.عوام پاک فوج کی ترجیح….آرمی چیف کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ ۔……۔۔(کالم :ا ندر کی بات۔۔۔۔ کالم نگار؛ اصغر علی مبارک۔۔۔۔)۔۔… پاکستانی عوام پاک فوج کی ترجیح ہے پاک فوج نے اس مشکل وقت میں عوام کی مدد کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔گزشتہ دو ماہ پاک فوج ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں مصروف ہے۔ اس مقصد کے لیے جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نےبدین میں ریلیف اور میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرہ افراد کے ساتھ گذارا انہوں نے ملکانی ضلع بدین میں پاک فوج کی ریلیف اور ریسکیو سرگرمیوں میں مصروف جوانوں سے ملاقات کی آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر آرمی چیف نے بدین اور اسکے ملحقہ سیلاب زدہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا ۔ انہوں نے کراچی میں کاروباری برادری کے ساتھ بھی ملاقات کی۔آرمی چیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ مختلف قدرتی آفات بشمول ملک میں حالیہ سیلاب کے دوران کاروباری برادری نے مدد کی ہے ۔کاروباری برادری نے محفوظ ماحول کی فراہمی اور معاشی خوشحالی کے لئے پاک فوج کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے سیلاب متاثرین کی بھر پور معاونت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ۔گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں گوٹھ صدوری، لاکھڑا، لسبیلہ میں قائم فلڈ ریلیف اور میڈیکل کیمپس کا دورہ کیا اور سیلاب سے متاثرہ مقامی لوگوں کی خیریت دریافت کی۔ چیف آف آرمی سٹاف نے امدادی کارروائیوں میں مصروف فوجیوں سے بھی ملاقات کی اور مصیبت زدہ مردوں، خواتین اور بچوں کی خدمت میں ان کی کوششوں کو سراہا۔اس موقع پرانہوں نے کہا ”ہمارے ملک کے لوگوں کی حفاظت اور فلاح سب سے پہلے آتی ہے اور ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ سیلاب سے متاثرہ ہر ایک فرد تک نہ صرف پہنچا جائے بلکہ اس کی بحالی نہ ہو جائے، اس کے لئے چاہے کتنی ہی کوشش کیوں نہ کی جائے۔ پاکستانی عوام ہماری ترجیح ہے اور ہم اس مشکل وقت میں ان کی مدد کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گے۔” آرمی چیف نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو، ریلیف ، لوگوں کی بحالی اور انفراسٹرکچر کے لیے سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید کہا ہمیں ہر حال میں اپنے ضرورت مند بھائیوں اور بہنوں تک پہنچنا چاہیے اور اس قدرتی آفت پر قابو پانے میں ان کی مدد کرنی چاہیے۔علاوہ ازیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے صوبہ سندھ کے خیرپور اور قمبر شاہداد کوٹ کے دور دراز سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا۔ آرمی چیف نے پورا دن سیلاب زدگان کے ساتھ گائوں جیلانی، خیرپور اور قمبرشاہداد کوٹ میں مقامی آبادی کے لیے قائم کیے گئے امدادی اور طبی کیمپوں میں گزارا۔ خیرپور اور قمبر شاہداد کوٹ کے سیلاب متاثرین نے ان تک پہنچنے اور ان کی دادرسی کرنے پرچیف آف آرمی سٹاف کا شکریہ ادا کیا۔ آرمی چیف نے امدادی کارروائیوں میں مصروف فوجیوں سے ملاقات کی ان کی کوششوں کی تعریف کی۔انہوں نے زور دے کر کہا پاکستان کے ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنا ایک عظیم مقصد ہے اور ہمیں اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق ان کی خدمت کرنے پر فخر محسوس کرنا چاہیے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 10 ستمبر 2022کو اندرون سندھ دوردراز علاقوں کا دورہ کرکے سیلاب متاثرین کے ساتھ وقت گزاراآرمی چیف نے متاثرین سیلاب کی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد فارمیشن کو دادو اور ملحقہ علاقوں کے سیلاب متاثرین کیلئے 5 ہزار خیمے بھجوانے کی ہدایت کی تھی,آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی میں کافی وقت لگ سکتا ہےآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس موقعے پر کہا کہ دادو میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے، حمل جھیل اور منچھر جھیل سیلاب کی وجہ سے مل چکے ہیں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ بین الاقوامی برادری اس مشکل مرحلے میں ہماری مدد کر رہی ہے کیونکہ اس وقت ہمارے بھائی مشکل میں ہیں، میں آپ سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ان کیلئے امداد لے کر آئیں۔جنرل قمر باجوہ نے کہا کہ پاکستان بھر سے لوگ سیلاب متاثرین کیلئے امداد پہنچا رہے ہیں اور ہم بھی اپنی طرف سے پلاننگ کر رہے ہیں کہ آئندہ اس قسم کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔آرمی چیف نے کہا کہ عالمی برادری مدد کر رہی ہے لیکن صرف ان پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، سیلاب متاثرین کی بحالی میں کافی وقت لگ سکتا ہےطوفانی بارشوں اور تباہی پھیلانے والے سیلاب سے پورا ملک متاثر ہے. پاکستان میں اس سے قبل کبھی اتنی دھواں دھار بارشیں نہیں ہوئی تھیں۔ گزشتہ دو ماہ کی بارشیں اور سیلاب سب کچھ بہا کر لے گیا۔ اب تک ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے ان میں خواتین بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں جو پانی کی تیز لہروں میں بہہ گئے۔ 2 کروڑ افراد بے گھر ہوئے 15 لاکھ گھر تباہ، 139 مارکیٹیں بے نشان، 15 لاکھ مویشی ہلاک، کروڑوں کا نقصان ہوا۔ شمالی علاقوں میں سیاحوں کے لیے تعمیر کردہ عالی شان ہوٹل سیلابی ریلوں کا مقابلہ نہ کر سکے کوئی صوبہ محفوظ نہیں۔ پاک فوج کے جوان اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر انسانی جانیں بچانے میں دن رات مصروف ہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی عوام اولین ترجیح ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ آرمی چیف نے بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کی تحصیل لاکھڑا کے دور دراز علاقے گوٹھ سدوری کا دورے کے دوران آرمی چیف نے علاقے میں فلڈ ریلیف اور میڈیکل کیمپوں کا بھی دورہ کیا، آرمی چیف نے امدادی کاموں میں مصروف جوانوں سے ملاقات کی اور ان کی کاوشوں کو سراہاآرمی چیف نے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو، ریلیف اور بحالی کیلئے سول انتظامیہ کی بھرپور مدد کی جائے،آرمی چیف نے ہدایت کی کہ احکامات کا انتظار کیے بغیر اپنے متاثرہ بہن بھائیوں تک پہنچیں، اور قدرتی آفت کے متاثرین کیلئے بڑھ چڑھ کر کام کریں انہوں نے کہا کہ بارش وسیلاب متاثرین کی حفاظت وبہبود پہلی ترجیح ہے، ہم ہر سیلاب سے متاثرہ فرد تک پہنچیں گے، متاثرین کی دادرسی تک آرام سےنہیں بیٹھیں گے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ امدادی کاموں کیساتھ بحالی نو یقینی بنائیں گے، پاکستان کی عوام اولین ترجیح ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ آخری آدمی کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ آرمی چیف نے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو، ریلیف اور بحالی کیلئے سول انتظامیہ کی بھرپور مدد کی جائے، آرمی چیف نے ہدایت کی کہ احکامات کا انتظار کیے بغیر اپنے متاثرہ بہن بھائیوں تک پہنچیں، اور قدرتی آفت کے متاثرین کیلئے بڑھ چڑھ کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ بارش وسیلاب متاثرین کی حفاظت وبہبود پہلی ترجیح ہے، ہم ہر سیلاب سے متاثرہ فرد تک پہنچیں گے، متاثرین کی دادرسی تک آرام سےنہیں بیٹھیں گے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ امدادی کاموں کیساتھ بحالی نو یقینی بنائیں گے، پاکستان کی عوام اولین ترجیح ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔











