو کی تھی ،
کرسٹالینا جارجیوا نے سیلاب سے براہ راست متاثر ہونے والوں سے دوبارہ اظہار ہمدردی کیا اور بحالی کے اقدامات کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا،یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 2 روز قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے نویں جائزے کو حتمی شکل دینے کے لیے 2 سے 3 روز میں آئی ایم ایف کا ایک وفد پاکستان آئے گا
یاد رہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ 2019 میں 6 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا اور گزشتہ برس اس میں مزید ایک ارب ڈالر کا اضافہ کردیا گیا تھا۔
آئی ایم ایف کے نویں جائزے کے بعد پاکستان کو ایک ارب 18 کروڑ ڈالر جاری ہوں گے جو التوا کا شکار ہیں، ابتدائی طور پر 2 ماہ تک مسلم لیگ (ن) کی سربراہی میں وفاقی حکومت کی جانب سے عالمی ادارے کی مخصوص شرائط ماننے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا تھا اور اختلاف تاحال ختم نہیں ہوسکا ہے۔

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ وزیر اعظم کی ٹیلی فونک گفتگو کے بعد 6 جنوری کو وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ ’وزیر اعظم شہباز شریف نے کرسٹالینا جارجیوا کو جنیوا میں کلائمیٹ ریزیلنٹ پاکستان کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے‘۔
’کرسٹالینا جارجیوا نے دعوت نامہ پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا لیکن وضاحت کی کہ 9 اور 10 جنوری کو آئی ایم ایف بورڈ کے پہلے سے طے شدہ اجلاسوں کے سبب وہ کانفرنس میں صرف آن لائن شرکت کر سکیں گی‘
وزیراعظم نے ملک کو درپیش چیلنجز کو سمجھنے پر منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا اور ان کو یقین دہانی کروائی کہ پاکستان جاری قرض پروگرام کو کامیابی سے مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے کانفرنس میں اعلیٰ سطح کے افتتاحی اجلاس کے بعد باضابطہ طور پر تعمیر نو اور بحالی میں شراکت کی دستاویز پیش کی جائے گی اور بعد ازاں پارٹنر سپورٹ کے اعلانات کیے جائیں گے۔
وزیراعظم اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل مشترکہ پریس اسٹیک آؤٹ میں بھی شرکت کریں گے، کانفرنس میں سربراہان مملکت و حکومت، وزرا اور متعدد ممالک کے اعلیٰ سطح کے نمائندے اور عالمی مالیاتی اداروں، فاؤنڈیشنز اور فنڈز کے ساتھ ساتھ عالمی ترقیاتی تنظیموں، نجی شعبے، سول سوسائٹی اور آئی این جی اوز کے نمائندے شرکت کریں گے،
جنیوا روانہ ہونے سے قبل ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اس کانفرنس کے دوران شرکا کو اپنی حکومت کی جانب سے متاثرین کی ریلیف اور بحالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کریں گے اور کانفرنس کے دوران تباہی کے بعد بحالی، تعمیرنو اور ریکوری کے حوالے سے جامع پلان بھی دوست ممالک اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے رکھیں گے،ان کا کہنا تھا کہ انسانیت دنیا کی تاریخ میں ایک مؤثر نکتہ ہے، ہمارے آج کے اقدامات ہماری آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کی تشکیل کریں گے، سیلاب اور تباہ کن بارشوں سے لاکھوں پاکستانی متاثر ہوئے ہیں اور وہ یکجہتی کے منتظر ہیں جوانہیں دوبارہ بہترین تعمیر کی طرف لے جائے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بلوچستان کے ضلع صحبت پور میں سیلاب متاثرین اور مقامی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے جنیوا کانفرنس میں ملک بھر کے سیلاب متاثرین کی حالت زار کو اجاگر کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ ہزاروں افراد تاحال کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں۔
شہباز شریف نے توقع ظاہر کی تھی کہ جنیوا کانفرنس میں مہذب معاشرے سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے بھرپور مدد کے لیے آگے آئیں گے، ہم سیلاب متاثرین کو گھروں کے معاوضے کی ادائیگی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سیلاب زدہ پاکستان سے دنیا کی توجہ ہٹ گئی ہے لیکن سندھ اور بلوچستان سمیت ملک کے کئی علاقوں میں پانی بدستور کھڑا ہے۔ برطانوی اخبار میں شائع مضمون میں.وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس کے سیلاب کے بحران میں ایک ہزار 700 افراد جاں بحق اور 3 کروڑ 30 لاکھ متاثر ہوئے۔یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا مذکورہ مضمون 9 جنوری کوہونے والی جنیوا کلائمیٹ ریزیلینٹ پاکستان انٹرنیشنل کانفرنس سے قبل شائع ہوا ہے اور اس کانفرنس کی میزبانی حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ مشترکہ طور پر کر رہی ہیں۔ کانفرنس کا مقصد 2022 میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے حوالے سے پاکستان کے عوام اور حکومت سے تعاون کے لیے دنیا بھر سے حکومتی نمائندوں، عوامی اور نجی شعبوں کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو یکجا کرنا ہے۔ ’بین الاقوامی توجہ کم ہوئی ہے لیکن پانی کم نہیں ہوا، سندھ اور بلوچستان کے اکثر علاقے بدستور ڈوبے ہوئے ہیں‘۔ ’پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کے شکار افراد کی تعداد دوگنا ہو کر ایک کروڈ 40 لاکھ ہوگئی ہے اور دیگر 90 لاکھ انتہائی غربت کا شکار ہوگئے ہیں‘۔سیلاب سے متاثرہ یہ علاقے اب مستقل جھیلوں کے بڑے سلسلے کا منظر پیش کر رہے ہیں، خطے کو مکمل طور پر بدل دیا ہے اور عوام وہاں جی رہے ہیں، ایک سال سے کم عرصے میں پمپس کی بڑی تعداد بھی وہاں سے پانی ختم نہیں کرسکتی‘۔ اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’جولائی 2023 تک ان علاقوں میں دوبارہ سیلاب کے خطرات ہیں‘۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ’موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات‘ کا سامنا ہے اور ملک میں 2022 میں آنے والی ہٹ ویو کے حوالے سے بھی مسائل اجاگر کیے۔ ’یہ حقیقت ہے کہ ان میں سے چند علاقوں میں ریکارڈ گرمی ہوئی اور اسی طرح موسم کے سلسلے میں تیزی سے تبدیلی آئی جو معمول بن رہا ہے‘۔ پاکستان نے ان مسائل کا بھرپور انداز میں مقابلہ کیا ہے اور حکومت نے ہنگامی بنیاد پر 1.5 ارب ڈالر کی امداد شروع کی۔ پاکستان عالمی برادری اور دوست ممالک کا مشکور ہے جنہوں نے بدترین صورت حال سے بچنے کے لیے مدد کی کیونکہ 20 لاکھ سے زائد گھر، 14 ہزار کلو میٹر سڑکیں اور 23 ہزار اسکول اور طبی مراکز تباہ ہوگئے تھے۔’بحران کے بعد کے ضروریات کے حوالے سے عالمی بینک اور یورپی یونین کے اشتراک سے جائزہ لیا گیا ہے اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 30 ارب ڈالر سے زیادہ تھا جو پاکستان کی گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ کا دسواں حصہ ہے‘۔
’یہ تعداد صورت حال کی شکل واضح کر رہی ہے، وہ ایسے ردعمل کے متقاضی ہیں جو کسی ملک کے وسائل کو تقویت دیں‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سندھ کے دورے کے موقع پر ناقابل فہم تباہی کے مناظر خود دیکھے ہیں۔ یہ تباہی 2010 میں پاکستان میں آنے والے سیلاب سے کہیں زیادہ ہے، جس کو ’اقوام متحدہ نے تعبیر کیا تھا کہ ا سے اب تک کا بدترین بحران کا تجربہ ہوا ہے اور پاکستان اس سے تنہا نہیں نمٹ سکتا ہے‘۔

ماحولیاتی کانفرنس کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ اور اقوام متحدہ کے سربراہ دونوں جنیوا میں اس کی میزبانی کر رہے ہیں۔ ’ہمارے ساتھ عالمی رہنما، بین الاقوامی سفارتکاری اور فلاحی اداروں کے نمائندے اور پاکستان کے دوست شریک ہوں گے جو اس ملک سے تعاون اور یک جہتی کا مظاہرہ کریں گے جہاں بحران کا سامنا جو اس کا اپنا پیدا کردہ نہیں ہے‘۔عالمی بینک، یورپی یونین، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اقوام متحدہ کے تعاون سے روڈ میپ تیار کیا گیا ہے جو سیلاب کے بعد تعمیر نو اور بحالی کے لیے پیش کیا جائے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ’اجلاس کا پہلا مرحلہ بحالی اور تعمیر نو کے لیے 3 برس میں درکار کم ازکم 16.3 ارب ڈالر کے چیلنج سے متعلق ہے، پاکستان کو نصف فنڈز اپنے وسائل سے ملیں گے لیکن خلا کو پر کرنے کے لیے ہم اپنے شراکت داروں سے مسلسل تعاون چاہیں گے‘۔ دوسرا حصہ موسمیاتی مسائل سے بحالی کے لیے پاکستان کے وژن کے حوالے سے ہے، جس کے لیے 10 برس میں 13.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنیوا کانفرنس طویل اور مشکل سفر کا آغاز ہوگی جو مشکل میں گھرے کروڑوں افراد کے لیے امید کا باعث ہوگا۔ مجھے توقع ہے کہ جنیوا میں ہمارا اجلاس ہمارے اشتراکات اور فراخ دلی کا نمونہ ہوگی اور یہ ان تمام افراد اور ممالک کے لیے امید کی ایک وجہ ہوگی جن کو مستقبل میں قدرتی آفات کا سامنا ہوسکتا ہے۔