غلطیاں ہو سکتیں لیکن غدار، سازشی اور قاتل نہیں :پاک فوج کا واضح پیغام….……(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک). پاک فوج نے ایک بار پھر سیاست میں دہشتگردی کا عنصر شامل کرنے والے سیاسی افراد کا مکروہ چہرہ بے نقاب کردیا ہے عمران خان کی لاشوں پر سیاست کرنے کا خواب چکنا چور کردیا گیا ہے قوم میں جھوٹ کے بیانیہ سے عمران خان نے ہر ادارے کو بدنام کیا لیکن اب حقیقت سامنے آ چکی ہے پاک فوج کا نام نہاد پاکستانی لیڈر کے لیے واضح پیغام.. ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا ہےکہ سائفر پر ڈرامائی انداز میں بیانیہ دینے کی کوشش کی گئی اور افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا تھا۔ سائفر کا معاملہ سامنے لایا گیا تو ارشد شریف نے متعدد پروگرام کیے اس حوالے سے اس وقت کے وزیراعظم سے ملاقات اور کئی انٹرویوز کیے، یہ بات بھی کی گئی کہ ارشد شریف کو مختلف میٹنگز کے منٹس اور سائفر بھی دکھایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سائفر اور ارشد شریف کی وفات سے جڑے حقائق تک پہنچنا ضروری ہے، اس سلسلے میں ابہام پیدا ہوا ہےجب کہ سائفر کے معاملے میں آرمی چیف نے 11 مارچ کو اس وقت کے وزیراعظم سے کامرہ میں تذکرہ کیا تھا اس پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے یہ حیران کن تھا جب 27 مارچ کو اسلام آباد کے جلسے میں کاغذ کا ٹکڑا لہرایا گیا اور ڈرامائی انداز میں ایسا بیانیہ دینے کی کوشش کی گئی جس کا حقیقت تک دور دور تک واسطہ نہیں تھا، سائفر سے متعلق حقائق منظر عام پرآچکے جس نے کھوکھلی اور من گھڑت کہانی کو بے نقاب کردیا کہ کیسے سفیر کی رائے کو مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ آئی ایس آئی نے پروفیشنل انداز میں قومی سلامتی کمیٹی کو بتادیا تھا کہ حکومت کےخلاف سائفر کے شواہد نہیں ملے، کمیٹی نے بریفنگ دی کہ سفیر کی ذاتی اسسمنٹ ہے، سفیر نے جو لائحہ عمل تجویز کیا تھا وہی کمیٹی نے فارن آفس کو کہا تھا، یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سائفر پر مزید افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا تھا، اس حوالے سے امریکا کے دنیا بھر میں رجیم چینج آپریشن کے حوالے دیے گئے، ان کو پاکستان میں حکومت کی تبدیلی سے جوڑ دیا گیا،فوج کی لیڈر شپ کو نشانہ بنایا گیا، ہر چیز کو غداری اور رجیم چینج آپریشن سے لنک کردیا گیا، یہی وہ وقت تھا جب ارشد شریف اور دیگر صحافیوں کو ایک مخصوص بیانیہ فیڈ کیا گیا جس کی حقیقت بہت حد تک واضح ہوچکی۔عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کر کے اپنے مطالبات ان کے سامنے رکھے۔ عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی سے پوچھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے جس پر ندیم احمد انجم نے کہا کہ معاشی عدم استحکام اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، عمران خان نے کہا کہ نہیں سب سے بڑا مسئلہ یہ چور اور ڈاکو ہیں، نواز شریف، آصف زرداری اور شہباز شریف، آپ انہیں اندر کریں، جس پر ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ میں ان کو اندر نہیں کر سکتا، آپ اگر ایسا چاہتے ہیں تو لکھ کر دیں۔ عمران خان نے آرمی چیف سے ملاقات میں بھی یہی مطالبات رکھے لیکن انہوں نے عمران خان کو جواب دیا کہ پاک فوج آئین اور ضابطے کی پابند ہے، کسی کو گرفتار کرنا نیب یا ایف آئی اے کا کام ہے، ہم نے بطور ادارہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم نے سیاست میں نہیں آنا۔ عمران خان کے بار بار مطالبات پر آرمی چیف نے کہا کہ آپ کے مطالبات پر عمل درآمد کے لیے تو مجھے آرمی چیف نہیں بلکہ آپ کی کرسی پر ہونا چاہیے۔مارچ کے مہینے میں جب تحریک عدم اعتماد آئی تو عمران خان نے کہا کہ اسے ختم کروائیں، جس پر آرمی چیف نے کہا یہ ہمارا کام نہیں ہے، آپ مخالفین کے ساتھ بات چیت کریں، لیکن عمران خان کہتے رہے کہ آپ تحریک عدم اعتماد کو واپس کروائیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ عمران خان کو مسلسل سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام لیکر آئیں، آپ نے جو افغانستان کے حوالے سے بیان بازی کی ہے اس کی وجہ سے ہمارے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں اس لیے آپ امریکا سے متعلق بیان بازی کرتے ہوئے احتیاط کیا کریں، اگر روس سے تعلقات قائم رکھنے ہیں تو ضرور کریں لیکن امریکا اور روس کے درمیان ایک بیلنس رکھیں۔ 11 مارچ کو جنرل باجوہ کامرہ ایک فائل لیکر گئے تھے جس میں سائفر لگا ہوا تھا، جب جنرل قمر جاوید باجوہ نے عمران خان کو سائفر دکھایا اور بتایا کہ اس سائفر میں امریکی وزارت خارجہ نے کچھ تحفظات کا اظہار کیا ہے جس پر عمران خان نے کہا کہ اس طرح کے سائفر آتے رہتے ہیں لیکن پھر چند دنوں کے بعد پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کیا تو پھر انہوں نے ایک خط لہرا دیا۔ جو خط عمران خان نے لہرایا تھا اور جو ارشد شریف سمیت دیگر صحافیوں کو دکھایا گیا تھا وہ اوریجنل نہیں تھا بلکہ وہ خط کی تشریح تھی جس میں اعظم خان کے مشورے سے اپنی مرضی کی چیزیں شامل کی گئی تھیں۔ عمران خان آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے کہہ رہے تھے کہ جو بات ہم کہہ رہے ہیں آپ انہیں تسلیم کریں لیکن آرمی چیف نے صاف انکار کر دیا تھا، جب اس پر آئی ایس آئی نے انکوائری کر کے وزیراعظم کو بتایا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی تو اس پر عمران خان نے ایک اور مطالبہ کیا کہ حکومت جو سیاسی بیانیہ کہہ رہی ہے آپ اسے تسلیم کریں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سائفر اور ارشد شریف کی وفات کے حوالے سے بڑے واقعات کے حقائق تک پہنچنا بہت ضروری ہے تاکہ اس سلسلے میں کسی قسم کا ابہام اور قیاس آرائی پیدا نہ ہو اور قوم سچ جان سکے۔.ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ سائفر اور ارشد شریف کی موت سے جڑے حقائق کی جڑ تک پہنچنا ضروری ہے، ارشد شریف پاکستانی صحافت کے آئیکون تھے، ہم سے غلطیاں ہو سکتیں لیکن غدار، سازشی اور قاتل نہیں ہو سکتے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف پاکستانی صحافت کے آئیکون تھے، اداروں پر بے جا الزام تراشی کی گئی، حقائق کا درست ادراک انتہائی ضروری ہے۔…انہوں نے کہا ہے کہ ارشد شریف قتل پر آرمی چیف پر بھی الزام تراشی کی گئی، حقائق کا ادراک ضروری ہے، ارشد شریف محنتی صحافی تھے، سائفر اور ارشد شریف کی موت سے جڑے حقائق کی جڑ تک پہنچنا بہت ضروری ہے، ارشد شریف کی موت کا ہم سب کو دکھ ہے، صحافی ارشد شریف کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ اداروں کوبدنام کرنے کی کوشش کی گئی، لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، ارشد شریف کی موت کا ایک جھوٹا بیانیہ بنایا گیا۔

سائفر کی من گھڑت کہانی کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا، ہمارے لیے یہ بہت حیران کن تھا کہ ایک کاغذ کے ٹکڑے کو لہرایا گیا اور من گھڑٹ کہانی کھڑی گئی۔
لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ سائفر پر آئی ایس آئی کی تحقیقات کو عوام کے سامنے لانا چاہتے تھے، ارشد شریف نے سائفر پر بھی کئی پروگرام کیے، نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو کہا گیا کہ سائفر سفیر کی ذاتی رائے ہے، سائفر کی من گھڑت کہانی کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا، سائفر اور ارشد شریف کی موت سے جڑے حقائق کی جڑ تک پہنچنا بہت ضروری ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ارشد شریف ملک چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے تھے، سلمان اقبال نے چیف ایگزیکٹو کو ہدایت کی کہ ارشد شریف کو جلد از جلد ملک سے باہر بھیج دیا جائے، تھریٹ الرٹ کا مقصد ارشد شریف کو باہر جانے پر مجبور کرنا تھا، بار بار انہیں باور کرایا جاتا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں بہت سے سوالات جواب طلب ہیں، افسوس ناک واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں، ہم نے حکومت سے اعلیٰ سطح تحقیقات کی درخواست کی ہے، عالمی اداروں کی ضرورت ہو تو انہیں بھی شامل کرنا چاہے، اے آر وائی نیوز نے اداروں کیخلاف رجیم چینج کا مخصوص ایجنڈا پروان چڑھایا، ارشد شریف کی موت پرجھوٹا بیانیہ بنایا گیا،لوگوں کو گمراہ کیا گیا، ارشد شریف کے قتل کے سلسلے میں سلمان اقبال کو واپس لا کر انہیں شامل تفتیش کرنا چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال اٹھائے کہ ارشد شریف سے رابطہ میں رہنے والے لوگ کون تھے اور کس نے ارشد شریف کا ان سے رابطہ کروایا؟ یو اے ای میں ان کے قیام و طعام کا انتظام کون کر رہا تھا، کون انہیں یقین دلا رہا تھا، کس نے انہیں کینیا جانے کا کہا گیا کیوں کہ مزید 34 ممالک ہیں جہاں پاکستانیوں کے لیے ویزہ فری انٹری ہے، ارشد شریف کو کس نے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا تھا؟۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کو سائفر سے متعلق کسی سازش کے شواہد نہیں ملے، لیکن ارشد شریف اور بہت سے ان جیسے صحافیوں کو رجیم چینج کا بیانیہ فیڈ کیا گیا، شہباز گل نے اے آر وائی پر فوج میں بغاوت پر اکسانے کا بیان دیا، اے آر وائی چینل نے پاک فوج اور اس کی قیادت کے خلاف جھوٹے اورسازشی بیانیے کو فروغ دیا۔

لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا کہ لفظ نیوٹرل کو گالی بنادیا گیا ہے، ہمارے شہدا کا مذاق بنایا گیا، ہم غدار سازشی یا قاتل نہیں ہوسکتے، سائفر کا بہانہ بنا کر أفواج پاکستان کی تضحیک کی گئی، غیر آئینی کام سے انکار کرنے پر میر جعفر اور میر صادق کے القاب دیے گئے۔

لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا اپنے اداروں پر اعتماد رکھیں، ماضی میں ہوئی غلطیوں کو پچھلے 20 سالوں سے اپنے خون سے دھو رہے ہیں، ہم کمزور ہو سکتے ہیں، ہم سے غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر ہم سارشی نہیں ہو سکتے کیونکہ ایک بہت مشہور اسکالر نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کو توڑنا ہے تو اس کی فوج کو کمزور کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا ایک متحد قوم ہی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے، ہم بطور ادارہ کبھی اپنی قوم کو مایوس نہیں کریں گے، یہ وقت اتحاد، تنظیم اور نظم و ضبط کا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے کہا کہ اس میں دو رائے نہیں کہ کسی کو میر جعفر، میر صادق کہنے کی مذمت کرنی چاہیے اور بغیر شواہد کے الزامات کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے جبکہ نیوٹرل اور جانورکہنا اس لیے نہیں کہ ہم نے کوئی غداری کی ہے بلکہ یہ سب اس لیے کہا جارہا ہے کیونکہ ہم نے غیر قانونی کام سے انکار کیا۔

لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کا کہنا تھا کہ میری واضح پالیسی ہے کہ میری تشہیر نہ کی جائے، آج میں اپنی ذات کے لیے نہیں اپنے ادارے کے لیے آیا ہوں، جھوٹ سےفتنہ و فسادکا خطرہ ہوتو سچ کاچپ رہنا نہیں بنتا، میں اپنے ادارے، جوانوں اور شہدا کا دفاع کرنے کے لیے سچ بولوں گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے شہیدوں کا مذاق بنایا گیا، اس میں دو رائےنہیں کہ کسی کو میر جعفر، میر صادق کہنےکی مذمت کرنی چاہیے، بغیر شواہد کے الزامات کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

ڈی جی آئی ایس آئی کا کہنا تھاکہ نیوٹرل اور جانور کہنا اس لیے نہیں کہ ہم نے کوئی غداری نہیں کی ہے، یہ سب اس لیے کہا جارہا ہے کیونکہ ہم نے غیر قانونی کام سے انکار کیا ہے، غیر قانونی کام سے انکار فرد واحد یا صرف آرمی چیف کا فیصلہ نہیں پورے ادارے کا تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے مزید کہا کہ بالخصوص اس سال مارچ سے ہم پربہت پریشر ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہوا ہے خود کو آئینی کردار تک محدود رکھنا ہے، جنرل باجوہ چاہتے تو اپنےآخری چھ سات مہینے سکون سے گزارسکتے تھے لیکن جنرل باجوہ نے فیصلہ ملک اور ادارے کےحق میں کیا، جنرل باجوہ اور ان کے بچوں پرغلیظ تنقید کی گئی۔

ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ آرمی چیف کو ان کی مدت ملازمت میں غیرمعینہ مدت توسیع کی پیشکش کی گئی، اگرآپ کا سپہ سالارغدار ہے تو ماضی قریب میں ان کی تعریفوں کے پل کیوں باندھے گئے، اگر آپ کی نظر میں سپہ سالا غدار ہے تو اس کی ملازمت میں توسیع کیوں دینا چاہتے تھے، اگر آپ کا سپہ سالار غدار ہے تو آج بھی چھپ کر اس سے کیوں ملتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس آئی کا کہنا تھا کہ اُس وقت جو حکومت وقت تھی جو توسیع کو قانونی طور پر دینے کے مجاز تھے انہوں نے یہ پیشکش دی، اس وقت یہ پیشکش اس لیے کی گئی کہ تحریک عدم اعتماد اپنے عروج پرر تھی۔

لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے کہا کہ ہمارا محاسبہ ضرورکریں لیکن پیمانہ رکھیں کہ میں ملک کے لیے درست کام کررہاہوں یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مارچ 2021 کے بعدکسی الیکشن میں فوج یا آئی ایس آئی کی مداخلت کا ثبوت ہے تو لائیں، جب ڈی جی آئی ایس آئی بنا تو مجھ سے پوچھاگیاکہ پاکستان کا نمبر ایک مسئلہ کیا ہے، میں نےکہا معاشی مسائل، جس نےمجھ سے پوچھا تھا اس کے نزدیک پاکستان کا نمبر ایک مسئلہ حزب اختلاف تھی۔

ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کے لیے سابقہ حکومت نے آرمی چیف کو غیر معینہ مدت تک توسیع کا کہا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو بیرونی خطرات یا عدم تحفظ سے خطرہ نہیں ہے، پاکستان کا دفاع اس لیے مضبوط ہے کہ اس کی ذمہ داری 22 کروڑ عوام نے لی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کا کہنا تھا کہ جب آپ نفرت اور تقسیم کی سیاست کرتےہیں تو اس سے ملک میں عدم استحکام آتاہے، پاکستان نفرت کی وجہ سےدو ٹکڑے ہوا۔

ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ صدر پاکستان کی جن ملاقاتوں کا کہا جا رہا ہے وہ ملاقاتیں ہوئیں اور وہ ملاقاتیں منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکیں۔ بلا ضرورت سچ بھی شر ہے۔ پاکستان جمہوری ملک ہے، دوستوں اور دشمنوں کا فیصلہ کرنا منتخب حکومت کا کام ہے جبکہ فوج یا ادارے کا کام خفیہ معلومات اور رائے دینا ہے۔ پاکستان کو بیرونی خطرات یا عدم تحفظ سے خطرہ نہیں ہے۔

ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ادارےکے غیر سیاسی رہنے پر بہت دن بحث ہوئی پھر یہ فیصلہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین میں ایک حق احتجاج کرنے کا بھی ہے، ہمیں کسی کے احتجاج، لانگ مارچ یا دھرنے پر اعتراض نہیں، جب زیادہ لوگ اکٹھے ہوں تو خطرہ ہوتاہے، ہمارافرض ہےکہ ہم سکیورٹی دیں، ہم باتیں نہیں کرتے کام کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ میرے ادارے اور ایجنسی کا کسی جماعت کے ساتھ انا نہیں، جس جماعت کی آپ نے بات کی اس میں میرے ذاتی دوست دیگر جماعتوں سے زیادہ ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کا کہنا تھاکہ جتنی بھی میٹنگز ہوئیں ہمارا مشورہ اوربیانیہ یہی تھاکہ آپ کو جوکرنا ہےآئین کےتحت کرناہے۔

انہوں نے کہا کہ اداروں کے خلاف بات ہوئی تو وزیراعظم اور دیگر وزرا نے مذمت کی، یہ نہیں کہوں گا کہ حکومت دانستہ خاموش ہے۔

ہم سے غلطیاں ہو سکتیں لیکن غدار، سازشی اور قاتل نہیں ہو سکتے: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ سائفر اور ارشد شریف کی موت سے جڑے حقائق کی جڑ تک پہنچنا ضروری ہے، ارشد شریف پاکستانی صحافت کے آئیکون تھے، ہم سے غلطیاں ہو سکتیں لیکن غدار، سازشی اور قاتل نہیں ہو سکتے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف پاکستانی صحافت کے آئیکون تھے، اداروں پر بے جا الزام تراشی کی گئی، حقائق کا درست ادراک انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ارشد شریف قتل پر آرمی چیف پر بھی الزام تراشی کی گئی، حقائق کا ادراک ضروری ہے، ارشد شریف محنتی صحافی تھے، سائفر اور ارشد شریف کی موت سے جڑے حقائق کی جڑ تک پہنچنا بہت ضروری ہے، ارشد شریف کی موت کا ہم سب کو دکھ ہے، صحافی ارشد شریف کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ اداروں کوبدنام کرنے کی کوشش کی گئی، لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، ارشد شریف کی موت کا ایک جھوٹا بیانیہ بنایا گیا۔

سائفر کی من گھڑت کہانی کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا، ہمارے لیے یہ بہت حیران کن تھا کہ ایک کاغذ کے ٹکڑے کو لہرایا گیا اور من گھڑٹ کہانی کھڑی گئی۔

لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ سائفر پر آئی ایس آئی کی تحقیقات کو عوام کے سامنے لانا چاہتے تھے، ارشد شریف نے سائفر پر بھی کئی پروگرام کیے، نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو کہا گیا کہ سائفر سفیر کی ذاتی رائے ہے، سائفر کی من گھڑت کہانی کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا، سائفر اور ارشد شریف کی موت سے جڑے حقائق کی جڑ تک پہنچنا بہت ضروری ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ارشد شریف ملک چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے تھے، سلمان اقبال نے چیف ایگزیکٹو کو ہدایت کی کہ ارشد شریف کو جلد از جلد ملک سے باہر بھیج دیا جائے، تھریٹ الرٹ کا مقصد ارشد شریف کو باہر جانے پر مجبور کرنا تھا، بار بار انہیں باور کرایا جاتا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں بہت سے سوالات جواب طلب ہیں، افسوس ناک واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں، ہم نے حکومت سے اعلیٰ سطح تحقیقات کی درخواست کی ہے، عالمی اداروں کی ضرورت ہو تو انہیں بھی شامل کرنا چاہے، اے آر وائی نیوز نے اداروں کیخلاف رجیم چینج کا مخصوص ایجنڈا پروان چڑھایا، ارشد شریف کی موت پرجھوٹا بیانیہ بنایا گیا،لوگوں کو گمراہ کیا گیا، ارشد شریف کے قتل کے سلسلے میں سلمان اقبال کو واپس لا کر انہیں شامل تفتیش کرنا چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال اٹھائے کہ ارشد شریف سے رابطہ میں رہنے والے لوگ کون تھے اور کس نے ارشد شریف کا ان سے رابطہ کروایا؟ یو اے ای میں ان کے قیام و طعام کا انتظام کون کر رہا تھا، کون انہیں یقین دلا رہا تھا، کس نے انہیں کینیا جانے کا کہا گیا کیوں کہ مزید 34 ممالک ہیں جہاں پاکستانیوں کے لیے ویزہ فری انٹری ہے، ارشد شریف کو کس نے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا تھا؟۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کو سائفر سے متعلق کسی سازش کے شواہد نہیں ملے، لیکن ارشد شریف اور بہت سے ان جیسے صحافیوں کو رجیم چینج کا بیانیہ فیڈ کیا گیا، شہباز گل نے اے آر وائی پر فوج میں بغاوت پر اکسانے کا بیان دیا، اے آر وائی چینل نے پاک فوج اور اس کی قیادت کے خلاف جھوٹے اورسازشی بیانیے کو فروغ دیا۔

لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا کہ لفظ نیوٹرل کو گالی بنادیا گیا ہے، ہمارے شہدا کا مذاق بنایا گیا، ہم غدار سازشی یا قاتل نہیں ہوسکتے، سائفر کا بہانہ بنا کر أفواج پاکستان کی تضحیک کی گئی، غیر آئینی کام سے انکار کرنے پر میر جعفر اور میر صادق کے القاب دیے گئے۔

لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا اپنے اداروں پر اعتماد رکھیں، ماضی میں ہوئی غلطیوں کو پچھلے 20 سالوں سے اپنے خون سے دھو رہے ہیں، ہم کمزور ہو سکتے ہیں، ہم سے غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر ہم سارشی نہیں ہو سکتے کیونکہ ایک بہت مشہور اسکالر نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کو توڑنا ہے تو اس کی فوج کو کمزور کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا ایک متحد قوم ہی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے، ہم بطور ادارہ کبھی اپنی قوم کو مایوس نہیں کریں گے، یہ وقت اتحاد، تنظیم اور نظم و ضبط کا ہے۔ اپنی پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک نجی ٹی وی چینل کے مالک کو بھی شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا اور نجی ٹی وی چینل کے مالک کو آج ایک کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش بھی ہونا تھا۔ان کا کہنا تھا نجی ٹی وی چینل کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ارشد شریف ان کے چینل کے ساتھ منسلک تھے لیکن میری اطلاعات کے مطابق ارشد شریف نے بول ٹی وی پر کنٹریکٹ سائن کر لیا تھا اور انہوں نے آج سے اپنا پروگرام شروع کرنا تھا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ذہن سازی کے ذریعے قوم اور فوج میں سپہ اور لیڈر شپ میں نفرت پید اکرنے کی مذموم کوشش کی گئی، پاکستان اور اداروں کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کی کو کسر نہیں چھوڑی گئی۔