عرس طوطیِ ہند”حضرت امیر خسرو” بین المذاہب ہم آہنگی کی صدیوں پرانی روایت
تحریر: اصغر علی مبارک
حضرت امیر خسرو (رح) کا عرس بین المذاہب ہم آہنگی اور ثقافتی امتزاج کی صدیوں پرانی روایت کی عکاسی کرتا ہے اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ حضرت امیر خسروؒ (طوطیِ ہند) برصغیر کی مشترکہ اور ہم آہنگ ثقافتی شناخت کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے معمار ہیں۔ انہوں نے روحانی عقیدت اور فنی جدت کے حسین سنگم پر کھڑے ہو کر درباری زبان، عوامی لوک داستانوں اور صوفیانہ موسیقی کو ایک ایسے سانچے میں ڈھالا جو ان کی وفات کے سات صدیاں گزرنے کے بعد بھی اس خطے کی پہچان ہے۔ حضرت امیر خسرو (رح)، جو ‘طوطیِ ہند’ (ہندوستان کا بلبل) کے نام سے مشہور ہیں، چشتیہ صوفی سلسلے کے ایک نمایاں ستون ہیں۔ انہیں نہ صرف ان کی گہری روحانی عقیدت کے لیے سراہا جاتا ہے بلکہ وہ قوالی کے بانی اور ستار اور ڈھولک جیسے کلاسیکی موسیقی کے آلات کے موجد بھی ہیں۔ انکے 722 ویں عرس کا اعلان (1448 ہجری / 2027 عیسوی) عظیم صوفی بزرگ، شاعر اور عالم حضرت امیر خسرو (رح) کے سالانہ عرس کا باضابطہ شیڈول حتمی شکل اختیار کر گیا ہے۔
جنوبی ایشیا کا ثقافتی منظرنامہ محض مختلف علاقائی روایات کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا نفیس اور خوبصورت شاہکار ہے جس کے تانے بانے تیرھویں صدی میں ایک ایسی شخصیت نے بنے جنہیں دنیا امیر خسروؒ کے نام سے جانتی ہے۔
روایتی روحانی تقریبات کا آغاز دہلی، بھارت میں 18 شوال 1448 ہجری کو ہوگا، جو 2027 عیسوی کے موسمِ بہار کے مطابق ہے۔ توقع ہے کہ جنوبی ایشیا بھر سے ہزاروں زائرین، عقیدت مند اور قوال — بشمول پاکستان سے آنے والے بڑے وفود — خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے نظام الدین درگاہ کمپلیکس میں جمع ہوں گے۔
حضرت امیر خسرو (رح) (حضرت نظام الدین اولیاء کے مرید) | مقام: نظام الدین ویسٹ، دہلی، بھارت | ہجری تاریخ: 18 شوال 1448 ہجری (مرکزی دن) | شمسی کیلنڈر کا سال: 2027 عیسوی | بنیادی رسومات: غسل، چادر پوشی، قوالی کی محفلیں اور عالمی امن کے لیے خصوصی دعائیں,
توقع ہے کہ وزارتِ مذہبی امور آنے والے مہینوں میں پاکستانی زائرین کے وفد کے لیے سرکاری کوٹہ اور درخواست کے رہنما خطوط جاری کرے گی۔ واہگہ بارڈر یا فضائی راستوں سے سرحد پار سفر کرنے کے خواہشمند عقیدت مندوں کو دوطرفہ شیڈولنگ سے قبل سفری دستاویزات کی تیاری مکمل کر لینی چاہیے۔امیر خسروؒ 1253ء میں پٹیالی (بھارت) میں ایک ترک افسر کے ہاں پیدا ہوئے، جبکہ ان کی والدہ کا تعلق ہندوستان سے تھا۔ اس مخلوط خاندانی پس منظر نے انہیں مختلف تہذیبوں کے درمیان ایک بہترین پل بننے میں مدد دی۔
ان کی زندگی کا سب سے مضبوط اور اہم محور سلسلہ چشتیہ کے عظیم صوفی بزرگ حضرت نظام الدین اولیاءؒ سے ان کی والہانہ اور بے پناہ عقیدت تھی۔ اس روحانی وابستگی نے خسرو کے عظیم فنی ٹیلنٹ کو الہی محبت کا ایک ایسا ذریعہ بنا دیا جس نے ان کی خدمات کو محض تفریح کے درجے سے اٹھا کر مقدس ثقافتی اداروں کا درجہ دے دیا۔
ادب کی دنیا میں امیر خسروؒ ایک ایسے دور اندیش ادیب تھے جنہوں نے بیک وقت اشرافیہ کی فارسی زبان اور عام لوگوں کی مادری زبان (ہندوی) پر یکساں مہارت کے ساتھ راج کیا۔ ایک فارسی شاعر کی حیثیت سے ان کے کلام نے شیراز اور اصفہان کے بڑے بڑے شعرا کو حیران کر دیا۔
انہوں نے فارسی کے عظیم شاعر نظامی گنجوی کی تقلید میں “خمسہ” (پانچ طویل مثنویوں کا مجموعہ) مکمل کیا، جسے پوری اسلامی دنیا میں لسانی نفاست، جذباتی گہرائی اور ساختی عمدگی کی وجہ سے زبردست پذیرائی ملی۔ تاہم، ان کا اصل کارنامہ مقامی زبان کو اپنانا تھا۔
امیر خسروؒ کو بڑے پیمانے پر “ہندوی” (جو موجودہ اردو اور ہندی کی ابتدائی شکل ہے) کے اولین بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
فارسی کے پیچیدہ الفاظ کو ہندوی کے روانی والے تال کے ساتھ ملا کر انہوں نے ایک ایسی زبان تخلیق کی جو ہر عام و خاص کی زبان بن گئی۔
ان کی لکھی ہوئی پہیلیاں، مکرنیاں اور برسات کے موسم کے گیتوں نے برصغیر کے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، خوشیوں اور غموں کو اپنے اندر سمیٹ لیا۔ ان چھوٹی اور مقامی ادبی اصناف کے ذریعے خسرو نے ادب کو دہلی سلطنت کے شاہی درباروں سے نکال کر عام لوگوں کے گھروں کا حصہ بنا دیا۔ادب کے ساتھ ساتھ امیر خسروؒ نے جنوبی ایشیا کی موسیقی کے پورے ڈھانچے میں ایک انقلابی تبدیلی برپا کی۔ ان کی موسیقی کا سب سے پائیدار اور زندہ معجزہ “قوالی” کی ایجاد ہے، جو صوفیاء کا ایک وجدانی اور عقیدت مندانہ اندازِ گائیکی ہے۔
چشتیہ سلسلے کے صوفیانہ فلسفے کو سریلی شکل دینے کے لیے خسرو نے “قوال بچوں کا گھرانہ” (گلوکاروں کا پہلا باقاعدہ اسکول) قائم کیا۔ انہوں نے نوجوان موسیقاروں کے ایک گروپ کا انتخاب کیا اور انہیں گائیکی کے ایک ایسے نئے انداز کی تربیت دی جس میں فارسی آواز کے تکنیکی اصول، عربی اوزان اور روایتی ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کا امتزاج تھا۔
موسیقی کو اسلامی تصوف کے فروغ کا ذریعہ بنا کر خسرو نے اسے ایک عوامی اور روحانی تحریک میں بدل دیا۔ان کی موسیقی کی ایجادات صرف گائیکی تک محدود نہیں تھیں۔
امیر خسروؒ نے قدیم ہندوستانی موسیقی کے سنجیدہ انداز کو فارسی اور وسطی ایشیا کی متحرک روایات کے ساتھ ملانے کا تاریخی کام کیا۔ انہوں نے کلاسیکی گائیکی میں “خیال” (جس نے قدیم دھروپد کے سخت اصولوں کے برعکس گائیکی کو آزادی دی) اور “ترانہ” (عربی اور فارسی الفاظ کے تال پر مبنی گائیکی) جیسی اصناف متعارف کروائیں۔
روایات کے مطابق، ان کی موجد طبیعت نے برصغیر کے بنیادی سازوں کی مادی شکل کو بھی بدلا۔ انہوں نے قدیم تین تاروں والی “وینا” کو تبدیل کر کے ورسٹائل “ستار” (جو فارسی کے لفظ سہ تار یعنی تین تار سے ماخوذ ہے) ایجاد کیا، اور روایتی “پکھاوج” ڈھول کو دو حصوں میں تقسیم کر کے “طبلہ” تخلیق کیا—جو آج بھی شمالی ہند اور پاکستان کی کلاسیکی و عوامی موسیقی کا سب سے اہم ساز ہے۔حضرت امیر خسروؒ کی اصل عظمت اس بات میں ہے کہ ان کا تخلیق کردہ ورثہ آج بھی زندہ ہے۔ آج بھی جب جنوبی ایشیا کا کوئی شہری برسات کا گیت گاتا ہے، شام کے راگ کی دھن ستار پر بجاتا ہے، یا کسی صوفی بزرگ کے آستانے پر قوالی کی تھاپ پر جھومتا ہے، تو وہ دراصل امیر خسروؒ کے تخیل کے اندر جی رہا ہوتا ہے۔ انہوں نے تصوف کے اعلیٰ فلسفوں کو عام انسان کے لیے گانے، پڑھنے اور محسوس کرنے کے قابل بنایا، اور یہی وجہ ہے کہ وہ صدیوں، زبانوں اور مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر آج بھی کروڑوں دلوں پر راج کر رہے ہیں۔حکومتِ پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے نئی دہلی، بھارت میں منعقد ہونے والے عرس حضرت امیر خسرو (رح) 2027ء میں شرکت کے خواہشمند پاکستانی زائرین کے لیے آن لائن رجسٹریشن، بینک اکاؤنٹ نمبر اور فیس جمع کروانے کا تفصیلی طریقہ کار جاری کیا ہے یہ عرس مبارک متوقع طور پر 22 مارچ سے 29 مارچ 2027ء (18 شوال 1448ھ) کے دوران منعقد ہوگا اور درخواستیں زیادہ ہونے کی صورت میں 23 اکتوبر 2026ء کو دوپہر 2:00 بجے کمیٹی روم، پہلی منزل، کوہسار بلاک، اسلام آباد میں پبلک قرعہ اندازی کی جائے گی حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ حتمی تاریخوں کا تعین نئی دہلی میں موجود پاکستانی سفارت خانے سے حتمی کلیئرنس ملنے کے بعد کیا جائے گا یہ تفصیلات وزارت کے جاری کردہ پریس ریلیز کے تسلسل میں فراہم کی گئی ہیں وزارتِ مذہبی امور کے مطابق، زائرین کے پاس آن لائن فارم اور اصل دستاویزات جمع کروانے کے لیے صرف 25 ستمبر 2026ء تک کا وقت باقی ہے تمام دلچسپی رکھنے والے زائرین وزارت کی آفیشل ویب سائٹ www.mora.gov.pk پر دیے گئے لنک کے ذریعے آن لائن درخواست جمع کروائیں گے زائرین کے لیے لازم ہے کہ وہ درخواست جمع کروانے سے پہلے نیشنل بینک آف پاکستان (NBP)، مین برانچ (کوڈ: 0341)، سوک سینٹر، اسلام آباد میں وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے اکاؤنٹ نمبر 3035053332 میں مبلغ 1000 روپے کی ناقابلِ واپسی درخواست فیس جمع کروائیں فیس جمع کروانے کے بعد، بینک رسید کی کاپی کو آن لائن درخواست کے ساتھ پورٹل پر اپ لوڈ کرنا لازمی ہے اس کے بعد آن لائن جمع کروائی گئی درخواست کا اصل پرنٹ شدہ فارم اور بینک کی اصل رسید ہمراہ کر کے 25 ستمبر 2026ء تک سیکشن آفیسر (زیارت)، وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، پہلی منزل، کوہسار کمپلیکس، بلاک ، بالمقابل پنجاب ہاؤس، سیکٹر G-5، اسلام آباد کے پتے پر لازمی ارسال کریں مزید معلومات یا رہنمائی کے لیے زائرین وزارت کے فون نمبر 051-9211670 پر رابطہ کر سکتے ہیں