قیام امن کیلئےشمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کامیابیاں جاری………………. (اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک).. …. ہماری آزادی ہمارےشہداکی قربانیوں کی مرہون منت ہیں اور مادروطن کےدفاع کے لیے جان کی قربانی سے بڑھ کرکوئی قربانی نہیں ہوسکتی۔داخلی سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود پاک فوج بیرونی خطرات سے غافل نہیں ہے اور سرحد پار دہشت گردوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہےچلچلاتی دھوپ میں اپنے فرائض کی بطریق احسن انجام دہی دیتے ہوئے سیکیورٹی فورسزکے جوان وافسران مادر وطن پر جان قربان کرنےکیلئے پرعزم نظر آتے ہیں,۔مادر وطن پاکستان پر جان قربان کرنیوالے پاک فوج کے ان شہیدوں کو سلام….شہیدوں کا خون اور پاک روحیں سوال کررہی ہیںکیا پاک فوج کو برا بھلا کہنا اور دشمن کی زبان میں مخاطب کرنادرست عمل ہے قیام امن کی خاطر سیکورٹی فورسز کے جوان وافسران مادر وطن پر جان کی قربانی دے رےہیں اور ھمارا کل بچانے و اپناآج قربان کررہے ہیں زرا سوچئے شدید گرم موسم جب ہم ائرکنڈیشن گاڑیوں دھوپ کی تمازت برداشت نہیں کرسکتےمگر ھمارے فوجی افسر اور جوان سرحدوں کی حفاظت میں پر چاک و چوبند ڈیوٹی سر انجام دیتے نظر آتے ہیں۔ چلچلاتی دھوپ ڈیوٹی انجام دینے والوں کی عظمت کو سلام ۔۔جن کی قربانیوں کی بدولت ہم سکون سے اپنے پیاروں کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیںشمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابیاں جاری ہیں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، تحریک طالبان پاکستان کے دو اہم اور انتہائی مطلوب دہشت گرد مارے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں 16 اور 17 مئی کی درمیانی رات سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس دوران فورسز کی جوابی فائرنگ میں 2 دہشتگرد مارے گئے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم ٹی ٹی پی کے 2 اہم اور انتہائی مطلوب دہشت گرد کمانڈر رشید عرف جابر اور عبدالسلام عرف چمٹو کو ہلا ک کردیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے، مارے گئے دہشت گرد علاقے میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں سرگرم تھے۔جبکہ ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ واضح رہے کہ15مئ 2022 کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کےعلاقے شمالی وزیرستان میں ایک فوجی قافلے پر خود کش حملے اور ٹارگٹ کلنگ کے دو مختلف واقعات میں تین فوجیوں اور بچوں سمیت 10 افرادشہید ہوگئےتھے پہلا واقعہ شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی کے علاقے عیدک میں اس وقت پیش آیا جب ایک خودکش حملہ آور نے فوجی قافلے کو نشانہ بنایا۔ شمالی وزیرستان میں ہی صدر مقام میران شاہ میں گزشتہ شب ساڑھے نو بجے درپہ خیل کے علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کا ایک واقعہ پیش آیا جس میں نیک ولی نامی ہوٹل کے نزدیک فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہوئے۔ دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان سمیت کسی گروپ نے تاحال تسلیم نہیں کی ۔دریں اثناء ٹی ٹی پی کے ذرائع نے گزشتہ ہفتے بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ گروپ نے جنگ بندی میں توسیع کر دی، عید کی مدت کے لیے امن مذاکرات کے لیے 16 مئی تک اتفاق کیاگیا تھا.ٹی ٹی پی کے ایک خط میں جنگ بندی کا خاکہ پیش کیا گیا جس میں جنگجوؤں کو کہا گیا کہ “مرکزی کمان کے فیصلے کی خلاف ورزی نہ کریں” 30 مارچ کو، ٹی ٹی پی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف آپریشن البدر شروع کرنے کا اعلان کیا، جس کی وجہ سے قبائلی اضلاع، جنوبی علاقے اور خیبر پختونخواہ کے دیگر حصوں میں اس کے حملوں میں اضافہ ہوا۔گزشتہ ماہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک حملے میں ٹی ٹی پی کے دو عسکریت پسند مارے گئے تھے۔ ان کی شناخت خلیل اور احسان کے نام سے ہوئی ہے, شمالی وزیرستان میں ایک فوجی قافلے پر خود کش حملے اور ٹارگٹ کلنگ کے دو مختلف واقعات میں تین فوجیوں اور بچوں سمیت 10 افرادشہید ہوگئےتھے پہلا واقعہ شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی کے علاقے عیدک میں اس وقت پیش آیا جب ایک خودکش حملہ آور نے فوجی قافلے کو نشانہ بنایا۔ شمالی وزیرستان میں ہی صدر مقام میران شاہ میں گزشتہ شب ساڑھے نو بجے درپہ خیل کے علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کا ایک واقعہ پیش آیا جس میں نیک ولی نامی ہوٹل کے نزدیک فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہوئے۔ دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے یہ واقعات ایک ایسے وقت پیش آ ئے جب ٹی ٹی پی اور حکومت کے درمیان سیزفائر جاری ہے۔ حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان سمیت کسی گروپ نے تاحال تسلیم نہیں کی ۔30 مارچ کو، ٹی ٹی پی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف آپریشن البدر شروع کرنے کا اعلان کیا، جس کی وجہ سے قبائلی اضلاع، جنوبی علاقے اور خیبر پختونخواہ کے دیگر حصوں میں اس کے حملوں میں اضافہ ہوا۔گزشتہ ماہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک حملے میں ٹی ٹی پی کے دو عسکریت پسند مارے گئے تھے۔ ان کی شناخت خلیل اور احسان کے نام سے ہوئی ہےدھشتگردی کےخلاف جنگ افواج پاکستان کے مثالی کردار کی دنیامعترف ہے راقم الحروف کےسگے بھائی مظہرعلی مبارک راولپنڈی میں ٹارگٹ کلنگ میں دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے سولیئین شہدا کے لواحقین کا کوئی پرسان حال نہیں۔سیاستدانوں نے شہدا کے نام پر سیاست کر بیرون ممالک سے امداد حاصل کیں۔مگر آج ان خاندانوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ۔جو مارے گئے انہیں معلوم نہیں کیوں ناحق مارے گئے چند ماہ قبل راقم الحروف نے اے پی ایس کے شہدا کی فیملیز کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر احتجاج ریکارڈکراتے ہوئے مطالبہ کیاتھاکہ امن دشمن قوتوں کو معاف کرنے کےبجائے انہیں انصاف کٹہرے میں لایا جائے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان میں انسداد دھشتگردی عدالتیں ختم کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ دھشتگردی ختم ہوگئی ھے مگر ایسا ہرگز نہیں۔۔ہماری عدالتوں نے سیکورٹی ایجنسوں کی شبانہ روز کی محنت پر پانی پھیرتے ہوئے دہشتگردوں کو شک کافائدہ دے “قتل کرنےکا لائسنس”دےدیا دھشت گردی کے خلاف عدالتوں میں تاحال انصاف کے حصول کیلئے سرگرداں ہے مگر کوئی امید بر نظر نہیں آتی۔سرکاری حکومتی مشینری بھی اس مستعدی سے دھشتگردی کے کیسز میں موثر نظر نہیں آتی جس کا تقاضاکیاجاتاہے اور بطور مدعی مقدمہ تھانہ رتہ امرال مقدمہ نمبر582 سال 2013 تلخ تجربہ ہوچکاہے جہاں ناحق قتل ہونے والوں کےبجائے دھشتگردوں کی مالی معاونت کے لئے درجنوں سفید پوش سامنے آجاتےہیں الحمداللہ مجھے یہ کہنے میں فخر محسوس ہوتاہے کہ ایک شہید کا بھائی ہوں اور دھشتگردوں کو انصاف کے کٹہرے تک لانے میں کامیاب ہوا ورنہ سینکڑوں بےگناہ نامعلوم دھشتگردوں کی گولیوں کا نشانہ بننے کے بعد تاحال قاتلوں کانام تک نہیں جان سکے عدالتوں پیشی سے لیکر گواہی تک گواہوں کےلئے کوئی فول پروف سیکورٹی نظام نہ ہونے کی وجہ سے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کھلی چھٹی ہے اس حوالے سے پھرکبھی تفصیل سے تحریرکرونگا خیال رہےکہ شمالی وزیرستان میں 2014 میں جب دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو غلام خان سرحد کو بند کر دیا گیا تھا۔ اپریل 2018 میں بارڈر ٹرمینل کی تعمیر کے بعد سرحد کو باضابطہ طور پر کھولا گیا۔ غلام خان بارڈر ٹرمینل 13 ارب کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے اور دوسری جانب افغانستان کا ضلع خوست ہےشوریٰ مجاہدین شمالی وزیرستان میں متحرک ایک مسلح گروپ ہے جس کی قیادت حافظ گل بہادر کر رہے ہیں جو سنہ 2007 میں شمالی وزیرستان میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر مقرر ہوئے تھے تاہم اطلاعات کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں کے حوالے سے پالیسیوں سے اختلاف کے باعث تنظیم سے علیحدہ ہو گئے تھے۔شمالی وزیرستان میں جون 2014 میں آپریشن ضرب عضب شروع ہوا جس کے بعد حافظ گل بہادر اور ان کا گروہ غیر فعال ہو گیا تھا۔ایسی اطلاعات ہیں کہ شوریٰ مجاہدین کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ ایک ماہ سے جاری تھا اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد اس میں تیزی آئی ہے اور جمعہ کو اس کا اعلان کیا گیا ہے۔ بتایا جاتاہےکہ ان علاقوں میں مقامی رہنما امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں تاہم مسلح تنظیم سے مذاکرات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
یہاں یہ بتاتے چلیں کہ مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں چند روز قبل خود کش حملے کی تصدیق کی تھی اور کہا کہ فوج کے تین اہلکار اس حملے میں شہید ہوئے تھے۔شہید ہونے والوں میں حوالدار زبیر قادر، سپاہی عزیر افسر اور سپاہی قاسم مقصود شامل ہیں۔ مقامی اہلکاروں کے مطابق خودکش حملہ اس وقت کیا گیا جبکہ فوجی گاڑی پوسٹ سے باہر نکلی تھی۔ خودکش حملہ گزشتہ روز شام چار بجے کے قریب ہوا۔دھماکے میں سات سیکیورٹی اہلکار اور تین بچے زخمی ہوئے جن کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم آئی ایس پی آر کے مطابق زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تینوں بچے بھی شہید ہوئےتھے۔ شہید بچوں کی شناخت گیارہ سالہ احمد حسن، آٹھ سالہ احسن اور چار سال کی بچی انعم کے نام سے ہوئی تھی۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ادھر اس واقعہ پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے شدید الفاظ میں مذمت کی اور ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ۔وزیراعظم نے شہدا کے خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ فوجیوں اور شہریوں کا خون ہم پر قرض ہے جو ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کی صورت میں چکایا جائے گا۔اس سال کے پہلے تین ماہ کے دوران سکیورٹی فورسز کے افسران سمیت 110 اہلکار شہید ہوئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 131 شدت پسند ہلاک اور 256 کو گرفتار کیا گیارواں سال اپریل کے مہینے میں ہونے والی ہلاکتیں اس مجموعی تعداد میں شامل نہیں ہیں۔ 16 اپريل 2022 شمالی وزیرستان میں فوجی قافلے پر حملے میں سات اہلکار شہید ہوئے تھے۔15مئ 2022 کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کےعلاقے شمالی وزیرستان میں ایک فوجی قافلے پر خود کش حملے اور ٹارگٹ کلنگ کے دو مختلف واقعات میں تین فوجیوں اور بچوں سمیت 10 افرادشہید ہوگئےتھےخیال رہے کہ گذشتہ برس افغان طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد پاکستان کے متعدد حلقوں کی جانب سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اب افغانستان سے پاکستان میں حملوں کا سلسلہ ختم ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اگست 2022 کے بعد پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکومت نے گذشتہ برس کے اواخر میں اعلان کیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں اور ہتھیار پھینکنے کی صورت میں ان کے بیشتر شدت پسندوں کو قومی دھارے کا حصہ بنایا جائے گا







