عمران خان کی سیاسی انتہا پسندی میں اضافہ………..(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)………عسکری قیادت کا جس وقت اہم اجلاس جاری تھا عمران خان نیوٹرل رہنے والے پاکستان معتبر اداروں پر تنقید نشتر چلاتے ہوئے عوام کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں مرضی کا رزلٹ آنے پر اداروں پر چڑھ دوڑنے کا بھاشن دے رہے تھے معاشرے میں ’’ڈائیلاگ‘‘ کا کلچر ختم ہوجائے، سیاست میں انتہا پسندی اور بدتہذیبی کی مثالیں دینے پر آجائوں تو پانچ ہزار الفاظ بھی کم پڑ جائیںجب زبان پر قابو نہ رہے کہ کس کے سامنے کیا بات کرنی ہے، جب دلیل کا جواب گالی سے دیا جائے تو سمجھ لیں سیاسی انتہا پسندی اپنے عروج پر ہے عمران خان سیاسی انتہا پسندی کو پروان چڑھارہے ہیں جس سے عدم برداشت کی روایت میں اضافہ ہورہاھے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ سیاسی گفتگو کرتے کرتے کسی کا قتل کردیا گیا ہو۔کیا یہ مذہبی انتہاء پسندی سے دو ہاتھ آگے نہیں جس عام آدمی ایک دوسرے کو برداشت نہیں کررہا صد افسوس عمران خان کرسی چھن جانے بعد ایسی باتیں کررہے جس پر ماضی قومی راہنماوں آئین و قانون کے تحت سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا . اس کو اب نہ روکا گیا تو شاید بہت دیر ہوجائے ۔ سچ پوچھیں تو اب ’’ٹاک شوز‘‘ میں سیاست دان بیٹھے ہوں تو تجزیہ کار کا تجزیہ دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے ویسے تو ہم صحافیوں پر بھی صحافت کا کم اور سیاست کا شوق زیادہ سوار ہوگیا ہے۔ کیا پاکستان میں صرف عمران خان سیاسی عقل و شعور رکھنے والی شخصیت ہیں اور کسی دل میں وطن عزیز کا درد نہیں بدقسمتی پاکستان انتہاءپسندی کا جوکلچر عمران خان نے متعارف کرایاھے وہ تو پاکستان تمام مذہبی سیاسی جماعتیں مل کر بھی نہ کرسکیں اگلے روز عسکری قیادت کے اجلاس میں ملک کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیاگیا ظاہر ھے عمران خان کی طرف سے فوج کو بدنام کرنے اور تنقید سے عوام میں مقبول رہنے کے عمل کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا یہ تو بھلا ہو پاک فوج کا جس نے ہر محاذ پر ملک وقوم کی خاطر قربانیاں دی ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ھے پاکستان کو معاشی مسائل سے نکالنے کیلئے پاک فوج کی قیادت کو قوم سلام پیش کرتی ایف ٹی اے ایف کے معاملات سے لیکر دوست ممالک سے قرضوں کے حصول کیلئے باجوہ ڈاکٹرائن کو ہر سطح پر سراہا جاتارہاھے عمران خان کیطرف فوج میں تقسیم کا منصوبہ پوری طرح ناکام ہوا باجوہ ڈاکٹرائن بظاہر یہ ھے کہ پاک فوج سیاست سے الگ تھلگ رہے گی یہ بات کئی مرتبہ ا پاک فوج کے ترجمان دہراتے رہے ہیں کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے مگر سیاست میں گھسیٹنے والوں کو کھلی آزادی بھی ھے جس سے عوام ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہیں۔اور معتبر اداروں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ خداراہ کجھ کیاجائے عمران خان نے فوج کے خلاف عوام کے ذہنوں میں جو زہر پھرا اسکے تریاق کیلئے تمام تر کوششں جاری ہیں مگر مجیب الرحمان جیسی تقاریر سے وہ قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی ناکام کوشش میں تاحال جاری ہیں تازہ بیان میں ان کا کہناھے کہ نیوٹرلز کو کہا تھا جب عوام نکلے گی تو سب کو سمجھ آجائے گی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام کھڑی ہو جائے تو سرکاری ملازم سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا، جس طرح لوگ ضمنی انتخاب میں باہر آئے اس پر حیران ہوں۔عمران خان سیاسی انتہاپسندی سے معشیت کو نقصان ہورہاھے. ہماری سیاست میں جو گرما گرمی ہے وہ کوئی نئی نہیں مگر زبان کچھ زیادہ ہی بے لگام ہوگئی ہے بات آپ سے تم اور اب تو تک آگئی ہے اور معذرت کے ساتھ اس میں مرد و عورت کی کوئی تمیز نہیں۔ وہ جملے جو ایک زمانے میں فلموں یا ٹی وی ڈراموں میں استعمال ہوتے تو سینسر کی قینچی چل جاتی تھی آج سرعام استعمال ہورہے ہیں اب بے چارہ پیمرا بھی کیا کرے ڈراموں کو دیکھے یا سیاسی رہنمائوں کی تقاریر دیکھے۔ کسی معاشرے سے خودکش بمبار پیدا کرنا صرف ایک واقعہ ہرگز نہیں ہوتاہے۔ اس کے لیے انتہا پسند ذہن تیار کرنے پڑتے ہیں جو اپنے مزعومہ دشمن کی بیخ کنی کے لیے کسی بھی حد تک جانے پر قائل، آمادہ اور ہمہ وقت تیار ہو۔ انتہا پسندی پاکستان کی تاریخ کا کوئی ایک واقعہ نہیں تھا جو آیا اور گزر گیا۔ انتہا پسندی ذہنوں کی تشکیل کا ایک طویل المدت اور سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ جس نے معاشرے اور معاشرے میں موجود افراد کے ذہنوں پر دیرپا اور دوررس اثرات چھوڑے ہیں۔اور اب عمران خان سیاسی انتہا پسندی کو پروان چڑھارہے ہیں جس سے عدم برداشت کی روایت میں اضافہ ہورہاھے ذہن صرف ایک ہی دن میں تشکیل نہیں پاتے ہیں اور نہ ہی ان کو ایک ہی رات میں ان کو ان کی سابقہ حالت میں لوٹایا جا سکتا ہے۔ انسانی ذہن کے ساتھ جو بھی کارگزاری کی جاتی ہے یا وہ جن بھی تجربات سے گزرتا ہے ان سب کے اس پر دیرپا اور دوررس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ منصوبہ مقامی پاور سنٹرز نے بین الاقوامی پاور سینٹرز کے ساتھ مل کر تشکیل دیا تھا ۔ نفسیات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں اصرار کے ساتھ عرض کرتا ہیں کہ ذہن صرف ایک ہی دن میں تشکیل نہیں پاتے ہیں اور نہ ہی ان کو ایک ہی رات میں ان کو ان کی سابقہ حالت میں لوٹایا جا سکتا ہے۔ انسانی ذہن کے ساتھ جو بھی کارگزاری کی جاتی ہے یا وہ جن بھی تجربات سے گزرتا ہے ان سب کے اس پر دیرپا اور دوررس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انتہا پسندی کے اس پروجیکٹ پر پاور سینٹرز نے برسوں محنت کی۔ اس طرح کے پروجیکٹس کی لمبی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ اس کے اہداف کا تعین ہوتا ہے۔ ایسے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے والے شراکت کار ڈھونڈے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ اشتراک عمل کے کہے اور اَن کہے سمجھوتے کئے جاتے ہیں۔ “کچھ لو اور کچھ دو” کی بنیاد پر شراکت کاروں کے ساتھ معاملات ہوتے ہیں۔یہ شراکت کار مذہبی, لسانی٫ قومی یا علاقائی موضوعات پر معاشرے کو متحرک کر کے پاور سینٹرز کے منصوبوں کی تکمیل کے لئے افرادی قوت فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان میں انتہا پسندی کی تشکیل میں بھی اور سینیٹرز نے اسی فارمولے پر عمل کیا۔ بین الاقوامی پاور سینیٹرز نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے معاشرے میں انتہا پسند ذہن تشکیل دیے۔ اس وقت نعرہ مذہبی تھا مگر مقاصد اقتصادی اور سیاسی تھے۔ روس کی شکست کے ساتھ وہ مقاصد پورے ہوئے اور بین الاقوامی پاور سینیٹرز نے ہاتھ جھاڑ کر اپنے گھر کی راہ لی لیکن وہ ذہن جسے صرف دشمن دیکھنے اور اس کا قلعہ قمع کرنے کی تربیت دی گئی تھی اب بیکار بھی تھا اور بے روزگار بھی۔ لہٰذا اس نے اپنے اندر دشمن ڈھونڈنے شروع کر دیے۔ وہ لوگ جنہیں مصنوعی اور نادیدہ دشمن دکھا دکھا کر، جھوٹی کہانیاں سنا سنا کر، اور گھڑی ہوئی تاریخ پڑھا کر کسی مفروضہ دشمن سے ڈرا دیا گیا تھا اب اپنے ہی گلی محلوں میں دشمن کی کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ اس ضمن میں پاور سنٹرز کی سب سے زیادہ مدد مذہبی لوگوں اور صحافیوں نے کی۔ صحافیوں نے افغانستان میں روس کی آمد کا مقصد گرم پانیوں تک رسائی کو قرار دیا۔ جبکہ مذہبی رہنماؤں نے اس سے آگے بڑھ کر کمیونسٹ روس کی افغانستان آمد کو عالم اسلام کی یگانگت اور اس کی متوقع نشاۃثانیہ پر حملہ قرار دے کر پوری دنیا سے مجاہد بھرتی کرنے شروع کر دیے۔ بین الاقوامی پاور سینٹر نے اس کام کے لیے ہتھیار اور رقوم فراہم کیں۔ پاکستان کی سرزمین ان مجاہدین کی تربیت گاہ ٹھہری اور افغانستان میں ان بھولے بھالے لوگوں نے پاور سینٹرز کے مقاصد کی تکمیل کے لیے اپنی جانیں گنوائیں۔ پاور سنٹرز کا مقصد پورا ہوا۔۔ آج ناحق خون دان کرنے والوں کو نہ پاور سینٹرز یاد کرتے ہیں اور نہ ان کو بھرتی کرنے والے مقامی شراکت کار۔۔ خدا جانے وہ رجسٹر (قاعدہ) کیا ہوا جس میں پشاور کے بھرتی کرنے والے ان معصوم لوگوں کے نام لکھتے تھے اور نام لکھنے کے بعد ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے کہتے تھے کہ مبارک ہو تمہارا نام آج القاعدہ میں درج ہو گیا۔ انتہا پسند ذہن نے افغانستان کی جنگ کے بعد مقامی دشمن ڈھونڈنے شروع کیے۔ اگلی دو دہائیاں اس انتہا پسند ذہن نے اپنے معاشروں سے دشمن ڈھونڈنے اور انہیں نیست و نابود کرنے میں لگا دیے۔ 90 کی دہائی میں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ فسادات میں وہی گروہ شریک تھے جن کو افغان جنگ کے لیے ذہنی، مادی اور عملی طور پر تیار کیا گیا تھا۔ لیکن ان دو دہائیوں میں ان گروہوں کے ساتھ ساتھ مزید انتہا پسند گروہوں کی تشکیل جاری رہی۔ ان دو دہائیوں میں پاور سنٹرز صرف خاموش تماشائی بنے رہے اور عمران خان جیسے لوگوں کے کان میں یہ بات پھونکتے رہے کہ اگر ان گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کیے گئے تو کامیابی کے امکانات صرف چالیس فیصد ہیں۔ شائد یاد دہانی کے لیے ضروری ہو کہ عمران خان جو آج “کرپٹ” سیاستدانوں کے ساتھ مکالمہ کرنے پر تیار نہیں ہیں وہ ان “قاتل” گروہوں کے ساتھ مکالمہ کرنے اور پشاور میں ان کو دفتر کھولنے کی اجازت دینے کی بات کرتے رہےپشاور کے ایک اسکول میں معصوم طلبہ کے بہیمانہ قتل کے بعد خوابیدہ مقامی پاور سنٹرز اسی طرح جاگے جیسے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد بین الاقوامی پاور سنٹرز جاگے تھے۔ لیکن خواب غفلت سے دونوں کا جاگنا صرف شدت پسندوں کے سر کاٹنے اور نافرمان دہشت گردوں کو سطح سے غائب کرنے تک محدود رہا۔ انتہا پسند اذہان کو تبدیل کرنا کبھی ان کا مطمح نظر نہیں رہا۔ہ جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا کے پاور سینٹرز نے یہ سیکھا کہ جنگ تو ضروری ہے مگر ایسی جنگیں جس میں اپنا جانی نقصان کم سے کم ہو۔ اسی لیے دنیا بھر میں غیر ریاستی ملیشیا تشکیل دیے گئے ۔ گزشتہ آٹھ دہائیوں میں ہونے والی جنگوں میں اس رجحان کو بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ اب جنگ کسی اور کی ہوتی ہے اور محاذ جنگ پر لڑتا کوئی اور ہے۔ اب جنگ چاہے ہتھیاروں سے لڑی جائے یا اقتصادی ہتھکنڈوں سے ۔۔ اصل کھلاڑی کو کھوجنا پڑتا ہےجب یہ انتہا پسند ذہن کسی ایک دشمن کو ڈھونڈ لے اور واقعی اس کو اپنا دشمن سمجھ لے تو اس موضوع پر اس کے ساتھ پھر دلیل اور مکالمے کی افادیت باقی نہیں رہتی۔ آپ کو یہ بھی دکھایا جا سکتا ہے کہ یہ گروہ بھی ایک ایسی ہی سیاسی صورتحال میں پیدا ہوئے تھے جو سیاسی عدم استحکام سے عبارت تھی۔ دو متحارب گروہوں کے لاینحل اختلافات کے نتیجے میں ایک تیسرا گروہ تشکیل پاگیا۔ اس تیسرے گروہ نے دونوں کو غلط کہا اور دونوں کے خلاف عملی اقدامات بھی کیے۔یہ گروہ جس ذہنی کیفیت کے حامل افراد نے تشکیل دیا تھا وہ ذہن آج تک ختم نہیں ہو سکا۔ اور نہ آج کی تاریخ تک اس ذہن سے مکالمہ ممکن ہو سکا اور نہ وہ پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر انسانی معاشروں کا حصہ بن سکا۔دشمن کی تلاش کرتے اس انتہاپسند ذہن کو سیاسی استحکام کے ذریعے سے شانت تک کرایا جا سکتا تھا۔ مگر سیاسی استحکام پاور سینیٹرز کے مفاد میں نہ کل تھا اور نہ آج ہے۔ لہذا کل جو دشمن “کافر” تھا آج وہ دشمن “چور” کہلایا جا رہا ہے۔ جو شدت “کافر کافر” کے نعروں کی تھی وہی شدت “چور چور” کے نعرے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ نعرے لگانے والے چہرے مختلف ہیں مگر ذہن وہی ہیں۔ جس طرح کل “کافر” ڈھونڈنے والوں سے مکالمہ ناممکن تھا اسی طرح آج “چور” تلاشنے والوں کے لیے بھی دلیل بے معنی ہے۔ “کفار” کا قلع قمع کرنے والوں نے کل جس طرح معاشرے کے تاروپود بکھیر کر رکھ دیے تھے اسی طرح آج چوروں کے در پے ذہن نے بھائیوں اور دوستوں سے قطع تعلق کر لیا ہے۔ “کافر کافر” کے نعرے لگانے والے کچھ مخصوص شناخت رکھنے والوں کو نشانہ بنا رہے تھے مگر “چور چور” پکارنے والے اپنے سے مختلف ہر فرد کو اپنے نشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ “کافر کافر” کے نعرے لگانے والے بظاہر مذہبی شناخت رکھتے تھے گو ڈاکٹرز، انجینئرز، صحافی اور دانشور بھی ان سے فکری طور پر متفق تھے۔ مگر اب “چور چور” کہنے والے تو خود ڈاکٹرز, انجینئرز، دانشور اور صحافی ہیں۔انتہا پسند دہشت کا بنیادی وظیفہ اپنی دگرگوں حالت کی ذمہ داری عائد کرنے کے لیے کسی دشمن کی تلاش ہے۔ انتہا پسند دشمن کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اگر مخالف نہ ملے تو یہ گھڑ لیتا ہے۔ اگر مناسب سائز کا مخالف نہ ملے تو چھوٹے مخالف کو ضرورت کے مطابق بڑا کر لیتا ہے۔ اور مخالفین میں وہ عیب بھی ڈھونڈ نکلتا ہے جو اس میں نہیں ہوتے۔ اس طرح کے انتہا پسند ذہن کو دو چیزیں بےحد راس آتی ہیں یا یوں کہیے کہ یہ ذہن دو بنیادی ستونوں پر استوار ہوتا ہے۔۔ ایک شدت پسند اختلافی ڈسکورس، اور دوسرے شعلہ بیان خطیب۔۔ آپ ماضی کی تحریکوں پر نظر ڈالیں جہاں یہ دونوں اجزائے ترکیبی موجود تھے دیکھیے وہاں کیا کیا کچھ نہ ہوا۔ جہاں صرف ایک جزو تھا وہاں نقصان شدت اور مدت دونوں حوالوں سے کم ہوا۔ آپ خطیب کو مصنف سے تبدیل نہیں کرسکتے کیونکہ انتہاپسندی ذہن کی وہ حالت ہے جہاں گہری گفتگو، دقیق استدلال، اور معاملے کا سنجیدہ فہم اپنا اثر اور افادیت کھو بیٹھتے ہیں۔ پیچیدہ معاملات کی انتہائی سادہ تشریح ان کو راس آتی ہے۔ دلیل کے بجائے مخالف کے لیے استعمال کی گئی گالی زیادہ حمایت سمیٹتی ہے۔ گالی جتنی بڑی اور حقارت آمیز ہوگی اثر اتنا ہی دوچند ہوتا ہے۔مدتوں پہلے تشکیل پانے والے انتہاپسند ذہن کے ہاتھوں اب ایک نیا نعرہ ہے۔ یہ نعرہ پہلے نعروں سے زیادہ وسعت رکھتا ہے۔ اس نعرے سے معاشرے کا ہر فرد اپنا تعلق ماضی کے نعروں کی نسبت زیادہ آسانی سے جوڑ سکتا ہے اس لیے یہ زیادہ لوگوں کو متاثر اور قائل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ وقت سیاست کے میدان میں اور سیاسی تجزیوں میں ووٹوں کی تعداد گننے سے زیادہ اس ذہنی حالت کی طرف متوجہ ہونے کا مطالبہ کرتا ہے جو الیکشن کے نتائج سے بے نیاز معاشرے میں تحلیل اور تفریق کو ایسے مقام پر پہنچا دے گی جہاں سے واپسی جلدی اور بغیر بے پناہ کوشش کے ممکن نہیں ہوگی ے انتخابات کے نتائج زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انتہا پسند ذہن کی کرشمہ سازی اب کس صورت میں جلوہ افروز ہوتی ہے، کیا رنگ دکھاتی ہے اور معاشرے کو اب کن بنیادوں پر مزید تقسیم کرتی ہے۔ سیاسی استحکام اس پھیلتے اور ہر آن بڑھتے ہوئے رجحان کا واحد حل ہے جس کی طرف صرف اور صرف سیاست دان لے کر جاسکتے ہیں وہ بھی صرف اس صورت میں اگر ان کو معاملے کی نزاکت کا اندازہ ہوسکے تواندازہ کریں عمران خان سیاسی انتہا پسندی کو پروان چڑھارہے ہیں جس سے عدم برداشت کی روایت میں اضافہ ہورہاھے حکومتی اتحادیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ الیکشن کی تاریخ اور وقت کا اعلان وہ کسی دبائو میں آکر نہیں کریں گے۔ کیا اس پر مذاکرات نہیں ہوسکتے اور کوئی درمیانہ رستہ نہیں نکل سکتا۔بدقسمتی سے خان صاحب نے جو بلاشبہ اس وقت اپنی مقبولیت کے عروج پر ہیں کبھی اپنے سیاسی مخالفین سے بات چیت کے ذریعہ معاملات سنبھلانے کی کوشش نہیں کیان کی پارٹی میں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، فواد چوہدری، علی محمد خان، اسد قیصر اور اسد عمر جیسے لوگ ہیں جو سیاسی معاملات کو سیاسی مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ حکومتی اتحادیوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیںاس میں کوئی شک نہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک بے وقت کی راگنی تھی۔ خوف کسی کی تقرری کا تھا یا اپنے نااہل ہونے اور سزا کا مگر اس کی بھینٹ پورا نظام چڑھتا نظر آرہا ہے۔لا اینڈ آرڈر پر قابو پایا جاسکتا ہے اور اگر معاملات بے قابو ہوگئے تو فوج بھی طلب کی جاسکتی ہے اور اب تو ویسے بھی اس کو خود خان صاحب نے ’’نیوٹرل‘‘ رہنے کا مشورہ یوٹرن لے کر دے دیا ہے مگر زبان پر کنٹرول کون کروا سکتا ہے بات گھروں سے بازار تک آگئی ہے۔چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نےکہا کہ نیوٹرلز کو کہا تھا جب عوام نکلے گی تو سب کو سمجھ آجائے گی عمران خان کی سیاسی انتہا پسندی نے پورے معاشرہ کو لپیٹ میں لے لیا ہے وہ کس انتہا پر ختم ہوگی اس سے عدم برداشت کی روایت میں اضافہ ہواھے بس اللہ خیر کرے۔