طیبہ گل کے الزامات; عمران خان سے پارٹی قیادت چھوڑنے کا مطالبہ…. …..(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)…………….. خواتین اور بچوں کو ڈھال بنانا عمران خان کی سیاست کا وتیرہ ہے، سال 2022 جنوری میں سابق وزیراعظم عمران خان نے شہریوں سے ٹیلی فونک گفتگو كے پروگرام میں دعویٰ کیا تھا كہ اگر انہیں قبل از وقت اقتدار سے علیحدہ كیا گیا تو وہ بہت ’خطرناک‘ ہو جائیں گے۔ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد عمران خان کا وزیراعظم آفس چھوڑنا پڑ ا۔عمران خان کی وزارت عظمیٰ تو قبل از وقت اختتام کو پہنچی لیکن اب طیبہ گل کے الزامات کے بعد عمران خان سے پارٹی قیادت چھوڑنے کا مطالبہ زورپکڑتا جارہا ھے اب انکا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہے؟ وفاقی وزیر آبی وسائل خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ طیبہ گل کے الزامات کے بعد عمران خان کو سیاست میں حصہ لینے کا حق نہیں، فوری طور پر اپنی پارٹی قیادت سے الگ ہوں،خاتون کی بات سن کر دل کھی ہے، ثابت ہوگیا اپنے مخالفین کو سبق سکھانے کیلئے عمران خان نے ہر حد پار کی۔ ایک انٹرویو میں خورشید شاہ نے کہا کہ جاوید اقبال کو چیئرمین نیب لگانا ہماری بہت بڑی غلطی تھی اور نیب سے جس کو تکلیف ہوئی ہے ان سے معافی مانگتے ہیں طیبہ گل سے متعلق حقائق اب کھل کر سامنے آرہے ہیں ، عمران خان طیبہ گل کے الزامات کو عدالت میں چیلنج کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاستدان ہوں میں ذاتیات تک نہیں جاتا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ خاتون کی بات سن کر دل بہت دکھی ہوا اور ریاست کا جو بھی وزیراعظم ہو وہ قوم کا ماں باپ کا درجہ رکھتا, وفاقی وزیر خورشید شاہ نے سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خورشید شاہ نے کہا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کو چیئرمین نیب لگانا ہماری بہت بڑی غلطی بلکہ بلنڈر تھا، ہمیں ریکارڈ میں ایسی کوئی چیز نہیں ملی تھی پھر لاپتہ افراد کمیشن کا سربراہ بھی تھے، تو اس لیے ان کا تقرر کیا لیکن غلطی ہوئی، اس پر ہم عوام سے معافی مانگتے ہیں۔عمران خان خود کہہ چکے ہیں کہ حکومت سے نکالے جانے کے بعد وہ زیادہ خطرناک ہیں۔ متحدہ اپوزیشن كی تحریک عدم اعتماد كامیاب ہونے کے بعد عمران خان كا ردعمل شدید اور جارحانہ بھی ہو گیاہےتحریک عدم اعتماد كے بعد عمران خان كے رویے میں زیادہ تلخی اور تیزی و تندی آ گئی ہے موجودہ صورت حال میں طیبہ گل کے الزامات کے بعد عمران خان سے پارٹی قیادت چھوڑنے کا مطالبہ درست بھی ہےتاکہ صورتحال واضع ہوسکےخاتون نے کہا میں ان سے ملی مجھے بلایا گیا سب ثبوت لیے گئے نیب چیئرمین کے ذریعے سے جو ثبوت اس خاتون سے لیے گئے اور اس لیے لیے گئے کہ اسے بلیک میل کریں ایک مہینہ وزیراعظم ہاؤس میں اُس سے ملنا انکی باتیں سن کر انہیں یقین دلانا حبس بے جامیں رکھنا اور ان سے وقتاً فوقتاً باتیں پوچھنا پھر ایک مہینے بعد انہیں چھوڑ دیناوفاقی وزیر آبی وسائل خورشید احمد شاہ کا کہنا ہے کہ طیبہ گل کے الزامات کے بعد عمران خان کو سیاست میں حصہ لینے کا حق نہیں، ثابت ہوگیا اپنے مخالفین کو سبق سکھانے کیلئے عمران خان نے ہر حد پار کی۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا شک اس وجہ سے بھی بڑھا کہ پندرہ بیس سال پہلے امریکا میں واقعہ ہوا اس میں بھی وہ انکاری ہوئے اور بعد میں وہ ثابت ہوگیا۔ اُن خاتون کا اس وقت باہر آنا اس وجہ سے بھی ہے کہ ایسی حکومت آئی ہے جس میں انہیں انصاف کی امید ہے اور انکی داد رسی ہوگی،وزیراعظم اور سارے اداروں کو چاہیے اس کا نوٹس لیں ۔طیبہ گل کہتی ہیں اُن کے پاس ثبوت موجود ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت میں میڈیا پر دباؤ تھا اس لیے میڈیا پر بھی ان کے مسئلہ کو اس طرح اجاگر نہیں کیا جاسکا اب چونکہ میڈیا آزاد ہے اب کھل کر بات ہو رہی ہےعمران خان سے گزارش کروں گا طیبہ گل کو چیلنج کریں اور اگر وہ صاف ہو کر نکلتے ہیں تو مجھے خوشی ہوگی عمران خان اقتدار سے باہر ہونے كے بعد حزب اختلاف كی جماعتوں كے علاوہ میڈیا، الیكشن كمیشن آف پاكستان اور دوسرے افراد و اداروں پر اپنے خلاف سازشوں كے الزامات لگا رہے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد كے پیچھے مبینہ سازش كے انكشاف كے بعد عمران خان كے ہٹائے جانے كو پاكستانی قوم قبول نہیں كررہی۔ طیبہ گل کے الزامات کے بعد عمران خان کی اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے مستقبل کے بارے میں شکوک وشبہات بڑھ گئے ہیں۔اس جماعت كے مستقبل اور آنے والے عام انتخابات میں اس كی حکمت عملی اور كاركردگی کے متعلق بھی مختلف سوالات اٹھ رہے ہیں پارٹی میں مسائل اٹھنے كا خدشہ ہے۔ پارٹی كے بكھرنے كے قوی امكانات ہیں۔ پاكستان تحریک انصاف تتر بتر ہو جائے گی کئی سینیئر ترین رہنما جو اب تک محض ناراض لیکن خاموش تھے اب کھل کر عمران خان پر حملے کر رہے ہیں۔ جماعت كے دوسرے رہنماؤں كو سوچنا ہو گا اپوزیشن جماعتوں کا جو حال عمران خان نے اپنے ساڑھے تین سال کی حکومت میں احتساب کے نام پر کیا، انہیں جیلوں میں بھیجا، ان کی تذلیل کی اور بلآخر ان تمام الزامات کو ثابت نہیں کرسکے۔ اب اپوزیشن ان سے بدلہ کس صورت میں لے گی دیکھنا باقی ہےپہلے ہی خاتون اول بشریٰ بی بی کی قریبی ساتھی فرح خان بدعنوانی کے الزامات کے پیش نظر ملک چھوڑ کر دبئی منتقل ہوگئی ہیں۔ مسلم لیگ ن کی رہنما اور نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے ان کے خلاف ایک بیان میں الزام لگایا کہ فرح خان نے لاکھوں روپے کی رشوت کے عوض پنجاب میں پوسٹنگ اور ٹرانسفرز کروائی ہیں۔ وہ ان کی کرپشن کا اندازہ چھ ارب روپے لگا رہی ہیں۔ ان کا نام تحریک انصاف کے چند سینیئر منحرف اور ناراض اراکین جیسے کہ برطرف گورنر چوہدری سرور اور علیم خان نے بھی لیایہ تو ابھی آغاز ہے یہ یقینی بات ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں طیبہ گل کے الزامات کے بعد عمران خان کو نشانہ بنائیں گی۔عمران خان کا مستقبل غیر یقینی صورت حال سے دو چار ہے، تحریک انصاف پر ان کی گرفت کمزور ہوتی جارہی ہے،پارٹی میں بغاوت کے بعد انہیں پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہونا چاہیےعمران خان کا بلندیوں سے گرنا ان کی اپنی غلطی ہے، ان کو شدیدسیاسی نقصان ہوگا،وہ اپنی ہی بیان بازی میں پھنس چکے ہیں،وہ بضد رہے کہ ہر دوسرا سیاسی رہنما کرپٹ ہے اور ٹرمپ کے انداز میں، وہ اکیلے ہی پاکستان کو ٹھیک کر سکتے ہیں.امریکی نشریاتی ادارہ”وائس آف امریکا“ لکھتا ہے کہ عمران خان کو غیر یقینی مستقبل کا سامنا ھےوفاقی پارلیمان کی پبلک اکاونٹس کمیٹی یعنی پی اے سی کے جمعرات کو منعقد ہونے والے اجلاس میں طیبہ گل نامی خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے انھیں متعدد مواقع پر ہراساں کیا اور اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب جاوید اقبال لاپتہ افراد کے لیے قائم کمیشن کے سربراہ تھے۔ اجلاس میں طیبہ گل اپنے شوہر اور وکیل کے ہمراہ پیش ہوئیں اور بیان دیتے وقت متعدد بار رو پڑیں۔ انھوں نے کمیٹی اراکین کو بتایا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم کمیشن میں اُن کی جسٹس (ر) جاوید اقبال سے ملاقات ہوئی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کی چچی لاپتہ تھیں اور اسی سلسلے میں اس کیس میں پیش ہوئی تھیں۔ مسنگ پرسن کی درخواست پر میرا نمبر درج تھا، جاوید اقبال اس نمبر پر کال کر کے مجھے وقتاً فوقتاً بلاتے رہے، وہ کہتے تھے آپ ضرور آئیں ورنہ سماعت نہیں ہو گی۔ وہ کہتے تھے کہ میں آپ کی وجہ سے جلد تاریخیں دیتا ہوں، آپ آئیں گی تو سماعت ہو گی۔ میں نے کہا کہ میرا ہونا ضروری نہیں میں براہ راست متاثرہ فریق نہیں ہوں۔۔۔ جب میں نے جاوید اقبال کو بار بار فون کرنے سے منع کیا تو وہ ناراض ہو گئے۔‘

انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ جسٹس ر جاوید اقبال نے چیئرمین نیب بننے کے بعد انھیں کہا کہ ’اب یہاں تو ملاقات نہیں ہو سکتی لہذا آپ لاپتہ افراد کے کمیشن ہی آئیں۔ تاہم ان کے مطابق جب انھوں نے جسٹس جاوید اقبال کو بار بار ہراساں کرنے سے منع کیا تو انھیں سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی اور اس دھمکی پر عمل بھی کروایا گیا۔‘ ’جب میں نے سختی سے انھیں رد کیا تو انھوں نے کہا کہ اب میں چیئرمین نیب ہوں، میں چاہوں تو تمہاری زندگی خراب کر سکتا ہوں۔ جنوری 2019 میں لاہور سے نیب نے ہمیں رات کو گھر سے گرفتار کر لیا۔ چیئرمین نیب نے مجھے اور میرے شوہر فاروق کو گرفتار کروا دیا۔ ہمیں یہ بھی نہیں پتا تھا کہ کیسز کیا ہیں۔ اسی طرح ایک ویڈیو میں انھوں نے مجھے یہ بھی کہا کہ اگر تم کسی اور کے پاس گئیں تو تمہارے ٹکڑے جھنگ جائیں گے۔‘

طیبہ گل نے کمیٹی کو بتایا کہ انھیں نیب لاہور کی ٹیم نے اسلام آباد سے گرفتار کیا اور اس ٹیم میں کوئی خاتون اہلکار شامل نہیں تھی۔ اُن کا کہنا تھا ’ان اہلکاروں کے پاس میرے ٹرانزٹ سے متعلق حکم نامہ نہیں تھا مگر یہ مجھے اسلام آباد سے لاہور لے گئے۔ گاڑی میں راستے میں میرے ساتھ جو درندگی کی گئی وہ میں نہیں بتا سکتی۔‘ جسم پر نیل کے نشان تھے۔

’لاہور میں مجھے ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں میرا تماشہ لگایا گیا۔ ڈی جی نیب نے کہا کہ سب سے پہلے تو اس کی تلاشی لو۔ یہاں کوئی خاتون اہلکار نہیں تھی۔ میری تلاشی کے لیے مجھے بے لباس کیا گیا اور سامنے کیمرہ لگایا گیا۔ سب کے سامنے میرا تماشہ لگایا۔ مجھے برہنہ کرتے ہوئے میری ویڈیو بنائی گئی۔ طیبہ گل نے کہا کہ انھیں عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نےانھیں رہا کرنے کا حکم دیا جبکہ ان کی درخواست پر میڈیکل ٹیسٹ کا حکم دیا تاکہ ان کے ساتھ گزشتہ شب ہونے والی زیادتی ثابت ہو سکے۔ ’تاہم کاغذ پر میرا انگوٹھا لگوا کر ان لوگوں نے میری طرف سے یہ بیان لکھا کہ میں میڈیکل ٹیسٹ نہیں کروانا چاہتی۔ متعلقہ ادارے اس تحریر کا فرانزک کرائیں تو ثابت ہو جائے گا کہ وہ میری تحریر نہیں تھی۔ یوں میرا ٹیسٹ نہ کروا کر شواہد مٹائے گئے۔ بعدازاں میری ہائی کورٹ سے ضمانت ہوئی۔‘انھوں نے کمیٹی کو بتایا کہ انھوں نے 10 مئی 2019 کو سیٹیزن پورٹل پر شکایت درج کرائی اور 21 مئی کو ان کے خلاف مختلف شہروں میں 40 ایف آئی آر درج ہو گئیں۔اجلاس کے دوران طیبہ گل کے پاس موجود ثبوتوں کی ویڈیوز اور آڈیوز چلوائی گئیں۔ چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ کمیٹی قانونی تقاضا پورا کرنے کے لیے جسٹس ر جاوید اقبال کا موقف بھی سُنے گی۔

تاہم انھوں نے اجلاس میں موجود قائم مقام چیئرمین نیب کو ہدایت کی کہ نیب کے ان تمام افراد کو انکوائری مکمل ہونے تک معطل کر دیا جائے جن کے نام طیبہ گل نے لیے ہیں۔ سابق چیئرمین نیب پر الزام لگانے والی طیبہ گل نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میری ویڈیوز کی بینیفشری ہے، ایک مہینہ اور15 دن میں مجھے وزیراعظم ہاؤس میں رکھا گیا تھا، میں نے کچھ شواہد پبلک اکاونٹس کمیٹی میں جمع کروادیئے ہیں، اگر کمیٹی مزید شواہد مانگے گی توفراہم کروں گی،ترجمان نیب میرے سامنے آکر الزامات کی تردید کریں۔واضح رہے کہ آج کے اجلاس میں سابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے ایک خط کے ذریعے بتایا کہ وہ عید کی تعطیلات پر کوئٹہ میں موجود ہیں اور عید کے بعد اجلاس میں آئیں گے۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ وہ جاوید اقبال کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنا چاہتے تھے کیونکہ انھوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور خواتین کو ہراساں کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تاہم کمیٹی میں شامل دیگر اراکین کی رائے پر کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں جسٹس ر جاوید اقبال کو طلب کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ طیبہ گل نے جسٹس ر جاوید اقبال سے گفتگو کی کچھ ویڈیوز خفیہ طور پر ریکارڈ کی تھیں جن سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسا اپنی ہراسانی کے خلاف ثبوت جمع کرنے کے لیے کیا تاکہ انھیں انصاف مل سکے۔ تاہم ان کی یہ ویڈیوز اس وقت نیوز ون نامی چینل نے اس وقت نشر کیں جب طیبہ گل نے پرائم منسٹر سیٹیزن پورٹل میں چیئرمین نیب کے خلاف درخواست دائر کی۔

طیبہ گل نے گزشتہ ماہ 23 جون کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو خط لکھا تھا کہ سابق چیئرمین نیب نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، اور انھیں جنسی طور پہ ہراساں کیا۔ انھوں نے معاملے کی تحقیقات اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

انھوں نے خط میں کہا تھا کہ نیب افسران تاحال انھیں بلیک میل کر رہے ہیں اور جھوٹا ریفرنس دائر کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

اس سے پہلے طیبہ گل نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ انھوں نے 2019 میں وزیراعظم سیٹزن پورٹل پر شکایت درج کرائی جس کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری نے اُن سے ویڈیوز بطور ثبوت حاصل کیں جو بعد ازاں وائرل ہو گئیں اور اُن کی شکایت کا ازالہ بھی نہیں ہوا تھا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جسٹس ر جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن کے عہدے سے ہٹانے کی بھی سفارش کر دی۔ نیز یہ سفارش کی گئی کہ ’وزیراعظم سے درخواست ہے ایسے شخص کو لاپتہ افراد کے کمیشن کےعہدے سے فورا ہٹایا جائے، آئندہ اجلاس میں جاوید اقبال نہ آئے تو وارنٹ جاری کیے جائیں گے۔‘طیبہ گل کا کہنا تھا کہ میں نے یو ایس بی میں ویڈیوز اعظم خان کو دیں،میں نے ویڈیو امانت کے طور پر دی تھیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے اور میرے شوہر کو پی ایم ہاؤس میں ہماری مرضی کے خلاف رکھا گیا۔وزیراعظم ہائوس میں ہم سے فون لے لئے گئے تھے ہمیں حبس بیجا میں رکھا گیا تھا۔ ترجمان نیب کی جانب سے طیبہ گل سے جھنگ میں جا کر ملاقات کی تردید پر طیبہ گل کا کہنا تھا کہ ترجمان نیب میرے سامنے آکر الزامات کی تردید کریں، ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس ان کی آڈیو ہے