عمران خان کا بین الاقوامی میڈیا کے ذریعےپاکستان کو بدنام کرنا قابل مذمت عمل…دفتر خارجہ کو اقوام متحدہ کو ایک سیاسی جماعت کے لیے استعمال کرنے پر سخت احتجاج کرناجائے… ..کالم اندر کی بات….:کالم نگار،اصغر علی مبارک. …………شنید ھے کہ ڈیم فنڈز میں 14 ارب روپے تھے جس میں سے 9 ارب روپے میڈیا مہم کے زریعے خرچ کیے گئے اگر رقم اتنی ھے تو بہت زیادہ ھے لیکن حقیقت کیا ھے اور کیسے کب کیوں اور کہاں خرچ ہوئے میڈیا چینلز من پسند صحافیوں اور اخبارات پاکستان مخالف پروپیگنڈہ میں کس نے ادائیگیاں کیں کیا اس حمام میں سب ننگے ہیں پبلک اکاونٹس کمیٹی اس پر کب حرکت میں آئےگی سونے پر سہاگہ ضرب المثل کے مصداق اب پاکستان تحریک انصاف نے بین الااقوامی میڈیا میں بھی اسی طرز عمل سے پاک فوج اور اتحادی حکومت کے خلاف منفی پروپیگنڈہ زور وشور سے شروع کر دیا پاکستان کے سفارت خانوں کے پریس اتاشیوں کی پراسرار خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ھے کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کو کب ہوش آئےگی اور اقوام متحدہ جیسے فورم کو ایک سیاسی جماعت پی ٹی آئی بارے موقف دینے پر کب پوچھا اور احتجاج کیا جائے گا ”۔اگلے دن ایک اور طے شدہ اور پلانٹڈ شو میں، آج، نیویارک کے الجزیرہ کے نمائندے کرسٹن سلومی نے ایک پلانٹڈ سوال پوچھا جو ویڈیو میں موجود صحافی کی باڈی لینگویج سے بالکل عیاں ہے جس پر پہلے سے طے شدہ تحریری بیان کو کی طرف سے پڑھ کر سنایا گیا ہے۔حکومت پاکستان کو یہ سنگین معاملہ اقوام متحدہ کے سامنے اٹھانے کی ضرورت ہے کہ وہ ایک ایسے معاملے پر تبصرہ کرکے اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے جو کہ سراسر غیر ضروری تھا۔حکومت پاکستان کو یہ سنگین معاملہ اقوام متحدہ کے سامنے اٹھانے کی ضرورت ہے کہ وہ ایک ایسے معاملے پر تبصرہ کرکے اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے جو کہ سراسر غیر ضروری تھا۔کیا یہ سب ملکی سیاسی ماحول کو متاثر کرنے کے لیے ادا شدہ عوامی تعلقات کی سرگرمیوں کا سلسلہ نہیں؟نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اچانک سب عمران خان کے حق میں کیوں بول رہے ہیں جنہوں نے گزشتہ چند مہینوں میں عمران خان کی کبھی بھی تعریف نہیں کی ان کے لاپرواہی اور بے بنیاد الزامات اور پالیسیوں کا مقصد معاشرے میں بدامنی اور انتشار پھیلانا ہے۔ اب اچانک کیوں؟میڈیا جو دکھاتا ہے وہ سب حقیقی نہیں ہوتا۔ فیک نیوز، جانبدارانہ صحافت پوری دنیا میں کی جاتی ہے۔ میڈیا ہاؤسز کے ایجنڈے ہوتے ہیں جن کی بعض اوقات اچھی ادائیگی ہوتی ہےپی ٹی آئی کی جانب سے رابطہ عامہ ,تعلقات عامہ کے لیے ایک لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرنا اندر سے ایک ناکام دکھی داستان کے بعد ملک کے اندر دباؤ ڈالنے کے لیے عمران خان کی طاقت بنانے کا ایک اور حربہ لگتا ہے۔خود امریکہ، پاک فوج اور موجودہ اتحادی حکومت سب نے بارہا ان الزامات کی تردید کی ہےلیکن عمران خان اس بے بنیاد بیان بازی کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب تعلقات عامہ کے جدید ذرائع کے ذریعے پس پردہ سرمایہ کاروں کے پیسے استعمال کر کے چند بین الاقوامی میڈیا پلیٹ فارمز کو متاثر اور مجبور کر کے اپنا سیاسی کھیل کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان پر گزشتہ اتوار کو ایک تقریر میں پولیس اور جج کو دھمکیاں دینے پر ملک کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔اس کیس کے بعدبین الاقوامی میڈیا میں عمران خان کے حق میں بیانیہ کی تبدیلی کے لیے ایک امریکی مشاورتی فرم خدمات حاصل کیں اسلام آباد میں سی آئی اے کے سابق سٹیشن چیف کے زیر انتظام ایک امریکی مشاورتی فرم اچانک اس وقت سرخیوں میں آگئی جب یہ خبر بریک ہوئی کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اسے لابنگ کے لیے ہائر کر لیا ہے۔اور پاکستان امریکہ تعلقات پر مشورے دیتے ہیں۔ گرینیئر کنسلٹنگ ایل ایل سی کے رابرٹ لارنٹ گرینیئر کو پچھلے سال اس وقت رکھا گیا تھا جب پی ٹی آئی اب بھی 25000 امریکی ڈالر ماہانہ کے حساب سے اقتدار میں تھی ۔اس ماہ کے شروع میں، پاکستان تحریک انصاف کی ذیلی کمپنی PTI-USA Inc، نے “PR خدمات فراہم کرنے کے لیے ایک کمپنی Fenton/Arlook کی خدمات حاصل کیں، جن میں صحافیوں کو معلومات کی تقسیم اور بریفنگ، مضامین اور نشریات شائع کرنا، انٹرویوز کا انتظام کرنا شامل ہے لیکن ان تک محدود نہیں۔ پی ٹی آئی کے نمائندے یا حامی، سوشل میڈیا کی کوششوں اور اس طرح کی دیگر عوامی رابطہ خدمات کے بارے میں مشورہ دیتے ہیں۔اب چند نقطوں کو جوڑتے ہیں۔ اس PR ایجنسی کا عملی مظہر آج کچھ مفاد پرست اور من گھڑت بین الاقوامی میڈیا کی عمران خان کی نام نہاد حمایت کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہےحالانکہ اسی بین الاقوامی میڈیا نے 4 ماہ قبل ان پر تنقید کی تھی جب وہ روس کے ساتھ ہم آہنگی اور طالبان کے ہمدرد ہونے پر یورپی اور امریکی خدشات کو کھلے عام رد کر رہے تھے۔ تو ان پچھلے 4-5 مہینوں میں اصل میں کیا بدلا ہے۔ کیا PR لابی فرم کو فراہم کردہ فنڈز کی فراہمی شروع ہو گئی ہے؟ یقینا، یہ پہلے سے ہی ہے.ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک ہی دن میں بی بی سی کی دنیا نے کسی اور معروف صحافی یا حکومتی نمائندے کو آن ایئر کیے بغیر اچانک پی ٹی آئی کی 3 حامی خبریں نشر کیں۔بنی گالہ کے باہر سے لائیو کوریج دینے والے اپنے رپورٹر سے شروع کر کے فواد چوہدری اور ایاز عامر کے نیوز بلیٹن میں اچانک انٹرویوز ایک بناوٹی شو کے علاوہ اور کچھ نہیں تھاامریکہ میں مقیم ٹائم میگزین نے “پاکستان کے جرنیل عمران خان کو مسلط کرنا چاہتے ہیں” کے عنوان کے تحت صحافت کی ایک بھی اخلاقیات پر عمل نہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایک مخصوص بیانیے کے مطابق دلکش سرخیوں کے ساتھ مکمل طور پر متعصب اور پروپیگنڈہ ٹکڑا شائع کیا۔ کیا یہ سب ملکی سیاسی ماحول کو متاثر کرنے کے لیے ادا شدہ عوامی تعلقات کی سرگرمیوں کا سلسلہ نہیں؟نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اچانک سب عمران خان کے حق میں کیوں بول رہے ہیں جنہوں نے گزشتہ چند مہینوں میں عمران خان کی کبھی بھی تعریف نہیں کی ان کے لاپرواہی اور بے بنیاد الزامات اور پالیسیوں کا مقصد معاشرے میں بدامنی اور انتشار پھیلانا ہے۔ سیاسی گرما گرمی کو بھڑکانے کے لیے ایک اور طے شدہ اور پلانٹڈ شو میں، آج، نیویارک کے الجزیرہ کے نمائندے کرسٹن سلومی نے ایک پلانٹڈ سوال پوچھا جو ویڈیو میں موجود صحافی کی باڈی لینگویج سے بالکل عیاں ہے جس پر پہلے سے طے شدہ تحریری بیانسیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے ترجمان کی طرف سے پڑھ کر سنایا گیا یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو بڑی چالاکی سے ایک سیاسی جماعت کے لیے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا جو امریکی لابی فرموں کو استعمال کر کے امریکا کے ساتھ مداخلت کر رہی ہے۔ پاکستان کو یہ سنگین معاملہ اقوام متحدہ کے سامنے اٹھانے کی ضرورت ہے کہ وہ ایک ایسے معاملے پر تبصرہ کرکے اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے جو کہ سراسر غیر ضروری تھا۔میڈیا جو دکھاتا ہے وہ سب حقیقی نہیں ہوتا۔ فیک نیوز، جانبدارانہ صحافت پوری دنیا میں کی جاتی ہے۔ میڈیا ہاؤسز کے ایجنڈے ہوتے ہیں جن کی بعض اوقات اچھی ادائیگی ہوتی ہے۔پی ٹی آئی کی جانب سے رابطہ عامہ ,تعلقات عامہ کے لیے ایک لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرنا اندر سے ایک ناکام دکھی داستان کے بعد ملک کے اندر دباؤ ڈالنے کے لیے عمران خان کی طاقت بنانے کا ایک اور حربہ لگتا ہے۔اپنی برطرفی کے بعد سےعمران خان نےبغیر ثبوت فراہم کیے بار بار الزام لگایا ہےکہ پاکستان کی فوج نے انھیں بے دخل کرنے کی امریکی سازش میں حصہ لیا۔ امریکہ، پاک فوج اور موجودہ اتحادی حکومت سب نے بارہا ان الزامات کی تردید کی ہےلیکن عمران خان اس بے بنیاد بیان بازی کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب تعلقات عامہ کے جدید ذرائع کے ذریعے پیسے استعمال کر کے چند بین الاقوامی میڈیا پلیٹ فارمز کو متاثر کر کے اپنا سیاسی کھیل کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جو کہ قابل مذمت ہےافسوس پاکستان میں زمہ دار اپنی زمہ داریوں کو تب نبھاتے ہیں جب پانی سر سے گزر چکاہوتاھےیہ ہی حال حالیہ بارشوں کے بعد کی تباہ کاریوں کا ہے جس کے بعد پاک فوج ریسکیو ریلیف آپریشنزمیں مصروف ھے اور بھر ری ہیبلی ٹیشن یعنی بحالی کے عمل میں بھی پاک فوج ہراول دستے میں نظر آئے گی سوال یہ ھے کہ کیا ہر کا پاک فوج نے ہی کرناہے اور پھر الزامات اور گالیاں بھی خدمات کے نتیجے میں ملنی ہیں جن کے افسران اور جوان جب سیلاب زدگان کی امدادی کارروائیوں میں ہیلی کاپیٹر حادثہ میں شہید ہوئے تو ایسی غلیظ وگھٹیا زبان استعمال کی جو دشمن ملک بھی نہیں کرسکتا اس بابت ھیلی کوپٹر حادثہ کے بعد فوج اور شہدا بارے گمراکن جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے کے ثبوت پی ٹی آئی کے خلاف ہی ثابت ہوئے ہیں,لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سوشل میڈیا پرمنفی پروپیگنڈے کی انکوائری رپورٹ میں اہم انکشافات ہوئے ہیں ہیلی کاپٹر حادثے پر منفی سوشل میڈیا مہم، 178 اکاؤنٹس کا تعلق پی ٹی آئی سے نکلاہے پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور ان کے سرغنہ کا سراغ لگا لیا گیا اور 178 اکاؤنٹس کا تعلق پی ٹی آئی سے نکلا ہے، سب سے زیادہ مہم ان اکاؤنٹس کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کُل 580 اکاؤنٹس کے ذریعے 2 ہزار 350 پوسٹس کی گئیں۔لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سوشل میڈیا مہم میں 18 بھارتی اکاؤنٹس بھی شامل ہوگئے تھے۔ہیلی کاپٹر حادثےکے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے منفی مہم چلائی گئی تھی جس کی پاک فوج نے شدید مذمت کی تھی جبکہ حکومت نے منفی سوشل میڈیا مہم کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا تھا اور ایف آئی اے اور آئی ایس آئی کے افسران پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی. غیردانستہ طور پر تخلیق کی جائیں اور پھیلائی جائیں” پاک فوج اور اتحادی حکومت کے خلاف منفی پروپیگنڈہ پر پاکستان کے سفارت خانوں کے پریس اتاشیوں پاکستان کے دفتر خارجہ کو اقوام متحدہ جیسے فورم کو ایک سیاسی جماعت کے لیے استعمال کرنے پر سخت احتجاج کرناجائے ………..